ہندوستان

بچہ بیماراوربنک کے باہرقطار

ایم شفیع میر
 ایک محنت کش کے خون پسینے کی کمائی بھی جب اس کواپنے بیمارلختِ جگرکے علاج ومعالجہ کیلئے میسرنہ ہوسکے اوروہ جگرکاٹکرااس دنیاسے کوچ کرجائے تواس بدنصیب باپ پرکیاہراہلِ دِل پرقیامت ٹوٹ پڑتی ہے،ملک بھرمیں نوٹ بندی سے پیداشدہ حالات پرہرسوہاہاکارہے،چھُٹوں کی تلاش کرتے کرتے موت سے ملاقات ہوتی جارہی ہے،اب تک55لوگوں کی موت کی خبریں گردش کررہی ہیں لیکن اس میں آج اُس وقت ایک کااوراضافہ ہوگیاجب ریاست جموں وکشمیرکے ضلع سانبہ کے دوردرازگائوں میں ایک بچہ بروقت علاج معالجہ نہ ملنے کے باعث مو ت کے آغوش میں چلاگیا،معصوم کابدنصیب باپ مسلسل4دِن تک بنک کے چکرکاٹتارہالیکن ہزاراورپانچسوکے نوٹ تبدیل نہ کرواسکاجنہیں تبدیل کرواکروہ اپنے بیماربچے کابہترعلاج ومعالجہ کرواناچاہتاتھاکیونکہ بچہ قریب10روز سے نمونیہ کے مرض میں مبتلاتھا،بیماری دھیرے دھیرے بنکوں کے باہرلگی قطاروں کی طرح طویل ہوتی گئی اور چھُٹوں کے انتظار میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا8برس کاننھا منیرحسین دم توڑ بیٹھا۔تفصیلات کے مطابق ضلع سانبہ کے بگون میں اُس وقت صف ماتم بچھ گئی جب منیر حسین ولد محمد ہارون نامی ایک 8سالہ معصوم کمسن بر وقت ہسپتال پہنچ کر علاج نہ ملنے کی وجہ سے اس دنیا کو خیر باد کہہ گیا۔8سالہ منیر حسین کا والد محمد ہارون 5سواور 1ہزار کا نوٹ لیکر در در بھٹکتا رہا اور ایک ایک سے اپنے معصوم منیر کی زندگی کی بھیک مانگتا رہالیکن محمد ہارون اپنے معصوم بچے کی زندگی بچانے کیلئے نوٹ بدلوانے میں ناکام ہوا اور آخر کا وہ خون پسینے کی اس کمائی ہوئی رقم کو اپنے معصوم کمسن کے علاج کی خاطر صرف کرنے سے محروم رہ گیا اور اس طرح سے وہ اپنے معصوم منیر کو کھو بیٹھا۔غمزدہ محمد ہارون کے مطابق جب میں نوٹ بدلوانے کیلئے بینک پر گیا تو بینک پر نوٹ بدلوانے کیلئے میں مسلسل 4دن قطار میں کھڑا رہا، ادھر وہ نوٹ بدلوانے کیلئے قطار میں کھڑا اپنی باری کر انتظار کر رہا تھا لیکن اُد ھر اسکامعصوم منیر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ معصوم منیر کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر اس باپ پرکیا بیت رہی تھی ۔اس کااندازہ لگانامشکل نہیں،محنت مزدوری کرکے اپنے اہل ِ خانہ کی کفالت کرنے والے اس ہارون کاکالے دھن کاسفید دھن کی اس جنگ سے کوئی واسطہ نہ تھا،اس نے اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی جمع پونجی بنک میں رکھی تھی تاکہ مصیبت میں کام آجائے، محمد ہارون کے رشتہ داران نے اس کی درد بھری کہانی سناتے ہوئے کہا کہ وہ وین والے سے کس قدر اپنے معصوم منیر کی زندگی کی بھیک مانگ رہاتھا لیکن پتھر دل وین والاکا دل بالکل نہیں پگھلا ،اور1ہزار کا نوٹ مسترد کر دیا، وین والے نے منیر کو ڈاکٹر تک پہنچانے کیلئے قطعی انکار کر دیا یہ کہہ کر یہ پرانے نوٹ اب نہیں چلتے انہیں لیکر میں کیا کروں گا؟، آپ مجھے ایسے نوٹ دے رہے ہو جن کی آج کوئی قیمت ہی نہیں نئے نوٹ لائو یاچھُٹے لائو گے تو میں آپ کو ڈاکٹر تک پہنچائوں گا ‘‘۔ محمد ہارون کی یہ آس بھی ٹوٹ گئی اور موت و حیات کی کشمکش میں معصوم منیر کو گود میں اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس چل دیا۔ محمد ہارون درد ِ اولاد میں چور چور اپنے معصوم منیر کوعلاج کرنے کیلئے 55کلو میٹر کا پیدل سفر کرنے کیلئے تیار ہوا، 55 کلو میٹر کی اس پیدل مسافت میں غمزدہ محمد ہارون اپنے ننھے منیر کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر کبھی اُسے گود میں لیتا تو کبھی پیٹھ پر اُٹھاتا محو سفر تھا کہ کب میں منیر کو ڈاکٹر تھا پہنچاکر اس کا علاج کراسکوں،لواحقین کے مطابق رات بھرکے اس سفرمیں کافی میل مسافت بیماربچے نے بھی پیدل طے کی،اورعلی الصبح وہ جب ڈاکٹرکے پاس پہنچے چونکہ رات صبح 4بجے سرکاری اسپتال پہنچناممکن نہ تھا،تواِسے مانسرمیں ہی ہائی ٹیک نامی نجی کلینک میں ایک ڈاکٹررام چند کودکھایاگیالیکن اُس وقت کافی دیرہوچکی تھی،بچے نے راستے میں ہی دم توڑ دیاتھا۔اس طرح نوٹ بندی کے اژدھے نے ایک اورزندگی کونگل لیا۔اس طرح محمد ہارون پر قیامت ٹوٹ پڑی ،اُس کی دنیا لٹ گئی وہ جئے تو کس کی خاطر، اب اُس کے سامنے کروڑوں کے حساب سے سفید دھن کی کوئی قیمت نہیں، نوٹ جس کیلئے آج پوری دنیا شدید مشکلات سے دو چار ہے اُس نوٹ کومحمد ہارون جیسے لوگ موت کا سامان سمجھ رہے ہیں کیونکہ ان کے سامنے اب نوٹ ایک موت کے فرشتے کی مانند ہے۔ان کے ایک قریبی رشتہ دارمحمد انورنے اُڑان کوبتایاکہ وہ کل صبح پولیس چوکی میں ایک شکایت بھی درج کرائیں گے کہ نوٹ کی عدم دستیابی سے ان کے بچے کی جان گئی ہے۔اس ضمن میں جب پولیس چوکی مانسرکے آفیسر سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ بچے کی موت قدرتی تھی،بچے کوکئی دِنوں سے نمونیہ تھا۔آفیسر نے مزیدبتایاکہ یہ حقیقت ہے کہ اس کے والد کے پاس چھُٹے نہ تھے،جس کیلئے وہ کئی روزسے بنک میں نوٹ بدلوانے جارہاتھا لیکن چونکہ بنک کافی دورسانبہ میں تھاوہ نوٹ بدلوانے میں کامیاب نہ ہوسکااس دوران بچے کی حالت زیادہ بگڑگئی۔چوکی آفیسر عمران خان نے بتایاکہ وہ بچے کی موت کی اطلاع ملنے پرچڑاواگئے جہاں اُسے دفن کیاجارہاتھا،پوری جانکاری حاصل کی اور لواحقین نے بتایاکہ بچہ 10دِنوں سے بیمارتھا،اِسے نمونئے کی شکایت تھی اوراس کے والدکے پاس ہزاریاپانچسوکے چھٹے نہ تھے۔بچے کے علاج ومعالجہ کیلئے وہ ایک سووالے نوٹوں کی تلاش میں کئی روزتک بنک میں بھٹکتارہالیکن تب تک بہت دیرہوچکی تھی۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close