ماحولیاتہندوستان

آلودگی کی زد میں زندگی اور ہماری بے حسی!

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دنیا میں آلودگی بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ زندگی اور ماحول دونوں اس سے متاثر ہورہے ہیں ۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور گلیشیرپگھل رہے ہیں ۔ اس سے صاف پانی کی پریشانی بڑھ رہی ہے اور موسم بے معنی ہوتے جارہے ہیں ۔ دنیا گلوبل وارمنگ کو زندگی کیلئے بڑا خطرہ مان رہی ہے۔ کیوں کہ اس کا اثر غذا کی پیداوار، جانداروں ، پیڑ پودوں اور ندیوں کی زندگی پر پڑرہاہے۔ صاف پانی اور ہوا سب کیلئے ضروری ہے۔ اس کی اہمیت کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کھانے کے بغیر ہفتوں تک اور پانی کے بنا کچھ دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہوا کے بغیر اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ انسان دن بھر میں جو کچھ لیتا ہے اس میں 80 فیصد حصہ ہوا کا ہوتا ہے۔ ہوا مختلف گیسوں کا مرکب ہے۔ ان کی مقدار میں ذرا سا بھی فرق آنے پر ہوا کا توازن بگڑ جاتاہے جو صحت کیلئے مضر ثابت ہوتی ہے۔ سانس لینے کیلئے آکسیجن ضروری ہے۔ جب کبھی ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ یانائٹروجن کے آکسائیڈون کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو یہ خطرناک ہوجاتی ہے۔

بھارت کو دنیا میں ماحولیات کے اعتبار سے ساتویں سب سے خطرناک ملک کے طورپر جگہ دی گئی ہے۔ صاف ہوا کی سطح بھارت کے بڑے شہروں میں پچھلے بیس برسوں میں بہت ہی خراب رہی ہے۔ صنعتی آلودگی چارگنا بڑھی ہے۔ ملک کی چوبیس ریاستوں کے 168 شہروں پر مشتمل گرین پیس انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر سال آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بارہ لاکھ لوگ مرجاتے ہیں ۔سابق وزیر ماحولیات پرکاش جاویڈکر نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ صرف دہلی میں ہوائی آلودگی سے پیداشدہ بیماریوں سے روزانہ 80 لوگوں کی موت ہوجاتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کی مانیں تو دنیا کے دس میں سے نولوگ آلودہ ہوا میں سانس لینے کو مجبور ہیں اور آلودہ ہوا سے ہونے والی ہر تین میں سے دو موتیں بھارت وجنوب مشرقی ایشیاء میں ہوتی ہیں ۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ بھارت میں ہوائی آلودگی کس خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ نے دیش کے اکیس چنندہ شہروں کی ہوا کے معیار پر ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس کے لحاظ سے اکیس میں سے صرف ایک شہر پنچکولہ میں ہوا کا معیار تسلی بخش تھا۔ اس کے علاوہ ممبئی اور مغربی بنگال کے شہر ہلدیہ میں بھی ہوا کا معیار کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ لیکن باقی شہروں میں ہوا خراب سے لیکر بہت خراب  پائی گئی۔ ان میں مظفرپور، لکھنؤ، دہلی، بنارس، پٹنہ، فریدآباد، کانپور، آگرہ وغیرہ شہروں میں آلودگی کی سطح بہت ہی خراب پائی گئی۔ ان میں تب دہلی تیسراسب سے زیادہ آلودہ شہر پایا گیا تھا۔ یونیسیف نے بھی ہوائی آلودگی کے معاملے میں دہلی کو سب سے خراب شہر بتایاتھا۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں دہلی کی ہوا کو صحت کیلئے بے حد نقصان دہ مانا ہے۔ اس نے اکیانوے دیشوں کے سولہ سو شہروں کے آنکڑوں کو رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ ان کے مطابق دہلی کی ہوا میں پی ایم 25(2.5 مائیکرون چھوٹے ذرات) سب سے زیادہ پایاگیا ہے۔ دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی کے مطابق پی ایم2.5 کی محفوظ سطح 60 مائیکروگرام ہوتی ہے۔ جو 153 مائیکروگرام پائی گئی۔ پی ایم10 کا طے پیمانہ 100 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر ہے جو 286 مائیکرو گرام تک پہنچ گیا۔ یہ صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ پچھلے سال نومبر میں پی ایم2.5 کی مقدار471 اور پی ایم10 کی مقدار 1000 ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے دہلی میں کئی دن تک دھند چھائی رہی تھی۔ پی ایم25-اور پی ایم10- کی بڑھی ہوئی مقدار اس وقت سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے چانکیہ پوری، لوٹین زون میں بھی تھی اور سب سے زیادہ پالیوشن والے علاقے سادی پور اور آنند وہار میں بھی تھی۔ دہلی میں ہوائی آلودگی کا سب سے زیادہ اثر بس، موٹر سائیکل، آٹو اور پیدل راہ گیروں پر ہوتا ہے۔ ہوا میں گھلے زہر کی وجہ سے پھیپھڑے، گردے اور دل وغیرہ پر اثر پڑرہا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو سردرد، بخار، زکام، کھانسی جیسی پریشانیاں جھیلنی پڑرہی ہیں ۔

گزشتہ سال ممبئی کے دھاراوی دمپنگ اسٹیشن میں کوڑا جلائے جانے کی وجہ سے آس پاس بسی بستیوں پر اس کے انتہائی  مضر  اثرات ہوئے  اور  سینکڑوں لوگوں کو اسپتال جانا پڑا ۔ پچھلے اٹھارہ برسوں میں نامیاتی یا آرگینک ایندھن کے جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار میں 40 فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ اسی کو روکنے کیلئے وزیراعظم نے غریبوں کو مفت رسوئی فراہم کرنے کی اسکیم شروع کی ہے۔ کیونکہ بڑھی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں 0.7 ڈگری سیلیس کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر اس کو روکنے کیلئے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے تو 2030 تک زمین کے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار نوے فیصد تک  بڑھ جائے گی۔

ہوائی آلودگی میں جہاں موٹر گاڑیاں اضافہ کررہی ہیں وہیں تھرمل پاور اسٹیشن، اینٹ کے بھٹے اور صنعتی اکائیاں بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ اس میں کھیتی کے باقیات کو جلانا سونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے۔1990کی دہائی کے آخری سالوں میں دہلی کی ہوا کو صاف رکھنے کیلئے آلودگی پیدا کرنے والی چھوٹی اکائیوں کو دہلی سے باہر کیاگیا اور سی این جی بسیں چلائی گئیں ۔ ساتھ ہی پرانی بسوں کو سڑک سے ہٹا دیاگیا۔ گاڑیوں کو طاق جفت طریقہ سے چلانے کا تجربہ بھی کیاگیا لیکن یہ سب آدھے ادھورے قدم ثابت ہوئے۔ 29 مارچ کوسپریم کورٹ نے ایک بار پھر بی ایس3- گاڑیوں کے دہلی این سی آر میں رجسٹریشن پر پابندی لگاکر ہوائی آلودگی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کتنا فائدہ ہوگا یہ تو وقت بتائے گا لیکن ہائی پروفائل لوگوں کی بڑی بڑی ڈیژل سے چلنے والی گاڑیاں اب بھی سڑک پر دوڑ رہی ہیں ان پر کسی طرح کی پابندی نہیں لگی۔ ایک گیلن پٹرول کے جلنے سے لگ بھگ5720لاکھ کیوبک فٹ ہوائی آلودگی پیدا ہوتی ہے جبکہ ڈیژل سے ہوائی آلودگی پٹرول کے مقابلے کئی گنا زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

نیشنل گرین ٹریبونل نے آلودگی کو دور کرنے کیلئے کئی قدم اٹھانے کا حکم جاری کیاتھا۔ اس میں باہری ٹرکوں کے شہر میں داخلے پر پابندی بھی شامل تھی۔ موٹر گاڑیوں ، ان کے ایندھن اوران سے نکلنے والے دھوئیں پر تو سرکار اور عدالت دونوں کی نگاہ ہے لیکن صنعتی اکائیوں پر کنٹرول کیلئے کوئی کچھ خاص نہیں ہوپارہا۔ جبکہ ان سے صرف ہوائی آلودگی ہی پیدا نہیں ہورہی بلکہ پانی اور زمین بھی آلودہ ہورہی ہے۔ دہلی اور اس سے متصل این سی آر علاقوں میں جہاں صنعتی اکائیوں اور کارخانوں کی بھرمار ہے وہاں دھند کے ساتھ آواز کی آلودگی بھی اپنی انتہا پر ہے۔ دھند کے معاملے میں دہلی نے بیجنگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بیتے نومبر میں جب دھند کی چادر نے دہلی کو دھک لیا تھا اس وقت ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ  دہلی والے پورے سال میں صرف ساڑھے چار دن ہی  صاف ہوا میں سانس لے پائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صنعتی اکائیوں پر کنٹرول کیلئے سخت قانون بنے جس کی فی الحال کوئی امید نظرنہیں آتی۔

شادی بیاہ میں ڈی جے اور بلند آواز میں میوزک عام بات ہے۔ اس میں اتنا شور ہوتا ہے کہ آپ اپنے برابر بیٹھے شخص سے بھی بات نہیں کرسکتے۔ اتنا ہی نہیں اب تو مذہبی رسومات میں بھی لائوڈ اسپیکر پورے وولیم میں بجایا جاتاہے۔ چھوٹے ٹرکوں پر لائوڈ اسپیکررکھ کر یاترائیں ، مورتی وسرجن کے جلوس اور مذہبی جلسے منعقد کئے جاتے ہیں ۔ عام طورپر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ شام 8 بجے سے گیارہ بجے تک گھروں میں عورتیں اور خاندان کے دوسرے لوگ ٹیلی ویژن کے سامنے جمے رہتے ہیں ۔اس سے بلڈ پریشر، شوگر اور بہرپن کی شکایت پیدا ہورہی ہے اور انچاہا  وزن بڑھ رہاہے۔آواز کی آلودگی کی طرف تو کسی کا دھیان ہی نہیں ہے۔ غیر منظور شدہ کالونیوں میں لوگ اب بھی چھوٹے چھوٹے کارخانے اپنے گھروں میں چلاتے ہیں ۔ انتظامیہ اس کو لے کرسنجیدہ نہیں ہے۔

ابھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی اور ایک ریاست میں کارپوریشن کا الیکشن ہوچکا ہے۔ اس وقت دہلی میں کارپوریشن کے الیکشن کی تیاری چل رہی ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں ملک کی اور پانچ ریاستوں میں چنائو ہوں گے۔ سبھی پارٹیوں نے انتخاب جیتنے کیلئے طرح طرح کے وعدے کئے اور کریں گی لیکن کسی نے بھی اپنے انتخابی منشور میں آلودگی کے مدعے کو شامل نہیں کیا۔ اس سے ہماری سیاسی پارٹیوں اور عوام کی بے حسی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگرزندگی کو آلودگی کی زد سے بچانا ہے تو موٹر گاڑیوں کی اندھا دھند تعداد پر لگام لگانا ہوگا۔ پیڑ پودوں کی تعداد کوبڑھانا ہوگا۔ جنگلات کو کٹنے سے بچانے کیلئے کوشش کرنی ہوگی۔ صنعتی ترقی اور زندگی میں تال میل بناکر توازن قائم کرنا ہوگا۔ فیکٹریوں ، کارخانوں اور صنعتی اکائیوں کیلئے سخت قانون بنائے جائیں تاکہ ان کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ نہ ہو۔ شہروں کو ڈیژائن کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں پیدل وسائیکل سے چلنے والوں  کوپریشانی نہ ہو۔ سرکار اور عوام دونوں کو مل کر اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ کیوں کہ زندہ رہیں گے تبھی تو ترقی کریں گے، جئیں گے تبھی جب سانس لینے کیلئے صاف ہوا، پینے کیلئے صاف پانی اور کھانے کیلئے صحت مند غذا ملے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close