ہندوستان

اور کیا کیا بدلنا چاہتا ہے سنگھ؟

آزاد ہندوستان میں شہروں اور سڑکوں کےنام بدلنے کی تجاویز اور مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہے،آزادی کےبعد سے ہی آر ایس ایس یہ راگ الاپتی آئی ھیکہ بھارت کواس کاتہذیبی و ثقافتی مقام دلانے کےلئے مسلم حملہ آوروں کےذریعہ یاان کی یاد میں رکھے گئےشہروں و سڑکوں نیز رفاہ عام کےمقامات کانام بدل کر ان جگہوں کےہندو دھرم گرؤوں کےنام پررکھا جائے،اسی لئے آر ایس ایس کی سیاسی ونگبی جے پی نے 1996 میں بمبئی کانام ممبادیوی کےنام پر ممبئی رکھ دیا،اس کےبعد تو یہ ایک سلسلہ چل نکلا،گڑگاؤں کانام گروگرام،بنگلور کانام بنگلورو سمیت ملک کے طول وعرض میں تقریباً ۱۵ شہروں کانام بدلاگیا،اس کےبعد بھی یہ تھما نہیں بلکہ اب احمدآباد کا مہاراجہ کرن دیو کے نام پر”کرناوتی”اورنگ آباد کاشیواجی کے بیٹے سنبھاجی کےنام پر”سنبھاجی نگر”حیدرآباد کا دیوی بھاگیہ لکشمی کےنام پر”بھاگیہ نگر”کیرلا کانام "کیرلم”بھوپال کانام بھوج پال اور ناجانے کن شہروں کانام کن کن شخصیات کےناموں پررکھنے کامطالبہ سنگھ کی جانب سے زور پکڑرہاہے،سنگھ یہ دلیل دیتا ھیکہ جب ہندوستان کے لوگ بمبئی کوممبئی،کلکتہ کو کولکاتا کہہ سکتے ہیں،تو ان جگہوں کےبدلے ہوئے نام لینے میں کیاحرج ہوسکتاہے،
حالانکہ جن صوبوں میں یو.پی.اے کی حکومت ہے وہاں ابھی تک ان کی دال نہیں گل سکی ہے،لیکن سنگھ جس بڑے اور منظم پیمانہ پر اس ترمیم وتبدیل کی مہم چھیڑے ہوئے ہےکوئی بعید نہیں کہ برسوں سےچلے آرہے یہ شہر پھر سے اپنی ایک نئی شناخت بنانے کےلئے جدو جہد کرنے پر مجبور ہو جائیں،پرسوال یہ پیدا ہوتا ھیکہ آخر سنگھ کیاکیا تبدیل کرواناچاہتا ہے،اوربی جے پی کیا کیا تبدیل کرے گی؟اور اس سیکولر و "دھرم نرپیچھ”ملک میں ایک خاص مذھب کی حکومتی سطح پر اس طرح کی ترویج پرکونسا طبقہ مخالفت کرنے کی ہمت کرے گا؟،اور آئین کے دائرے میں رہ کر ان فسطائی طاقتوں کوچیلینج کرےگا؟اسکولوں کے نصاب سے لےکر سرکاری اداروں میں سنگھ کی ناجائز مداخلت ہی کی وجہ سے آج نصاب سے بھارت کےپہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو کاسوانحی چیپٹر نکال دیا گیا،نصاب سے چھیڑچھاڑ اس حد تک کی جارہی ھیکہ سرکاری اداروں میں”یوگا”بھارت ماتا کی جئے”وندے ماترم” و گیتا کو جزو لاینفک بنایا جارہا ہے،یکساں سول سول کوڈ کامعاملہ ابھی تھما نہیں تھاکہ نام کی تبدیلی جیسا شوشہ لاکرایک نئی بحث کو جنم دیاگیا ہے،کیونکہ جس ملک کےخون میں لامذھبیت ہو،اسی ملک میں ایک مذھب کی اس طرح سےتشہیر اور اس طریقہ سے نفاذ یہ بتلانے کےلئے کافی ہے کہ اگر ان ہندوتو کے پجاریوں کےپاس حکومت و طاقت برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں کہ بھارت کاسیکولرچہرہ مسخ کرکے "ہندوراشٹر”کا لبادہ اوڑھا دیاجائےگا.سنگھ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتی کہ ۱۲۰۰ سو سال سے اس ملک میں ہندو مسلمانوں کاچولی دامن کاساتھ ہے،راجہ داہر کی شکست کےبعد خود ہندوستانی ہندو محمد بن قاسم کی مورتی بناکر پوجا کیا کرتے تھے،اکبر کے دور میں ہندو مسلم پیار تو ایک شہرہ آفاق واقعہ ہے،نورتنوں سے لے کر حکومت میں بڑے سے بڑے عہدہ پر ہندو حضرات فائز تھے،شیرشاہ سوری سے شاہ جہاں تک کاوہ سنہرا دور ہے جس میں ہندو مسلم پیارو محبت کی ایک عدیم النظیر تاریخ لکھی گئی،خود اورنگ زیب عالمگیر جو متشدد مصنفین کاسب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں،اور ان پر یہ الزام لگایا جاتا ھیکہ انہوں نے ہندؤوں کی حقوق کشی کی ہے،اور وہ مذھب کی بنیاد پر تعصب برتا کرتے تھے،لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اورنگ زیب کےزمانے میں ہندؤوں کو جتنی مراعات حاصل تھیں،اور جس درجہ پر مذھبی آزادی حاصل تھی شاید اکبر کے سوا کسی دوسرے مغلیہ حکمراں کے یہاں اس کاتصور تک نہیں تھا،انگریز مؤرخین کے مطابق اورنگ زیب کے عدل و انصاف کاعالم یہ تھا کہ ہندو لڑکیاں بھی اکیلے ہی اورنگ زیب کے دربار میں پہونچ کر اپنے مسائل حل کروایا کرتی تھیں،
یہی نہیں آزادی کےجنگ میں شانہ بشانہ چل کر گورے فرنگیوں سے ملک آزاد کرانے کے بعد بھی ہماری گنگا جمنی تہذیب جوں کی توں برقرار رہی،ہزاروں فسادات کازخم جھیل کر بھی اس ملک کامسلمان ہمیشہ یہاں کے سیکولر اقدار کی پاسداری کےلئے کوشاں رہے ہیں،لیکن ملک کی جمہوریت کے لئے ناسور ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس نے اس سنسکرتی کو آگ لگانے کےلئے ہمیشہ نت نئے ہتھکنڈے اپنائے ہیں،جن میں کثیر المذاھب ملک ہندوستان میں کثرت میں وحدت کے شعار کاخاتمہ کرتے ہوئے ہندو ثقافت کو جزو لاینفک بنانے کی کوشش سرفہرست ہے،جن جن صوبوں میں آر ایس ایس کی نظریاتی سیاسی ونگبی جے پی کی حکومت تھی اور ہے ان صوبوں کو خالص ہندوانہ ماحول دیکر دیگر اقلیتوں و مذاھب کے پیروکاروں کے لئے ناصرف تشویش کاموقعہ روز اول سے پیدا کیا ہے،بلکہ اب جب سے مرکز میں اکثریت سے ساتھ حکومت بنائی ہے تبھی سے یکے بعد دیگرے ملک کی سبھی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ارد گردبی جے پی گورنمینٹ
حکومتی فیصلوں سے گھیرا تنگ کررہی ہے، یہ ناموں کے بدلنےکامطالبہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے،نام بدلنے کامقصد اگر صرف تہذیبی ورثہ کی حفاظت ہے تو شاہد یہ محل اعتراض ناہوتا لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سب کاساتھ سب کاوکاس کانعرہ دینی والی مودی حکومت ملک کےعظیم تہذیبی ورثہ کی حفاظت کرےگی یاسنگھ کے مرادوں کو برلاتے ہوئے ملک کی اقلیت کو اکثریت میں ضم کرنے کی سمت ایک اور قدم اٹھائے گی،
لیکن ایسے موقعہ پر ہماری ملی تنظیموں و رہنماؤوں نیز سیکولر میڈیا کی یہ ذمہ داری بنتی ھیکہ وہ حکومت و عوام کو یہ بتلائیں کہ ہمارا ملک بھارت آج جن تاریخی و ثقافتی آثار قدیمہ میں شامل مقامات کی سیاحت کرواکر ہر سال اربوں کی کمائی کرتا ہے،اور بین الاقوامی سطح پرایک منفرد شناخت بنائے ہوئے ہے،وہ مقامات تاج محل،لال قلعہ،قطب مینار،آصفی امام باڑہ،بھول بھلیا اور ناجانے کتنے ناموں سے موسوم ہیں،فلم انڈسٹری جن جگہوں پر فلم شوٹنگ کرکے اربوں کاکاروبار کرتی ہیں،جس رنگ روڈ کو ہم اپنا فخریہ حصہ سمجھتے ہیں ،جس تاج محل کی وجہ سے سپر پاور امریکہ ہمیں سلام کرتا ہے،اور اس کے صدر آج تک کسک محسوس کرتے ہیں،ان کوبنانے والےوہی مسلم حکمراں تھے جنہیں غیر ملکی ڈکیت بتلاکر سنگھ ان کی علامتوں کو مٹانا چماہتا ہے،اور حکومت سے یہ بھی مطالبہ کریں کہ نام بدلنے کی پالیسی ختم کرکے کام کرکے دکھائے ورنہ جو پبلک حکومت دینا جانتی ہے وہ چھیننا بھی جانتی ہے،نیز صحافت وتاریخ کےحلقہ سے وابستہ احباب کی ذمہ داری ھیکہ وہ ہندوستان کی سچی تاریخی حقائق سامنے لائیں تاکہ سنگھ کی جانب سے مسخ شدہ تاریخ پرقدغن لگایا جاسکے نیز ان مسلم حکمرانوں پرلگےمذھبی تعصب وتشدد کاداغ مٹایاجاسکے،اور اس کے لئےبلاتفریق مذھب عوامی بیداری لانا وقت کی بنیادی ضرورت ہے،کیونکہبی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں تخریبی سیاست میں یقین رکھتی ہیں،اس سےنمٹنا تعمیری طریقہ سے ہی ممکن ہے۔
mehdihasanqasmi44@gmail.com
09565799937

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close