ہندوستان

اُترا ہوا ملک ڈائیلاگ سے پٹری پر نہیں آئے گا

حفیظ نعمانی

گجرات میں سابرمتی آشرم کی سوسالہ تقریب میں حصہ لیتے ہوئے نریندر مودی نے دو سال سے مسلسل گئورکشا کے بہانے بے گناہ اور بالکل بے قصور مسلمانوں کو قتل کرنے اور پیٹ پیٹ کر مارنے پر شاید اس لئے زبان کھولی کہ ایک دن پہلے ہی پورے ملک کے سیکولر ہندو اور ہر مذہب کے دانشور سڑکوں پر آگئے اور مودی کے امریکی صدر کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوشش کی حیثیت ایک مذاق بنتی نظر آئی۔

دو سال پہلے بقرعید کے موقع پر شروع ہونے والی گئو دہشت گردی اب ہر اس صوبہ میں پھل پھول رہی ہے جہاں بی جے پی کے ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ بگڑے ہوئے ماحول کو قابو میں کیسے کیا جاتا ہے؟ اب تک اخباروں کی رپورٹوں کی حد تک 25  سے زیادہ ایسے مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مارا ہے جو نہ گائے کاٹ رہے تھے اور نہ اس کا گوشت بیچ رہے تھے۔

مودی جی نے گاندھی جی اور ونوبا بھاوے کا بار بار نام لیا جو بھیڑ جگہ جگہ اکٹھی ہوتی ہے اور کہیں گائے کے نام پر اور جھارکھنڈ میں بچہ چوری کے نام پر شریف اور بے قصور مسلمانوں کو قتل کررہی ہے وہ گاندھی جی کی نہیں بلکہ ناتھو رام گوڈسے اور موہن بھاگوت کی بھیڑ ہے۔ اور خود مودی جی کا بھی گاندھی جی اور ونوبا بھاوے سے کیا تعلق رہا اور کب رہا؟ چرخہ ہاتھ میں لینا اور اتنا چلانا کہ فوٹو کھنچ جائے گاندھی نہیں بناتا گاندھی بننے کے لئے اتنا سوت کاتنا پڑتا ہے جس سے پوری دھوتی بن جائے اور وہی جسم کو ڈھکے گاندھی بننے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے مرن برت رکھے۔ مودی جی کا بار بار کہنا کہ یہ ملک گاندھی کا ہے اہنسا کا ہے یہاں بھیڑ کی ہنسا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہوگا۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو برسوں سے ہم بھی اپنے گھر میں اپنے بچوں کے سامنے اس وقت کرتے ہیں جب کوئی ملازم یہ شکایت کرتا یا کرتی ہے کہ میری غلطی بھی نہیں تھی اور بھیاجی نے مجھے مارا اور ڈانٹا۔

مودی جی اگر اسے بند کرنا چاہتے ہیں تو اعلان کریں کہ جس صوبہ میں گئو رکشا کے نام پر یا گوشت کے نام پر کسی کو مارا گیا اس صوبہ کے وزیر اعلیٰ کا وہ آخری دن ہوگا۔ اور جس تھانے میں یہ واقعہ ہوگا اس پورے تھانے کے افسروں اور سپاہیوں کو معطل کرکے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ کہ انہوں نے بھیڑ کو لاٹھیوں سے مار مارکر کیوں نہیں دوڑایا یا وہ تشدد پر آئے تو گولی کیوں نہیں چلائی؟ مودی جی کا گلا پھاڑکر نصیحت کرنا یہ تو اُن کی عادت ہے۔ وہ ہر بات گلا پھاڑکر ہی کہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی تو گلا پھاڑکر ہی کہا تھا کہ اُترپردیش میں حکومت بنتے ہی کسانوں کا قرض معاف کردیا جائے گا۔ حکومت کے 100  دن پورے ہوگئے جشن بھی منا لیا گیا۔ رپورٹ کارڈ بھی چھپ گیا۔ اور قرض کے لئے کہا گیا کہ 36  ہزار کروڑ روپئے ہم کسی سے مانگیں گے نہیں بلکہ خود کماکر اس آمدنی سے قرض معاف کریں گے۔ اور کسان نے ووٹ اس لئے دیا تھا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت کی پہلی میٹنگ میں قرض معاف کردیا جائے گا۔ آج ہر ضلع کا کسان رو رہا ہے اور کیوں نہ روئے وہ جب اندھا ہوگیا ہے تو کوئی کیا کرے؟ وہ کیوں بھول گیا کہ 2014 ء کے الیکشن میں سب کے کھاتے میں بغیر کچھ کئے کروڑوں روپئے دینے والے مودی نے ہی تو قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کسان کو عقل ہوتی تو کہتا کہ پہلے معاف کرو اور لکھ کر دو کہ معاف ہوگیا تب ووٹ دیں گے۔ اب یہی قرض 2019 ء تک چلے گا۔

یہی مودی تھے جنہوں نے 8  نومبر 2016 ء کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد جب لائن میں اپنا ہی روپیہ نکالنے کے لئے بینک میں کھڑے کھڑے لوگوں نے جان دے دی اور مرنے والوں کی تعداد 100  سے بھی زیادہ ہوگئی تو ہاتھ جھاڑ لئے کہ میں کیا کروں ؟ حالانکہ سب ان کی وجہ سے مرے اور وہ قاتل ہیں ۔ ایک ہفتہ کے بعد مودی نے کہا کہ مجھے صرف 50  دن دے دو پھر تمہارا بھارت سونے کی طرح کندن بن کر چمکے گا اور تجربہ کار لوگوں نے کہا تھا کہ ایک سال میں بھی ملک کی کمر سیدھی نہیں ہوگی اور یہی سچ ہے کہ نہ جانے کتنے اب تک سیدھے نہیں ہوئے ہیں اور مودی جی نے یہ کام صرف پانچ صوبوں کا الیکشن جیتنے کے لئے کیا تھا اس میں وہ اس طرح کامیاب ہوئے کہ دو میں جیت گئے اور دو صوبے خرید لئے اور ایک میں بری طرح ہار گئے۔ غرض کہ ملک کی کمر ٹیڑھی ہو یا سیدھی چار صوبوں میں ان کی حکومت بڑھ گئی اور اب جو باقی ہیں انہیں بھی قبضہ میں کرنے کے لئے مودی کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔ سنا ہے کل جو راج کوٹ میں روڈ شو ہوا ہے اس پر 80  کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں ۔

ہندوستان میں پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل پولیس کو سبق پڑھا گئے ہیں کہ اگر ہندو مسلمان کو مار رہے ہوں تو تم نہ بولو اور اگر مسلمان ہندو کو مارے تو اسے، اس کے باپ اور بھائیوں سب کو پکڑو مارو اور بند کردو۔ وزیراعظم پنڈت نہرو حکومت میں اکثریت میں تھے لیکن پارٹی میں اقلیت میں تھے۔ ان کی ہمت نہیں تھی کہ وہ سردار پٹیل سے ٹکر لیں ۔ آزادی کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل ہونے پر پٹیل نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مارتے کیوں ہو؟ انہیں پڑا رہنے دو یہاں کی زمین اتنی گرم ہوجائے گی کہ یہ خود چلے جائیں گے ۔ یہ وہ وقت تھا جب گاندھی جی ہر مسلمان کو ہندوستان میں روکنا چاہتے تھے۔ یہ جملہ سن کر انہوں نے کہا تھا کہ سردار نے تو بہت بری بات کہہ دی۔

لیکن کانگریس گاندھی جی کے نہیں سردار پٹیل کے راستے پر چلی اور آج تک اسی راستہ پر چل رہی ہے کہ ہندو نے مسلمانوں کو مارا تو پولیس خاموش رہی اور کسی کو گرفتار نہیں کیا۔ اور اگر مسلمان نے ہندو کو مارا اور وہ بھاگ گیا تو پاتال میں سے بھی اسے پکڑکر لائے۔ ممبئی میں 1993 ء میں سب کو ممبئی میں ہی پکڑلیا ابو سلیم کو دنیا کے دوسرے ملک سے لے کر آئے 25  سال ہوگئے ہیں ابھی تک عدالت کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ صرف اور صرف 263  ہندو مرگئے اور الزام ہے کہ مسلمانوں نے بموں کے دھماکوں سے مارا اُن میں کا ایک ممبئی کا مصطفیٰ دوسہ دل کا دورہ پڑنے سے اسپتال میں مرگیا جس کے لئے مسلم دشمن سی بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ یعقوب میمن سے زیادہ خطرناک تھا ہم اس کے لئے پھانسی پر اصرار کرتے۔ اس اندھی سی بی آئی کو جسٹس کرشنا کی رپورٹ نظر نہیں آرہی جس میں لکھا ہے کہ ان ہی تاریخوں میں 900  سے زیادہ مسلمانوں کو شیوسینا، بی جے پی، وی ایچ پی، بجرنگ دل اور پولیس نے مارا لوٹا اور برباد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی ہندو کو ایک دن حوالات میں بھی بند نہیں کیا وہ حرام زادے حکومت کررہے ہیں ۔ جب کانگریس کے زمانہ میں کسی کو سزا نہیں ہوئی اور ہر ہندو کے ہاتھ میں قانون رہا تو اب مودی کے زمانے اور موہن بھاگوت کے ہندوستان میں کس پولیس والے کی ہمت ہے کہ سنگھی بھیڑ پر لاٹھی برسائے یا گولی چلائے؟ نریندر مودی کی یہ تقریر صرف ڈائیلاگ ہیں جو گاندھی اور ونوبا بھاوے نام کی فلم میں بولے گئے ہیں ۔ ان دونوں سے جب مودی کا ہی کوئی تعلق نہیں تو بھیڑ کیا جانے کہ کون گاندھی اور کون ونوبا بھاوے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close