ہندوستان

بلاتکاری ’جاگرن گروپ‘ کے اخباروں میں اشتہار دینے والوں کے نام!

مقام شکر ہے کہ اس بلاتکاری اخبار گروپ کے خلاف سارے ملک میں مسلمانوں نے اپنااحتجاج درج کرایا ہے اور کسی دیوبندی تنظیم اور اس کے قائدین سے زیادہ شدت کے ساتھ جاگرن کی صحافتی بددیانتی کے خلاف بریلوی علماء اور عوام سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔

میم ضاد فضلی

خود کوملک کا نمبر ایک کہنے والے ہندی کے اخبار’’ دینک جاگرن‘‘ اور اس گروپ سے شائع ہونے والے اخبارات کے 20اپریل 2018کے ایڈیشنوں میں صفحہ اول پرانتہائی شرمناک اور جھوٹی خبر شائع کی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سنگھی اخبار گروپ نے یرقانی زانیوں اور بھاجپائی قاتلوں کے جسم اور کپڑوں سے نکل رہی خون اور زنا کی بدبو کو دھو نے کی ناپاک مہم جاری کررکھی  ہے۔ دینک جاگرن اوراس گروپ کے دیگر اخبارات نے لکھا ہے کہ دنیا بھرمیں جموں کے کٹھوعہ کی آٹھ سالہ نابالغ بچی کی اجتماعی آبرو ریزی اوراس کے بہیمانہ قتل، اور ثبوت مٹالے کیلئے زانیوں اور قاتلوں کے گناہوں کو بچی کے کپڑے دھونے والی خبر بے بنیاد ہے۔ بلاتکاریوں اور زانیوں کی حمایت کرنے والا ناپاک اخبارصحافت کی قدروں اور اصولوں کا ریپ کرتے ہوئے لکھتاہے کہ ’’کٹھوعہ میں بچی کی اجتماعی آبروریز ی یعنی اس کے ساتھجنسی زیادتی نہیں ہوئی تھی‘‘۔ اس طرح کی گھنونی اورشرمناک خبر کس جرأت سے لکھی گئی ہے اس کا تصور کرکے بھی ایک مہذب انسان شرم سے پانی پانی ہوجائے گا۔ جبکہ ساری دنیا میں معتبر سمجھی جانے والی دہلی کی فارنسک لیب کی رپورٹوں میں بھی آٹھ سالہ آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری کی تصدیق کی گئی ہے۔

اب یہ فیصلہ عوام پر ہے کہ جاگرن گروپ کی خبر پر اعتماد کریں یا فارنسک لیب کی جو منصفانہ اور محققانہ رپورٹ ہے اس کو درست مانا جائے۔ دنیاکو دہلادینے والی اورانسانیت کو شرمسار کردینے والی اس وحشیانہ واردات کو انجام دینے والے بھگوا دہشت گردوں کی پہلے دن سے ہی حمایت کرنے والا اور یرقانی دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے ولایہ میڈیا گروپ انسانیت شرافت اور صحافتی قدروں کا مسلسل بلاتکار کررہا ہے۔ یہاں یہ واضح طورپر محسوس ہوتا ہے کہ آصفہ کے مجرموں کابی جے پی اور آرایس ایس سے گہرا رشتہ ہے، یہاں ان کے حق میں بات بھی تھی کہ سب کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے، لیکن وہ کسی بھی قانونیکارروائی میں یقین نہیں کرتے، اس لئے کہ وہ قانونی کاروائی کو مان لیں گے تو ان کے گناہ سامنے آجائیں گے۔

اگر بات قانونی کارروائی کی ہوگی تو ان تمام کی گردنیں پھنس جائیں ، لہذا بھگوا بلا تکاریوں کو بچانے کیلئے بی جے پی کے وزراء کی قیادت میں مبینہ گرفتاری کے خلاف  احتجاج کیا گیا، چارج شیٹ جمع کرنے کے خلاف مظاہرے ہوئے، مظلوم آصفہ کے وکیل کی مخالفت کی جا رہی ہے انہیں قتل کردینے کی دھمکی تک دی جارہی ہے۔ کیا بلاتکاری اخبارجاگرن گروپ کے صحافیوں کو یہ ساری باتیں سمجھ میں نہیں آرہی ہیں کہ یہ ساری مخالفت اس لئے کی جارہی ہے سبھی مجرم ہیں اور اگر قانونی کارروائی ہوئی توسبھی کوکیفرکردار تک پہنچنا ہوگا اور بی جے پی اور سنگھ کی ساری دنیا میں رسوائی ہوگی۔ بس اسی خوف کے مارے بھگوافروش قاتل دہشت گردوں کو بچانے کیلئے اس سنگھی اخبار یعنی بلاتکاری جاگرن گروپ نے یہ بے بنیاد خبر اپنے صفحہ اول پر20اپریل کو ملک کے لگ بھگ سبھی ایڈیشنوں میں چھاپی ہے تاکہ بھولے بھالے عوام دھوکہ کھاجائیں اورآصفہ کے گنہ گاروں کوبچ نکلنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ بلاتکاری اخبار یہ بھی لکھ سکتا تھا کہ اس کا بہیمانہ قتل بھی نہیں ہوا، بلکہ وہ نابالغ بچی بھی نہیں تھی۔

جاگرن گروپ کے پیچھے ایستادہ قوتوں نے اس کام کیلئے بلاتکاری اخبار کے صفحہ کا استعمال کیا اور اس میں یہ جھوٹ بھی شامل کیا کہ آصفہ کی لاش کی دو عدد پوسٹ مارٹم رپورٹ بھیجی گئی ہے، حالانکہ بلاتکاری اخبار کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹا ہے۔ اخبار لکھتاہے کہ  17 جنوری کوآصفہ کی لاش ملنے کے بعدکٹھوعہ  ضلع اسپتال میں ڈھائی بجے اس کا ایک پوسٹ مارٹم ہواتھا۔ دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عصمت دری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جبکہ پوسٹ مارٹم میں ہائیمن اور شرمگاہ  پر لگی چوٹ، خون کے نشانات وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مظلوم نابالغ بچی کی اجتماعی آبرو ریز ی کی گئی تھی۔ ثبوت مٹانے کے لئے معصوم آصفہ کے کپڑوں کو دھویا گیا تھااس کا ذکر بھی چارج شیٹ میں موجود ہے۔ بعد ازاں سرینگر ایف ایس ایل کسی نتیجے تک پہنچ نہیں سکا تو آصفہ کے نمونے کودہلی کو بھیجا گیا۔ دہلی کے فارنسک لیب کی رپورٹ اخبار کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے۔

کیا اب بھی اس بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ یہ بلاتکاری اخبار خریدنا جائزہوگا۔ اگر آپ پانچ روپے کا اخبارخرید رہے ہیں تو یاد رکھئے! کہ اسلام اور مسلمانوں کے قاتلوں کو آپ پانچ روپے کی مدد پہنچارہے ہیں۔ اگر آپ اپنی تجارت کو فروغ دینے کیلئے ان اسلام دشمن’’ دینک جاگرن گروپ‘‘ کے اخباروں کو ہزار روپے کااشتہار دے رہے ہیں تو یا د رکھئے کہ آپ اللہ کے دشمنوں اور مظلوموں کے قاتلوں کی ہزار روپے سے مدد کررہے ہیں۔ اس سے آپ کی تجارت میں برکت نہیں ہوگی، بلکہ اس پر اللہ کی لعنت ہوگی، اگرچہ آپ بظاہر وہ لعنت نظر نہیں آرہی ہو۔ آپ ظالم کی مدد کرکے وقتی ترقی تو کرسکتے ہیں مگر یاد رکھئے ایسے ظالموں کی مدد کرکے چاہے وہ کسی زبان اخبار نکالتاہو۔ اگرآپ اس میں اشتہار دیتے ہیں یا اس کے خریدار بنتے ہیں تو بھی اس کے گناہ میں ، اس کے جرم میں اوراسلام کیخلاف اس کی تمام سازشوں میں آپ بھی برابر کے گنہ گار ہوں گے۔ یہ وہ گناہ ہے جس کی تلافی لمبی لمبی نمازوں اور ریاکاری سے بھری سخاوت سے بھی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ بات سادہ لوح مسلمانوں سے زیادہ ملت کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی والی تنظیموں مثلاً مسلم پرسنل لاء بورڈ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے ہند، جمعیت اہل حدیث اور امارت شریعہ سمیت سبھی تنظیموں اوراس کے ذمہ داران کو سمجھنی ہوگی، ورنہ اللہ بھی انہیں کبھی معاف کرے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ چندہ دینے والے سادہ لوح مسلمان ان تنظیموں کے وڈیروں سے پوچھیں کہ آپ اپنی تقاریب اور پروگراموں کی تشہیر کیلئے سالانہ کتنے لاکھ روپیوں سے اسلام اور اللہ کے دشمن، سنگھ کے چٹے بٹے بلاتکاری اخبار گروپ یعنی ’’جاگرن گروپ ‘‘ کے اخباروں کی مدد کرتے ہیں؟۔ یہ بات مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی، مولانا سلمان ندوی، مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، مولا نا ولی رحمانی سب سے پوچھنی چاہئے کہ آپ سالانہ کتنے لاکھ کی رقم جاگرن گروپ کے اخباروں پرلٹادیتے ہیں جورقم پختہ ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے محنت کی کمائی ہے اور چندے کی شکل میں آپ کے حوالے کی گئی ہے۔ سنگھ کے ایک رب دشمن اخبارمیں خبریں نہ چھپوانے سے آپ کی تقاریب ناکام نہیں ہوں گی، بلکہ آپ کے اندر اگر اللہ نے اخلاص رکھاہے تو آپ کی قربانیوں کو بغیر اشتہار کے بھی مقبولیت ملے گی اور یہ کام ہم سب کا خالق ومالک کرے گا۔ ان شاء اللہ

مقام شکر ہے کہ اس بلاتکاری اخبار گروپ کے خلاف سارے ملک میں مسلمانوں نے اپنااحتجاج درج کرایا ہے اور کسی دیوبندی تنظیم اور اس کے قائدین سے زیادہ شدت کے ساتھ جاگرن کی صحافتی بددیانتی کے خلاف بریلوی علماء اور عوام سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ جبکہ اے بی پی نیوزکے معروف ٹی وی اینکرغیرمسلم بھائی  ابھیسار شرمانے مکمل ایک شو چلاکر جاگرن کی جھوٹی خبرکا پوسٹ مارٹم کرکے اس کے سنگھ کنیکشن کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ ہند ی کے کئی دیانت دارصحافتی پورٹلس بھی ’’پترکاریتا‘‘ کے ساتھ بلاتکار پر جاگرن کی کلاس لگائی ہے۔ اب ذمہ داری ان لوگوں کی ہے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولیں جو اس گروپ کے اخبارات کو ہاتھ میں لے کریا اس چھاپی گئی اپنی خبریں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ سنگھ کا آرگنائز راور جھوٹ کا پلندہ اخبار قرآن کی طرح مقدس ہے۔ اگر ان کے اندر رائی کے دانہ برابر بھی غیرت ہوگی تو وہ جاگرن گروپ کے اخبارات سے توبہ کرلیں گے اس اخبارکی اسلام دشمنی کیخلاف احتجاج کے سلسلے کو مزید طاقت بخشیں گے۔ آئیے !عہد کریں کہ آج سے بلاتکاری اخبار ’’جاگرن گروپ ‘‘ کے کسی بھی اخبار کو چاہے وہ کسی بھی زبان میں نکلتا ہو نہ ہم خریدیں گے، نہ اس کو چھوئیں گے اورنہ اسے اشتہار دے کر اسلام کے دشمنوں ، مسلمانوں کے قاتلوں اور بلاتکارکے حامیوں کی مدد کریں گے۔

اللہ ہمار حامی و ناصر ہو!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close