ہندوستان

بخار کی مار، دیش بے حال

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے سری لنکا کو ملیریا فری ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ اس کے ساتھ سری لنکا جنوبی مشرقی ایشیاء کا دوسرا ملیریافری ملک بن گیا ہے۔ اس سے پہلے مالدیپ کو ملیریا سے نجات مل چکی ہے۔ ملیریا کے خلاف سری لنکا میں چلائی گئی مہم کے نتیجہ میں ایک دہائی قبل ایک سال میں صرف ایک ہزار معاملے سامنے آئے تھے۔ یہ آنکڑا 2012 میں صفر ہوگیا تھا۔ ساڑھے تین سال کے دوران ملیریا کا یہاں کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بھارت کے ہر ساتویں شخص کو ملیریا کا خطرہ لاحق ہے۔ ملیریا سے ہونے والی کل اموات میں سے 90فیصد دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ترقی کے سارے دعوے کے باوجود ملک میں ڈینگو، چکن گنیا، ملیریا جیسے بخاروں سے سیکڑوں لوگوں کی جان جارہی ہے۔ اس طرح کی بیماریوں کی بڑی وجہ مچھرو گندگی ہے۔ عام طورپر مچھروں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ موسم بدلنے کے وقت زیادہ ہوتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ جولائی آتے ہی ڈینگو، چکن گنیا، ملیریا اور وائرل بخار کے معاملوں کی خبریں پورے ملک سے آنے لگتی ہیں۔ یہ سلسلہ لگ بھگ اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ اس سال بھی مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا قہر اس موسم میں برپا ہوا ہے۔ لیکن سرکاری نظام پوری طرح لاچار ہے۔

ان بیماریوں سے لڑنے کیلئے صرف دہلی میں تینوں نگر نگموں کے قریب چار ہزار کارکنان تعینات ہیں۔ مگر پھر بھی دہلی ان دنوں صحت سے متعلق مصیبتوں سے گزررہی ہے۔ ڈینگو اور چکن گنیا کے حملے نے وبا کی شکل اختیار کرلی ہے۔ نگرنگم کی رپورٹ کے مطابق دونوں بیماریوں سے اب تک31موتیں ہوچکی ہیں اور قریب چار ہزار سے زیادہ لوگ اس کی زد میں ہیں۔ حیرت انگیز یہ ہے کہ اس دوران دودرجن سے زیادہ ملیریا کے معاملے بھی درج ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں وکلینکوں میں علاج کرارہے لوگوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر نگرنگم کے ملازمین کی لاپروائی کا حال یہ ہے کہ شہر میں ہر طرف گڑھوں میں جمع پانی، کچرا، گندگی کے ڈھیر اور مچھروں کے پنپنے کے تمام ذرائع دکھائی دے رہے ہیں۔ سونے پر سہاگا اس بیچ لیفٹیننٹ گورنر امریکہ گھوم آئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب وگوا میں انتخابی ریلیوں کے بعد اب بنگلور میں اپنا علاج کررہے ہیں۔ گوپال رائے اور وزیرصحت انتخابی مہم میں جٹے ہوئے تھے اورنائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا فن لینڈ میں اسکولی تعلیمی نظام کا جائزہ لینے میں مشغول ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب دہلی ڈینگو، چکن گنیا، ملیریا اور وائرل بخاروں سے کراہ رہی ہے۔

ڈینگو، چکن گنیااورملیریا کا قہر دہلی تک محدود نہیں ہے۔ دوسری ریاستیں بھی اس سے بری طرح متاثر ہیں۔ دہلی سے لگی ہوئی ریاست ہریانہ میں ڈینگو کے 322اور ملیریا کے 6695کیس درج کئے جاچکے ہیں۔ اس میں سے 4409 معاملے میوات کے ہیں۔ نیشنل ویکٹربورن ڈسیز کنٹرول پروگرام(NVBDCP)کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 31؍اگست 2016تک ملک میں چکن گنیا کے 12255معاملے درج ہوئے ہیں۔ ان میں 8941کیس صرف کرناٹک کے ہیں جبکہ مہاراشٹر 839اور آندھرا پردیش سے 492کیس سامنے آئے۔ غورکرنے کی بات یہ ہے کہ کیا انہیں انتظامات کے بھروسے بھارت ملیریا، چکن گنیا، ڈینگو یا مچھروں سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں پر قابو پانے کا دم بھررہا ہے؟

دہلی میں ملیریا سے ہوئی نوجوانوں کی موت نے ایک بار پھر اس بخار کو لے کر تشویش بڑھا دی ہے۔ حالانکہ پچھلی کئی دہائیوں سے اس بیماری کی روک تھام کی کوشش کی جارہی ہے۔ پھر بھی اس کی زد میں آنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ کئی لوگوں کی جان بھی جاچکی ہے۔ ملیریا سے 2011میں 754اور 2014میں 535موتیں ہوئی تھیں۔ ان میں تریپورہ 96، میگھالیہ 78، اڑیسہ73، مہاراشٹر63، مغربی بنگال62، چھتیس گڑھ 53، میزورم 27، مدھیہ پردیش 26اور گجرات کی 15موتیں شامل ہیں۔ دہلی کے منڈاولی میں ہوئی نوجوان کی موت کو پچھلے پانچ سال میں ملیریا کا پہلا معاملہ بتایا جارہا تھا۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسی سال جولائی میں ایک باسٹھ سال کے شخص کی شاہدرہ میں ملیریا سے موت ہوچکی ہے، اور 2014میں بھی دہلی کے ایک شخص کی جان گئی تھی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ابھی تک دہلی میں 22لوگ ملیریا کے شکار ہوئے جن میں سے 6مرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ جولائی تک بھارت میں صرف ملیریا کے چار لاکھ اکہتر ہزار معاملے درج ہوئے ہیں۔ ان میں سے 119لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ ملیریا سے 86فیصد موتیں طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے 65فیصد بچے اس کی زد میں آتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ میں ملیریا سے متعلق بھارت کی انتہائی تشویشناک تصویر ابھری ہے۔ ملک کی آبادی کے بڑے حصہ کو ملیریا سے خطرہ ہے۔

نیشنل ویکٹر بورن ڈسیزکنٹرول پروگرام کی رپورٹ بھارت میں سالانہ ملیریا کے 9.7 ملین معاملے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔ اس میں 30سے 40ہزار اموات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میں ملیریا کا بڑا حصہ انتہائی پسماندہ غریب اور دوردراز علاقوں سے متعلق ہے۔ 99-90فیصد دیہی اور 10-5فیصد معاملے شہری علاقوں کے ہوتے ہیں۔ ملیریا کی سالانہ شرح میں ایک چوتھائی حصہ اڑیسہ کا ہے۔ یہاں p.falciparumملیریا سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ دوسری اہم حصہ دار ریاستیں میگھالیہ، میزورم، مہاراشٹر، راجستھان، گجرات، کرناٹک، گوا، جنوبی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ ہیں، جہاں ملیریا کے مریض اور اموات کی قابل ذکر تعداد پائی گئی۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ تیز ترقی، معاشی پھیلائو اور بلا منصوبہ سازی کے شہروں کا دائرہ بڑھنے سے مچھروں سے پیدا ہونے والے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ جنگلات و نمی کے علاقوں p.falciparum وائرس کے انفیکشن کا زیادہ امکان رہتا ہے۔ اس لئے آدی واسی یا دیہی آبادی آسانی سے اس کا شکار بن جاتی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ وائرس اپنا علاقہ بدلتا ہے۔ آسام، مغربی بنگال سے شفٹ ہوکر یہ جنوب مغربی ریاستوں جیسے مہاراشٹر، کرناٹک اور کیرالہ میں داخل ہوگیا۔ اب شمالی بھارت مع ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور اور میزورم نارتھ ایسٹ اس کے نشانے پر ہے۔

ڈاکٹر پونم کھیترپال ریجنل ڈاکٹر ڈبلیوایچ او نے ملیریا فری ہونے کیلئے سری لنکا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیسویں صدی میں سری لنکا ملیریا سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھا، لیکن اب ملیریا سے نجات حاصل کرچکا ہے۔ یہ دیش کے رہنمائوں کی بصیرت اور ہمت کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ 1980-70کی دہائی میں یہاں ملیریا خوب پھیلا۔ اس کے بعد 90کی دہائی میں اس کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ اس کے تحت دوطرفہ کوششیں ہوئیں۔ ایک طرف پیراسائٹس کو پھیلنے سے روکا گیا اور دوسرے مچھروں کو ختم کرنے کا انتظام۔ جو علاقے ملیریا سے زیادہ متاثر تھے، وہاں موبائل کلینک چلائے گئے۔ پوری منصوبہ سازی کے تحت سرکار نے ٹھوس قدم اٹھائے اور نئی تکنیک استعمال کی۔ ساتھ ہی بخار کے تمام معاملوں میں ملیریا کی جانچ کی گئی۔ اس مہم کے ساتھ عوام کوجوڑ کر24گھنٹے ہاٹ لائن شروع کی گئی۔ مچھروں کو پنپنے کی جگہوں کی صاف صفائی، زیادہ خطرے والے علاقے میں علاج کا انتظام، مچھر مخالف طریقے اپنانے کے بجائے پیرا سائٹس کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔

مانا جارہا ہے کہ بھوٹان، چین، نیپال اور ملیشیا جیسے ممالک ملیریا فری ہونے کے قریب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان ممالک میں چلائی گئی مہم کا وہ کونسا پہلو ہے جسے بھارت میں لاگو نہیں کیا جاسکتا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کو ملیریا فری ہونے کیلئے 2030تک کا لمبا انتظار کرنا ہوگا؟ کیا اس ڈیڑھ دہائی میں ان بیماریوں سے ہونے والے نقصان کا اندازہ کیا گیا ہے؟ پولیو کے مورچہ پر ہمارے ملک نے جس طرح کامیابی حاصل کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر ایماندارانہ سیاسی عزم کے ساتھ صحیح سمت میں کوشش کی گئی تو قابو پایا جاسکتا ہے۔ پھر چاہے ملیریا، چکن گنیا ہو یا ڈینگو، ان سے ہونے والی اموات بھی رک سکیں گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری ملازمین کی جوابدہی مقرر کی جائے۔ سرکار صحت کیلئے مختص بجٹ میں کمی کرنے کے بجائے اسے ڈی جی پی کے تناسب میں بڑھائے تاکہ صحت کی سہولیات دیہی ودوردراز علاقوں تک پہنچ سکیں۔ جوپروگرام چل رہے ہیں وہ اور زیادہ کارگرطریقے سے چلیں۔ پولیو کی طرح مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے ساتھ عوام کو جوڑا جائے۔ سرکار کاچاہے جتنا منصوبہ ہو عوام کی شرکت کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سرکار اور عوام کی مشترکہ کوشش ہی ملک کو مچھروں کی بیماریوں سے نجات دلاسکتی ہے اور بخار سے بے حال لوگوں کو راحت بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close