ہندوستان

ایک عدالت کا فیصلہ ابھی باقی ہے، جس کی لاٹھی بے آوازہے!

گلبرگ سوسائٹی میں قتل عام

ڈاکٹراسلم جاوید
دورزقبل ہی یعنی گزشتہ 17جون 2016کوگجرات مسلم کش فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی قتل عام معاملے میں مجرم ٹھہرائے گئے کل 24 لوگوں میں سے قتل کے11 مجرموں کو خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ قتل کی کوشش کے ایک مجرم کو دس سال اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر اتل وید سمیت باقی 12 کو 7۔7 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔اس سے پہلے کہ اس سزاپر آئین اور حقائق کی بنیاد پرکوئی تنقید کی جائے، ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ متاثرین میں سے ایک اہم فیملی یعنی مرحوم احسان جعفری اور اس مقدمہ میں نمایاں کردار اداکرنے والے سماجی کار کنوں نے فیصلہ پرجو رد عمل ظاہر کیا ہے اس کو مختصر طور پر بیان کردیا جائے۔اس واردات میں متاثر کانگریس لیڈر احسان جعفری کے پسماندگان میں سے اہم ان کی اہلیہ ذکیہ جعفری اورصاحبزادی نسرین جعفری کا ردعمل پیش کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔واضح رہے کہ سزاسے پہلے ہی جب 2جون2016کو خصوصی عدالت کا فیصلہ آیا تھا، اسی وقت مسز جعفری نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہو کہا تھا کہ ہم مکمل انصاف پانے کیلئے اپنی لڑائی جا ری رکھیں گے۔
77 سالہ ذکیہ جعفری انصاف کی لڑائی کی کلیدی مدعیہ ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کوہمیشہ کیلئے کھودیاتھا،شوہرکی شہادت کے ساتھ ہی ان کے آشیانہ کو آگ کے شعلوں میں تبدیل کردیا گیا تھا اوران کا پوراخاندان تباہ وبرباد ہوگیا تھا۔محترمہ ذکیہ جعفری طویل العمری اور 14 سال سے متواتربیماریوں کے باوجود مختلف ایجنسیوں میں انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ ایس آئی ٹی سے لے کر خصوصی عدالت تک ہر جگہ انہوں نے لڑائی لڑی ہے۔قابل ذکرہے کہ 28 فروری 2002 کو ہزاروں بلوائیوں پر مشتمل پر تشدد ہجوم نے گلبرگ سوسائٹی پر حملہ کر دیا تھا۔ جس میں کم ازکم 69 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سابق کانگریس رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی شامل تھے۔افسوسناک امریہ ہے کہ ہلاک کئے گئے 69افراد میں سے محض 39 افراد کی لاشیں برآمد ہوسکی تھیں،جبکہ 30 لاپتہ افراد کو سات سال بعد آئین ہند کی ہدایات کی روشنی میں مردہ قراردے دیا گیا تھا۔ذکیہ جعفری نے اس ادھوری سزاپر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے17جون کوہی کہہ دیا تھا کہ وہ مکمل انصاف کیلئے اعلیٰ عدالت کے دروازے کھٹکھٹا ئیں گی۔ذکیہ پرنم آ نکھوں سے اس خونی واردات کی منظر کشی کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ اس معاملے میں انصاف پانے کے لیے مسلسل 14 برس سے لگاتارعدالت کی خاک چھان رہی ہیں۔ انہوں نے 14 برسپہلے انجام دی گئی درندگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صبح 7 بجے میں وہیں تھیں، جب فساد شروع ہواتھا۔ میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میرے سامنے انتہائی بے رحمی سے لوگوں کو جلایا گیا۔ میرے شوہر احسان جعفری کے ہاتھ پیرکاٹے گئے اورکافی دیر تک تڑپنے کے بعد آگ میں جھونک دیا گیا۔ کیا ایسے لوگوں کو اتنی کم سزا ملنی چاہئے۔ یہ نامکمل انصاف ہے۔زیادہ تر لوگوں کو بری کردیا گیا ہے،جس میں کئی سنگین مجرم بھی ہیں۔ مگرانہیں ریاستی حکومت اورسرکاری مشنری کا آشیرواد ملنے کی وجہ سے آزادی دے دی گئی۔ حالاں کہ سب کو عمر قید کی سزا دی جانی چاہئے۔اس موقع پر مرحوم احسان جعفری کی بیٹی نسرین جعفری کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتی برادری کے لوگ اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔ انہو ں نے مزیدکہا کہ جب گجرات جل رہا تھا تو نریندر مودی اور ان کے افسر لوگوں کو تحفظ نہیں فراہم کر سکے تھے،یا جان بوجھ کر انہوں نے مسلحہ دنگائیوں کو مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کی خاموش آزادی دے رکھی تھی، تو اب ان سے متاثرین کا کنبہکیا توقع کر سکتا ہے ؟ نسرین نے اس فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بات ایس آئی ٹی اورخصوصی عدالت میں سنی گئی۔ کچھ تاخیر سے ہی سہی، لیکن ہمیں انصاف ضرور ملا،اگرچہ یہ ابھی نامکمل ہے۔ 14 سال کا طویل انتظار تھا، میری ماں کے لیے اور ہم سب کے لیے۔ ہم آئندہ بھی یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔
اس فیصلے میں چھوٹے موٹے لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے، لیکن جن لوگوں نے یہ قتل عام کیا تھا وہ اب بھی باہر ہیں۔ بلکہ ان کی ترقی ہوئی ہے اور انہیں بڑے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔جس وقت یہ واقعہ انجام دیا گیا میں وہاں پر نہیں تھی، لیکن میں حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میرے والد شہر کی معروف ہستی تھے۔ یہ شہر ان کے خاندان کی طرح تھا اور وہ 18 برس کی عمر سے وہاں رہ رہے تھے۔ واقعہ بھی دن دہاڑے ہوا تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ سوسائٹی پر حملہ کرنے کیلئے صبح سے ہی دنگائیوں کی بھیڑ اکٹھا ہورہی تھی۔نسرین کہتی ہیں کہ میرے والد مرحوم نے ہر کسی کو اس کی اطلاع دی۔ ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ پولیس سے لے کر مرکزی اور ریاستی حکومت تک سے مدد کی فریاد کر رہے تھے۔مگران کی فریاد اور بے بسی پر توجہ دینے کی کسی نے بھی زحمت گوارہ نہیں کی۔اگر ان تما حقائق کے باوجود اس قتل عام کو منصوبہ بند ماننے سے انکار کیا جارہا ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ جان بوجھ کر گنہ گاروں کوبچانے کیلئے کوئی اندیکھی طاقت مقننہ کے سر پر سوار ہے۔ نسرین کا کہنا ہے کہ میرا گھر احمدآباد میں کافی محفوظ جگہ پر ہے۔ یہاں سے دو تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہی فوجیوں کا علاقہ ہے اور 2 میل دور ہی سول اسپتال ہے۔ وہ کسی گاؤں میں نہیں رہتے تھے۔صبح کے 10 بجے تھے۔ بھیڑ جمع ہو رہی تھی، ہر کوئی حالات سے واقف تھا۔ بھیڑ خواتین کو کھینچ رہی تھی، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں کر رہی تھی، وہ بچوں کو مار رہے تھے، ان کو جلا رہے تھے۔اگر ان سنگین جرائم پر بھی مجرموں کو قرار واقعی سزا نہیں سنائی جاتی ہے تو اندیشہ ہے کہ شدت پسندوں کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے اوراس سے زیادہ بھیانک واردات انجام دینے میں کسی قسم کا خوف ان کے آڑے نہیں آئے گا۔سزا کے بعد معروف سماجی کارکن اورحقو ق انسانی کی عالمی شہرت یافتہ خاتون آہن،مہ سماجی کارکن محترمہ تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ اس سزا سے مجھے ہی نہیں ،بلکہ ملک و بیرون ملک کے سبھی انصاف پسندوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ 11 لوگوں پر سنگین الزام تھے ،انہیں تو عمر قید کی سزا ہونی ہی تھی، لیکن 12 لوگوں کو صرف 7 سال کی سزا دیناواردات کی سنگینی کے برخلاف ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کئی گھنٹوں تک وہاں کھڑے ہو کر قصورواروں نے لوگوں کوزندہ جلایا۔ میرے خیال میں یہ سزا نامکمل ہے۔ اس پر ہم اعلیٰ عدالتومیں اپیل داخل کریں گے۔اب ذراسزا سناتے ہوئے خصوصی عدالت کے فاضل جج نے جو تبصرہ کیا ہے اس پر ایک نظر ڈالئے۔خصوصی جج پی بی ڈیسائی نے اس واقعہ کو رےئریسٹ آف رےئر (کبھی کبھار ہی ہونے والا واقعہ) ماننے سے انکار کرتے ہوئے قصورواروں کو پھانسی کی سزا نہیں سنائی۔اس سے قبل عدالت نے گزشتہ 2 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے وی ایچ پی لیڈراتل وید سمیت 24 ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا،جبکہ بی جے پی کے اس وقت کے اور موجودہ کونسلر وپن پٹیل، کانگریس لیڈر میگھ جی چودھری اور پولیس افسر کے جی ایرڈا سمیت 36 دیگر کو بری کر دیا تھا۔گلبرگ سوسائٹی میں ہجومی بلوائیوں کا منظرنامہ یہ اشارہ دے رہاہے کہ واردات کسی منظم منصوبہ کا حصہ تھی ۔حالاں کہ عدالت نے اس معاملے کو سازش ماننے سے انکار کرتے ہوئے تمام ملزمان کے خلاف لگائی گئی متعلقہ تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی کو ہٹا لیا تھا۔جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو ملک کے موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔سرکاری وکیل کودیکرکا کہنا ہے کہ عدالت میں سزا سناتے ہوئے فاضل جج نے اس واردات کے دن کو انسانی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔جبکہ ایس آئی ٹی نے سزاکیخلاف آگے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سرکاری وکیل نے تو گلبرگ سوسائٹی قتل عام کو دہشت گردی سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے۔مگراب اس بات کی امید بہت کم ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں مکمل انصاف مل پائے گا۔اس لئے کہ اب تو تمام سرکاری مشنریز ،حتیٰ کہ آئینی اداروں میں بھی سنگھ کی برتری صاف دیکھنے کو مل رہی ہے۔بہر ایک جگہ ابھی باقی جہاں سے انجام دیا جانے والا انصاف ہمیشہ مکمل اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔بس اللہ سے دعاکیجئے اور صبرو استقامت کے ساتھ استغفار کرتے رہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close