ہندوستان

آصفہ کو انصاف مل کر رہے گا

ایم شفیع میر

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں کی جانب سے ’’جموں بند‘‘کی کال دینا وہ بھی صرف اس لئے کہ آصفہ عصمت دری و قتل کیس سی بی آئی کے حوالے کیا جائے،بار ایسوسی ایشن کو زیب نہیں دیتا۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اگر آصفہ انکوائری میں کرائم برانچ کی پیشہ رورانہ کار کردگی پر سب لوگ بشمول متاثرہ کنبہ مطمئن ہیں تو بار ایسوسی ایشن جموں کے صدر ایڈوکیٹ مسٹرسلاتھیہ کی سر پرستی میں وکلاء میں کیوں اس کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کر تے ہیں ؟ ریاست کے ایک شہری کی حیثیت سے راقم بار ایسو سی ایشن صدر سلاتھیہ صاحب سے یہ مخلصانہ استدعا کر ناچاہے گا کہ ننھی آصفہ کو اپنی بچی سمجھ کر اُس کے حق میں انصاف کی مانگ کیجئے۔

بار صدر کو ایک سنہری موقع ملا ہے کہ عدل و انصاف کی بارگاہ میں ننھی آصفہ کو انصاف دلانے کی خاطر مقدمہ لڑ یں، اپنی انسانیت کی اچھوتی مثال قائم کریں، حق وصداقت کی جوت جگائیں، کٹھوعہ کے اُن وکلاء کی سرزنش کر یں جنہوں نے پولیس کرائم برانچ کو مجاز عدالت میں زیر بحث کیس میں ماخوذ سات ملزمین کے خلاف اپنا چالان پیش کرنے سے ناروا طریق کار اختیار کر کے ایسی رکاوٹیں ڈال دیں کہ پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔اس کے بجائے اگر صدر موصوف ایک ایسا وتیرہ اپنایں کہ جس پر کف ِافسوس ملنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا جاسکے تو کس قدر افسوس کی بات ہے ؟معصوم سی ننھی آصفہ کی عزت اور جان توگئی اور وہ اس دنیا میں پہنچی جہاں کا انصاف بے لاگ اور پتھر کی لکیر کی طرح کھرا ہے لیکن اس نے پورے سماج کو ایکسپوز کیا ہے۔ اسے کیا کہئے کہ یہاں انسانوں کے دیس میں اس مظلومہ کو انصاف دلانے والے قانون دان ہی راہِ عدل میں روڑے اٹکانے لگے ہیں، وہ سچائی کی کھوج میں مددگار ثابت ہونے کے برعکس ملزموں کی رہائی کی وکالت کر رہے ہیں، گویا قانون و انصاف سے جو اُمیدیں ہیں، وہ جان بلب ہیں اور آخری ہچکیاں لے رہی ہیں ۔ افسوس کہ حق و باطل کی اس لڑائی میں وکلاء کا ایک ٹولہ اپنے بیمار ذہنی اور اخلاقی بانجھ پن کی مثال قائم کر رہے ہیں ۔ وکلاء کا یہ مخصوص ٹولہ انصاف کے بجائے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کی کھلی حمایت میں سامنے آیا تو اس پر انسانی ضمیر چکرا تاہے کہ آسمان پھٹ کیوں نہیں جاتا زمین شق کیوں نہیں ہوتی۔

ملک اور ریاست میں ’’گڈ گورنس، اچھے دن آگئے، سب کاساتھ سب کا وکاس‘‘ جیسے کھوکھلے نعرے لگانے والی سیاسی تنظیم بھاجپا اور اس کے زیر سایہ پلنے والے یرقانی غنڈوں کی منفی سوچ آصفہ معاملہ سے ظاہر وباہرہو گئی ہے اور معلوم ہوا کہ یہ لوگ ریاست میں افراتفری، مسلم آبادیوں کی بے بسی،لاقانونیت،بدعنوانی، اقلیت دشمنی اور ظلم و جبرکا کھلا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح ان شر پسندوں نے امن و امان کی جگہ بدامنی، شکوک وشبہات اور اقلیت دُشمنی کا زہر گھول کرا یک فضا کو چاروں طرف قائم کیا۔ بہر صورت سیاست دانوں کی غنڈہ گردی تو ریاست کی ایک دائمی بیماری تھی ہی لیکن اب قانون و قوانین کی دھجیاں اُڑ انے والوں میں وکلاء بھی نظر آ ئیں تو کلیجہ منہ کو کیوں نہ آئے؟آصفہ کیس میں بعض پجاریوں اور مذہبی پیشوائوں نے بھی انسانیت کے تئیں کھلی دشمنی کا ثبوت پیش کیا۔قابل ِ ملامت ہیں ایسے دھارمک پیشوا جنہوں نے ایک مندر میں معصوم بچی آصفہ کو اسیر رکھ کر اُسے گدھ نما انسانوں کی ہوس کی شکار بننے دیا۔ آصفہ کو دیپک کھجوریہ نے سات روز تک کھٹوعہ کے ایک مقامی مند دیو استھان میں اسیر و یرغمال رکھا اور سات روز کے بعد اسے قتل کر دیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سنہ بدلتے رہتے ہیں مگر ظالم و مظلوم ہمیشہ ہمیش نہیں بدلتے۔

جمہوریت کے دعویدارسیاست و خدمت خلق کے نام کی دوکانداری کرتے ہیں مگر نہ صرف لوٹ مار اور قانون کی مٹی پلید کر تے ہیں بلکہ وقت کی آصفاؤں، آسیاؤں، نیلوفر وں کے ساتھ جنسی درندگی کے اذیت ناک و شرمناک ریکارڈ بھی قائم کر تے ہیں جو ہمارے معاشرے میں انسانیت کے خاتمے کاا علان بھی ہے اور اس حقیقت کا خلاصہ کرتے ہیں کہ یہاں انسان نما حیوان آباد ہیں، یہاں نہ کوئی قانون نظر آتا ہے نہ ہی کوئی قانون دان ہے نہ کوئی قانون کا پیرو، یہاں قانون توڑنے والوں کو کسی قانون کے مواخذے سے کوئی خوف نہیں، گرفت ہے، یہاں قانون کے محافظین خود غنڈہ گردوں کا روپ دھارن کرسکتے ہیں، یہاں سیاستدانوں کی خدائی ہے، جاگیردار طاقت کے سرچشمے ہیں ۔ لہٰذا کسی کی کیا مجال ہے کہ اگر ننھی آصفہ کی انصاف طلبی کی پکار و فریاد کی سنی صدر بار ایسوسی ایشن جموں اَن سنی کر دیں ۔ ا س سے طوفان کوئی آ جاتاہے نہ آسمان زمین پر آ گرتا ہے، لیکن یاد رکھئے آصفہ کو انصاف ملے گالیکن ان کے لئے کوئی قانون نہیں اور اس قانون ِ مکافات عمل کی پکڑ فرد اور قوم کے لئے اتنی سخت ہوتی ہے کہ ہر کوئی بادشاہ، ہر کوئی آمر، ہر کوئی وزیراعظم اور ہر کوئی صدر اس کے سامنے مچھر سے زیادہ اہمیت کا ھامل نہیں ۔ صوبہ جموں کے دیگر اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز کا شکر یہ اداکیا جانا چاہیے کہ انہوں نے حق وانصاف اک ساتھ دیتے ہوئے آصفہ ایشو پر صحت مند اور باشعور اپروچ اپنا کر خود کو زندہ ضمیر ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آصفہ نے جاتے جاتے ہم سب کو ایکسپوز کیا ہے، اسے دیکھ کر بے ساختہ زبان سے یہ اشعار پر آتے ہیں ؎

ابھی انصاف بہرا ہے، ابھی قانون اندھا ہے

یہاں بے داد گری کا تو بلندی پر ہی دھندا ہے

بری پھرتے ہیں یہاں مجرم، کوئی بھی تو نہیں پوچھے

بنا بے جرم لوگوں کیلئے تو پھانسی کا پھندا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close