ہندوستان

ایک اور انکاؤنٹر کا قہر

عزیر احمد

ہمارے ملک میں اندھا قانون, بہرا انصاف اور لولا لنگڑا سسٹم ہے, پولیس ہی عدالت ہے, پولیس ہی حاکم ہے, ظلم بھی کرتی ہے, اور فیصلے بھی اسی کے حق میں ہوتی ہے, جان بھی لیتی ہے اور تمغوں سے نوازی بھی جاتی ہے, مسلم دشمنی میں اتنا آگے ہے کہ آئے دن دہشت گردی کے نام پہ انکاؤنٹر کرتی رہتی ہے, کبھی بٹلہ ہاؤس میں کرتی ہے, کبھی گجرات کی سڑکوں پہ کرتی ہے, کبھی عاطف ساجد کو مار دیتی ہے, کبھی منہاج کا قتل کردیتی ہے, اور ہمارا میڈیا, ہمارا سماج اس کی شان میں قصیدے کرتا پھرتا رہتا ہے.

مجھے سمجھ میں نہیں آتا آخر کون سا قانون ہے جو ان پولیس والوں کو کھلے ظلم کی دعوت دیتا ہے, بغیر کسی عدالتی کاروائی کے مار ڈالنے کا حق دیتا ہے, حالانکہ ہم نے پڑھا تھا اور جانا تھا کہ مشکل سے مشکل حالات میں ان پولیس والوں کو گولی چلانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے, اور اگر اجازت بھی ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ ٹانگوں میں مارنے کی اجازت ہوتی ہے, مگر آئے دن ہم اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں جگہ پولیس نے فلاں مجرم کا انکاؤنٹر کردیا, فلاں مجرم پولیس مڈبھیڑ میں مارا گیا, فلاں مجرم کا انکاؤنٹر کرکے پولیس نے بہادری کی داستان رقم کردی, وغیرہ وغیرہ, بہت افسوس ہوتا ہے ان واقعات پر, ضروری نہیں کہ پولیس جس کا انکاؤنٹر کرے وہ مجرم ہی ہو, بسا اوقات پولیس معصوموں کو بھی مار کر ان کو مجرم بنا دیتی ہے, اور ان کو بہت بڑے دہشت گرد کے روپ میں لوگوں کے سامنے پیش کردیتی ہے, اور ویسے بھی پولیس جھوٹ کو بھی سچ بنانے میں ماہر ہی ہوتی ہے.

ابھی کل ہی کا تازہ واقعہ ہے, مدھیہ پردیش کی پولیس نے 8 لوگوں کا انکاؤنٹر کردیا, ان پہ الزام ہے کہ وہ سیمی کے کارکنان تھے, اور بہت بڑے دہشت گرد تھے, ایک گارڈ کو ہلاک کرکے جیل توڑ کر بھاگ نکلے تھے, بہادر پولیس نے ان کا پیچھا کیا, اور آٹھ گھنٹے کے اندر اندر ان کو تلاش کرکے ان کا کام تمام کرڈالا.

حالانکہ جو تصویریں سوشل میڈیا پہ موجود ہیں, ان کو دیکھنے سے ذہن میں کچھ سوال کلبلانے لگتے ہیں, اس کے علاوہ پولیس نے جو کہانی پیش کی ہے اس کے اندر اتنے جھول ہیں کہ یہ انکاؤنٹر شک کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے.

پولیس کے مطابق یہ قیدی ایک گارڈ کو مار کر بھاگ جاتے ہیں, سب سے بڑا سوال اسی پہ اٹھتا ہے کہ اگر وہ اتنے بڑے دہشت گرد تھے جیسا کہ کہا جارہا ہے, انسان کے روپ میں درندے تھے, تو پھر آخر ان کی نگرانی کے لئے ایک ہی گارڈ کیوں متعین تھا؟ جیل کے دیگر پولیس افسران, ذمہ داران اور گارڈز وغیرہ کہاں تھے, جب کہ وہ ایک مرتبہ کھنڈوا جیل سے 2013 میں فرار ہوچکے تھے, تو ان کی حفاظت اور نگرانی سے لا پروائی کیوں برتی گئی؟؟

دوسری بات: جب وہ جیل میں مختلف بیرکوں میں بند تھے, تو آخر وہ اکٹھا کیسے ہوئے, اور بھاگنے کا پلان کیسے بنایا؟؟

تیسری بات: جب کہ وہ جیل ہائی پروفائل قیدیوں کے لئے ہے, بڑے بڑے مجرمین اس کے اندر قید ہوتے ہیں, جن میں سے بعض پہ قتل کا, بعض پہ دہشت گردی کا, اور بعض پہ مختلف قسم کے خطرناک جرائم کا چارج لگا ہوتا ہے, تو پھر آخر کیا وجہ ہے کچھ لوگ جیل توڑ کر بھاگ رہے تھے, مگر وہ لوگ نہیں بھاگے, کیا ان کو جیل کا کھانا پسند تھا, یا انہیں جیل سے محبت تھی؟؟

چوتھی بات: وہ لوگ جیل توڑ کے چلے جاتے ہیں, پولیس کو اس کی ہوا تک نہیں لگ پاتی, بھاگنے سے پولیس نہیں روک پاتی, جب وہ آٹھ کیلومیٹر کا راستہ طے کرلیتے ہیں, اچانک پولیس ان پہ دھاوا بولتی ہے اور سب کو موت کی نیند سلا دیتی ہے؟؟

پانچویں بات: جب وہ جیل سے بھاگ گئے تھے تو باہر نکلنے کے بعد بھی ساتھ ساتھ کیوں رہے, الگ اگ جگہوں پہ جاکے چھپنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟؟

چھٹی بات: جب قیدی جیل سے بھاگتا ہے تو اس کے اوپر قیدیوں کا لباس ہوتا ہے, مگر تصویروں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جینس, شرٹ اور جوتوں میں ملبوس ہیں, آخر ان آٹھ لوگوں کو اتنی جلدی کپڑا کہاں سے مل جاتا ہے, اور ان کے قیدیوں والا لباس کہاں غائب ہے؟؟

ساتوں بات: انکاؤنٹر کے معا بعد آئی جی یوگیش چوہدری جی بیان دیتے ہیں کہ "ہم نے ان کو تلاش کیا, انہوں نے ہم پہ گولی چلائی, پھر سب کے سب کراس فائرنگ میں مارے گئے.”
کراس فائرنگ کا مطلب گولیاں کا تبادلہ ہے, جب گولیاں دونوں طرف سے چلتیں ہیں تو دونوں طرف کے لوگ زخمی ہوتے ہیں, اگر انہوں نے گولیاں چلائیں تو پھر کس کو لگیں, کیا ان گولیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان اچک لیا, کوئی پولیس والا آخر زخمی کیوں نہیں ہوا, کیا وہ بلٹ پروف جیکٹ میں ملبوس تھے, کیا ان کو پہلے سے پتہ تھا کہ یہ لوگ گولیاں چلائیں گے.
اس کے علاوہ ایک سوال اور بھی, آئی.جی صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ہم پہ فائرنگ کی تھی, دوسری طرف اسی اسٹیٹ کے وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں کہ مجرمین کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں تھا, آخر یہ تضاد کیوں؟؟

آٹھویں بات: جب کہ ان تمام قیدیوں پہ لگائے گئے سارے چارجز عدالت میں بودے ثابت ہورہے تھے, ان کے خلاف ثبوت بہت کم تھے, ایک ہفتے میں عدالت ان پہ اپنا فیصلہ محفوظ کرنے والی تھی, اور بہت امید تھی کہ یہ باعزت رہا ہوجاتے, بلکہ بعض خبروں کے مطابق یہ ایک ہفتے میں رہا ہونے والے تھے, تو آخر فرار کیوں ہوئے, کیا یہ لوگ پاگل ہوگئے تھے, یا عقل سے بالکل کورے تھے؟ اور یہ کہ سارے ہی لوگ کیوں بھاگے؟ کسی ایک نے مخالفت کیوں نہیں کی؟ کسی نے ساتھ دینے سے انکار کیوں نہیں کیا؟ چار بھی بھاگ سکتے تھے, پانچ بھی بھاگ سکتے تھے, آخر سارے کیوں؟ پھر سب سے بڑی بات بھاگے ہی کیوں جب کہ وہ رہا ہونے والے تھے؟؟

یہ اور اس جیسے بہت سارے سارے سوالات ہیں جو بھوپال انکاؤنٹر میں لیکر ذہن میں منڈلا رہے ہیں, بار بار یہ سوال ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ کہیں یہ انکاؤنٹر فیک تو نہیں, کہیں ان مجرمین کو مسلمان ہونے کی سزا تو نہیں دی گئی, کہیں یہ لوگ کچھ پولیس والوں کی عصبیت کا شکار تو نہیں ہوگئے.
حکومت نے اس پہ انکوائری بٹھانے کی بات کی ہے, لیکن اس انکوائری سے کیا ہوگا, سالوں لگ جائیں گے انکوائری ہوتے ہوتے, انکوائری پہ انکوائری بٹھائی جائے گی, تب تک یہ پولیس افسران آرام سے اپنے عہدے پہ باقی رہیں گے, اور اقتدار کا مزہ لوٹتے رہیں گے, سالوں بعد کہیں جاکے اگر یہ انکوائری کامیاب بھی ہوجائے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا, کیا وہ لوگ واپس آجائیں گے, کیا ان پولیس والوں کو سزا ہو پائے گی, جو اس کے کہانی کار ہیں؟ اور اگر کہانی سچ بھی ہے تو جان لینے کا حق آخر کس نے دیا, وہ لوگ مجرم ہونے سے پہلے ایک انسان تھے, بغیر ان کا جرم ثابت ہوئے انہیں تختہ دار پہونچا دینا کہاں کی انسانیت ہے, اور کہاں کا قانون ہے؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close