ہندوستان

بات عہدہ کی نہیں اختیارات کی ہے

حفیظ نعمانی 
کانگریس حکومت کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے دو ہفتے پہلے کہا تھا کہ کانگریس 20-15دن کے بعد ایک اعلان کرنے والی ہے جسے سن کر سب حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ اسکے بعد ایک بیان تو یہ آچکا ہے کہ کانگریس کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت ہو سکتی ہیں اور مسز پرینکا گاندھی اس پر تیار ہو گئی ہیں کہ پوری ریاست میں جہاں بھی ان کی ضرورت ہوگی وہ جائیں گی۔ کل یوپی کے الیکشن انچارج غلام نبی آزاد کے مکان پر ایک اہم میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ کانگریس کے ریاستی صدر سابق اداکار راج ببر ہوں گے اور اس میٹنگ کی ایک اہم بات یہ تھی کہ مسز پرینکا گاندھی بھی آزاد کے گھر گئی تھیں۔ کانگریس کے اس فیصلہ سے ذمہ داروں کے چہرے بھی کھل گئے ہیں۔ جیسے کسی بڑے مقابلہ میں انھوں نے راج ببر کو کامیاب کرالیا۔
کہنے کو جس کا جو جی چاہے کہے۔ لیکن ملک کے کسی بھی صوبہ کا صدر منتخب نہیں ہوتا بلکہ اسے افسر کی طرح رکھا جاتا ہے۔ ہماری یاد میں صدر تو صرف ایک ہوا ہے اس کا نام تھا چندر بھان گپتا۔ یہ اسوقت کی بات ہے جب کانگریس کا قومی صدر اورصوبوں کے ریاستی صدر باقاعدہ الیکشن لڑ کر بنائے جاتے تھے۔ اسوقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر سمپورنا نند تھے۔ صوبائی صدر کے الیکشن کے لئے گپتا جی نے نامزدگی کرادی سمپورنانند گپتا جی کوپسند نہیں کرتے تھے۔ اور وہ منیشور دت اپادھیا ئے کو صدر بنانا چاہتے تھے ماحول جب گرم ہو ا تو وزیراعلیٰ کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ انھوں نے ایک جذباتی اعلان کردیا کہ اگر گپتا جی جیت گئے تومیں استعفیٰ دیدونگا۔
ڈاکٹر سمپورنانند کو پنڈت نہرو کی بھی حمایت حاصل تھی۔ جس دن پولنگ ہونا تھی اس دن گپتا جی کو معلوم ہوا کہ مرکزی وزیر حافظ محمد ابراہیم اور جنرل شاہ نواز آئے ہیں۔ اور وہ گپتا جی کے مسلم ووٹروں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،قاضی عدیل عباس اور علی گڑھ کے عبد اللطیف صاحب گپتا جی کی حمایت کررہے تھے۔ گپتا جی وزیر اعلیٰ کے بنگلہ پر گئے اور جاکر دونوں وزیروں سے سخت لہجہ میں بات کی۔ باتیں تو بہت مشہور ہوئیں کہ کیا کیا کہا؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ دونوں وزیر کسی بھی مسلم ووٹر سے بات کئے بغیر دہلی چلے گئے۔ اور الیکشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ گپتا جی تین ووٹ سے جیت گئے۔ اور ڈاکٹر سمپورنا نند کو اپنے کہنے کے مطابق استعفیٰ دینا پڑا۔
یہ سب کچھ اس وقت ہو ا جب پنڈت جواہر لال نہرو جنہیں جمہوریت کا باپو کہا جاتا ہے وہ زندہ تھے۔ اور اسکے بعد بھی برسوں زندہ رہے لیکن پھر کسی صوبہ میں ریاستی صدر کا الیکشن نہیں ہوا۔ یعنی پنڈت جی نے نہیں ہونے دیا۔ 1953کے الیکشن میں گپتا جی صوبہ کا الیکشن لڑارہے تھے۔ قیصر باغ میں کانگریس کا دفتر تھا۔ تین دن تک پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ ہوئی۔ اور اتر پردیش کے امیدواروں کی فہرست بناکر دہلی بھیج دی گئی۔ سنبھل کے لئے دو امیدوار تھے اور پارلیمنٹ کا الیکشن مولا نا حفظ الرحمن صاحب کو لڑنا تھا۔ گپتا جی نے جسے ٹکٹ دیا تھا مولانا اسکے بجائے دوسرے امیدوار کے حق میں تھے۔ اسوقت سنا تھا کہ مرکزی پارلیمنٹری بورڈ نے جب فہرست واپس کی تو چند ٹکٹ تبدیل کئے تھے۔ اور وضاحت کی تھی کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے ؟۔
اب اتر پردیش کا صدر بنتا نہیں بنا یا جاتا ہے پہلے صدر کی ورکنگ کمیٹی ہوتی تھی۔ اور صوبہ کا پارلیمنٹری بورڈ ہوتا تھا۔ ان سب کو اندرا جی نے ختم کردیا۔ اب صرف دہلی کی ایک کوٹھی کا نام ہائی کمان ہے۔ اس میں دوماں بیٹے رہتے ہیں انکا نام آل انڈیا کانگریس ہے۔ انھوں نے غلام نبی آزاد صاحب کو الیکشن انچارج بنایا ہے۔  جو اچھے مقرر ہیں۔ مسلمان ہیں اورکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ بھی ہیں۔ ہائی کمان نے ہی راج ببر صاحب کو صوبہ کاصدر بنایا ہے۔ ان سے پہلے جو نرمل کھتری صاحب صدر تھے انکے بارے میں کل جنرل سکریٹری صاحب نے بتایا کہ ان کی طبیعت خراب ہے۔ یعنی اب ان کی طبیعت خراب ہی رہے گی۔  اور ان دو حضرات کے علاوہ ایک صاحب پرشانت کشور ہیں وہ سب کو کامیابی کے گر بتائیں گے۔ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان تینوں حضرات سے اگر کہا جائے کہ وہ ایک سانس میں یہ بتادیں کہ اتر پردیش میں کتنے اضلاع ہیں ،ان سب کے نام کیا ہیں۔ اور ہر ضلع میں کوئی ایک ایسا نمایاں آدمی کون ہے جسے وہ جانتے ہیں ؟تو شاید کوئی نہ بتا سکے۔
پرشانت کشور کو اس لئے کہ ایک مہینہ سے چرچے میں ہیں ،غلام نبی آزاد کو اس لئے کہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی رہے اور مرکزی وزیر بھی رہے اورراج ببر کو اس لئے کہ وہ ایک ممتاز ہیرو رہ چکے ہیں۔ اور 20برس سے سیاست میں سرگرم ہیں اکثر لوگ جانتے ہیں۔ لیکن ضرورت جتنی اس کی ہے کہ لوگ انہیں جانیں اتنی ہی اس کی بھی ہے کہ وہ بھی لوگوں کو جانیں۔ اسکے علاوہ راج ببر لکھنو کے داماد بھی ہیں اور ہر اعتبار سے انتہائی ممتاز خاندان کی بیٹی ان کی شریک حیات ہے۔ وہ کانگریس کے لئے مفید توہونگے۔ لیکن یہ توقع کرنا کہ وہ حکومت پر قبضہ کرلیں گے ؟ کم از کم ہمیں تو نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اتر پردیش کے عوام 20برس سے کانگریس سے رشتہ توڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کانگریس کا جو محفوظ ووٹ بینک تھا وہ ملائم سنگھ اور مایاوتی کے پاس اگر پورا نہیں تو کافی جاچکا ہے۔ اور ان دونوں کے علاوہ پہلی بار اتر پردیش کی سیاست میں وزیر اعظم اپنی پوری طاقت سے حصہ لیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان تو چٹنی کے برابر شاید انہیں مل جائیں لیکن۔ مایاوتی کے خزانہ پر وہ ضرور حملہ کریں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں سے کچھ لے آئیں۔ اس کی وجہ مودی صاحب کا جادو نہیں ہوگا بلکہ مایاوتی کی وہ بھوک ہوگی جس نے انہیں ٹکٹ فروش مشہور کردیا ہے۔ اور اب بی ایس پی کے ٹکٹ دلتوں کو کم ملتے ہیں ان لوگوں کو زیادہ ملتے ہیں جو منہ مانگی قیمت دے سکیں۔
ہو سکتا ہے کہ کانگریس امت شاہ سے زیادہ دولت پھونک دے کیونکہ اسے دس سال حکومت کئے ابھی صرف دوسال ہوئے ہیں۔ لیکن اسے یہ بتانا مشکل ہوگا کہ وہ یہ خزانہ کہاں سے لائی۔؟اس لئے کانگریس اور بی ایس پی کو اس مشورہ پر غور کرنا چاہئے جو بعض ذمہ دار دے رہے ہیں کہ مسز سونیا گاندھی اور مس مایاوتی بہار کی طرح مل کر الیکشن لڑیں۔اور جو محترم حضرات یہ مشورہ دے رہے ہیں وہ تیسرا فریق مسلم پارٹیوں کو بنا کر محاذ بنوادیں۔ اور حکومت کو تین حصوں میں بانٹیں۔ اور سب سے آخر کے سال یا مہینے مس مایاوتی کو دیں اس لئے کہ مشترک حکومت میں انکا رکارڈ بہت خراب ہے۔ انھوں نے دو بار بی جے پی کو اور ایک بار ملائم سنگھ کو دھوکہ دیا ہے۔ اور اگر ہر پارٹی نے اپنے بل پرلڑنے کا فیصلہ کیا تو اسکا صاف مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے بی جے پی کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔ وہ چاہے وہ مسلم پارٹیاں ہوں جنہوں نے چاندی کے ورق کی طرح پارٹی میں دو چار ہندوؤں جیسے نام لگائے ہوں۔ یا علاقائی یا نیشنل پارٹی ہو۔؟
کانگریس ایک جتانے والا بھی لے آئی ایک انچارج بھی بنا دیا۔ اور ایک کو صدر بھی لیکن اختیارات صرف سونیا جی اور راہل صاحب کے پاس ہیں۔ اگر یہ تین کے بجائے ایک چہرہ ہوتا مگرسارے اختیار اور سارے فیصلے اسکے ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہو سکتا تھا۔ کانگریس کی تباہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اندرا جی اور سنجے نے سارے اختیار اپنے پاس رکھے۔ اور ان کی بہو نے سیاست اپنی ساس سے سیکھی ہے جو اختیار اپنی مٹھی میں رکھتی تھیں اب اگر سونیا کو کچھ کرنا ہے تو بزرگوں سے مشورہ کرکے تمام اختیار انچارج اور صدر کو دیدیں اور اگر نہیں ،تو نہیں کے لئے تیار رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close