ہندوستان

آصفہ ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں

ندیم عبدالقدیر

ہمیں یقین ِ کامل ہے کہ ننھی پری آصفہ  ناقابل ِ یقین نعمتوں   سے مزین جنت کے باغات میں سے کسی باغ میں آرام  کررہی ہوگی۔ باغات جن کے نیچے بہتی ہونگی ندیاں۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ وہ رب کائنات کی بارگاہ میں عرض کی ہوگی کہ اذیت کے جس سات سمندر کو پار کرکے وہ جنت پہنچی ہے، کسی اور آصفہ کی قسمت میں یہ رہگزر نہ ہو۔

جنت پہنچنے کےلئے ووہ جس جہنم سے گزری ہے اُس کے شعلوں کی تپش   ہڈیوں کو پگھلا دینے والی ہے۔ آصفہ،نہ جانے  کونسے دل اور جگر والی ہماری بیٹی تھی جو یہ سب جھیل گئی،سوچو تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔آصفہ تو جنت   پہنچ گئی اور ہمیں اسی جہنم میں چھوڑ دیا۔ اب ہمیں سوچنا ہے، کیونکہ اس جہنم ہمیں   رہنا ہے۔

’بقر وال‘ ہی وہ برادری ہے جس نے ۱۹۹۹ء میں سب سے پہلے کارگل کی چوٹیوں پر پاکستانی فوج کی نقل و حرکت کو دیکھا تھا اور فوراً اس بات کی خبر ہندوستانی فوج کو دی تھی، جس کے بعد ہندوستانی فوج حرکت میں آئی۔ یہ خانہ بدوش قبیلے کے لوگ ہیںجوسردیوں میں جموں میں آجاتےہیں اور گرمی میں  بلندپہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔مویشی پالنا ان کا پیشہ ہے۔ اِسی برادری کو اپنے علاقہ سے بھگانےکیلئے ، اُن کی زمین ہتیانے کےلئے، اُنہیں جنگلوں  سے بے دخل کرنے کےلئے ایک انسان نما وحشی نے منصوبہ بنایا جس میں ۸؍سال کی بچی کو اغوا کرنا، اسے مندر میں قید رکھنا، اس کی آبرو کو نوچنا، اس کے جسم کو کھرچنااور پھر اسے قتل کرکے پھینک دینا شامل تھا۔ ان نامردوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اپنی برابری کے کسی مرد سے لڑتے۔ ان شیطانوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے ہم پلہ سے مقابلہ کرتے۔  اسی لئے انہوں نے سب سے نحیف، سب سے کمزور، سب سے ناتواں ایک ۸؍سال کی نازک بچی کو منتخب کیا۔ ایک ایسا مقابل جسے آسانی کے ساتھ مسلا جاسکتا تھا۔
پاکستان، جسے ہم نہ جانے کیسے کیسے گھٹیا قسم کے  القابات سے نوازتے رہتےہیں۔   جی ہاں اُسی پاکستان میں ۴؍جنوری ۲۰۱۸ء کو ۶؍سال کی  زینب نامی ایک لڑکی غائب ہوجاتی ہے۔ اس کے صرف  ۶؍روز بعد یعنی ۱۰؍جنوری کو ہمارے ملک میں ۸؍سال کی آصفہ نامی لڑکی لاپتہ ہوجاتی ہے۔ ۹؍جنوری کو پاکستان میں زینب کی لاش ملتی ہے اور اس کے ٹھیک ۸؍دن بعد   جموں میں آصفہ کی لاش  برآمد ہوتی ہے۔ ان دونوں واقعات میں صرف ایک ہفتہ کا فرق ہوتا ہے۔ اُدھر زینب کی لاش کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلتا ہے کہ اُس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی پھر قتل۔ اِدھر آصفہ کےساتھ بھی اسی طرح کی درندگی کا سراغ ملتا ہے۔ یہاں تک  یہ دونوں معاملے  بالکل یکساں چلتے ہیں۔ ایک پھول  وہاں مسل دیا جاتا ہے اور  ایک کلی یہاں نوچ لی جاتی ہے۔

 اس کے بعد شروع ہوتی ہے تفتیش اور یہاں سے یہ دونوں معاملے ایک دوسرے سے اپنی راہیں بالکل جدا کرلیتے ہیں۔ پاکستان میں ملزم کو گرفتار کرنے کےلئے احتجاج شروع ہوتےہیں۔ حکومت دباؤ میں آتی ہے۔ تفتیش کو انتہائی تیز کردیا جاتا ہے اور لاش ملنے کے ۲۳؍دن بعدسی سی ٹی وی کی تصاویرکی مدد سے ملزم کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، حالانکہ ان تصاویر میں مجرم کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا ہے لیکن اس کے قد اور جسم کی بناوٹ سے ایک اندازہ لگالیا جاتا ہے۔

   ڈی این اے ٹیسٹ میں اُس کا جرم ثابت ہوجاتا ہے۔ کپڑوں کی بھی فارنسک جانچ ہوتی ہے جس سے ثبوت مزید پختہ ہوجاتے ہیں۔ زینب کی لاش ملنے کے صرف ۳۸؍دن بعد، اور ملزم کی گرفتاری کے ۲۰؍دن کے بعد عدالت ملزم علی احمد کو سزائے موت سنادیتی ہے۔ ۲۷؍فروری کو زینب کے مجرم کو سزا سنائی جاچکی ہے، اور پورے پاکستان میں کسی نے بھی اُس کی مخالفت نہیں کی۔

اب ہمارے یہاں کے معاملے کا جائزہ لیجئے۔ جنوری گزر چکا ہے، اس کے بعد فروری اورمارچ بھی گزر گیا۔ اپریل کا مہینہ چل رہا ہے اور اب تک اس معاملے میں صرف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے وہ بھی بڑی بڑی   رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ممکن ہوسکا۔ پاکستان میںزینب کی لاش ملنے کے دو دن میں پورے پاکستان کے میڈیا نے ہنگامہ مچادیا، ہمارے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ آپ جانتے ہیں کیوں ؟؟؟ اپنے دل پر چٹان رکھ کر سنئے، کیونکہ وہ ۸؍سال کی بچی ایک مسلمان تھی، کیونکہ وہ ایک کلمہ گو خاندان سے تعلق رکھتی تھی، کیونکہ اس کا نام، جیوتی سنگھ پانڈے(نربھیا) نہیں بلکہ آصفہ تھا، کیونکہ وہ محمدﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتی تھی۔ اسی ایک جرم کیلئے    آصفہ کا اغوا  ہوا، اسی لئے مندر میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، اسی لئے اُس کا قتل ہوا ، اسی لئے ہمارا قومی میڈیا ڈھائی مہینوں تک  خاموش  رہا، اسی لئے ہندو ایکتا منچ کا قیام وجود میں آیا،اسی لئے اُس کے زانیوں کو بچانے کےلئے ’جئے شری رام ‘ کے نعرے لگے اور اِسی لئے اس کے مجرموں کے دفاع میں ترنگے لہرائے گئے۔

 جموں میں جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا ہے۔ اس کے پیچھے کئی سال کی محنت  ہے۔ ایک بچی کی آبروریزی کرنے والے مجرمین کو بچانے کےلئے ترنگے کا استعمال کرنا اور جئے شری رام کے نعرے لگانا  اس ہجوم کو سکھایا گیا ہے۔ ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے بعد ملک میں قانون کا اثر زائل ہوجانا چاہئے، انصاف کی موت ہوجانا چاہئے اور انسانیت کا دم گھُٹ جانا چاہئے، اس بات کا مکمل بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ محنت صرف جموں کی شاداب اراضی پر ہی نہیں کی گئی بلکہ پورے ملک کی سرزمین پر نفرت کی اسی فصل کے بیج بوئے گئے ہیں۔

روزانہ شام کو پرائم ٹائم کی محفل میں ہندو مسلم کی زہر افشانی سے اسے کھاد مہیا کی گئی۔ طرزِ بیان، اندازِ فکراورجوشِ جنو ن کے ذریعے مسلم دشمنی کی دلیلوں کو بیان کیا گیا۔ ہر موضوع، ہر واقعہ، ہر واردات، ہر مسئلے، ہر عنوان میں ہند و مسلم نفرت کے پہلو تلاش کئے گئے اور پھر اس پر گلے پھاڑ پھاڑ کر بحث کی گئی تاکہ ووٹوں کا سودا کیا جاسکے۔ مسلمانوں کو ہراساں کرنے، ان  پر مظالم ڈھانے، انہیں تختہ مشق بنانے کی سیاست کو سندِجواز مہیا کیا جاسکے۔

اخبارات ( خصوصاً ہندی) نفرت کی اس فصل کو شادابی فراہم کرنے میں کسی طرح پیچھے نہیں رہے۔  اس میں  سوشل میڈیا نے سب سے اہم کردار نبھایا ہے۔ جھوٹ، افواہ، نفرت اوربے بنیاد  خبروں کو پھیلانے میں اس  نے کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی۔ روزانہ اخبارات، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک میں مسلم مخالف زہر ہواؤں میںپھیلایا گیا۔

غرض ہر طرح سے  مسلم مخالف نفرت کے آتش کدے کی آگ کو بھڑکائے رکھنے کی بے شمار سعی کی گئی  تب کہیں جاکر حالات اس نہج پر پہنچے کہ ایک ۸؍سال کی معصوم  بچی کی آبروریزی کرنے والوں کی حمایت میں بھی لوگ نکل پڑے،تب کہیں جاکر انسان وحشی بنااور درندوں کی طرفداری کرنے کو اپناحق سمجھا، تب کہیں جاکر انسان نما ابلیسی وکیلوںکی جماعت بچی کی عصمت کو تار تار کرنے والے مجرموں کے دفاع میں بھی اترپڑی اور قانون کو سڑک پر ناچنے والی دو ٹکے کی لونڈی بنادیا۔

اُدھر زینب کو انصاف مل کر بھی دیڑھ مہینے گزر چکے ہیں اور ادھرابھی یہ معاملہ نچلی عدالت میں شروع بھی نہیں ہوا۔ ابھی  نہ جانے کتنے سال یہ نچلی عدالت میں چلےگا۔ اس کے بعد کئی سال سیشن کورٹ  کے چکر لگائے گا، پھر سالہا سال ہائی کورٹ  میں ایڑیاں رگڑے گااور اس کے بعد سپریم کورٹ پر دستک دے گا۔ گمان غالب ہے کہ اس کا بھی حشر وہی ہوگا جو اُن تمام معاملات کا ہوتا ہے جس میں مظلوم مسلمان ہوتے ہیں۔ دہائیاں گزر جائیں گی صرف یہ بات ثابت کرنے میں کہ واقعی آصفہ کی آبروریزی اور قتل ان ہی ملزمین نے کیا تھا، جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

اب آخری بات آصفہ سے !!!! آصفہ بیٹی تم تو جنت  چلی گئی، لیکن  ہم اسی جہنم میں ہیں۔ ہم تم سے شرمندہ ہیں کیونکہ تمہارے قاتل زندہ ہیں، اور ہم شرمندہ ہی رہیں گے کیونکہ انصاف حاصل کرنے کی نہ تو ہم میں طاقت ہے، نہ حوصلہ، نہ ہمت، نہ اختیاراور نہ امید۔ ہم تمہیں کچھ، کیا دیں گے، ہم تو خود تم سے مانگ رہے ہیں، ہوسکے تو ہمیں معاف کرنا اور باری تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارے حالات سدھارنے کی کوئی سفارش کردینا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close