بول، زباں اب تک تیری ہے!

تبسم فاطمہ

آج سچ بولنے والے اور اس جرم میں موت کی سزاپانے والے سقراط کی یاد آرہی ہے۔ سقراط آنکھیں بند کیے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک انتہائی خوش شکل اور خوش لباس شخص اس سے ملنے آیا۔ سقراط نے آنکھیں کھول کر بغیر متاثر ہوئے اس کی طرف دیکھااور یہ تاریخی جملہ اداکیا: ’’کچھ بولیے تاکہ آپ کے معیار ذوق کا اندازہ ہو۔‘‘ یونان کی گلیوں میں بھٹکتے ہوئے سقراط سے کسی نے سوال کیا کہ اگر زبان پر پہرہ لگادیا جائے تو کیا ہوگا سقراط کاجواب تھا ، ،پھر لاکھوں خاموش زبانوں کو بولنے سے کوئی نہیں روک سکے گا— گرمیت رام رہیم کے فیصلے میں ہائی کورٹ کے جج نے ملک کے کروڑوں لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈیفنس کے وکیل کو جو جواب دیا، یہ جو اب خاموشی کے آتش فشاں سے نکلا ہوا ایسا جواب تھا جس کی گونج پورے ملک میں سنی گئی۔ یہ جواب تھا کہ وزیر اعظم صرف بی جے پی کے نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے ہیں۔

اس سلگتے ہوئے جملے میں احتجاج کی خاموش صدائوں کو بہ آسانی محسوس کیاجاسکتا ہے۔ یہ اشارہ بھی تھا کہ بڑھتی ہوئی فسطائی طاقت، احتجاج اور انقلاب کی آواز کو خاموش نہیں کرسکتی۔ اس ملک کے سقراط (سچ بولنے والے)ابھی بھلے خاموش ہوں لیکن سچ بولنے کے نام اگر پراکر پروفیسر کلبرگی ،پانسرے اور دابھو لکر کا قتل کیاجاتا ہے تو عوام کیلئے زیادہ دنوں تک خاموش رہنا مشکل ہوجائے گا۔ زعفرانی دہشت گردی کی مثالیں گواہ ہیں کہ تشدد کے لئے راستہ حکمرانوں کی طرف سے پیدا کیاگیاہے۔ اس کی ایک کھلی مثال تو اترپردیش کی ہے جہاں یوگی ادتیہ ناتھ کے مسلم مخالف بیانات نے تشدد پسند ہجوم کو مسلمانوں کے قتل عام کی پوری چھوٹ دے رکھی ہے۔ لیکن وزیر اعلی یہ بھول گئے کہ ابھی ملک کی عدلیہ زندہ ہے۔ مرتی ہوئی جمہوریت میں بھی ایسے باضمیر ،باکردار لوگ زندہ ہیں جن پر بھروسہ کیاجاسکتاہے۔ اور اسی لئے یوگی کے بیانات کی نہ صرف مخالفت ہوئی بلکہ یوگی کے غیر آئینی طورپر اٹھائے گئے قدم کے لئے عدلیہ کو بھی سخت ہونا پڑا۔ مدرسوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو لے کر ابھی فیصلہ آنا باقی ہے لیکن گئو رکشکوں کے تشدد پر سپریم کورٹ کا سخت رویہ سامنے آچکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ صوبائی حکومت کو کوئی فرق پڑا ، نہ مرکزی حکومت کو۔ فسطائیت کے خونی کھیل اب بھی جاری ہیں۔ اور اس کھیل میں ہلاک کردیے جانے والوں میں اب ایک نیانام گوری لنکیش کاجڑگیاہے۔

 22اکتوبر 2015کو ناگپور کے اجلاس میں موہن بھاگوت نے یہ اشارہ دیاتھا کہ ہم اپنے مشن کے بہت قریب ہیں۔ آج کے خونی نظاروں، دلتوں اور مسلانوں کے قتل ،دانشوروں کو ملنے والی دھمکیاں ،قانون اور آئین کی دھجیاں اڑانے والوں کودیکھ کر یہ سوچنا لازمی ہوجاتاہے کہ کیاحقیقت میں موہن بھاگوت اپنے مشن کے قریب ہیں اور مشن کا راستہ تشدد سے ہوکر جاتا ہے ؟پروفیسر کلبرگی، پانسرے، اور دابھولکر کے قاتل اگر آزاد گھوم رہے ہیں تو کیایہ سمجھاجائے کہ خفیہ ایجنسیاں، سی آئی ڈی، سی بی آئی  جیسے ادارے ز اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں ؟

یہ سوچنا بھی لازم ہوجاتا ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو گرمیت رام رہیم اور آسارام باپوجیسے عیاش بابائوں اور قاتلوں کے آگے سرجھکائے کھڑی رہتی ہے —؟ جہاں ایک مجرم وزیر اعلی کی کرسی پر نظر آتا ہے ، جہاں ایک صوبائی حکومت کھلے عام مسلمانوں کے خلاف بیانات جاری کرتی ہے اور تشد د پسند گئو رکشکوں کی خفاظت کرتی ہے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے میں اپنا کردار اداکرتی ہے — گئو رکشکوں کے تشدد پر سپریم کورٹ کا بیان آچکا ہے۔ تشدد کا تحفظ کرنے والے حکمرانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کتناخیال ہے ،یہ ان کی مصلحت پسند خاموشی اور بے نیازی سے سمجھاجاسکتا ہے۔ لیکن ادھر حالیہ چند فیصلوں سے ملک کی اقلیتوں کا اعتبار عدالت ، آئین اور قانون پر قائم ہوا ہے اور قیاس ہے کہ یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔

گوری لنکیش کے قتل کے بعد ملک میں اچانک جو صورتحال پیداہوئی ہے، اس پر غور وفکر کرنا ضروری ہے۔ یہ قتل بنگلور میں ہوا لیکن اس قتل کو لے کر ملک کے تمام حصوں میں احتجاج اور بغاوت کی لہر تیز ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم سے براہ راست سوال کیاجارہا ہے کہ غیر ضروری معاملات پر ٹوئیٹ کرنے والے وزیر اعظم ایسے موقعوں پر ٹوئیٹ کرنا بھول کیوں جاتے ہیں۔ مقتولہ صحافی کو بد ترین الفاظ سے نوازنے والے نکھل داد ھیچ سے رابطہ کیوں رکھتے ہیں ؟گوری لنکیش کے بارے میں ہر طرح کی معلومات سامنے آچکی ہیں ، اس لیے ان معلومات کو از سر نو دہرانا ضروری نہیں سمجھتی۔ گوری لنکیش، راون کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ راون کے ماننے والوں کی تعداد بھی اس ملک میں بہت زیادہ ہے۔ راون ایک دانشور اور عالم بھی تھا۔ گوری لنکیش کا خیال تھا کہ ان کا مذہبی نظریہ ہندو مذہب کے بنیادی نظریے سے مختلف ہے۔ وہ مختلف موقعوں پر اپنے گوری لنکیش پتر ، کے ذریعہ بھی آواز اٹھاچکی تھیں۔ وہ مسلسل آر ایس ایس ،زعفرانی تشدد پسندی کے خلاف لکھ رہی تھیں۔ ان کے خلاف مقدمے بھی ہوئے لیکن وہ کسی بھی قیمت پر جھکنے کو تیار نہ تھیں۔ وہ سچ بولتی تھیں اور انہیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ ایک دن ،ان کی آواز کو خاموش کیاجاسکتا ہے۔

 یہ حقیقت ہے کہ ان کی آواز کو چند زعفرانی طاقتوں نے مل کر خاموش کردیا مگر ان کی موت پچھلے بر س سے کہیں زیادہ انقلاب اور احتجاج کی آوازبن کر ابھری ہے۔ ایک بار پھر سوشل ویب سائٹس پر وہ تمام نام نہاد وطن پرست چہرے بے نقاب ہوئے ہیں جن کی فسطائی ذہنیت کے پیچھے حکمراں طاقت کی سرپرستی سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اس سے پہلے کہ سوشل ویب سائٹس پر خوشیاں منارہے ملک دشمن عناصر کی بات کروں ،کچھ باتوں کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ پچھلے برس عدم تحمل اور عدم برداشت کو لے کر جو تحریک سامنے آئی تھی وہ مختلف صورتوں میں اب بھی جاری ہے۔ گئورکشکوں کے حملے کے بعد ناٹ ان مائی نیم ، کی تحریک پورے ملک میں شروع ہوئی اور اس کا اثر اب بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ گوری لنکیش کے قتل کے بعد ملک کی بیدار صحافی برادری نے یہ سوال پوچھا کہ ہو از سنکیسٹ؟یعنی اب کسی کی باری—؟

یہ تحریک بھی کمزور ہونے والی نہیں ہے— اس تحریک کا اثر تھا کہ فسطائی ذہنیت رکھنے والے ریپبلک ٹی وی کے رپورٹر کو شہلا رشید نے اپنے پروگرام سے باہر نکال دیا۔ غم وغصہ کی انقلاب بنتی یہ لہر ابھی مرکزی حکومت کو نظر نہیں آرہی ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اندر خانے آتش فشاں کا لاوا آہستہ آہستہ سلگنے لگا ہے۔ سوشل ویب سائٹ پر میڈیا سے وابستہ کچھ افراد کے علاوہ نکھل دادھیچ نے جوٹوئیٹ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ ’ایک کتیا کتے کی موت کیامری ، سارے پلّے ایک سر میں بلبلارہے ہیں۔ ‘ یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا یہ کسی ایک شخص کی آواز ہے یا فسطائیت نظریے کی ترجمانی کرنے والوں کی آواز ہے ؟ کیا یہ مشن کی آواز ہے ؟ حکومت اب کھلے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اور حکومت کا ساتھ دینے والے یہ چہرے ، اپنے اپنے چہروں اور پروفائیل کے ساتھ ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ یہ مجرم کھلے طور پر ملک  کی امن وشانتی کے ماحول اور سالمیت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ یہ وہی چہرے ہیں جو پورے ملک میں آگ لگارہے ہیں۔ دنگے بھڑکارہے ہیں۔

اسی طرح فسطائی ذہنیت کے ملک دشمن وکرم ادتیہ رانا نے دو قدم آگے بڑھ کر یہ بیان دیا کہ اب شوبھاڈے ، اروندھی رائے ، ساگریکا گھوش، کویتا کرشنن، عمر خالد ،کہنیا کمار، اور شہلا رشید کو بھی گولی مارنے کی ضرورت ہے۔ ایسے کھلے بیانات کیا ثبوت نہیں کہ ان کو بنیاد بناکر ان مجرموں اور ملک کے غدّاروں کو سزاسنائی جائے ؟یہ مجرم ذہنیت والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انقلاب کی اس آنچ میں، اس وقت ملک میں لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں گوری لنکیش کا جنم ہوچکا ہے۔ یہ فہرست محض اروند ھتی رائے اور شوبھاڈے تک محدود نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ عدلیہ اب ایسے ملک دشمن عناصر کے لیے عذاب بن کر نازل ہو اور انہیں سزا کا حکم سناتے ہوئے ملک کی سچی آزادی اور جمہوریت کے کردار کو دوبارہ بحال کرے۔



⋆ تبسم فاطمہ

تبسم فاطمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے