ہندوستان

اپنی ہی لگائی آگ میں جھلستی موجودہ حکومت

نہال صغیر

موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک دوست صحافی کے یہ تاثرات کتنے صحیح ہیں کہ لوگ آر ایس ایس کو سب سے بڑی اور کامیاب تنظیم قرار دیتے تھے لیکن موجودہ تناظر میں یہ بات آشکار ہوئی ہے کہ آر ایس ایس نظر یاتی طور پر ایک منتشر تنظیم ہے ۔یہی سبب ہے کہ اسے یا اس کے لیڈروں کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کیا بیان دیں اور کس مسئلہ کو کس حکمت عملی سے طے کیا جائے ۔اس لئے بی جے پی ہی نہیں سنگھ کے لیڈروں کے بھی الٹے سیدھے بیانات میڈیا میں بحث کا حصہ بن رہے ہیں ۔جس سے مودی حکومت کی ناکامی پر کھل کر بحث ہو رہی ہے ۔مودی حکومت کی ناکامی آر ایس ایس کی ناکامی ہے ۔حید ر آباد مرکزی یونیورسٹی کے اسکالر روہت ویمولا کی موت کے کئی دن کے بعد مودی جی نے وارانسی میں یونیورسٹی کنووکیشن اجلاس میں کہا کہ بھارت ماں نے اپنا لال کھویا ہے ۔لیکن ان کے منافقت بھری باتوں کی پول وہیں کھل گئی ان کے خلاف نعرے لگانے والے دلت طالبعلم کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا یعنی انہیں بھی روہت ویمولا کی طرح ہی مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل کر مرنے کے مجبور کیا گیا ۔اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا کہ جہاں بھی طلبہ نے مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا وہاں ان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی ۔لیکن مرکزی حکومت کی ہر کارروائی اس کے خلاف ایک نئے طوفان کاپیش خیمہ بنتی گئی ۔اس سلسلے کی ایک کڑی کنہیا کی منصوبہ بند گرفتاری بھی تھی ۔لیکن وہاں بھی اس کے ہاتھ جھلس گئے ۔
جب آپ نے کوئی چیلنج کیا ہو ۔کسی کو بہتر زندگی دینے ،مثالی انتظامیہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہو، اور وہ آپ کے بس سے باہر ہو تو پھر آپ وہی سب کچھ کریں گے، جو آج کل بی جے پی کی حکومت میں ہو رہا ہے ۔جے این یو معاملہ پر کنہیا کی بیجا گرفتاری اور بی جے پی کے طلبہ ونگ کے فساد پر دانش گاہوں کا ماحول خرب کرنے کی کوشش پر نتیش کمار نے کہا تھاکہ معاشی استحکام کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں مرکزی حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے اور عوام کا ذہن پھیرنے کے لئے حب الوطنی کی اپنی زبان ملک پر تھوپنا چاہتی ہے۔نتیش کمار نے کوئی نئی بات نہیں کہی ۔یہ وہی باتیں ہیں جو اکثر شہریوں کی زبان پر ہے ۔بلکہ اب تو یہ باتیں نام نہاد محب وطن اور اصول پسند پارٹی کے لوگ بھی کہہ رہے ہیں ۔ نتیش کمار مرکزی حکومت کو چیلنج کرتے ہیں کہ کنہیا کے ملک کے غدار ہونے کا کوئی ثبوت ان کے پاس ہے تو وہ ملک کے سامنے پیش کرے ۔لیکن بات یہ ہے کہ کوئی ثبوت ہو تب نہ پیش کیا جائے ۔ایک سینئر اردو صحافی کے مطابق یہ سب کچھ صرف اور صرف جے این یو پر قبضہ کرنے کے لئے اور اس پر بھگوا سوچ مسلط کرنے کی کارروائی ہے ۔جب ہی تو مودی بھکت اور ناگپور کے اشارے پر رقص کرنے والی میڈیا اور ان کے دلال ٹائپ کے اینکروں نے ویڈیو میں ایڈیٹنگ کرکے جے این یو میں پاکستان حامی نعرے لگانے والوں کو دکھایا جن میں چہرے نظر نہیں آتے ۔میڈیا اور بی جے پی سمیت آر ایس ایس کی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ اس کا ہر اسکرپٹ پہلے سے تیار رہتا ہے بس فلم بعد میں تیار ہوتی ہے ۔اور اس کے لئے ایکٹر بھی منتخب کئے جاچکے ہوتے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ سدھیر جیسے اینکر کو بھی بہترین صحافت کا ایوارڈ دیا جاتا جو کہ دھوکہ دھری اور ایکسٹورشن کے سلسلے میں حوالات کی ہوا کھا چکے ہیں ۔
ہم ایسے صحافیوں اور لیڈروں کو بھی دیکھتے ہیں جنہیں عام طور پر سیکولر مانا جاتا رہا ہے اور وہ مسلمانوں کے پروگرام میں سیکولر شبیہ لے کر آتے رہے ہیں ۔انہی میں سے ممبئی میں مشہور انگریزی اخبار کے سابق سٹی ایڈیٹر بھی ہیں ۔ایک نیوز گروپ پر ان کا سارا زور سنگھی آئیڈیا لوجی کو پروموٹ کرنے پر رہتا ہے ۔کنہیا کی گرفتاری پر بھی وہ اسی لائن پر اپنے خیالات پیش کررہے ہیں۔ جسے ناگپور سے براستہ دلی ملک میں پیش کیا جارہا ہے ۔وہ حقائق کو جان کر اور اسے سمجھ کر بھی اس پر کوئی گفتگو نہیں کرتے بلکہ ان کا سارا زور اس پر رہتا ہے کہ راہل گاندھی ،کیجریوال اور نتیش کمار نے افضل گرو اور پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے والوں کی حمایت کی ۔جبکہ وہ ویڈیو وائرل ہو چکا ہے جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ پاکستان زندہ آباد کے نعرے خود سنگھ اور بی جے پی کے طلبہ ونگ کے لڑکوں نے لگائے تھے ۔لیکن دلال میڈیا اور دلال بھکت دونوں ہی اس پر کوئی گفتگو نہیں کرتے ۔روہت ویمولا پر ہی اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ یہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ۔ کیجریوال کا بیان سوشل میڈیا پر آیا کہ کنہیا کی گرفتاری مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔راہل گاندھی نے بھی کہا کہ جو طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کرے وہی سب سے بڑا غدار وطن ہے ۔کنہیا کی رہائی پر بھی اسے مبارکباد دینے اور اس کی بارے میں پیش گوئی کرنے والوں کا تانتا لگ گیا ۔رہائی کے بعد کنہیا کی تقریر پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مشہور صحافی نکھل واگھلے ٹوئٹر پر کہتے ہیں ’’کنہیا کی صورت میں نئے لیڈر کا عروج‘‘۔اب یہ نیا ابھرتا ہوا لیڈر پورے ملک میں گھوم گھوم کر کالج اور یونیورسٹی میں طلبہ سچائی سے آگاہ کررہا ہے ۔جس پر کسی کہنے والے نے ٹھیک ہی کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی قبر خود ہی کھودنی شروع کردیا ۔
یہ مختلف تاثرات اور خیالات ہیں جو روہت ویمولا کی خود کشی کے بعد اور اس کے بعد کنہیا کی گرفتاری پر سامنے آئے ہیں ۔سیدھے الفاظ میں جو الفاظ اروند کیجریوال کے ہیں کہ ’’یہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے‘‘۔وہ اپنی جگہ پر بالکل درست ہے ۔اس سے زیادہ سیدھا اور عام فہم جملہ فی الحال موجودہ حکومت کے لئے ہوہی نہیں سکتا ۔الیکشن سے قبل مشتہر ہونے کے لئے بی جے پی نے سارے چینلوں کے پرائم ٹائم اپنے نام کرلئے تھے ۔اگر اتر پردیش کے دور دراز گاؤں میں بھی مودی جی کوئی جلسہ سے خطاب کررہے ہیں تو سارے ہی چینل ان کی پوری تقریر کو راست نشر کررہے تھے ۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اور حکومت کی پہلی سالگرہ تک چینلوں نے اس کاحق ادا کرنے کی پوری کوشش کی لیکن جب عوامی توقعات پوری کرنے میں حکومت پوری طرح ناکام رہی تو کچھ چینلوں نے اپنی عوامی مقبولیت بچانے کے لئے آنکھیں ٹیڑھی کرنی شروع کیں ۔اور اب دیکھ لیجئے کہ پہلے روہت ویمولا کی خود کشی اور اب کنہیا کی بے جا گرفتاری اور پھر اس کی رہائی نے بغیر کسی اخراجات کے چند ایک چینلوں کو چھوڑ کر سارے کے پرائم ٹائم پر قبضہ کرلیا ۔اس کو کہتے ہیں عوامی توقعات کو سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ۔صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا ہے جناب وزیر اعظم !
اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی عوام کے پاس جانے کا اپنا اخلاقی حق کھوتی جارہی ہے ۔عوام نے تبدیلی اور انقلابی اقدام کے لئے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھا لیکن ہوا اس کا الٹا نہ کوئی انقلابی تبدیلی آئی نہ مہنگائی کم ہوئی ۔بدعنوانی کے خلاف لمبی باتیں کرنے والے اب خاموش نظر آرہے ہیں ۔کسانوں کی خود کشی کی تعداد بھی سال 2015 میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے ۔ہر دن نئے نئے ایونٹ نئے نئے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن زمینی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے ۔عوام کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے ۔پورے ملک کے جوہری غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہیرے کی لالچ میں پتھر کا چناؤ کرلیا اب کیاکریں دو سال تو گذر ہی گیا ہے تین سال مزید اس تکلیف دہ دور میں جینا ہے ۔جوہریوں سناروں اور درمیانہ تاجر برادری نے کھل کر نریندر مودی حکومت کو سپورٹ کیا تھا اب ان کا نعرہ ہے ’’ہماری بھول ،کمل کا پھول‘‘۔کسی نے ایسے حالات سے پریشان ہو کر کہا تھا کہ ’جن لوگوں کو مندروں میں گھنٹی بجانے اور پوجا پاٹھ کرنے کا کام تھا وہ عوام کا جذباتی استحصال کرکے ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو گئے ۔اب عوام سوچتے ہیں کہ یہ مصیبت کب ٹلے گی ۔یہ تو جمہوری طرز حکومت کی دین ہے کہ عوام ہر پانچ سال کی تبدیلی کی وجہ سے صبر کرلیتے ہیں ۔ورنہ حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے ہیں کہ صبر کرنا محال ہے ۔ایک وقت تھا جب لال بہادر شاستری نے ریلوے حادثہ پر اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا ۔عوام سوچتے ہیں کہ شاید موجودہ حکومت کا بھی ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ تین سال مزید انتظار کی زحمت دیے بغیر ہمیں معاف کردے تو بہتر ہو تا ۔ورنہ تین سال کے بعد تو بی جے پی جیسی حکمرانی چلا رہی ہے کانگریس کو بنا کچھ کئے ہی آئندہ لوک سبھا میں بھاری اکثریت مل جائے گی ۔سنگھ کے ساتھیوں ان کی ذیلی تنظیموں اور سیاسی ونگ بی جے پی سے عوام کی فریاد ہے کہ آپ سنگھ اور اس کی تنظیمیں چلائیں اور جو کچھ آپ کو کرنا ہے کریں وہی آپ کے لئے ٹھیک ہے ۔اسی میں آپ کامیاب ہیں ۔عوام پر رحم کریں ۔حکومت کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔ویسے بھی آپ کی حکومت مسلسل آگ سے کھیلنے کا کام کررہی ہے ۔جس سے ہر دم نہ صرف یہ کہ آپ کے جھلسنے کا خطرہ ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ملک کی سلامتی پر بھی خطرات منڈلارہے ہیں ۔ہم آپ کے جھلسنے کی فکر سے آزاد ہو بھی سکتے ہیں لیکن ملک کی سلامتی کے تعلق سے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close