ہندوستان

اے قانون تیرے ہاتھ بہت لمبے ہیں!

ظلم چاہے کتنا بھی طاقتور ہوجائے اور زیادتی کتنی  بھی بڑھ جائے ایک دن ختم ہونا ہی ہے،

محمد حسن

عدلیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرنے اور قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیلنے والے بابا آسارام کو اپنے کئے کی سزا سن کر آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ظلم چاہے کتنا بھی طاقتور ہوجائے اور زیادتی کتنی  بھی بڑھ جائے ایک دن ختم ہونا ہی ہے، شاہجہان پور اترپردیش سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی کو آبروریزی معاملہ میں انصاف ملنا ان ذہنوں کو کھلا پیغام ہے جو اپنی طاقت کے بل پر منحوس عمل انجام دیتے ہیں اور اقتدار میں اندھے ہوکر وہ کر گزرتے ہیں جس سے نہ صرف انسانیت برہنہ ہوتی ہے بلکہ ایک مہذب سماج کے چہرے پر بدنما داغ بھی لگ جاتا ہے، خاص طور سے ایسے وقت میں جب ہمارا ملک پوری دنیا میں ایک میلے عینک سے دیکھا جاتا ہے اور جس کی ناکامی کی خبر نیویارک ٹائمس کے پہلے صفحہ پر چھپتی ہے ملک کی عدلیہ کا اتنا بڑا قدم اٹھاکر ایک ایسے مجرم کو کیفرکردارتک پہونچانا جسے لوگ خودساختہ ہی سہی بھگوان تصور کرتے ہیں، اسےعمر قید کی سزا سنانا اور اس کے دو ساتھیوں کو بیس بیس سال  کے لئےجیل کے حوالے کرنا جہاں ملک میں باد بہار چلنے کی طرف اشارہ کرتا ہے وہیں ان ڈھیر ساری معصوموں کے درد کا درماں بھی بنتا ہے جس کا زخم اب تک تازہ ہے اور جو انصاف کی امید لئے قانون اور عدالت کو سوالیہ نگاہوں سے تک رہی ہیں۔

پچھلے ساڑھے چار سالوں میں اس مقدمے کو ختم کرنے کی کیا کچھ سازشیں نہیں ہوئیں اور کیا حربے استعمال نہیں کئے گئے لیکن ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا کا اثر ثابت ہوا اور مجرم انجام تک پہنچ گیا۔ کتنے گواہوں کی جانیں جسم سے جدا کر دی گئیں، متاثرہ کو کتنی بار ڈرایا دھمکایا گیا اور کورٹ میں سنکی تک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، پورے خاندان اور کنبے کو برباد کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا، پریوار کے مختلف لوگوں پرحملے ہوئے، اور گواہوں کو بہکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑا گیا۔

 لیکن داد کے لائق ہے وہ لڑکی جو اتنی بہادری سے مردانہ وار لڑی اور جیت کا پرچم لہرا دی اور مبارکباد ہو ان لوگوں کو جو اس لڑائی میں اس کے پیش پیش رہے، اس کا حوصلہ اور سہارا بنے، خاص طور سے اس کے والدین دل کی گہرائی سے مبارکباد دئے جانے کے لائق ہیں جو ایسے حادثہ میں  اپنا حوصلہ بنائے رکھے جو ایک ماں باپ کے لئے نہایت ہی کربناک اور تکلیف کا سبب بنتا ہے، بنا بدنامی کی فکر کئے، رسوائی کی پرواہ کئے انصاف کے لئے ڈنٹے رہے اور قانون پر بھروسہ جمائے رکھے پھر آخر میں انصاف کا ترازو ان کے حق میں جھک گیا اور وہ یہ کہ اٹھے اے قانون تیرے ہاتھ بہت لمبے ہیں!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد حسن

گدیانی۔ پوسٹ۔ گوکھولہ۔ نرکٹیا گنج، مغربی چمپارن۔ بہار۔ 845451

متعلقہ

Close