ہندوستان

بالا گھاٹ کے سرجیکل اسٹرائیک کا  پوسٹ مارٹم

ڈاکٹر سلیم خان

بالا گھاٹ کا علاقہ سرحد  اُس پار نہیں اِس پار ہے۔ آج کل کوئی تو دور دیس  کے حملوں پر سینہ پھلا رہا ہے تو کوئی  ثبوت مانگ رہالیکن اپنے دیس کے اندر جاری جارحیت سے ہرکوئی غافل ہے۔ بالاگھاٹ میں وقوع پذیر ہونے والا واقعہ   ایک ایسےرحجان کا غماز ہے جس کے نتیجے میں جنم لینے والی خانہ جنگی کسی بھی روایتی جنگ سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے اس لئے فرقہ پرستی کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔ فرقہ وارانہ فساد کا مربع چار عناصر پرمشتمل ہوتاہے  ۔ اس کےاجزائے ترکیبی میں اولیت فسادی کو حاصل ہے  جو اس کی ابتداء کرتا ہے اور انجام تک بھی پہنچاتا ہے ۔ دوسرانمبر  انتظامیہ کا ہے جس کی ذمہ داری  فساد روکنا ہے ۔ فساد اسی وقت ہوتا ہے جب  وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے یا فسادیوں کا ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔

فساد کا تیسرا جزولاینفک  وہ  سیاستداں   ہےجو کبھی تو فسادزدگان کے آنسو پونچھ کر ان کی ہمدردی بٹورتے ہیں ، کبھی فسادیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ، انتظامیہ پر دباو ڈال کر اس کی راہ میں رخنہ کھڑاکرتے ہیں اور بوقتِ ضرورت شروع سے لے کر آخر تک فساد کی سرپرستی اوررہنمائی کرتے ہیں تاکہ  عوام کا جذباتی استحصال   کرکے اپنی سیاسی دوکان چمکائی جائے۔اس زنجیر کی آخری کڑی مظلوم و مقہور فساد زدگان توبیچارے ظلم و جبر کا شکار ہوتے ہیں ۔ سارے لوگوں کی ہمدردی بجا طور پر آخری طبقہ سےہوتی ہےاور ہونی بھی چاہئے لیکن  کیا اس کی مدد یا بازآبادکاری سے فسادکی  رو ک تھام  ممکن ہے؟اس  سوال کا جواب ایک حقیقی واقعہ میں پوشیدہ  ہے جوحال میں  مدھیہ پردیش کے اندر وقوع پذیر ہوا۔

25 ستمبر کو بالاگھاٹ میں آرایس ایس پرچارک  یادونے سوشیل میڈیا میں ایک اسلام مخالف پیغام لکھا۔ اس کے بعد سنگھیوں کا الزام ہے کہ  بیھر پولس تھانے کے تھانیدار ضیاء الحق نےاپنی ٹیم کے ساتھ پرچارک سریش یادو کے دفتر پر ہلہّ بول دیا ۔ یادو کا الزام ہے کہ اس کو اس قدر زدوکوب کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا ۔  سوشیل میڈیا میں نہ تو اسلام کی مخالفت کوئی نئی چیز ہے اور نہ انتظامیہ پر زیادتی کاالزام نیا ہے۔ سریش یادو تو خیر زندہ ہے ورنہ پولس والے تو فرضی  انکاونٹر کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس کی سب سے بڑی مثال عشرت جہاں کا معاملہ ہے۔ اس کی فائیل تک  غائب کردی گئی اس لئے  کہ اس میں بی جے پی صدر امیت شاہ کا نام ہے لیکن  بالاگھاٹ میں پولس والوں کے خلاف جو اقدامات کئے گئے ہیں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ایڈیشنل ایس پی راجیش شرما،تھانیدار ضیاء الحق ۔ سب انسپکٹر انل اجمیریہ ، نائب سب انسپکڑ اور3 عدد حوالداروں کے خلاف چار گھنٹوں میں دو عدد ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ان پر قتل کی کوشش، ڈکیتی، دنگا فساد، دلآزاری، بدمعاشی بلااجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ یادو کا موبائیل فون تفتیش کیلئےضبط کرنے پر چوری کا الزام بھی جڑ دیا گیا ۔ اس  کے بعد  خوف ودہشت کا یہ عالم  ہے کہ وہ  سارے  ملزم پولس اہلکارجن سے عوام تھر تھر کانپتی تھی مفرور  ہیں ۔آرایس ایس کا غصہ اس پر بھی کم نہ ہوا اس  نے 29 ستمبر کو پورے ضلع میں بند کا اعلان کردیا  اوراپنے میمورنڈرم میں یادو کے خلاف شکایت کرنے والوں کو غیرسماجی عناصر قرار دے کر الزام لگایا کہ وہ یادو کی پٹائی میں پولس کے ساتھ شریک تھے اگر ایسا ہوتا شکایت کنندہ نواب خان  پولس میں شکایت درج کرانے کے بجائے  سنگھی غنڈوں کی  طرح خود  حساب  چکتا کردیتا۔

ان غیر معمولی اقدامات کی کئی وجوہات ہیں اول تو سریش یادو آرایس ایس کا پرچارک ہے اگر وہ اسلام کامبلغ  ہوتا تو اس  کاتعلق داعش سے جوڑ کر پولس والوں کو انعام و اکرام سے نوازہ جاتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ  اس وقت مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے۔  اگر کوئی اور پارٹی برسرِ اقتدار ہوتی تو تھوڑا بہت شور شرابہ ضرور ہوتا لیکن پولس کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی مجال  کوئی نہ کرتا۔  تیسری وجہ یہ تھی کہ اسی دوران بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ کا اجلاس گوالیار میں منعقد ہورہاتھا  اس لئے وزیراعلیٰ کے مخالفین نے اس مسئلہ کے ذریعہ شیوراج سنگھ چوہان کو گھیرنے کی سعی  کرڈالی۔ اس کارِ خیر میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ پیش پیش تھے۔انھوں نے کہا ہماری اپنی حکومت کے دوران انتظامیہ کسی پرچارک کو آرایس ایس کے دفتر میں کوئی کیسےمار کرسکتا ہے ؟ یعنی اگر ہماری حکومت نہ ہو یا پٹنے والا آرایس ایس کا پرچارک نہ ہو تو کوئی مذائقہ  نہیں ۔ شیوراج سنگھ چوہان عرصۂ دراز سے مودی اور شاہ کی آنکھوں کا کانٹا بنے ہوئے ہیں اور وجئےورگیا کی مدد سے ان کے شکار کی کوشش کی جارہی ہے لیکن چوہان ہر بار مچھلی کی مانند پھسل کر نکل جاتے ہیں ۔ اسی سیاسی  دباو نے چوہان کو پولس کے خلاف یہ ایسا کڑا قدم اٹھانے  پر مجبور کیا ہے۔

 اس مہابھارت میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب تینڈولکھیڑا کےبی جے پی رکن اسمبلی سنجے شرما نے الزام لگایا کہ  بالاگھاٹ کے رہنے والے وزیرزراعت گوری شنکر بیسن  کو یادو کے گرفتاری کاپہلے سےعلم تھااس  لئے انہیں  استعفیٰدے دینا چاہئے۔ وہ ایک پرچارک کی حفاظت میں ناکام جو رہے ہیں گویا وزراء کی اولین ذمہ داری سنگھ پرچارکوں کاتحفظ ہے۔چوہان نے پلٹ وار کرتے ہوئے شرماکو وجہ بتاو نوٹس  دےدیا مگراس کےاگلے دن ایک اور رکن اسمبلی ظالم سنگھ پٹیل نے یہ الزام دوہرا دیا اور اسے بھی  وجہ بتاو نوٹس تھما دیا گیا۔   اس کے باوجود صوبائی  وزیرداخلہ بھوپندر سنگھ نے صفائی پیش کی پولس چونکہ پرچارک کو پہچان نہیں سکی اس لئے ہر علاقہ کے پرچارکوں کا پولس سے تعارف کروایا جائیگا (تاکہ بدمعاشیوں کو نظر انداز کیا جائے)  جب اس بیان پر ہنگامہ ہوا تو انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے کہا میری مراد یہ تھی کہ پولس اہلکاروں کو سنگھ کے سماجی کام سے متعارف کیا جائیگا۔

اس معاملے میں اگر سریش  بے قصور ہوتا اور اس پر زیادتی  ہوئی ہوتی  تو پولس کے خلاف اقدامات درست ٹھہرتے۔ اس طرح کی ٹھوس کارروائی کے ذریعہ پولس کو ظلم وجبر سے روکنا ضروری  ہے لیکن اس کا اطلاق صرف سنگھیوں تک محدود کیوں ہو؟ انتظامیہ اگر دلت ، آدیباسی  یا مسلمان کے ساتھ بھی یہ کرے  تو  اس کو سزا ملنی چاہئےورنہ تفریق وامتیاز برتنے سے  ظلم و انصافی خاتمہ کے بجائے اضافہ ہوگا۔ لیکن  تمام شواہد چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ  سریش یادو مفسد ہے اس لئے اسے بچانے کی خاطر پولس اہلکاروں کی حوصلہ شکنی  انہیں  اپنے  فرض منصبی کی  ادائیگی سے روک دے گی ۔ انسپکٹر جنرل ساگر یہ کہہ چکے تھے کہ معاملہ کی تفتیش کیلئے ایک خصوصی دستہ  تشکیل دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ  تفتیش کی ابتداء سے قبل آئی جی کا تبادلہ ہوگیا۔

 پولس کے مطابق یادو نے چندروز قبل ہندو دیوتاوں اور ہندومت سے متعلق واٹس ایپ پر ایک پیغام بھیجاجس میں گودھرا، میرٹھ اور مظفرنگر کے فسادات کی یاددلائی گئی تھی۔ اس میں اویسی برادران کو دھمکی دی گئی تھی اور سیکولرعناصر کو ہیجڑا کہا گیا تھا ۔   یادو کی اس  قسم کی حرکت کرتا رہتا تھا لیکن اس  کے خلاف مسلمانوں نے اونا یا دادری کے گئورکشکوں کی  طرح قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا بلکہ پولس تھانے میں جاکر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا اور نفرت پھیلانے کی شکایت درج کرائی ۔  اس کے بعدپولس محکمہ کیلئے لازم تھا کہ تحقیق کرنے کیلئے سریش یادو سے رابطہ کیا جاتا  لیکن جب وہ لوگ یادو کے دفتر میں پہنچے تو بقول پولس  یادو نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی ۔ انہیں وہاں سے بھگا دیا اور ساتھ آنے سے انکار کردیا۔ہیڈ کانسٹبل کے مطابق  پولس تھانے کے اندر یادو ایک افسر کو لات مارکر بھاگ کھڑا ہوا  اور قریب کے اساتی میڈیکل اسٹور میں جاکر چھپ گیا جہاں سے اسے گرفتار کرلیا گیا ۔

پولس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ملزم  تعاون  کے بجائے رعونت دکھائے تو وہ  کیا کرسکتی ہے؟یادو کی گرفتاری کے  چند گھنٹوں میں  اس کی ضمانت ہوگئی مگر اس نے اپنے ہمنواوں کوپولس تھانے میں  بلا ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس وقت کی ڈاکٹری  رپورٹ کے مطابق یادو کو کچھ خراشیں آئی تھیں مگر اس  کی کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی یہ اور بات ہے کہ  اب وہ پلاسٹر لگاکر گھومتا ہے۔    اپنی روپوشی سے قبل تھانیدار ضیاء الحق نے اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ اس نے اپنے سینئرس کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی گنیش چتورتھی اور نوراتری کے تہواروں میں حالات کو قابو میں رکھنے کی خاطر یہ  گرفتاری  کی تھی۔  اضافی ایس پی کارروائی کے دوران اس کے ساتھ تھے۔ ان حقائق کے منظر عام پر آنے کے بعد سنگھ کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے پرچارک کو نظم و ضبط کی تلقین کرتااور قانون کی پاسداری کا درس دیتا لیکن وہ  الٹا چور کوتوال کی مصداق انتظامیہ پر چڑھ دوڑا۔

سیاستدانوں سے ان کی مجبوریاں  بہت کچھ کرواتی ہیں لیکن  بالاگھاٹ میں موجود دولت کے پجاری صحافیوں کا کردار بھی کم قابلِ مذمت نہیں تھا۔ ایک مقامی اخبار بلٹز ٹوڈے نے شاہ سرخی بنائی مدھیہ پردیش کا ایک پولس افسر پاکستان کا حامی بن گیا  اور  یہ بے بنیادافواہ اڑا دی  کہ یادو کا واٹس ایپ پیغام پاکستان کے خلاف تھا حالانکہ اس میں پاکستان کا کوئی تذکرہ ہی نہیں تھا اس کے باوجود لکھا گیا  پولس افسر نے ثابت کردیا کہ وہ دشمن ملک کا خیر خواہ ہے۔  راج ایکسپریس نامی مقامی اخبار نے انسپکٹر ضیاء الحق کوطالبانی قرار دے کر فوری برخواستگی کا مطالبہ کرڈالا جبکہ 37 سالہ ضیاء الحق نہایت ہونہار اور ایماندار افسر ہے اور تربیت کے دوران شیوراج   سنگھ چوہان کے ہاتھوں تمغۂ امتیاز حاصل کرچکا ہے۔   بہترین کارکردگی کے سبب انہیں بہت جلد سب انسپکٹر اور تھانے کاانچارج بنادیا گیا۔

اس واقعات کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے اس ملک سے فسادات کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ اگر کسی معاشرے میں فسادیوں کو سرکاری تحفظ حاصل ہوجائے۔ ان کو نفرت پھیلانے سے روکنے والوں کے خلاف کارروائی ہونے لگے ۔ قانونی طور شکایت کرنے والوں کو غیرسما جی عناصر قرار دے دیا جائے۔ کارروائی کرنے والے پولس افسران کی حوصلہ شکنی کیلئے ان کے خلاف سنگین الزامات عائد کرکے انہیں روپوش ہونے پر مجبور  کردیا جائے۔ قانون اور ضابطہ کے سیدھے سادے معاملہ کو انسپکٹر کے مذہب اور مجرم کی تنظیم کی دشمنی کا رنگ دے دیا جائے۔تفتیش کرنے والے افسران کا تبادلہ کروا کے اپنی بہادری کا ڈنکا پیٹاجائے اور اس ہنگامہ  آرائی کی آنچ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکی جائیں ۔ اپنی ہی جماعت کے وزیراعلیٰ کو معزول کرکے    اقتدار پر قبضہ کرنے کی خاطر فرقہ وارانہ منافرت کی آگ بھڑکائی جائے تو فسادات رکیں گے یا بڑھیں گے؟

ایک طرف تو سنگھ کے پرچارک سوشیل میڈیا کی مدد سے  نفرت پھیلانے کے سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے   ہیں اور  دوسری  طرف مدھیہ پردیش  کے اندرسپریم کورٹ کی جانب سے ایک منسوخ شدہ قانون (66 الف)کی بنیاد پر  موہن بھاگوت کی تصویر شائع کرنے والےمحمد دانش   کو کوٹما سے گرفتارکرلیاجاتا ہے۔  اس سے قبل دونوجوانوں کو گرفتار کرکے کھرگون کی عدالت میں پیش کیاجاچکا تھا جو  ضمانت پررہا ہوگئے۔ دستور کی دفع 66 کے اندرسن 2008  میں ترمیم کرکے سوشیل میڈیا میں اہانت آمیز تبصرے پر ملزم کو 3سال تک کی سزا  تجویز کی گئی تھی لیکن اس ترمیم  کو سپریم کورٹ نےحقوق انسانی کی خلاف وزری قراردے کر کالعدم کر دیا۔  اس طرح گویا ایک  منسوخ شدہ قانون کی مدد بے قصور لوگوں کو سزا دلوانے والے اپنے قصوروار لوگوں کو  نہ صرف چھڑانے کے درپہ ہیں بلکہ انہیں پابہ زنجیر کرنے والے افسران کی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں  پتھروں کو باندھ کر کتوں کو آزاد چھوڑدینے والی منووادی  حکمتِ عملی کا کمال ۔

مدھیہ  پردیش کے اندر ایک پرچارک کی پٹائی پر بی جے پی کی ریاستی حکومت نے بونڈر کھڑا کردیا لیکن   ہریانہ میں اسی پارٹی کے وزیراعلیٰ سے جب میوات کے اندر دو بہنوں کی عصمت دری یا بریانی کی غیرقانونی تفتیش  کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا  یہ معمولی مسائل ہیں  اور ایسا ملک کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے۔کیا سب کا ساتھ  اورسب کا وکاس کی یہی عملی تعبیر ہے ؟  صحافیوں کے اصرار پر موہن لال  کھٹر ّ نے  ببانگِ دہل کہا کہ ا ان معمولی مسائل پر میں توجہ نہیں دیتا آج ہمیں صوبے کے طلائی جشن پر گفتگو کرنی چاہئے۔   اقلیتوں کے معاملے میں ایسی  بے حسی   اور درندگی اورایک نام نہاد  پرچارکوں سےحددرجہ  ہمدردی  ہی دراصل ملک میں  فسادات کی بنیادی وجہ  ہے۔ بالاگھاٹ کا پوسٹ مارٹم گواہ ہے کہ جب تک اس فکر و نظر کی بیخ کنی نہیں ہوجاتی اس وقت تک یہ ملک سنگھ مکت یا کانگریس مکت تو ہوسکتا ہے مگر فساد مکت نہیں ہوسکتا  نیز اندرونِ ملک امن و امان کا قیام سرحد ی امن و سلامتی سے کم اہم نہیں ہے۔ وزیراعظم نےغربت اور بیروزگاری  کے خلاف جس جنگ کا اعلان کیرالا میں کیا ہے اس کا مقابلہ فرانس سے خریدے جانے والے رفالے جنگی جہازوں  سے نہیں بلکہ فرقہ پرستی  کے خاتمہ  سے کرنا ضروری ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close