ملی مسائلہندوستان

بابری مسجد کے مسئلے کو حل کرنے کا درمیانی راستہ

 یہ خوشی کی بات ہے کہ ہر طبقے نے سپریم کورٹ کی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

ڈاکٹر محسن عتیق خان

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک چلنے والابابری مسجد تنازعہ کا مقدمہ آج بھی اپنے انجام کو پہونچتا نظر نہیں آتا اور آخر کار ملک کی عدالت عظمی نے بھی اسے گفت وشنید اور مصالحت سے سلجھانے کے لئے کہ دیاہے۔ بابری مسجد تنازعہ ایک لمبا سفر طئے کر چکا ہے اور اس نے ہندوستان کی تاریخ پر گہرے اور داغدار نقوش چھوڑے ہیں۔ بہت سے فسادات برپا ہوئے ہیں اور جان و مال کااتنا نقصان ہوا ہے جسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس مسئلے نے کسی پارٹی کو اوج ثریا پر پہونچا دیا اور حکومت کی پوری باغ ڈور اسکے ہاتھ میں دے دی تو کسی کوزمیں بوس کر دیا۔ سچ کچھ بھی ہو اور ثبوت کسی کے پاس بھی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے برادران وطن کو یہ باور کرا یا جا چکا ہے اور ہر و خاص وعام یہ سمجھتا ہے کہ رام کا جنم بابری مسجد کی جگہ پر ہی ہوا تھا۔

 اس مسئلے کی سنگینی کی وجہ سے آج پوری دنیا کی نگاہیں اس پر لگی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو یہ احساس ہے کہ کسی بھی طرح کا غیر متوازن فیصلہ دنیا کی نظروں میں ہندوستان کی جمہوری امیج کوٹھیس پہونچا سکتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کی سپریم کورٹ نے اسے پھر سے بات چیت اور مصالحت کے ذریعہ سلجھانے کے لئے کہا ہے۔ ایسی صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ کیا انھیں سرے سے اپنے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے یا اسے اپنی ناک کا مسئلہ مان کر اپنے حق کے لئے اڑے رہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا؟

ہمارے بعض علماء و دانشوروں نے اس سے پہلے بھی گفت و شنید سے اس مسئلے کو حل کرنے کی باتیں کہی ہیں اور اس مسئلے کے تصفیہ کے لئے الگ الگ فارمولے پیش کئے ہیں، مثال کے طور پر طبقہء علماء میں اپنی مخالف آراء کی وجہ سے مغبوض مولانا وحیدالدین خان نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایک تین نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا جسکا مقصد تھا کہ موجودہ بند گلی سے نکلنے کی طرف ایک واضح اور متعین آغاز کرنا تاکہ دوبارہ تعمیر و ترقی کی طرف ہم اپنا سفر جاری کر سکیں۔ اس فارمولے کا لب لباب یہ تھا کہ  ۱) مسلمان بابری مسجد کے بارے میں اپنا ایجیٹیشن مکمل طور پر ختم کریں۔  ۲) ہندو اپنے مندر مسجد کے آندولن کو آجودھیا میں ہی ہمیشہ کے لئے اسٹاپ کریں۔ ۳) گورمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ ایکٹ ۱۹۹۱ کو دستور ہند کا جزء بنا دے۔ مولانا کا یہ تین نکاتی فارمولہ اعتراف حقیقت کے اصول پر بنایا گیا تھا۔ اسی طرح مولانا سلمان حسینی ندوی نے ایک سال قبل اپنی ذاتی رائے پیش کر تے ہوئے بابری مسجد سے دست بردار ہونے اور اسکے بدلے ایک دوسری جگہ پر مسجد و یونیورسٹی بنانے کی بات کہی تھی۔ اسی طرح بعض دیگر دانشوروں نے بھی اپنے رایئں پیش کی ہیں۔

ناچیز کی رائے میں نہ تو مسلمانوں کو سرے سے اپنے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے اور نہ ہی اسے اپنی ناک کا مسئلہ مان کر اپنے حق کے لئے اڑے رہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا کونکہ سب کو پتا ہے کہ ثبوت کس کے حق میں ہیں اور عدالت عظمی پر کس قسم کا فیصلہ دینے کا دبائو ہے بلکہ ایک درمیانی رہ اختیار کرنی چاہئے۔ اور ہمارے علماء و قائدین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور اپنی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے مشروط طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے نہ کہ صرف برادران وطن کی دلجوئی ہو بلکہ جو ہندوستان میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کا ضامن ہو۔ راقم الحروف کی رائے میں بعض شرطیں یہ ہو سکتی ہیں۔

۱) پہلی شرط یہ کہ تمام ہندو تنظیمیں مسلمانوں کی دیگر عبادت گاہوں بشمول مساجد، مدارس، خانقاہیں، مزارات، مقبرے، قبرستان وغیرہ کے تعلق سے اپنے دعووں سے دست بردار ہو جائیں اور پھر کبھی کسی پر کسی طرح کا دعوہ پیش نہ کریں۔

۲) بابری مسجد کے ڈھانے والے ملزموں کو سزا د ی جائے تاکہ پھر اس طرح کا کوئی واقعہ وقوع پذیر نہ ہو۔

۳) بابری مسجد کے بعد ہونے والے فسادات بالخصوص ممبئی فسادات کے ملزمین پر از سر نو ے مقدمہ چلایا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔

۴) ایک ایسا دستوری قانون بنایا جائے جو مسلمانوں کی تمام تاریخی جگہوں کی حفاظت کا ضامن ہو اور اس بات کی ذمہ داری لے کہ بابری مسجد جیسا کا کوئی حادثہ مستقبل میں نہ ہو۔

۵)ایودھیا میں ہی کسی دوسرے مقام پر کوئی زمین الاٹ کی جائے تاکہ وہاں پر اسی نام سے مسجد کی تعمیر کی جا سکے۔

بہر حال ہمارے اکابر علماء، دانشور حضرات اور قائدین اپنی سوجھ بوجھ اور دور اندیشی کو برووئے کار لاتے ہوئے ایسی شرطوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے مگر وطن عزیز میں مسلمانوں کی حالت زار اس مسئلے کو مزید طول دینے کی اجازت نہیں دیتی خاص طور سے اس صورت میں جبکہ برادران وطن کا انتہاپسند طبقہ مسلمانوں کے در پئے آزار ہے اور صرف اسی بنا پراپنی سیاست کی روٹیاں سینک رہا ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے اور سپریم کورٹ کی پیش رفت کے بعد ان کے دھمکی بھرے بیانات اس طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں۔

 یہ خوشی کی بات ہے کہ ہر طبقے نے سپریم کورٹ کی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ مسلم علماء و دانشوروں، اور سیاستدانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایسی درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے جو ہندوستان میں مسلمانوں کو روشن مستقبل کی طرت رہنمائی کرے، اور ایسا قدم اٹھانا چاہئے جس سے مستقبل میں اس طرح کی کوئی دوسری مشکل پیش نہ آئے۔ اس مسئلے کو انا یا قومی شان کا مسئلہ بنانے کے بجائے سوجھ بوجھ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور سپریم کورٹ کی اس پیش رفت کو ایک خو ش آئند اور مخلصانہ قدم سمجھتے ہوئے اس پر غور کرنا چاہئے کہ بحیثیت قوم اس مسئلے کو کورٹ کی نگرانی میں اور کورٹ کے باہر سلجھا کر کون سے فائدے اٹھا ئے جاسکتے ہیں اور اپنی اگلی نسل کو اس فساد سے کیسے باہر نکالا جا سکتا تاکہ وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان معروف اونلائن عربی میگزین اقلام الھند کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ہندوستان میں عربی زبان کے واحد افسانہ نگارہیں۔ آپکے مختلف افسانے، مقالے اور مضامین ملک و بیرون ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپکی دو کتابیں بھی منظر عال پر آچکی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. آپ کے مشورے بلکول دروست ہے ۔ پر جناب اس زمین سے تو ہم دست بردار نہیں ہو سکتے نا ۔جس زمین پر ایک بار مسجد بن جاۓ وہ قیامت تک مسجد ہوتی ہے ۔اور یہ مسلہ صرف اس مسجد کا نہیں ہے ۔بلکہ مسلمانو ں کے ایمان کا مسلہ ہے۔ جس شرک کو مٹانے مٹا نے کے لیے نبیوں کو مبعو ث کیا گیا کیا ہم اس کی مدد کر سکتے ہے ۔نہیں بلکول بھی نہیں وہاں مسجد تھی مسجد ہے اور تا قیامت تک مسجد ہی رہینگی۔ انشاء اللہ
    اس کا جواب دے تو این نوازش ہوگی ۔آپ کا بھائی

متعلقہ

Close