معاشیاتہندوستان

 بجٹ 2018: ہزار شکر کہ مایوس کردیا تونے

ڈاکٹر سلیم خان

اقتصادی سال کا اختتام چونکہ ۳۱ مارچ کو ہوتا ہے اس لیے یکم اپریل کو نئے سال کا بجٹ پیش ہونا چاہیے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ  عام  لوگ  اس کا شمار بھی  اپریل فول کے لطائف میں کریں گے۔ ویسے بھی عام بجٹ دراصل عوام کو فریب دینے کا ایک تماشہ ہوتا ہے۔ اس بار مودی حکومت نے پٹرول  اور ڈیزل پر دو روپے ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل دو روپے سستا ہوگیا ہے۔  اس کمی پر بغلیں بجانے والے بھکتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مودی سرکارکی مدت کار میں ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں ۳۸۰ فیصد سے زیادہ تک اضافہ کیا گیا ہے۔ منموہن سنگھ کی ظالم حکومت ڈیزل پر ۵۶ء۳  روپے ڈیوٹی وصول کرتی تھی مگر مودی جی نے ا سے بڑھا کر ۳۳ء۱۷  روپے فی لیٹرکردیا۔ پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں ۱۲۰ فیصد تک کا اضافہ کرکےموجودہ حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی ۴۸ء۹ روپے تھی ۴۸ء۲۱ روپئے فی لیٹر تک پہنچا دیا۔ چار سال تک عوام کا خون چوسنے کے بعد اگر اس میں ۲ روپئے کی کمی کردی تو کون سا احسان عظیم ہوگیا؟  اس شاطرانہ  بجٹ کے بعد  فریب خوردہ و مایوس  متوسط طبقے کے حالت زار پر کلیم عاجز کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو       

مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

نوٹ بندی کے بعد جی ایس ٹی مار سہنے والے ملازم  پیشہ شہر یوں کو انتخاب کے طفیل بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اس لیے انہیں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر بی جے پی کو کامیاب کیا تھا لیکن ان کو تگڑا جھٹکا دیتے ہوئے انکم ٹیکس  کے شرح  میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ فی الحال  ڈھائی سے پانچ لاکھ روپے کی آمدنی  پر پانچ فیصد کی شرح سے ٹیکس لگتا ہے۔ اسی کے ساتھ بی جے پی کو چندہ دینے والا متوسط طبقہ اب بھی  ۱۰ لاکھ سے زیادہ کی سالانہ آ مدنی پر ۳۰  فیصدی کی شرح سے  ٹیکس بھرتا  ہے۔ بازار میں چھائی ہوئی مندی اور دن بہ دن بڑھتی مہنگائی نے ویسے ہی عام لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے اوپر سے وزیر موصوف نے تعلیم اور صحت پر لگنے والے تین فیصدی ٹیکس کو بڑھا کر چار فیصد کردیا ہے۔یہ اور بات کہ صحت و تعلیم کے بجٹ میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے سرکار نے ان شعبہ جات پر خرچ کی جانے والی رقم میں  صرف ۱۲ فیصد کا اضافہ  کرکے  اسے ۲۲ء۱ لاکھ کروڑ  روپئے سے بڑھا کر ۳۸ء۱  لاکھ کروڑ روپئے کردیا جبکہ ٹیکس کی شرح میں ۲۵ فیصد یعنی دوگنا سے زیادہ اضافہ فرما دیا یعنی جتنا دو اس سے ڈبل لو۔ اس کے ساتھ مہنگائی بڑھانے کے لیے  موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹی وی وغیرہ پرکسٹم ڈیوٹی  پندرہ سے بیس فیصدی تک بڑھا دی  اور اچھے دن کا مفہوم سمجھا دیا۔

 اس بجٹ سے عوام کے تو نہیں مگر سیاسی رہنماوں کے اچھے دن ضرور آگئے۔ مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے اپنے بجٹ میں صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اور تمام ریاستوں کے گورنر سمیت اراکین اسمبلی کی تنخواہ میں بھی اضافے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب صدر جمہوریہ کو  ڈیڑھ لاکھ کے بجائے پانچ لاکھ، نائب صدر کو سوالاکھ سے بڑھا کر ۴  لاکھ،گورنر وں کوایک لاکھ دس ہزار کے بدلے  ساڑھے تین لاکھ  روپئے ماہانہ تنخواہ ملے گی۔ تنخواہ توخیر دنیا بھر میں بڑھتی ہے لیکن اس کا اوسط ۱۰ تا ۲۰ فیصد ہوتا ہے اور اگر ۳۰ فیصد بڑھ جائے تو عام آدمی پھولا نہیں سماتا لیکن یہاں تو ایک قلم کے اشارے سے ۳۰۰ سے ۴۰۰ فیصد کا اضافہ ہورہا ہے پھر بھی دعویٰ ہے کہ  یہ عوام کی حکومت ہے عوام کے لیے اور عوام کے ذریعہ چلائی جارہی ہے۔  اراکین اسمبلی کویقین دلایا گیا ہے کہ ان کی تنخواہ  ہر پانچ سال پر بڑھادی جائے گی چاہے وہ عوام کی خدمت کریں یا ان کو لوٹیں ۔

ہمارے بے مصرف اور بدعنوان ارکان پارلیمان کی آمدنی اور اس میں بڑھوتری اگر عام آدمی سنے تو یقین کیجئے چکرا کر گرجائے۔ا رکان پارلیمان کی تنخواہ ۵۰ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ ۷۰ ہزار حلقہ انتخاب کا الاونس  اور ۶۰ ہزار دفتر چلانے کا خرچ اور دیگر سہولیات۔ یہ ایسے خوس قسمت  لوگ ہیں جن کو ایوان میں حاضری دینے اوروہاں  شور شرابہ برپا کرنے پریومیہ ۲ ہزار روپئے انعام ملتا ہے۔ دنیا میں کون سی ایسی ملازمت ہے جس میں کسی دفتر میں حاضری دینے کے الگ سے پیسے ملتے ہوں ؟ لیکن ہمارے رہنما تو عوام کی خدمت کا نذرانہ  وصول کرتے ہیں ۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ  اپنی تنخواہ یہ کود ہی بڑھاتے ہیں ۔ عوام کا اس معاملے  میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

  سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے مشاہرے میں بھی جلد ہی  غیر معمولی  اضافہ کیا گیا۔  چیف جسٹس آف انڈیا کو اب  ماہانہ ایک لاکھ روپے مشاہرے کے بجائے دو لاکھ ۸۰ہزار روپے مشاہرہ ملا کرے گا۔اسی طرح عدالت عظمیٰ کے ججوں اور عدالتِ عالیہ کی چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ ۹۰ ہزار روپےسے بڑھا کر ڈھائی لاکھ روپے کردی گئی جبکہ ہائی کورٹس کے ججوں کو جو ابھی تک ۸۰ہزار روپے ماہانہ پاتے تھے اضافہ کے بعد سوا دو لاکھ روپے پائیں گے۔ ساتویں مشاہرہ کمیشن کی سفارشات کے تحت تنخواہ  میں اضافہ سے۲۵۰۰سبکدوش ججوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ کیا کوئی عام آدمی اس قدر  بے مہار عیاشی  کا تصور کرسکتا ہے؟ مگر یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کی طرح  الہ باد ہائی کورٹ کے جسٹس نین شکلا کو بدعنوانی میں ملوث ہونے سبب ہٹا  کر اس کی تفتیش  کا آغاز کیا جاتا ہے۔ یہ بجٹ سے تین دن پہلے کی واردات ہے۔

گجرات کے انتخابی نتائج سے عبرت پکڑتے ہوئے موجودہ سرکار  نے دیہی علاقوں کی جانب تو جہ تو دی ہے لیکن   وہ شہری رائے دہندگان سے لاپرواہی برت رہی ہے۔ اس بے اعتنائی کی قیمت مودی جی  کوانتخاب میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بی جے پی کی پکڑ شہری علاقہ میں بہت اچھی ہے لیکن شہروں میں رہنے والے باشندوں کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔ بی جے پی کو ووٹ دینا ان کی پسند تو ہے لیکن مجبوری نہیں ہے اس لیے اگر مودی جی نے انہیں مجبور کردیا تو وہ پھر سے کانگریس کا ہاتھ تھام سکتے ہیں ۔دیہات میں رہنے والے ۸ کروڈ غریبوں  کو مفت گیس کنکشن دینے  کا  اہتمام کیا جارہا ہے  لیکن اگر وہ بیچارے  رعایتی داموں پر بھی گیس خرید نہیں سکیں گے تو اس کا کیا  فائدہ ؟اس اسکیم  کا حال بھی ان بنک کے کھاتوں کی طرح ہوجائیگا جن میں کم ازکم رقم نہ رکھ پانے کے سبب جیب کاٹ لی جاتی ہے۔ صحت عامہ کے تحت ۱۰ کروڑ غریب کنبوں کے لئے ’راشٹریہ سواستھیہ سرکشا یوجنا‘اور ڈیڑھ لاکھ طبی مراکز  کے لئے ۱۲ ہزار کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس رقم سے کیا ہوگا جبکہ ایک بڑا گھپلا اس سے زیادہ کا ہوتا ہے۔  دس کروڑخاندانوں کو فی خاندان پانچ لاکھ روپے سالانہ میڈیکل کور دینے  کے بجائے ان کو مفت علاج کی سہولت دینی چاہیے۔ یہ تو فلاح و بہبود کی آڑ میں  انشورنس کمپنیوں کی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ ہے ۔

وطن عزیز میں ایک  کسان کی اوسط  سالانہ آمدنی ( ؁۲۰۱۶ کے اقتصادی سروے کے مطابق )۲۰ہزار روپئے ہے۔ مودی جی نے وعدہ کیا تھا زراعت کی لاگت سے ڈیڑھ گنا کم ازکم نرخ پر حکومت کسانوں سے اناج خریدے گی لیکن ۱۵۰ فیصد تو دور ۵۰ فیصد بھاو بھی صرف ۶ فیصد کسانوں کو ملا جس سے اس شعبے میں زبردست بے چینی ہے۔ نیشنل کرائم برانچ بیورو کے مطابق ؁۲۰۱۴ میں  کسانوں کے ۶۲۸مظاہرے ہوئے تھے جو ؁۲۰۱۶ میں بڑھ کر ۴۸۳۷ ہوگئے یعنی اس میں تقریباً  ۷ گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں  سے ہمدردی کا دم بھرنے والی سرکار پھر بھی  سوتی رہی اور اب انتخاب سامنے آئے تو اس کو  بجٹ میں کسانوں اور غریبوں کا خیال آیا۔ ان کا معیارزندگی کو بہتر بنانے کے لئے آئندہ  سال کے بجٹ میں خریف فصلوں کی کم از کم قیمت  خرید لاگت کا ڈیڑھ گنا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سے کتنے لوگ استفادہ کرپائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ آئندہ مالی سال میں کسانوں کو قرض دینے کی  خاطر مختص کردہ رقم  کوبڑھا کر۱۱ لاکھ کروڑ روپے کرنے کا اعلان تو کردیا گیا لیکن اس کو حاصل کرتے کرتے کتنے کسان خودکشی کرلیں گے یہ جیٹلی بھی  نہیں جانتے؟  بھارتیہ کسان یونین کے ورغلانے میں آکر اس بار کاشتکاروں نے بھی  نئی سرکار کو منتخب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب یہ حال ہے؎

تیرے گھر میں پھول کھلا دیئے، تجھے خوشبووں میں بسا دیا        

   میری حسرتوں کا چمن جو تھا، اسے خاک و خوں میں ملادیا

   وزیر خزانہ نے اپنی  بجٹ کی تقریر میں ؁۲۰۲۲ تعلیمی نظام کی بہتری  کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں حکومت نے تعلیم کے شعبہ کیلئے فنڈ میں اضافہ کیا  تھا اور اسے کل بجٹ کے ۹ء۹ فیصدتک بڑھا دیا تھا مگر خرچ صرف ۷ء۳ فیصد کیا۔ اس سے ان اعلانات کی قلعی کھل جاتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے ہمارے نوجوان روزگارکے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ وزیر محنت کے مطابق ہر سال ایک کروڈ ۲۰ لاکھ نوجوان نئی  ملازمت کے متلاشی ہوتے ہیں اس لحاظ سے ہر تین ماہ ۳۰ لاکھ ملازمت کے مواقع نکلنے چاہئیں ۔ ایک معتبر جائزے کے مطابق  اکتوبر ؁۲۰۱۱ کے بعد کسی بھی سہ ماہی میں ۲ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ملازمت نہیں ملی۔

 ؁۲۰۱۰ سے ؁۲۰۱۲ کے درمیان مخصوص  شعبوں  میں ۱۸ لاکھ ملازمتیں نکلیں جو ؁۲۰۱۲ سے ؁۲۰۱۴ کے بیچ گھٹ کر ۶ لاکھ پر پہنچ گئیں ۔ مودی جی کو نوجوانوں کی اسی بے چینی کا فائدہ ملا اور وہ انتخاب جیت گئے۔ مارچ ؁۲۰۱۴ سے دسمبر ؁۲۰۱۵ تک  ماہانہ ۳۰ ہزار  یعنی سالانہ ۳ لاکھ ۶۰ لوگوں کو ملازمت ملی جبکہ مودی جی ہرسال ۲ کروڈ لوگوں کو ملازمت دینے کا جھانسہ دے کر اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ مارچ ؁۲۰۱۵ سے دسمبر ؁۲۰۱۵ تک کو یہ اعداوشمار گھٹ کر ۸ ہزار ملازمت فی ماہ پر پہنچ گئے۔  اس میں شک نہیں کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم نوکریاں نکلیں ۔ اب ارون جیٹلی جی نے اچانک ایک کروڈ ۲۰ لاکھ نئے روزگار کا خواب دکھایا ہے تو انہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ آخر وہ کون سا علاء الدین کا چراغ انہیں مل گیا ہے جس یہ چمتکار ہوجائیگا۔ہاں اگر پردھان سیوک پکوڑہ اور چائے بیچنے  پر مجبور ہونے والے بیروزگار نوجوانوں کو برسرِ روزگار کردینے کاکریڈٹ لینا چاہتے  ہیں تو   اور بات ہے۔  اس طرح وہ اپنے آپ کو تو بہلا سکتے ہیں لیکن کیا پھر سے نوجوانوں کو ورغلانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ یہ اہم سوال ہے۔

  اس سرکار نے بجٹ میں بلند بانگ دعویٰ تو کردیئے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرکاری خزانے میں رقم کہاں سے آئے گی ؟  حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے جی ایس ٹی کے سبب سرکاری آمدنی میں ۵۰ ہزار کروڈ کی کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ  جاتے جاتے سرکار نے اپنے خیرخواہ سرمایہ داروں کی خوشنودی کے لیے ۲۵۰ کروڈ سے زیادہ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس ۳۰ فیصد سے گھٹا کر ۲۵ فیصد کردیا۔ بڑے سرمایہ دار ممکن ہے  اس بچت میں سے بی جے پی کو انتخابی سال کے اندر دل کھول کر چندہ دیں لیکن سرکاری خزانے کا ۷ ہزار کروڈ خسارہ ہوجائے گا۔ ایسے میں فلاح و بہبودکے لیے رقم کہاں سے آئیگی ؟

 حکومت ویسے بھی  اس بابت وعدہ اور نعرہ سے زیادہ سنجیدہ نہیں  لگتی مثلاً زیر بحث  راشٹر سواستھ یوجنا کے تحت  اگر ۱۰ کروڈ کنبوں کو فی خاندان ۵ لاکھ دیا جاتا ہے تو اس   پر ۶۰ ہزار سے ایک لاکھ کروڈ تک خرچ آسکتا ہے اور حکومت نے اس کے لیے ۲۰۰۰ کروڈ مختص کیے ہیں جو سرکار کی نیت میں شک کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایک دلچسپ انکشاف یہ ہے کہ پچھلی بار حکومت نے اس مد میں ۱۳۲۸ کروڈ رکھے تھے لیکن اس میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔ اس لیے ایسے ہاتھی کے دانت کا کیا فائدہ جو صرف دکھانے کے کام تو آتے ہیں لیکن کھانے کے نہیں ۔ راجستھان کےرائے دہندگان  نے ضمنی انتخاب میں   بی جے پی کو یہ پیغام تو دے دیا ہے کہ اب لوگ کھوکھلے نعروں سے نہیں  بہلنے والے۔ شئیر بازار کی گرتی ہوئی دیوار بھی گواہی دے رہی ہے عوام کے ارمانوں کا کس بے دردی سے خون ہوا ہے۔ کسی واٹس ایپ پر بہت درست پیغام بھیجا ہے کہ بجٹ نے ثابت کردیا ’مودی جی کو کیٹلی پکڑانے کا کام جیٹلی  ہی کریں گے۔ اب  دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی عوام کے ’من کی بات ‘ پر کتنا کان دھرتے ہیں ۔ ویسے جیٹلی جی کی خدمت میں ان کے  آخری بجٹ کے ذریعہ بی جے پی کی لٹیا ڈبونے کی  پیشگی  مبارکباد حاضر ہے بقول شاعر؎

ہزار شکر کہ مایوس کردیا تونے 

 یہ اور بات کہ تجھ سے بڑی امیدیں تھیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close