ہندوستان

بچہ مزدوری کا خاتمہ ملک کے لیے ایک چیلنج

آج یوم مزدورہے اور اس تعلق سے نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر مزدوروں کے حالات پر گھڑیالی آنسو اورمزدوروں کو درپیش مسائل کی تشخیص کے بلندو بانگ دعوے کیے جاتےرہے ہیںاور آج بھی کیے جائیں گے۔ آج لیبر ڈے پر سیاسی لیڈروں کے ساتھ مبینہ مزدوروںکےمسیحا مزدوروں کو فرش سے عرش پر لے جانے کی پرکشش لفاظی کرتے ہوئے مل جائیں گے۔حاکم سے لے کر حکمراں تک مزدوروں کے حالات سے واقف ہیں لیکن اس کےباوجود حقیقت کو سرے سے نظر انداز کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ قومی سطح سے لے کر عالمی سطح پر جاری مزدوروں کے استحصال کی کہانی کسی سے چھپی نہیں ہے۔حالیہ دنوں میں مزدوروں کے اس قافلے میں بچہ مزدوروں کا بھی نام جڑگیا ہے جوہمارےمعاشرے اور سماج کے لیے کلنک سے کم نہیں، لیکن پھر بھی حکومتیں صرف زبانی جمع خرچ کرکے مزدوراور خاص کربچہ مزدوری کے کلنک کو دھونے سے قاصر نظر آرہی ہیں۔21ویں صدی میں جس طرح سے بچہ مزدوری نے اپنے پاؤں پھیلائے ہیں،اس پر ایمانداری سے غوروفکر کرکے اس سے پاک ہندوستان بنانے کی ضرورت ہے۔ آج کے دن کو ’یوم مزدور‘کے نام منسوب کرکے بھلے ہی اس لعنت کے خاتمہ کی آواز بلندکی جارہی ہولیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے جس سے کسی صورت انکارنہیں کیا جاسکتا۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف جہاں بچپن ہماری زندگی کا سب سے سنہرا اور قیمتی باب ہوتا ہے، جہاں نہ کسی بات کی فکر، نہ کوئی سوچ اورنہ فکر معاش کی پریشانی ہونی چاہئے،لیکن اس عمر میں ہمارے ملک میں بے شمار بچوں کو کام کرنے کے لیے دھکیل دیا جاتا ہے یا والدین کی معاشی تنگی بچوں کو مجبور کردیتےہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے لیے بچہ مزدوری کا مسئلہ ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کئی اقدامات بھی کئے ہیں لیکن وہ محض خانہ پری اور اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔مسئلہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے ایک سماجی و اقتصادی مسئلہ مانا جا رہا ہے جو شعور کی کمی، غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو اجتماعی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے مستقبل کو تانباک اور روشن بنانے کے لیے والدین اپنے تمام حدود کو پارکرنے میں ذرہ برابرنہیں ہچکچاتے ، یعنی وہ اپنے بچوں کی بہترین پرورش کے لیے اوراعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے اچھے اسکول اور بہترین تعلیم گاہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور خود بھوکے پیاسے رہ کر بچوںکے حصول تعلیم کی ہرممکن راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے،چاہے اس کے لیے موٹی فیس ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف فرقوں کے پیروکار آباد ہیں، لیکن بلا تفریق مذہب وملت تعلیم کے فروغ کے لیے لائحہ عمل تیار کئے جاتے ہیں۔ تعلیمی نظام کومعیاری اوراس میں شفافیت پیدا کرنے کے لئے حکمت عملی تیارکی جاتی ہے۔ معیاری اعلیٰ تعلیم کے لئے نت نئے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مرکزی اورریاستی حکومتوں کی تعلیمی نظام کو چست درست کرنے کے لئے متعدد اسکیمیں نافذ ہیں، تاکہ بچے یکسوئی سے حصول ِ علم میں منہمک رہیں۔ بلاشک وشبہ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ بنیادی تعلیم کے حصول میں اگر کمی رہ جائے تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوکر بھی طلبہ سے وہ امیدیں نہیں کی جاسکتی ہیں، جیسی کہ ان سے وابستہ ہونی چاہئے۔ یعنی اگر بنیاد کمزور رہے گی تو پوری عمارت کمزور اور ٹیڑھی رہے گی۔ آج مرکزی سطح سے لے کرریاستی سطح پربھی بے شمار دانشوران اورعلم دوست افراد اعلیٰ تعلیمی مراکز کے تئیں فکرمند ہیں اور اس کے تعلق سے طرح طرح کے اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن بنیادی یا ابتدائی تعلیم کے لئے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہورہی ہے، اگر ہوبھی رہی ہے تو وہ بس کاغذی خانہ پوری تک ہی محدود ہے۔

بچہ مزدوری پر قابو پانے کی صدائیں سیاسی اور سماجی رہنمائوں کے گلیاروں میں کافی دنوں سے گونج رہی ہیں، لیکن اس پر عمل کب ہوگا اس کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہروکو بچوں میں مضبوط قوم کا عکس نظر آتا تھا۔ اس کے علاوہ ان بچوں کو تابناک ستارہ اور مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے زندگی بھر کوشش بھی کی، لیکن اس کے علاوہ سماجی شخصیات اور سیاسی رہنمائوں نے اس طرف توجہ نہیں دی، یاپھر ہمارے قائدین کو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ چاچانہرو کے اس ’عکس ‘کے پیش نظر پورے ہندوستان کے بچوں کوکامیابی کی طرف لے جائیں اور اس کے مستقبل کو سنوارنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ملک میں چائے، پانی ، مٹھائی کی دکان ، ہوٹل، ریسٹورنٹ اوردیگر مقامات پر چھوٹے چھوٹے بچے کام کرتے ہوئے آپ کو نظرآئیں گے، لیکن کسی کی بھی نظر اس پر نہیں پڑتی ہے۔ آخر کیوں؟اگر بچے مستقبل کے ستارے ہیں تو ان کے ستارے گردش میں کیوں ہیں اگریہی بچے ملک و قوم کے مستقبل ہیں تو پھر مستقبل کو تانباک بنانے کی کوششیں کیوں نہیں کی جاتیں؟ یہ ان کی کمی ہے یا پھر والدین کی یا بچہ مزدوری قانون کے نفاذ کی۔ اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہی حال رہاتو آنے والے دنوں میں یہ تعداد ’لاتعدولاتحصی‘ کے مصداق ہوجائے گا۔ ذرا سوچئے ، کہ سرکار یا سماجی تنظیمیں اس کے لیے کیا کررہی ہیں۔

بچہ مزدوری کے بہت سارے وجوہات ہیں لیکن ان سب وجوہات میں جو سب سے اہم وجہ ہے وہ ہے غریبی۔دنیا کی کئی تنظیموں نے بچہ مزدوری کو انتہائی خطرناک جرم اور ملک کے لیے ایک لعنتقرار دیا ہے۔ بچپن ہی سے مزدوری کے دلدل میں پھنسنے سے بچے کی طبعی، ذہنی، سماجی اور اخلاقی نشوو نما پر اثر پڑتا ہے اور پھر ساری زندگی اسے نقصان ہی ہوتاہے۔  بچہ مزدوری کی وجوہات پر اگر یونیسیف کی رپورٹ پر نظرڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بچوں کا انتخاب اس لئے کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا آسانی سے استحصال کیا جا سکتا ہے۔ بچے اپنی عمر کے مطابق مشکل کام جن وجوہات سے کرتے ہیں، ان میں عام طور پر غربت سب سے پہلے ہے، لیکن اس کے باوجود بڑھتی آبادی،کم اجرت،قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا،والدین کا بچوں کو اسکول بھیجنے میں عدم دلچسپی دکھانا (وہ اپنے بچوں کو اسکول کی بجائے کام پر بھیجنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، تاکہ خاندان کی پرورش ہوسکے) جیسے دیگر وجوہات بھی ہیں، اور اگر کسی خاندان کی پرورش کا واحد ذریعہ بچہ مزدوری ہو تو کوئی کر بھی کیا سکتا ہے۔

ایک اندازےکے مطابق ہندوستان بچہ مزدوری میں اول نمبرپرہے۔تقریباً سیکڑوں ایسے کارخانے اور فیکٹریاں ہیں جو صحت کے لیے مضر اشیا تیارکرتی ہیں وہاں پر بچے مزدوری کرتے ہیں،اس میں جان تک جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ہندوستان میں بچہ مزدور، بیٹری، اینٹ، چوڑی، تالے، ماچس جیسی اشیا بنانے والے کارخانوں میں کام کرنے میں مصروف ہیں اورلاکھوں بچے کوڑوں کے ڈھیر سے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔ مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی سیکڑوں بچے کوڑوں کے ڈھیر میں دووقت کی روٹی تلاش کرتے نظرآتے ہیں۔ان غریب معصوم بچوں کی طرف کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کی توجہ نہیں جاتی۔سیکڑوں غریب خاندانوں کے لئے کوڑے کے ڈھیر سے روزی تلاش کرنے والے یہ غریب معصوم نونہال ایک ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ان غریب معصوم بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی کروڑوں روپے کی اسکیمیں ان بچوں کو منھ چڑارہی ہیں۔ بچوں کو اسکول پہنچانے اور ان کو تعلیم دلانے کے لئے سرکاری کروڑوں روپے پانی کی طرح بہائے جارہے ہیں لیکن نوکر شاہی اور سرکاری محکموں کے افسران تعلیمی مافیاؤں کے ساتھ مل کر یہ روپے ہضم کررہے ہیں۔ سرکار کو فرضی اعدادوشمار اور ترقی کی رپورٹ بھیج کر یہ افسران آنکھیں بندکرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے سیاست کے لئے ہرطرح کے حربے آزمانے والی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران دن رات ان معصوم نونہالوں کو کوڑے کے ڈھیر سے اپنی روزی تلاش کرتے ہرمحلہ، گلی اور شہر کے متعدد مقامات پر دیکھتے ہیں، لیکن سب ان سے منہ پھیرلیتے ہیں۔ عمر کے ہرپڑاؤ میں ہمیں بچپن کی یادیں آتی رہتی ہیں۔ بچپن میں گزارے ہوئے وہ خوشگوار لمحے یاد آتے رہتے ہیں جو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ہم سے ہمارے سارے رنج وغم دور کردیتے ہیں۔ لیکن ضلع میں ایسے بھی ہزاروں بچے بچپن دیکھے بغیرہی بڑے ہوگئے ہیں۔ بھوک مٹانے کے لئے بغیرپڑھے لکھے اندھیروں میںان کا بچپن گم ہورہا۔سرکار کی اسکیمیں بھی ان کے لئے کچھ نہیں کرپارہی ہیں۔

ساتویں پنج سالہ منصوبہ کے تحت14اگست1987ءمیں قومی چائلڈ لیبر پالیسی کو کابینہ سے منظور کیاگیاتھا۔ اس پالیسی کا مقصد بچوں کو بچہ مزدوری سے ہٹا کر ان کی بازآبادکاری کرانی تھی۔ یعنی جن جن ریاستوں اور جن جن علاقوں میں بچہ مزدوری کا رواج عام تھاوہاں وہاں سے اس کوکم کرنا تھا۔

لیکن افسوس صد افسوس کہ سیکڑوں اور ہزاروں بچے اپنا بچپن گزارے بغیر ہی بڑے ہوجاتے ہیں۔ان کا بچپن کوڑے کے ڈھیر میں گم ہوجاتا ہے۔معصوم سی عمر اور پڑھنے لکھنے کھیلنے کودنے کی عمر میں ان کے ننھے ہاتھوں میں اوزار تھمادیئے جاتے ہیں یا ہوٹلوں اور دکانوں پرمزدوری کرنے کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔جس عمر میں ان معصوموں کے ہاتھوں میں کتاب اور جسم پر اسکول یونیفارم ہونی چاہئے اس عمر میں کہیں سبزی کے ٹھیلے پریا چاٹ کے ٹھیلوں پر یہ بچپن گزرجاتا ہے۔ بھلے ہی سرکار ان بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان معصوموں کا درد اور سسکیاں تک جاننے والا کوئی نہیں ہے۔ ملک بھر کی طرح ضلع بھر میں یوم اطفال منایا گیا لیکن اس یوم اطفال میں وہ ہی نہیں تھے جن کے لئے یہ منایا جاتا ہے۔ وہ کہیں کوڑے کے ڈھیر پرتھے تو کہیں دکان،ہوٹلوں اور کارخانوں میں مزدوری کررہے تھے۔ یہ بچے یہ بھی نہیں جانتے کہ یوم اطفال کیوں منایا جاتا ہے اور کس کے لئے منایا جاتا ہے۔

تعلیم کی اہمیت وافادیت سے بھلا کس کو انکار ہے! تعلیم ہی وہ طاقت ہے جس سے اقبال و عروج کی راہیں ہموار کی جاتی ہیں۔ تعلیم کے تئیں یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ حصول تعلیم کے باغ سے ہی حقوق کی بازیابی ، حق گوئی وبے باکی، اولو العزمی وبلندہمتی، ظفریابی وفتح مندی کے خوشنما گلاب کھلتے ہیں، جس ملک و قوم یامعاشرہ میں علم دوست افراد ہوتے ہیں، وہاں کی فضا نغمگی آشنا ہوتی ہے۔  سیکڑوں ایسے اسکول ہیں، جہاں بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہ سچ ہے کہ سرکار نے بچوں کو تعلیم یافتہ اور مہذب بنانےکے ساتھ ساتھ اس کو مارڈرنائز کرنے کے لیے اسکولوں میں کمپیوٹر کا بندوبست کیا ہے۔ اس میں بھی ایک ضلع میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔ لیکن اکثروبیشتر مقامات پر ابھی تک یہ کمپیوٹر دھول چاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں اسکولوں میں بچوں نے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنا تو دور کمپیوٹر کی شکل تک نہیں دیکھی ہے۔ کہیں کمپیوٹر موجود ہے تو سکھانے والے ٹیچر ندارد، کہیں کمپیوٹر خراب پڑے ہیں تو کہیں بجلی نہیں ہے۔ کل ملا کر یوم اطفال کے موقع پر پورے ہندوستان میں صرف خانہ پری ہورہی ہے۔سرکاری اسکولوں کا گرتا ہوا معیار بھی ایک مسئلہ ہے۔ غریب بچے پرائیویٹ اسکولوں میں تو جاسکتے نہیں۔ اکثر ماں باپ یہ کہہ کر اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا لیتے ہیں کہ پڑھائی نہیں ہوتی اور اس سے بہتر ہے کہ وہ کچھ دوسرا کام کریں۔ افسوس ہندوستان میں آج بھی کوئی سخت بچہ مزدوری مخالف قانون نہیں ہے۔ ملکی مسائل ہوں یا سیاسی حالات سب اپنی جگہ ،لیکن بچہ مزدوری قانون کا مخلصانہ نفاذ بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے لیے مثبت پیش رفت ہوناوقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد نوشاد عالم ندویؔ

سینئر سب اڈیٹرروزنامہ انقلاب نئی دہلی

متعلقہ

Close