ہندوستان

آنے والے چار مہینے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے

حفیظ نعمانی

2017 ء میں اُترپردیش کے الیکشن کے بعد کس کی ہمت تھی جو زبان سے کہہ سکے کہ دس سال تک نریندر مودی کو کوئی ٹکر دینے کی بات چھیڑ کے دیکھے۔ یہ عوام کی دل سے نکلی فریاد اور مودی اور شاہ کا فرعونیت کے نشہ میں غرق ہونے کی سزا ہے جو قادر مطلق نے دی ہے۔ کانگریس بحیثیت پارٹی اور راہل بحیثیت لیڈر صرف مقابلہ کی بات کرنے کے قابل تھے مقابلہ کی نہیں۔ جن تین بی جے پی کی ریاستوں میں اس کا صفایا کیا ہے وہ عوام ہیں اور وہ ہے جس نے کہا ہے کہ ’انا انّ عندی منکر القلوب‘ (بیشک میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوں)

اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ راہل گاندھی اس فتح کو ہضم کرلیں جس کے بارے میں ہر باشعور آدمی کہہ رہا ہے کہ کانگریس جیتی نہیں ہے بی جے پی ہاری ہے اور عوام نے ہرایا ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو بینکوں کی لائن میں لگ کر ہی دنیا سے چلے گئے۔ ان کے وارثوں کو شکایت ہے کہ کوئی ان کی خبر لینے کے لئے نہیں آیا۔ اور وہ بھی ہیں جن کے بھائیوں اور بیٹوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ … راجستھان میں جہاں رانی خاندان کی ایک بہو کو ذلیل و خوار ہونا پڑا ہے یہ وہ رانی ہے جو سن رہی تھی کہ غنڈے اور بدمعاش گئورکشک بن کر گئو رکشک چوکیاں قائم کررہے ہیں اور وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پولیس پر اعتبار نہیں وہ رشوت لے کر گائے کے اسمگلروں کو شہر سے جانے دیتی ہے۔ اور حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ اب یہ میاں راہل گاندھی کی ذمہ داری ہے کہ وقت نکال کر وہ ہر اس گھر میں چند منٹ کیلئے جائیں جن کے گھر کا کوئی بینک کی لائن میں کھڑے ہونے یا نوٹ بندی کی مار سے مرا ہو۔ اور راجستھان میں جو بھی وزیراعلیٰ بنے اسے حکم دیں کہ پورے راجستھان کو گئو رکشکوں سے پاک کرے اور ہر چوکی کا ملبہ بی جے پی والوں کو دے دے۔

مودی جی کی مخالفت میں جس نے بھی ووٹ دیا ہے اس کی شکایت یہ ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد مودی جی نے الیکشن مینی فیسٹو کو کھول کر بھی نہیں دیکھا انہوں نے اپنے مینی فیسٹو میں سب سے زیادہ اچھے دن لانے کا وعدہ کیا تھا انہوں نے مہنگائی ختم کرنے روپئے کی قدر بڑھانے نوجوانوں کو روزگار دینے ہر کھیت کو پانی اور ہر گھر کو بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس منتر ہے اور اب یہ منتر وہ جوتے سے روند رہے ہیں۔ ملک کا ہر آدمی آنکھیں پھاڑپھاڑکر دیکھ رہا ہے کہ وکاس کیا ہوا لیکن اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ دینے کو تو انہوں نے پندرہ پندرہ لاکھ روپئے ہر کسی کو دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے گائوں کو گود لینے کا ایک پروگرام بنایا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ کام ٹھیک تھا یا غلط لیکن جو بھی تھا اسے انہوں نے خود ایک گائوں کو گود لے کر شروع کیا اور پھر بھول گئے کہ وہ گائوں کہاں ہے؟

وزیراعظم بننے کے بعد نہ جانے کتنے کام شروع کئے اور خود ہی ختم کردیئے۔ راہل گاندھی کے بارے میں الیکشن کے دوران ان کے خاص آدمیوں نے بتایا کہ وہ الیکشن مینی فیسٹو سب کے مشورہ سے بناتے ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ایسا بناتے ہیں جس پر عمل ہوسکے راہل نے ہر جگہ کسانوں سے وعدہ کیا کہ وہ حکومت بناتے ہی کسانوں کا قرض معاف کردیں گے۔ جس وقت وہ یہ وعدہ کرتے تھے اسی وقت جواب میں بی جے پی کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ پنجاب اور کرناٹک میں بھی انہوں نے وعدہ کیا تھا لیکن کہیں معاف نہیں کیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے لیکن یہ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر اس کام کو کریں جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔ آنے والے چار مہینے ایسے ہیں جو اُن کی پارٹی کو وہاں لے جاسکتے ہیں جہاں وہ 2014 ء میں تھی اور یہی چار مہینے انہیں واپس اس جگہ لاسکتے ہیں جہاں وہ 11  دسمبر 2018 ء میں تھی راہل گاندھی نے شیر کے منھ سے ہرن کی ٹانگیں چھینی ہیں کون بتا سکتا ہے کہ وہ رات بھر انگاروں پر لوٹتے رہے یا امت شاہ سے مل کر روتے رہے آنے والے چار مہینوں میں اگر مودی جی ہر آدمی کو پکا مکان دینے کا قسم کھاکر وعدہ کریں یا ان چار مہینوں میں لاکھ دو لاکھ فرضی نوکریاں دے کر بھی دکھائیں تو اب کوئی کسان اور کوئی جوان ان کے جھانسے میں نہیں آئے گا۔

لیکن یہی چار مہینے راہل گاندھی کے ایسے ہیں کہ ان کی ہر بات کا سب یقین کریں گے لیکن اگر ذراسی بھی جھوٹ کی آمیزش ہوئی تو 2019 ء میں وہ پھر وہیں آجائیں گے جہاں سے چلے تھے۔ راہل گاندھی پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ پارٹی کی جڑیں مضبوط کریں اور صرف نوجوانوں کو نہیں تجربہ کار لوگوں کو بڑی ذمہ داری سونپیں۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان دونوں جگہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ بننے پر اندر اندر ہی کھینچ تان ہوگئی ہے یہ پارٹی کے لئے بہت نقصان کی بات ہے کہ ہر آدمی وزیراعلیٰ بننا چاہتا ہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ نہ ایک آدمی پارٹی کو کھڑا کرسکتا ہے اور نہ ہر ورکر کو وزیراعلیٰ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بات ہر ورکر سے کہہ دی جائے کہ جب تمہاری پارٹی کی حکومت ہوگی تو وہ تمہاری ہی حکومت ہوگی اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close