ہندوستان

ایک مراٹھا ،لاکھ مراٹھا

ڈاکٹر سلیم خان

شیواجی سے شروع ہونے والی مہاراشٹر کی تاریخ آگے بڑھ کر پیشوائی میں بدل جاتی ہے ۔ شیواجی کا تعلق مراٹھا سماج سے تھا اور پیشوا براہمن تھے ۔ آزادی کے بعدمہاراشٹر کےمراٹھوں نے کانگریس کا رخ کیا اور براہمن دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ۔ ہندوتواوادی حصہ ہندو مہاسبھا وآرایس ایس کا کل پرزہ بن گیا اوراشتراکی فکر کےلوگ کمیونسٹ اور کسان مزدور پارٹی میں شامل ہوگئے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ  گاندھی جی کاوطن ثانی سیوا گرام(جہاں 1936 سے لے کر 1948 تک مقیم رہے )مہاراشٹر میں ہے اوروہی ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا وطن بھی ہے۔گاندھی جی کے قاتل  این آر گوڈسےکی طرح اسے شناخت کرنے والے این آر گاڈگل بھی براہمن ہی تھے۔ گاندھی قتل کے بعد مہاراشٹر کے اندرہونے والے نسلی فسادمیں کالی ٹوپی والے سنگھیوں کو سفید ٹوپی والے مراٹھوں  کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور اسی کے ساتھ مراٹھے صوبہ مہاراشٹر کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔

 کانگریسی اقتدار کے دوران مہاراشٹر کے18 میں سے12  وزرائے اعلیٰ کا تعلقمراٹھا سماج سے تھالیکن جب دیگر ذاتوں کےافرادیا ایک مسلمان کوبھی  وزیراعلیٰ بنایا گیا تب بھی اقتدار کی ڈور عملاً انہیں کے ہاتھوں میں رہی ۔ اس دوران  مراٹھوں نےخاص طورپربراہمنوں کو اقتدار سے دور رکھا ۔ مہاراشٹر کو پہلا براہمن وزیراعلیٰ شیوسینا کے اقتدار میں ملا ۔ اس زمانے میں سینا پرمکھ بال ٹھاکرے ہندو ہردیہ سمراٹ کہلاتے تھے  اوراقتدار کا ریموٹ کنٹرول اصلاًان کے پاس تھا۔ بال ٹھاکرے نے اپنے سب سے وفادار شاگرد منوہر جوشی کونام کا وزیراعلیٰ تو بنادیا مگر حلف برداری کے موقع پرجلسۂ عام میں  یہ اعلانکردیا کہ اگر یہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوتاہی برتےگا تو میں اس کی کمر پر لات مارکر اسے بھگا دوں گا۔  آگے چل بال ٹھاکرے نے تو نہیں مگر ان کے فرزندادھو ٹھاکرے نے ضرور اپنے والدکےیار غار کو رسواکر کے پارٹی سے چلتا کردیا۔

منوہر جوشی کی ساری چاپلوسی اور مکاری وعیاری کے باوجود بال ٹھاکرے کو انتخاب سے9ماہ قبل منوہر جوشی کی رخصت دے کر ایک غیر معروف مراٹھا رہنما نارائن رانے کو وزیراعلیٰ بنانا پڑا اس لئے کہ مہاراشٹرمیں کسی براہمن وزیراعلیٰ کے بل بوتےپرانتخابی کامیابی ناممکن اور شکست یقینی تھی ۔ شیوسینا کو یہ تبدیلی بھی راس نہیں آئی اور وہ بی جے پی سمیت ڈھیر ہوگئی ۔ اس کے بعد کانگریس دوبارہ اقتدار میں آگئی اور مراٹھا سردار ولاس راو دیشمکھ کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ۔ سینا پرمکھ بال ٹھا کرے کے بعدنئے ہندو ہردیہ سمراٹ وزیراعظم نریندر مودی نے  قومی انتخاب میں مقبولیت کی لہرسے اپنی پارٹی کو مہاراشٹر کی سب سے بڑی سیاسی  جماعت بنادیا۔ رعونت کا یہ عالم تھا اقلیت میں ہونے باوجودسینا کے بجائے این سی پی کی بلاواسطہ مدد سے اعتماد کاووٹ  حاصل کیا گیا اور ایک نامعلوم  براہمن کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز کردیاگیا۔

مہاراشٹر میں جس وقت شیوسینا کا براہمن وزیراعلیٰ تھا اس وقت بی جے پی نے نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ  پسماندہ ذات کےگوپی ناتھ منڈے کو دیا تھا۔ اس وقت پارٹی کی صدارت اور دیگر اہم عہدوں پربھی پسماندہ طبقات کے لوگوں کو فائز کرکے انہیں جھانسے میں لیاجارہاتھا لیکن اس بار کی کامیابی کے بعد خون پسینہ ایک کرکے پارٹی کو اس مقام پر پہنچانے والوں کوذلیل کرکے کنارے کردیا گیا ۔ فی الحال مہاراشٹراسمبلی میں 144مراٹھے،اوبی سی 44،براہمن 14اور مسلمان 10 ہیں  لیکن وزیراعلیٰ براہمن ہے جو وزیراداخلہ بھی ہے۔اس کے علاوہ وزیرخزانہ، وزیر صنعت، وزیرخوراک، آبی وسائل کے وزیراور اسپیکر براہمن ہیں ۔مرکزی وزراء میں وزیرمواصلات وسڑک  نتن  گڈکری اوروزیرریلوے سریش  پربھو دونوں ہی براہمن ہیں ۔

 وزیراعلیٰ  چونکہ کمزور ہے اور انہیں ہمیشہ خطرہ لاحق رہتا ہے  اس لئےوہ اپنے حریفوں کےخلاف سازش میں مصروف رہتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے  طاقتورترین حلیف ایکناتھ کھڑسے کو ٹھکانے لگایا ۔بدعنوانی کے الزامات کے علاوہ داؤد کے فون کا ناٹک رچا کرہٹایا اور پھر کلین چٹ دے دی۔ مراٹھا رہنما ونود تاوڑے اورونجارہ سماج کی پنکجامنڈےنشانے پر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پنکجا نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چھگن بھجبل سے جیل میں جاکر ملاقات کی تاکہ پسماندہ ذاتوں کے اتحاد کا امکانپر غور ہوسکے ۔ این سی پی بھجبل کے ساتھ وہی سلوک کررہی ہے جو بی جے پی  نےمنڈے کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔بی جے پی کےبراہمنوں نے اقتدار کی ہوس میں مراٹھوں کے ساتھ ساتھ دیگرپسماندہ اقوام کو بھی ناراض کردیا ہے۔

مراٹھوں کی شکست کی ایک وجہ تو ان کا دو سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہوناہے ۔ اس بار این سی پی کی کمزوری و لاچاری کے سبب انتخاب کے وقت قائم ہونے والا عارضی اتحاد عمل میں نہیں آیا۔ سنا ہے بی جے پی نے بدعنوانی کے الزامات میں جیل بھیجنے کا خوف دلا کر این سی پی کو بلیک میل کیا  تھا ۔ اس انتشار کافائدہ اٹھا کر بی جے پی نے دومراٹھا تنظیموں کو اپنا حلیف بنایا اور بڑے پیمانے پر مراٹھوں کو ٹکٹ دیا۔ ایک اندازے کے مطابق بی جے پی کو50  فیصد سے زیادہ مراٹھاووٹ ملے۔’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا فریب مراٹھا سماج کے سامنے انتخاب کے بعد کھلا ۔اس پس منظر کے بغیر ’ایک مراٹھا ،لاکھ مراٹھا‘ کے جھنڈے تلے ہونے احتجاج کو سمجھنا ممکن  نہیں ہے۔

مراٹھا تحریک کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی قیادت کسی ایک جماعت کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔  سارے مراٹھا اس بارمتحد ہیں ۔ ایک مراٹھا کا  مطلب ہے سارا مراٹھا سماج ایک جٹ ہے اور لاکھ مراٹھا کا مظاہرہ ہر مقام پر ہورہا ہے۔ اس احتجاج  میں شریک مظاہرین کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے2یا5 یا 10 ، لاکھ اس میں مخفف ہے۔ نندوربار جیسے علاقہ میں بھی جوکہ گجرات کی سرحد پر واقع ہے 2لاکھ لوگ شریک تھے اور احمدنگر میں تو دس لاکھ لوگ شامل ہوئے تھے ۔ اس سلسلے کی آخری کڑی ممبئی میں 8اکتوبر کو ہوگی جہاں 20 لاکھ مراٹھوں کی شرکت متوقع ہے اور اس کے بعد ممکن ہے دیویندر فردنویس کو بھی آنندی بین کی طرح بلی کا بکرہ بناکر سیاست کے مرگھٹ پر بھینٹ چڑھا دیا  جائے۔  بی جے پی والے اگر مراٹھوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتے تو ممکن ہےیہ درگت اتنی جلدی نہیں بنتی لیکن جن کے دماغ میں کبرو غرور کا خناس گھس جائےان کی عقل ایسے ہی ماری جاتی ہے۔

مراٹھا سماج کے اندر احساس محرومی کا جو لاوہ پک رہا تھا وہ کوپرڈی  کی عصمت دری سے پھٹ پڑا۔  مراٹھوں کےلئے اس بات کا تصور محال تھا کہ کوئی دلت نوجوان مراٹھا لڑکی کی عزت لوٹ کر اس کا قتل کردےگا۔ اپنی شدید سیاسی و سماجی بے وزنی نے انہیں بے چین کردیا اور اسی کے بطن سے یہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ مراٹھوں کا اولین مطالبہ ہے 14سالہ نابالغ لڑکی کی عصمت دری کرنے والے درندوں کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔ اس مطالبے کی حمایت ہر ذی ہوش انسان کرے گا ۔ ملت اسلامیہ  اس معاملے میں کسی پس و پیش کا شکار نہیں ہے  اس لئے کہ دین اسلام بھی اسی طرح کی کڑی سزا کا علمبردارہے ۔ مظاہروں کی کامیابی مراٹھا رہنماوں کی توقع سے زیادہ تھی اس لئے انہوں نے اپنے مطالبات  میں یکے بعد دیگرے اضافہ کرنا شروع کردیا۔ پہلے تو ریزویشن کی بات آئی اور اس کے بعد دلت اور پسماندہ ذاتوں پر مظالم کے خلاف وضع کردہ قانون کی منسوخی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس میں تازہ اضافہ شیوسینا کے اخبار سامنا کا  تضحیک آمیز کارٹون ہے ۔

ریزرویشن کا مطالبہ آج کل ایک فیشن بن گیا ہے۔ ہریانہ کے جاٹ، راجستھان کے گوجر،گجرات کے پٹیل اور مہاراشٹر کے مراٹھے وہ لوگ ہیں جو برسوں اقتدارمیں  رہےلیکن اب  ریزرویشن کی تحریک چلارہے ہیں ۔ حکومت پہلے تو اسے نظر انداز کرتی ہے پھر قانون بنادیتی ہے جسے دستور کا حوالہ دےکر عدالتیں مسترد کردیتی ہیں ۔ مہاراشٹر میں مراٹھوں اور مسلمانوں کے ریزرویشن کا یہی حشر ہوچکاہے۔ دستور میں 50 فیصد کی قید کے چلتے اضافی  ریزرویشن ممکن نہیں ہے۔ ترمیم کے بغیر کسی طبقہ کو شامل کرنے کے سبب پہلے سے مستفید ہونے والوں کی حق تلفی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شردپوار ان لوگوں کو متاثر کئے بغیر ریزرویشن کی بات کرتے ہیں ۔ سماجی انصاف کے مرکزی وزیرمملکت رام داس اٹھاولے بھی دستوری ترمیم کے ذریعہ مذکورہ قید کو50سے 75 فیصد کرکےبراہمن سمیت  دیگر طبقات کو ریزرویشن دینے کے حق میں ہیں لیکن بی جے پی تو دور کانگریس کیلئے بھی اس تجویز پر عمل کرنا ممکن نہیں  ہے ۔ منڈل کمیشن کے بعد وی پی سنگھ کا عبرت ناک انجامساری دنیا کے سامنے ہے اور بی جے پی تو ویسے ہی شہروں کی پارٹی ہے۔

مراٹھوں کا تیسرا مطالبہ دلتوں اور دیگر پسماندہ ذاتوں کے خلاف مظالم کے خاتمہ کا قانون کی منسوخی  ہے۔ ان کا کہنا  ہے کہ اس کے سبب بےگناہ مراٹھوں کے خلاف شکایت درج کرواکر انہیں  پریشان کیا جاتا ہے۔ یہ الزام اگر درست بھی ہوتو اس کا علاج غلط استعمال کو روکنے کی تدابیر ہے نہ کہ قانون کومسترد کردینا ۔ اس طرح کی دلیل  تو ہرقانون کے خلاف دی جاسکتی ہے لیکن اس کا بہانہ بنا کر اسے منسوخ کرناکہاں کی دانشمندی ہے ؟  یہی وجہ ہے کہ  اول الذکر دو مطالبات کی حمایت جس طرح امت کرسکتی ہے اسی طرح اس تیسرے تقاضے کی حمایت مناسب نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں یہ احساسِ جرم آڑے نہ آئے  کہ اس موقف کا مراٹھا سماج سےہمارے باہمی خوشگوار تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ اگر کوئی کسی کے 4میں سے 3 مطالبات کی حمایت کرے اور ایک کی نہ کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔

دلت سماج کے جولوگ ان مظاہروں سے اور ہماری حمایت سے پریشان ہیں  ان کو بھی ہمیں بتانا چاہئے کہ مراٹھوں  کے مطالبات میں سے صرف ایک ایسا ہے جو ان کے خلاف ہے اور ہم اس کی حمایت نہیں کرتے ۔ ہماری حمایت یا مخالفت اصولی ہے۔ امت مسلمہ جس چیز کو حق سمجھتی ہے اس کی حمایت اور جسے ناحق سمجھتی ہے  اس کی مخالفت کرتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کو نہ تو کسی کی بیجا خوشنودی کا خیال آتا ہے اور نہ کسی کی ملامت کا خوف ستاتا ہے۔  دلت اور دیگر پسماندہ طبقات پر مظالم سے تحفظ کا قانون (پی او اے) خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔آزادی سے قبلگول میز کانفرنس کے دوران گاندھی جی کھلے طور چھواچھوت کے خلاف ہو گئےتھے۔ گاندھی جی نے کہاتھاہمارے پاس کوئی بااثر قانون ہونا چاہئے جو ہمارے ملک کے لوگوں کو نام نہاد اعلیٰ ذات کے ذریعہ کئے جانے والے ظلم و ستم سے بچائے اور نسلی امتیازکو جرم قراردے۔ گاندھی جی کو خدشہ تھا’’  کہ کہیں چھواچھوت برقرار رہنے کی صورت میں ہندو مذہب ختم نہ ہو جائے‘‘۔

دستور ہند کی شق 17 نے  چھوت چھات کا خاتمہ کردیا  اور کسی بھی صورت میں اس پر عملدرآمد اور اس پابندی کو نافذالعمل کرنے میں کوتاہی کو پی سی آر ایکٹ (1955) کے تحت جرم قرار دیا۔ ؁1989میں یہ محسوس کیا گیا کہ قانون کی موجودگی کے باوجود نسلی تفاوت کی بنیادپر ظلم و ستم کا سلسلہ رکا نہیں ہے اس لئے خصوصی قانون بنایا گیا جس کے ذریعہ ان جرائم سے نمٹنے کی خاطر خصوصی عدالتوں کا قیام  اور مظلومین کی بازآبادکاری کیلئے تفصیلی مراعات بیان کی گئیں۔ ان دستوری تحفظات کے باوجودیہ محسوس کیا گیا کہ پسماندہ ذاتوں اور قبائل کے خلاف ہونے والے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ ؁2013 کے دوران پسماندہ ذاتوں کے مظالم کی تعداد 39408تھی اور جو ؁2014 میں بڑھ کر 47046 تک پہنچ گئی ۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن پر شکایت درج کرائی جاسکی ۔ جن لوگوں کو ڈرا دھمکا کر روک دیا گیا ان کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں  گزشتہ یوپی اے سرکارنے مزید اصلاحات پیش کیں جسے این ڈی اے حکومت نے اپریل ؁2016 میں منظوری دی  تاکہ کوئی مجرم قانونی موشگافی کا فائدہ انہ اٹھاسکے اور مظلومین کی قرار واقعی مدد کی جائے۔۔ پہلے یہ جرائم ڈھکے چھپے انداز میں ہوتے تھے لیکن اونا گواہ ہے کہ اب کھلے عام ہونے لگے ہیں، گئو بھکت ویڈیو بناکراسےفخریہ پھیلاتے ہیں۔

ایک طرف تو قومی سطح پر یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ میں کوتاہی ہے اور مظالم بڑھ رہے ہیں دوسری جانب اس کے غلط استعمال کا نعرہ بلند کرکے اس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔غلط استعمال کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس کے تحت درج مقدمات میں صرف5فیصد لوگوں پر جرم ثابت ہوتا ہے لیکن مہاراشٹر میں تو ؁2011 کے اندر دیگر مقدمات میں بھی 4ء5فیصد لوگوں کو سزا ملی ہے ؁2012 اور؁2013میں  بھی سزا یافتہ 3ء6 فیصدسے کم ہیں تو کیا اس منطق سے تعزیرات ہند کو ہی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائیگا۔ کسی بھی چیز کے غلط استعمال کو روکنے کا طریقہ اس پر پابندی نہیں ہے اس طرح تو دستور کا بیشتر حصہ منسوخ ہوکر رہ جائیگا ۔ اس بابت 10سال قبل رونما ہونے والے مشہور زمانہ کھیرالانجی مقدمہ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جس میں چار دلتوں کو دن دہاڑے ایک مجمع نے قتل کردیا ۔اس سانحہ پر ملک بھرمیں احتجاج ہوا۔50ملزمین پرخصوصی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ سماعت کے دوران ملزمین کی تعداد گھٹ کر11 ہوگئی ان میں سے 8کو سزائے موت سنائی ۔

خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ دوسال کے اندر کردیا مگر پھر اس  کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی ۔ ہائی کورٹ نے اسے پی او اے کے بجائے عام قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔عالمی سطح پر اس قدر مشہور مقدمہ کے ساتھ اگریہ ہوسکتا ہے تو دیگر معاملات میں کیا ہوتا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ خیر ہائی کورٹ نے اس بہیمانہ قتل کے مجرمین کو سزائے موت کے بجائے 25 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ۔ اب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ ایک مجرم کا انتقال ہوچکا ہے کوئی نہیں جانتا کہ آخری فیصلہ آنے تک کتنے زندہ بچیں گے۔  اس مثال شاہد ہے کہ تمام تر ترمیمات کے باوجود یہ قانون کس قدر غیر موثر ہے اور اس کے غلط استعمال کا دعویٰ کتنا کمزور ہے۔ ویسے  چونکہ یہ مرکزی حکومت کا وضع کردہ قانون ہے کوئی ریاستی حکومت اس کومنسوخ تو درکنار اس سے سرمو انحراف بھی نہیں کرسکتی۔ مہاراشٹر کی  بی جے پی حکومت اس طرح کا قانون اقلیتوں کے تحفظ کیلئےبھی وضع کررہی ہے امکان یہ ہے آئندہ اسمبلی  اجلاس میں وہ پیش ہوجائے اور دیگر جماعتوں کی مخالفت کے سبب ناکام ہوجائے۔ حکومت اس کے ذریعہ خود کو مسلمانوں کا بہی خواہ اور دیگرجماعتوں کو ان کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرے گی لیکن مسلمان ایسے احمق بھی نہیں کہ ان کھلونوں سے بہل جائیں ۔ وہ بی جے پی کی چال، چرتر اورچہرے سے خوب واقف ہیں۔

مراٹھا  تحریک کے دوران سب سے دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب شیوسینا کے اخبار سامنا نے اس پر تمسخر آمیز کارٹون بنا دیا ۔ مراٹھی زبان میں  خاموش کو موک کہتے ہیں اور بوسے کو موکا ۔ کارٹونسٹ پربھودیسائی نے ایک نوجوان جوڑے کو بوسہ لیتے ہوئے دکھلا کر یہ لکھ دیا کہ کچھ پرجوش شرکاء نے مظاہرے کا غلط مطلب لے لیا۔ یہ توہین دراصل کوپرڈی سے کم نہیں تھی اس لئے اس میں ان لاکھوں خواتین کی کردار کشی کی گئی تھی جو ان مظاہروں میں شریک ہوتی ہیں ۔ مراٹھا مظاہرے اپنے نظم و ضبط کے لحاظ سے نہایت منفرد ہیں۔ اس میں لاکھوں لوگ صبح سویرے طے شدہ مقامات پر پہنچ جاتے ہیں اور پھر ایک خاص اجتماع گاہ کی جانب پیدل  یا موٹر سائیکلوں پر چل پڑتے ہیں ۔ نہ کوئی شور ، نہ نعرے بازی اور نہ اشتعال انگیز تقاریر۔ اپنا میمورنڈم دے کر یہ لوگ جیجا بائی کی وندنا کرتے ہیں اورپروقارخاموشی سےلوٹ جاتے ہیں ۔ نوجوانوں اور خواتین کی کثیر تعداد کے باوجودان سے آج تک کوئی نازیبا حرکت سرزد نہیں ہوئی  اس کے باوجود سامنا کاتمسخر قابل شرم ہے لیکن شیو سینا کو شرم و حیا کا پاس و لحاظ کب ہے؟

اس کارٹون نے احتجاج میں نئی جان ڈال دی ۔ سمبھاجی بریگیڈ کے نوجوانوں نے سامنا کے نوی ممبئی دفتر پر حملہ کرکے 30ہزار کا نقصان کردیا اور شیوسینا کے ایک ایم پی اور 3 ایم ایل اے نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ دراصل سماجی دباو ہے جس کے سبب وہ اس اقدام پر مجبور ہوگئے ۔ دونوں کا نگریس نے اس کی بھرپور مذمت کی اور ادھو ٹھاکرے سے عام معافی کا مطالبہ کیا ۔ بی جے پی کو بھی موقع مل گیا اس نے سامنا کے ایڈیٹر اور رکن پارلیمان سنجے راوت کی برخواستگی کا مطالبہ کیا ۔ دومقامات پر مقدمات درج ہوئے اور کئی  جگہوں پر سامنا کی کاپیاں جلائی گئیں ۔ اب سامنا (جس کے معنیٰ مقابلہ کے ہوتے ہیں)کی آگ کہاں تک پھیلے گی کوئی نہیں جانتا؟ سینا نے پہلے استعفیٰ کا انکار کیا پھر اسے مخالفین کی سازش قرار دے کر مسترد کیا ۔ جب بات نہیں بنی توسامنا کی جانب سے دل آزاری پر افسوس کا اظہار کیاگیا ۔ اس سے بھی غم و غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو کارٹونسٹ پربھودیسائی سے معافی منگوا لی لیکن ادھو ٹھاکرے کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ بھی جلد از جلد معافی مانگ لیں ورنہ ان کاجو بھگوا جھنڈا مراٹھوں نے چھین لیا ہے وہ اسی کے ڈنڈے دماغ درست کردیں گے۔ ادھو ٹھاکرے مراٹھوں کے آگے تو بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں مگر مسلمانوں کے مجوزہ مظاہروں کے خلاف شیر بن کر چنگھاڑ رہے ہیں ۔ عوام اب اس کاغذی شیر کی حقیقت جان چکی ہے  اور جلد ہی ’ ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا‘کا شکاری اس کوپنجرے میں محصور کردے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close