ملی مسائلہندوستان

اُٹھو! یا نیند ابھی باقی ہے؟

شیخ فاطمہ بشیر

 آج ہندوستان جیسے جمہوری ملک پرفرقہ پسند طاقتیں قابض ہیں ۔ ہر لمحہ، ہر وقت، ہر گھڑی، اخبارات، شمارات، میگزینس، نیوز چینلز، پریس رپورٹس اور پریس ریلیز میں ایک نیا موضوع زیرِ بحث نظر آرہا ہے۔ مسلم پرسنل لاء ( مسلمانوں کے ذاتی قانون)  پر یکے بعد دیگرے حملے شروع ہے۔ کبھی سِوِل کوڈ کا نعرہ ،  تو کبھی تین طلاق کے ذریعے مسلمان عورتوں کو مظلوم اور مجبور بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ کبھی گائے کے ذبیحہ کا مسئلہ سامنے ہے،  تو کبھی لاؤڈ اسپیکر میں اذانِ فجر پر باتیں زبانِ عام ہیں ۔ کبھی مسلم نوجوانوں کو سرِعام موت کے گھاٹ اُتارا جارہا ہے،  تو کبھی انھیں جبراً پکڑ کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ ظلم کی اگر ایک کہانی ہو تو حالات سے سمجھوتہ بہترین انتخاب ہے ۔ لیکن یہ ایک نہیں ،  کئی داستانیں ہیں ۔ کسی ایک مسئلے پر صبر اور اسکا حل مشکل نہیں لیکن کئی مسائل سے نپٹنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔

 آج اسلام دشمن طاقتیں ہر محاذ سے مسلمانوں کو دبانے، کچلنے، ہٹانے اور ختم کرنے کے دَر پہ ہے ۔ مسلم پرسنل لاء پر کاری ضرب اور شریعت میں تبدیلی کا شوشہ تو پہلا حملہ ہے۔ لیکن بڑے افسوس اور شرمندگی کے ساتھ یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم خود بحیثیتِ مسلمان، مسلم پرسنل لاء کا نہ احترام کرتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوشش۔ جو قانون ہمیں اسلام اور شریعت کے صحیح غلط پہلوؤں سے آگاہ کرکے اسکی طرف رہنمائی کرتا ہیں ،  ہمیں اس سے کسی طرح کا کوئی واسطہ نہیں ۔

جب اس قانون پر حملہ کیا گیا تب ہمیں احساس ہوا کہ باطل طاقتیں ہماری شریعت میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں رکھتی، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ حق بھی ہم نے ہی انھیں کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی وقت اور کوئی نہ کوئی طریقے سے فراہم کیا ہے۔ آج جب ہم حالات کا جائزہ لیں تو ذہنوں میں ایک سوال اُٹھتاہے کہ کم و بیش 13کروڑمسلم آبادی والے اس ملک میں تحفظِ شریعت کی ضرورت کیوں پیش آئیــ؟  کیاہم ہماری زندگی اور ہمارے روز وشب ان قوانین پر عمل آوری سے اس احسن شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے قابل نہ تھے؟  ہم نے جب ان قوانین پر عمل نہ کیا تو باطل طاقتوں نے انھیں موضوعات کو ہمارے خلاف ایک محاذ بناکر ان باتوں میں ہمیں اُلجھا دیا تاکہ دوسرے میدانوں سے ہماری توجّہ بَٹ جائیں ۔

 مسلم پرسنل لاء پر حملوں کے بعد یہ بات ہم سمجھ پائے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی شریعت کا تحفظ صرف اسی قانون سے ہے اور شاید یہی بات ہمیں متحد کرنے کا سبب بنی ہے۔ اس بات پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آخر تحفظِ شریعت کی خاطر ہم اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ لیکن ان مسائل میں ایک اہم بات جو نہ پوری طرح واضح ہے اور نہ ہی بالکل مبہم ہے۔

ہمارے دور اندیش علمائے اکرام، مفکرین، اسلامی اسکالرس اور رہنما ان باتوں کو پہلے ہی  بھانپ چکے ہیں کہ اگرآج مسلمان دین سے لے کر سماج، معاشرت ، تعلیم ، سیاست اور ہرمیدان میں متحد نہ ہوئے تو بعید نہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں اسلام کی اس احسن شریعت سے نئے نئے موضوعات نکال کر ہمارے لیے مسئلوں کے پہاڑ کھڑا کردیں ،  تاکہ ہم انھیں مسائل میں غوطے کھاتے رہ جائے ، حالاتِ حاضرہ سے ہماری نظریں ہَٹ جائیں اور مشکلات میں ہماری آوازیں بلند نہ ہوں ۔ اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت، پریشانیوں سے نجات، مشکلات کا حل، مسائل سے دوری اور مسلمانوں کے حالات میں بہتری کی امید، آس اور ضرورت ہے۔( شاعر سے معذرت کے ساتھ)

  اے نسلِ مسلماں غیرت کر،  اتحادِ اُمّت کا مقصد لے چل

     وہ دیکھ تیری گروہ بندی پر،  باطل فرقہ ہنستا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close