ہندوستان

این آر سی کی رپورٹ:  چند سوال

راحت علی صدیقی قاسمی

کائنات میں بسنے والے ہر فرد کے لئے ملک انتہائی اہمیت کی حامل شئے ہوتا ہے، ملک سے محبت کا تقاضہ ہر شخص کے قلب میں فطری طور پر پیوست ہوتا ہے، اور یہ جذبہ اتنا بلند ہوتا ہے، کہ انسان ملک کے سامنے جان مال گھر خاندان اور رشتہ داروں کی بھی پرواہ نہیں کرتا، تاریخ کے صفحات ملک کی محبت کو اجاگر کرنے والے واقعات سے بھرے پڑے ہیں، دیش پر قربان ہونے والے افراد کی داستانیں ہماری نگاہوں میں ہیں،  بہت سے افراد آخری سانس تک ملک کے لئے لڑتے رہتے ہیں، اُس کی آبرو کے تحفظ کی خاطر خون کا آخری قطرہ تک قربان کردیتے ہیں، ویر عبدالحمید کی شہادت بھی اس دعوی کی ایک دلیل ہے، ملک انسان کے لئے بہت عزیز شئے ہے، جس سے تعلق فطری ہے۔ اس پس منظر میں غور کیا جائے تو ان کمزور غریب پسماندہ آسامیوں پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے نام این آرسی کے رجسٹر میں نہیں ہیں، حالانکہ ہمارے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اسمبلی میں اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ انہیں پورے طور پر اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائیگا، عدالت عالیہ بھی اس بات کا اعلان کرچکی ہے کہ  این آرسی کی یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے، اس میں مزید تلاش و جستجو کی ضرورت ہے، اور اس کے بعد جو این آرسی رپورٹ پیش کرے گا، اس پر شنوائی کے لئے عدالت کا دوازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔

 الیکشن کمیشن نے بھی وضاحت کردی کہ جن لوگوں کے نام اس فہرست میں نہیں ہیں، انہیں ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا، ان تمام بیانات کے باوجود دانشوران قوم اس عمل کو آسامی مسلمانوں پر آنے والے طوفان کی تمہید قرار دے رہے ہیں، اور ان بے کس مسلمانوں کو اپنے گھروندے طوفان کی زد میں نظر آرہے ہیں، جس سے بچنے کے لئے انہیں محنت مشقت اور جدو جہد کی ضرورت ہے، سرکاری دفتروں کے چکر کاٹنے ہیں، وکلاء کی فیس بھرنی ہے، سرکاری اہلکاروں کے رویہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں، ان مشکلات کے باوجود بھی انجام کیا ہوگا؟ خدا جانے چونکہ سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو ہندو مسلم کا رنگ دے کر انتخابی مدعا بنانا چاہتی ہیں، اور بی جے پی 2019 کے اسمبلی انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانے کی خواہش رکھتی ہے، اس خواہش کا اظہار بی جے پی کے صدر امت شاہ کے اُن جملوں سے ہوتا ہے، جو انہوں نے اسمبلی میں کہے، کہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اس مسئلے کو اٹھایا تھا، انہوں نے اس کی ابتدا کی تھی لیکن کانگریس میں ہمت نہیں تھی، ہم میں ہمت ہے، لہٰذا ہم نے اس کا نفاذ کردیا ہے، ان جملوں سے اس حساس معاملہ پر ہورہی سیاست کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔

 چونکہ بی جے پی 2014 تک کے ہندو تارکین وطن کے لئے شہریت کا انتظام کر رہی ہے،ان کے لئے قانون پاس کیا جارہا ہے، اس پس منظر میں بھی غور کیا جائے، تو ایک خالص انسانی مسئلہ سیاسی مدعا کی شکل اختیار کرچکا ہے، حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ پورا عمل عدالت کی نگرانی میں ہوا ہے، پھر امت شاہ کے یہ جملے عدلیہ جیسے اہم شعبہ کے کردار پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، حالانکہ عدلیہ ہمارے ملک کا سب معتبر ومعتمد شعبہ ہے، جس پر ملک کا ہر شہری یقین رکھتا ہے، امت شاہ کے یہ جملے بلاشبہ غیر مناسب ہیں، اور اس رپورٹ کے پیش ہونے کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، این آر سی کا قیام 1951 میں ہوا تھا، جب سے یہ شعبہ ہندوستانی باشندوں کی شہریت کے تعلق سے کام کرتا ہے۔

 1885 میں آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آسو کے ساتھ آسام معاہدہ پر دستخط کئے تھے، عرصئہ دراز سے یہ گفتگو کا موضوع بنا ہوا تھا، پھر اس وقت نتائج کا آنا، چہ معنی دارد جب اسمبلی انتخابات انتہائی قریب ہیں، اور ملک کی فضا مسموم ہو رہی ہے، آئے دن ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں، ہندو مسلم فرقہ وارانہ منافرت کا ماحول تیار ہورہا ہے، ایسی صورت حال میں اس رپورٹ کی اشاعت اور بی جے پی صدر کے جملے وزیر اعظم کی خاموشی یہ تمام چیزیں مل کر سوال کھڑا کرتی ہیں، کیا بی جے پی اس رپورٹ کا انتخاب میں استعمال کرنا چاہتی ہے؟ کیا بی جے پی کا اس رپورٹ کی اشاعت سے کوئی تعلق ہے؟ کیا حتمی فیصلہ اور زیادہ خطرناک ہونے والا ہے؟ جو 2019 کے اسمبلی انتخابات پر واضح طور پر اثر انداز ہوگا؟ اور ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس جائے گا۔

جنگ آزادی سے قبل ہی ہندوستان میں مردم شماری کا نظام رائج ہو چکا تھا، 1947 میں ہمارا ملک آزاد ہوا، 1972 سے یہاں مردم شماری ہورہی ہے، اب تک  15 مرتبہ ہمارے ملک میں مردم شماری ہو چکی ہے، جس کے ذریعے ملک کے باشندوں کی تعداد اور ان کی تعلیمی معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے،آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے، چنانچہ آزاد ہندوستان میں پہلی مرتبہ 1951 میں مردم شماری ہوئی اور اس کے بعد مسلسل یہ عمل جاری ہے، پھر 1961 اور 71 میں ہندوستانی باشندوں کی گنتی کی جاتی رہی، اور 81 میں بھی یہ عمل کیا گیا، اب اس قدر افراد آسام جیسی چھوٹی ریاست میں موجود تھے، تو ان کا کسی کو علم کیوں نہیں ہوا؟ کیا 1971 اور 1981 میں ہوئی مردم شماری میں کثیر تعداد میں ہوئے افراد کے اضافے کا علم نہیں ہوا؟ اگر ہوا تو پھر ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی تھی؟ اس کے دستاویز اور ثبوت کہاں ہیں ؟ اور اگر دونوں مواقع پر افراد کی تعداد میں قرین قیاس اضافہ ہوا ہے، تو پھر 40 لاکھ افراد کہاں سے آگئے، اگر کسی کے ذہن میں یہ شک ہو کہ پچاس سال قبل یہ تعداد کم ہوگی، تو بتائیں کتنی کم ہوگی؟ کیا اس کا ادراک ناممکن تھا، حکومت ہند جو ایک ایک فرد کے تعلق سے مکمل معلومات رکھتی ہے، اس کی نگاہ سے 40 لاکھ افراد کیسے اوجھل ہوگئے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے، جو ہندوستان کے ہرباشندے کے ذہن میں اٹھ رہا ہوگا، لیکن مسئلہ کو ہندو مسلم رنگ دے کر ان سوالات کو نفرت کی قبر میں دفن کردیا گیا ہے، اور آسامی باشندوں کو محض مسلمان ثابت کرکے ملک کی اکثریت کو خاموش کردیا گیا ہے، حالانکہ اس تعداد میں یقینی طور پر بنگلہ بولنے والے کچھ غیر مسلم بھی ضرور شامل ہوں گے، اور یہ لسانی مسئلہ ہے، جس کی بناء پر پہلے بھی آسام سخت ترین حالات کا مشاہدہ کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ 1971 میں ہندوستان کی سرحدیں مضبوط ہوچکی تھیں، اسے تقویت حاصل ہوچکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہندوستان نے پاکستان کو تاریخی شکشت دی، اور بنگلہ دیش وجود میں آیا، بنگلہ دیش میں جو حالات تھے، پاکستان جن حالات کا شکار تھا، خانہ جنگی کی صورت حال تھی، لہٰذا یقیناً انہوں نے اپنی سرحدوں کو محفوظ کیا ہوگا، اور خطرات کے پیش نظر مزید سرحدوں کی حفاظت کی ہوگی، یہ خیال قرین قیاس ہے، پھر سوال پیدا ہوتا ہے، آخر اتنی بڑی تعداد بنگلہ دیش سے ہندوستان کیسے منتقل ہوئی؟ ہمارے فوجی جن کی شہادتیں جن کی قربانیوں کے باعث ترنگا لہرا رہا ہے، اس کا فخر برقرار ہے، ان فوجیوں کی محنت و قربانی پر سوال کھڑا ہوتا ہے، اتنی کثیر تعداد میں بنگلہ دیشی کیسے سرحد عبور کرکے ہندوستان میں داخل ہوئے، یقیناً چند افراد کا داخل ہونا، قرین قیاس تھا، چند سالوں میں ان کی شناخت ہوجاتی اور انہیں دلائل وشواہد کی بنیاد بنگلہ دیش منتقل کردیا جاتا، لیکن اتنے افراد کیسے ملک میں آئے؟ کہاں وہ سے دلائل آئیں گے، جو بنگلہ دیش کو مطمئن کریں گے؟

 یا یہ محض ایک سیاسی حربہ ہوگا، جو لوگوں کی نگاہوں کو اصل مسائل سے ہٹا دیگا، میڈیا نے جس طرز پر اسے پیش کیا، اس سے یہ خیال بھی پیدا ہوتا ہے، یا پھر حکومت کوئی ایسا دن بتائے جب ہندوستان نے بنگلہ دیشی افراد کے لئے سرحد کھولی ہو، اور اتنے زیادہ افراد درانداز ہوگئے ہوں، صورت حال کیا ہے ابھی مطلع صاف نہیں ہے، مستقبل میں جوں جوں بادل چھٹتے جائیں گے صحیح صورت حال ہمارے سامنے ہوگی، لیکن اس وقت بھی ذہن سوالات سے خالی نہیں ہے، اور پریشانی و بے چینی ہے، ان افراد کے لئے جن کے نام اس فہرست میں نہیں ہیں، حالانکہ اس فہرست میں ایسے شخص کانام بھی نہیں ہے، جس نے 30 سال ملک کی سرحد کی حفاظت کی، اس وقت کسی نے اس سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت نہیں مانگا، آج اس سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا جارہا ہے،سابق صدر جمہوریہ فخرالدین احمد کے اہل خانہ کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے، اس طرح کے افراد کا نام نہ ہونا اس فہرست پر سوال کھڑا کرتا ہے، آسامی باشندوں کا مستقبل کیا ہوگا، اس کے لئے ابھی انتظار کرنا ہوگا، خوش آئند بات یہ کہ ملی تنظیمیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close