ایک کوہِ نور اور دلیپ کمار

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز *

18؍اپریل 2016ء کو الکٹرانک میڈیا پر کوہ نور کو حکومت برطانیہ سے واپس طلب نہ کرنے مرکزی حکومت کے موقف کو کافی اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا اور 19؍اپریل کے تقریباً سبھی اخبارات میں اس خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا بلکہ خصوصی اداریے بھی لکھے گئے۔ 18؍اپریل ہی کو سوشیل میڈیا پر یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ دلیپ کمار (یوسف خان) نہیں رہے۔ اگرچہ کہ اس کی تردید ہوتی رہی اور خود لیلاوتی ہاسپٹل اور سائرہ بانو کی جانب سے دلیپ کمار کی بہتر صحت سے متعلق وضاحت سوشیل میڈیا پر ہی پوسٹ کی جاتی رہی۔ اس کے باوجود دلیپ صاحب کے چاہنے والے یہ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ آخر کس خبر کی صداقت پر یقین کیا جائے۔ انہیں ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بنے ہوئے اربوں روپئے کی مالیت کے کوہ نور کو حکومت ہند کی جانب سے طلب نہ کئے جانے کے موقف پر کوئی تعجب، حیرت یا افسوس نہیں تھا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ چاہے وہ پیشرو حکومت تھی یا موجودہ حکومت یا پھر مستقبل میں جو بھی اس کی جگہ لے گی انہیں بھلا اپنے ورثہ سے کیا دلچسپی ہے‘ جو اپنی ناجائز دولت کو بیرونی ممالک کے بینکوں میں بے نامی خاطوں میں محفوظ رکھتے ہیں‘ جو ملک کے مفادات کے سوداگر ہیں‘ جو صرف باتوں، وعدوں اور دعوؤں سے عوام کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں‘ وہ بھلا اُن ممالک سے اپنی دولت، اپنے اثاثہ جات، اپنے قومی ورثے کی واپسی کے مطالبہ کی جرأت کیسے کرسکتے ہیں۔ جن ممالک کے وہ ذہنی طور پر غلام ہیں‘ ان سے آزادی تو حاصل کرلی گئی مگر آزادی سے پہلے بھی ان کے آلہ کار رہے اور آزادی کے بعد بھی اِن ممالک کے ساتھ ہمارے قائدین احساس کمتری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ نہ تو بیرونی ممالک کے بینکوں میں بے نامی کھاتوں سے ہماری دولت واپس آسکی‘ نہ کالا دھن کی واپسی کا وعدہ پورا ہوسکا‘ بلکہ اچھا خاصا دھن تو وجئے مالیہ اپنے ساتھ لے گیا۔ کوہ نور تو برطانیہ میں موجود ہے‘ ٹیپو سلطان کی تلوار جو وجئے مالیا نے لندن کے آکشن میں خریدی تھی وہ بھی ہندوستان میں ہے یا نہیں کہانہیں جاسکتا۔ ممکن ہے وجئے اسے بھی اپنے مال کے ساتھ ملک سے باہر منتقل کرچکا ہو۔ جہاں تک کوہ نور کا تعلق ہے 105.6 قیراط کا یہ ہیرا اربوں کی مالیت کا ہے۔ حیدرآباد کے جواں سال مورخ اور ماہر امور نظام ڈاکٹر محمد صفی اللہ کے مطابق کوہ نور گنٹور کی کولور کانوں میں کھدائی کے دوران چودہویں صدی میں پایا گیا تھا جبکہ کوہ نور اور گولکنڈہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت اس کا وزن 793 قیراط تھا۔ یہ مختلف بادشاہوں، راجاؤں کی ملکیت رہا۔ 1739ء میں نادر شاہ اسے اپنے ساتھ ایران لے گیا۔ جس کے قتل کے بعد اس کے ایک سپہ سالار احمد شاہ درانی نے کوہ نور کو اپنے پاس رکھا۔ وہ افغانستان کا امیر بن گیا۔ تاہم شجاع شاہ درانی اس ہیرے کے ساتھ لاہور فرار ہوگیا جہاں سکھ مملکت کے مہاراجا رنجیت سنگھ نے اس کی مدد کی اور کوہ نورکو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ دوسری برطانوی اور سکھوں کی لڑائی کے بعد سکھ مملکت پنجاب‘ برطانوی سامراج کا حصہ بن گئی اور کوہ نور دیگر اثاثہ جات کہ ساتھ ملکہ وکٹوریہ کی ملکیت بن گیا۔
کوہ نور کے ذکر کے ساتھ ہی جانے کیوں دلیپ کمار کا تصور بھی اُبھرتا ہے شاید اس لئے کہ کوہ نور دلیپ کمار کی ایک شاہکار فلم تھی یا پھر خود دلیپ کمار کو نہ صرف فلمستان بلکہ پورا ہندوستان کوہ نور تسلیم کرتا رہا۔ فرق اتنا ہے کہ توہم پرستوں کے الفاظ میں کوہ نور ہیرا جس کے پاس رہا اسے زوال آیا جبکہ بالی ووڈ کا یہ کوہ نور جس کے پاس رہا اسے عزت، دولت اور شہرت ملی۔ جس کی بنیاد مستحکم ہو اس کی عمارت پایہ دار ہوتی ہے۔ دلیپ کمار کے فلمی دنیا کو خیرآباد کہے لگ بھگ 16۔17برس ہوگئے مگر ان کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ نہ ہی عزت و وقار میں کوئی فرق آیا۔ ان کی صحت‘ موت و حیات سے متعلق کوئی بھی خبر میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یوں تو ہر دور میں کوئی نہ کوئی اداکار بامِ شہرت پر پہنچتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔ دلیپ کمار گذشتہ 70برس سے چار نسلوں کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ انہیں دیکھ کر کم از کم دو نسلیں اداکار بنیں۔ امیتابھ بچن ہوں یا شاہ رخ خان۔ اگر ان دو عظیم اداکاروں کی زندگی، شخصیت اور اداکاری پر دلیپ کمار کی شخصیت اور اداکاری کا اثر نہ ہوتا تو یہ دونوں محض معمولی اداکار ہوتے اور کبھی کے گمنامی میں چلے جاتے۔ ویسے عظیم اداکار وہی ہوتا ہے جو خود عظیم الشان کردار کا حامل عظیم انسان بھی ہوتا ہے۔ یہ امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان کے کردار کی عظمت ہی ہے جو خود کو دلیپ کمار کے آگے طفل مکتب تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔
یوسف خان سے دلیپ کمار پھر شہنشاہ جذبات‘ اداکاری کا اسکول تسلیم کئے جانے والے دلیپ صاحب کی زندگی ڈسپلن کی پابند رہی۔ قناعت، کفایت اور پرکھ ان کی خصوصیت رہی۔ دولت سمیٹنے کی حرص میں انہوں نے ایک ہی وقت میں کئی کئی فلمیں سائن کرنے سے گریز کیا بلکہ ایک وقت میں ایک ہی فلم کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ اپنے پرڈیوسر، ڈائرکٹر اور اپنے چاہنے والوں کے ساتھ انصاف کیا۔ جو بھی رول ادا کیا اس میں وہ ڈوب گئے۔ مغل اعظم میں کہیں دلیپ کمار نظر نہیں آئے۔ انارکلی کی محبت میں اپنے باپ کے خلاف بغاوت کے جذبے سے سرشار شہزادہ سلیم کا پیکر جلوہ گر تھا۔ دیوداس میں محبت کے لئے ترستا تڑپتا وہ شرابی نظر آیا۔ جو اپنے وجود کو اپنے محبت کے حق میں شراب میں محلول کردینا چاہتا تھا۔ یا پھر شکتی میں فرض شناس پولیس آفیسر جس کا دل اپنے نافرمان گمراہ بیٹے کے لئے تڑپتا اور دھڑکتا ہے مگر اس کے ہاتھ ایک مجرم پر گولیاں چلاتے وقت کانپتے نہیں۔ ’’آدمی‘‘ میں دولت مند اپاہج جب اپنی مجبوری پر ہنستے ہنستے رودیتا ہے تو سنیما گھروں میں بیٹھے ہوئے مرد و خواتین اپنے رومال اور دوپٹوں کے پلو سے اپنی نم آنکھوں کو خشک کرنے کے لئے مجبور ہوجاتے۔ مشعل میں ایمانداری سے بے ایمانی کی رہ گذر پر چل پڑنے والے معمر صحافی کی سڑک پر دم توڑتی ہوئی اپنی بیوی کو ہاسپٹل پہنچانے کے لئے بے بسی اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آہیں اور راہ گیروں کے آگے منت و سماجت کا وہ منظر جس سے فولادی دل بھی پگھل جاتے ہیں‘ دلیپ کمار اپنے کردار میں کبھی دلیپ کمار نہیں رہے بلکہ فلم بین ہر کردار میں دلیپ کمار تلاش کرتے رہے۔ داغ، امر، یہودی، دیدار، انداز میں وہ اپنی اداکاری میں اس قدر ڈوب گئے کہ ڈاکٹرس کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں فلمی اداکاری کا اثر ان کی اپنی زندگی پر نہ ہو۔ چنانچہ ڈاکٹرس کے مشورے پر انہوں نے آزاد، کوہ نور، رام اور شیام جیسی فلموں میں کام کیا تو اپنے کامیڈی رول کی وجہ سے شہنشاہ جذبات سے شہنشاہ ظرافت بن گئے۔ پھر گنگا جمنا جیسی لازوال فلم کا تحفہ انہوں نے دیا جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کا لوہا بھی منوایا اور پس پردہ ہدایت کاری کا بھی۔اسی فلم کا ری میک امیتابھ بچن اور ششی کپور کی دیوار ہے۔ بہرحال دلیپ کمار کوبھی کئی بار یوسف خان ہونے کی سزا ملی۔ ان کے ہم عصر اداکار جن سے دلیپ صاحب کی گہری دوستی بھی رہی‘ دوستی کی آڑ میں دشمنی کرتے رہے۔ان کی فلموں کو فلاپ کرنے کے لئے کئی حربے اختیار کئے گئے جب فلم لیڈر ریلیز ہوئی تو حیدرآباد کی تھیٹر سے ایک دن کی تینوں شوز کے ٹکٹ اڈوانس خرید لئے گئے اور پھر یہی ٹکٹ آدھے دام پر فروخت کئے گئے تاکہ دلیپ کمار کے چاہنے والوں کو باور کروایا جاسکے یہ فلم فلاپ ہے۔ دلیپ کمار نے اپنی اداکاری اور کردار سے مقابلہ کیا۔ ہر انسان کی طرح نجی زندگی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی کوئی بھی تو پارسا نہیں ہوتا۔ مگر جب وقت آیا تو دلیپ کمار نے اپنی جرأت اور مردانگی سے یہ ثابت کیا کہ وہ یوسف خان ہیں۔1993ء میں ممبئی فسادات کے دوران دور درشن نے ان سے انٹرویو لیا اور سوال کیا کہ جب ممبئی جل رہا ہے تو آپ کے کیا احساسات ہیں؟ دلیپ صاحب نے دور درشن کے نمائندے سے سوال کیا ’’ممبئی کہاں جل رہا ہے صرف مسلمانوں کے گھر جل رہے ہیں‘‘ اور دوردرشن کا نمائندہ لاجواب ہوکر بغلیں جھانکنے لگا۔ دلیپ کمار‘ پنڈت نہرو‘ رفیع احمد قدوانی، اندرا گاندھی، ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد، جیسے اعلیٰ سطحی سیاسی قائدین سے گہرے روابط کے حامل تھے۔ وہ ممبئی کے شیرف بھی رہے۔ اور راجیہ سبھا کے رکن بھی۔ کانگریس کے لئے انتخابی مہمات میں بھی حصہ لیا اور آفات سماوی و ناگہانی سے متاثرین کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے فلمی ستاروں کا جلوس بھی نکالا۔ اس کے باوجود ان کے ساتھ ارباب اقتدار نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ کبھی ان کے بنگلے کو نیلام کرنے کی کوشش کی گئی کبھی انکم ٹیکس انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے گھر اور دفتر پر دھاوے کئے گئے۔ان سب سے بے نیاز دلیپ کمار (یوسف خان) ایک مرد آہن کی طرح کبھی حالات کا کبھی مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ وہ ایک اچھے مسلم قائد ہوسکتے تھے‘ وہ مسلمانوں کے انگریزی اخبار کے زبردست حامی تھے۔ اس کے لئے تحریک بھی چلائی تھی۔ اپنی این جی اوز کے ذریعہ ممبئی اور مہاراشٹرا کی مسلم بستیوں کے تاریک گھروں میں امید کے دیئے روشن کرتا رہا… گجرات فسادات کے متاثرین کی امداد میں بھی ان کا اہم رول رہا۔ دلیپ صاحب نے اپنی محنت، جستجو اور لگن سے اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں تک پہنچنے کی صرف آرزو کی جاسکتی ہے۔

*چیف ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی

(یو این این)



⋆ سید فاضل حسین پرویز

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عرفان پٹھان سے پرویز رسول تک – کس کا کیریئر کون تباہ کررہا ہے؟

کیا عرفان پٹھان کے کیریئر کو ختم کیا جارہا ہے؟ عرفان پٹھان نے آئی پی …