ہندوستان

بار بار اجڑنا اور بسنا دہلی کی قسمت ہے

حفیظ نعمانی
پولیس تو ملک میں ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے ۔لیکن دہلی جیسے جگہوں کا مسئلہ بالکل الگ ہے جہان ایک حکومت وہ ہے جسے عوام نے منتخب کیاہے۔ اور ایک حکومت وہ ہے جو وہاں بری طرح ہارنے والی پارٹی کی ہے ۔اور اس لئے ہے کہ مرکز میں بھی اسکی حکومت ہے ۔صوبوں میں جو پولیس ہوتی ہے اسکے اوپر ایک وزیر داخلہ ہوتا ہے ۔اوروہی سب کچھ ہوتا ہے ۔لیکن دہلی جیسے صوبوں میں پولس کا وزیر داخلہ نہیں ہوتا۔ وہ اس وزیر داخلہ کے کنٹرول میں ہوتی ہے جو پورے ملک یعنی125کروڑ انسانوں کا وزیر داخلہ ہے ۔اور پورے ملک کے اندرونی معاملات اسے دیکھنا ہوتے ہیں ۔انکی مصروفیات کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ دہلی جیسے صوبوں کی پولیس بے باپ کے بچوں جیسی خود سر اور بے لگام ہو جاتی ہے۔
دہلی میں دو طرح کی حکومت کیوں ہے ؟یہ تو ان سے معلوم کیا جاسکتا ہے جنھوں نے دستور بنایا ہے ؟لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جب وہ آدھی حکومت ہے تو اسکی اسمبلی کے لئے جو الیکشن ہوتے ہیں اسکے لئے بھی مرکزی حکومت والی پارٹی سیکڑوں کروڑ روپیہ کیوں خرچ کردیتی ہے؟ جبکہ وہ کامیاب ہو یا ناکام ہو ۔اگر مرکزمیں اسکی حکومت ہے تو آدھی حکومت اسکے پاس بہر حال ضرور رہے گی۔
2015میں جب دہلی اسمبلی کا الیکشن ہوا تو وزیر اعظم اور بی جے پی کے صدر امت شاہ نے اس الیکشن کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لڑا جیسے وہ2014میں لوک سبھا کا لڑ چکے تھے ۔اور دولت بھی اتنی ہی خرچ کر ڈالی جتنی دہلی کی 7سیٹوں کے لئے کی تھی ۔بلکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس سے چار گنا زیادہ خرچ کر ڈالی ۔لیکن2014کے الیکشن میں جو وعدے کئے تھے۔اور ان کے لئے وقت بھی مقرر کیا تھا ۔وہ وقت گذرچکا تھا ۔اور ان حسین وعدوں کے پورا ہونے کا تو ذکر کیا ۔نام بھی لینا اور معذرت بھی کرنے کا کوئی اشارہ نہیں تھا ۔جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ انقلابی آب وہوا میں پر ورش پانے والے دہلی باسیوں نے ایک بالکل نو آموز سیاست داں کو اپنے ووٹوں سے مالا مال کر دیا ۔اور سواسو برس پرانی پارٹی کانگریس نے وہ دیکھا جو 1977میں اتر پردیش میں دیکھا تھا ۔اور مرکزی حکمراں پارٹی کو اتفاق سے ڈھائی سیٹ مل گئی ۔جن میں آدھی اکالی دل کی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ اندرونی معاملات میں پھنسنے کی وجہ سے اور دہلی کی آدھی حکومت کے الیکشن کے مقابلہ میں شرم ناک ہا ر کی وجہ سے دہلی سے اتنے بے زار ہوگئے کہ انھوں نے اسکی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیا ۔اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی پولیس ملک کی واحد پولیس ہے جسکا طریقۂ کار پورے ملک سے الگ ہے ۔ملک کے ہرصوبہ میں ایم ایل اے کی یہ حیثیت ہوتی ہے کہ پو لیس کا سپاہی ان کے سامنے سے گذرنے کی ہمت نہیں کرتا ۔اور انسپکٹر کو بھی اگر ایم ایل اے کسی کام کے لئے گھر بلائے تو مجال نہیں ہے کہ وہ ہر کام چھوڑ کر بھا گا ہو ا نہ آئے ۔اور زیادہ ترصوبوں میں پولیس کے سپاہی ایم ایل اے کی حفاظت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔جن سے ایم ایل اے اور انکی شری متی گھر کے ملازموں کی طرح کام لیتے ہیں ۔اور وہ انکا ر کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے ۔اسکے برعکس دہلی کے سپاہی کی یہ حیثیت ہے کہ وہ جس ایم ایل اے کوجب چاہے ذلیل کردے اور جو لیفٹیننٹ گورنر ان کے سربراہ ہیں ۔انہیں مرکزی حکومت نے شاید یہ حکم دیدیا ہے کہ اگر سپاہی یا داروغہ ایم ایل اے یا وزیر سے بد تمیزی کرے تو آپ خاموش رہیں ۔
اتر پردیش یادوسرے صوبوں کے ایم ایل اے اگر پریس کانفرنس کررہے ہوں تو ایس پی کی بھی یہ ہمت نہیں کہ وہ درمیان میں ہی روک دے اور گرفتار کرلے ۔لیکن دہلی کے ان کروڑوں انسانوں نے جنہوں نے انتہائی محبت کے ساتھ اروند کیجریوال کی حکومت بنوائی تھی ۔یہ منظر دیکھا کہ ایک ایم ایل اے کو پریس کانفرنس کے درمیان میں پولیس نے گرفتار کرلیا ۔اور الزام بھی اتنا بڑا کہ مسٹر ایم ایم خاں اور پولیس افسر مسٹر تنزیل کے قتل سے بھی زیادہ ۔یعنی ایم ایل اے صاحب نے کسی عورت کو دھکا دیا ہے ۔اور ایک بوڑھے کے چپت مار دیا ہے ۔دہلی کے تھانے میں یہ رپورٹیں لکھی گئی ہیں ۔اور وہ پولیس جوچار کروڑ رشوت پر ٹھوکر مارنے کے الزام میں ایک انتہائی ایماندار افسر کے قتل کے اس مجرم کو جس نے لاکھوں روپے دیکر یہ قتل کرایا ہے بچانے میں لگی ہے وہ دھکا اور تھپڑ جیسے سنگین جرم کے الزام میں ایک ایم ایل ے کو گرفتار کر رہی ہے۔
ہندوستان بھر کے نہیں صرف دہلی کے ہی ہر دن کے اخبار اگر دیکھے جائیں تو سیکڑوں ایسی خبریں مل جائیں گی کہ ایک بوڑھے باپ اور ماں اپنی بیٹی کی آبرو ریزی کی رپورٹ لکھانے گئے تو تھانے والوں نے گالی دیکر بھگا دیا ۔اور فلاں کا بیٹا ہماری لڑکی کو لیکر بھاگ گیا تو پولیس جواب دیتی ہے کہ سالی یار کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ۔اور رپورٹ نہیں لکھی جاتی ۔لیکن کسی عورت کو راستے سے ہٹا دینے کو دھکا ۔اور کسی بوڑھے کو کسی بھی بد تمیزی کی وجہ سے تھپڑ مارنے کوبزرگ کے تھپڑ مارنے جیسا سنگین جرم قرار دیکر رپورٹ لکھدی گئی ۔اور اس ڈر سے کہ وہ ثبوت نہ مٹادیں انہیں گرفتار کرلیا ۔ہو سکتا ہے کہ عدالت سے پھانسی کی بھی سفارش کی جائے۔
ہندوستان میں جعلی ڈگریاں اتنی ہی عام ہیں جتنی ہاضمہ کی دوائیں ۔وہ جو جھولا چھاپ ڈاکٹر کہے جاتے ہیں جو دہلی میں بھی ہزاروں ہونگے ۔انکے مطب میں بھی ڈگری ٹنگی ہوتی ہے ۔اور اپنے پریس کے دور میں جعلی ڈگری ہم نے بھی چھاپی ہے ۔اللہ تعالی معاف فرمائے ۔مگر وہ ایک شادی کا مسئلہ تھا کہ لڑکے والے لکھنؤ یونیورسٹی کی ڈگری والی لڑکی چاہتے تھے اور اس کے پاس آگرہ کی ڈگر ی تھی ۔اس تجربہ کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں لاکھوں جعلی ڈگری والے ہیں ۔حدیہ ہے کہ وزیر اعظم کی بی اے کی ڈگری شک کے دائرے میں ڈال دی گئی ہے۔اور نہ جانے کتنی ڈگریاں جعلی ہوں گی ۔
لیکن عاپ پارٹی کے ایک وزیر جتندر سنگھ تومر کی ڈگری کی تحقیق کے لئے ٹی وی کے ذریعہ ہم نے جو کچھ دیکھا ہے کہ داروغہ اور سپاہی انہیں تین د ن تک اس شہر سے اس شہر اور اس ٹرین سے اس ٹرین میں صرف اس لئے لیکر گھومتے رہے کہ ڈگری جو جعلی ثابت کرسکیں ۔جیسے اگر یہ فرضی ثابت نہیں ہوئی تو دہلی تباہ ہو جائے گی۔ یا ایک وزیر سومناتھ بھارتی اور انکی بیوی کے درمیان کا تنازعہ ۔یہ ایک معمولی بات ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہوجائے ۔لیکن یہ پہلی بار دیکھا کہ دہلی کی پوری پولیس بھارتی کی بیوی کے پیچھے ہاتھ باندھے غلاموں کی طرح کھڑی رہی ۔اور اختلاف کو ہوا دیتی رہی۔
اختلاف تو اندرا گاندھی اور شوہر فیروز گاندھی کے درمیان بھی ہوا ۔اور اتنا بڑھا کہ اندرا جی اپنے دونوں لڑکوں کو لیکر باپ کے گھر آکر بیٹھ گئیں لیکن ہم نے تو ایک پولیس والے کو بھی اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔جب کہ دونوں میں اتنی دوری تھی کہ فیروز گاندھی اپنے دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر اندرا کو ایک دن کے لئے بھی اقتدار مل گیا تو وہ ملک کو تباہ کردے گی ۔اور دوری تو آج کے وزیر اعظم اور انکی بیگم صاحبہ کے درمیان بھی ہے ۔تو کیا پولیس کو یہ حق ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف ہتھیار لیکر کھڑی ہوجائے ۔اور انکے علاوہ عام آدمی پارٹی کے وزیروں اور ممبروں کے خلاف پولیس پاگل کتوں کی طرح سونگھتی پھرتی ہے اور اعلان عام ہے کہ وہ کیجریوال حکومت کو کام نہیں کرنے دیگی ۔
مرکزی حکومت شاید یہ سوچ رہی ہے کہ جب عوام کا کام نہیں ہوگا تو وہ ناراض ہو جائیں گے اور اگلے الیکشن میں انہیں ووٹ نہیں دیں گے ۔لیکن اسکا الٹا اثربھی ہو سکتا ہے کہ اب جو تین سیٹیں مل گئی ہیں اور ایوان میں میزوں پر کھڑے ہوکر جو اپنا وجود ثابت کررہے ہیں ۔اور انہیں پریس اور ٹی وی والے منہ لگا رہے ہیں وہ بھی ختم ہوجائے ۔اس لئے کہ ہم دہلی سے 5سو کلو میٹر دور بیٹھے ہوئے صرف ٹی وی اور اخبار وں یا دہلی میں آباد اپنے عزیزوں کے بل پر یہ کہہ رہے ہیں کہ کجریوال کی یہ بات عوام کے دلوں پر ضرور اثر کریگی کہ مرکزی حکومت انہیں کام نہیں کرنے دے رہی۔ شری راج ناتھ سنگھ جو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں ۔اور اب مرکزکے وزیر داخلہ ہیں وہ اتر پردیش حکومت کی حکم دیکر یہ رپورٹ منگوادیں کہ آزادی کے بعد سے ابتک پردیش کے ہزاروں تھانوں میں لکھی جانے والی کروڑوں رپورٹوں میں کوئی رپورٹ کسی ایم ایل اے کے خلاف عورت کو دھکا دینے یا بوڑھے کو تھپڑ مارنے کی بھی لکھی گئی ہے اور اس جرم میں ایم ایل اے کو گرفتار کیا گیا ہے ؟ اگر وہ دکھا دیں تو ہم اپنا قلم توڑ کر قسم کھالیں گے کہ اب کچھ نہ لکھیں گے ۔اور اگر وہ نہ دکھاپائیں تو دہلی پولیس کے ہر افسر کی طرف سے خود کیجریوال سے معافی مانگیں ۔ہر صوبہ میں جو پولیس ایم ایل اے کے اشاروں پر کتوں کی طرح دوڑ کرحکم بجا لاتی ہے ۔اسکی یہ ہمت کہ وہ پریس کا نفرنس کے دوران ایم ایل اے کو گرفتار کرکے لیجائے ۔اگر اسے وزیر داخلہ کی طرف سے حمایت کا یقین نہیں ہوتا تو وہ سامنے آنے کی بھی ہمت نہ کر تی ۔بہر حال وہ دہلی جو درجنوں باربرباد ہو کر پھر بسی ہے وہ ایک بار پھر برباد ہونے والی ہے ۔اور دہلی والے دیکھ رہے ہیں کہ ذمہ دار کون ہے ؟اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اسے معاف نہیں کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close