بڑھتی ہوئی شہرکاری کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

حکیم نازش احتشام اعظمی

اقوام متحدہ کے ایک اندازہ کے مطابق سن 2050 تک دنیا کی آبادی میں کئی ارب کا اضافہ ہو جائے گا اور اس آبادی کا قریب دو تہائی شہروں میں مقیم ہو گا۔ اس لیے شہروں میں انفراسٹرکچر اور خدمات کے شعبوں میں ترقی لانی ہو گی، تاکہ رہائش، پانی، سوریج، روزگار، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے معا ملا ت درست رہیں ۔ کچھ شہروں کی آبادی میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے مضافاتی بستیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے،بلکہ مضافا تی بستیا بھی اب شہروں کا روپ دھار چکی ہیں ۔ افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ میں لاکھوں افراد ایسی ہی بستیوں میں آباد ہیں ، جہاں پینے کے پانی اور ڈیرینج[پانی کی نکاسی ] کے خاطرخواہ انتظامات نہیں ہیں ۔ اگر متذکرہ بالا صورت ِ حال کے تناظر میں ہندوستان کا کا جائزہ لیاجائے تو نتائج ہمارے سامنے آتے ہیں وہ اور بھی زیادہ تشویش ناک،بلکہ بھیانک ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شہر روایتی طور پر زیرزمین پانی یا دریاؤں کا سہارا لیتے ہیں۔

مستقبل میں شہروں کے لیے پائیدار، قابل اعتبار ا و ر مناسب طریقے سے تمام شہریوں تک صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ متعددشہر صاف پانی کی فراہمی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ خبریں تو یہاں تک ہیں کہ ہم ہر امکانی کوشش کے باوجود ایک تہائی شہری باشندوں کو صحت بخش اور صاف پانی فراہم کرانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں شہرکاری میں اضافے کی وجہ سے قلیل وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ غریبوں کے لیے صحت بخش غذا کا حصول ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں شہری زراعت کے ایک پروجیکٹ کی مدد سے مختلف خاندان اپنے لیے خوراک کا حصول خود یقینی بنا رہے ہیں ، جب کہ اضافی اجناس بیچ دی جاتی ہیں ۔ شہر فضائی آلودگی کا اہم منبع ہیں اور کئی شہروں کا تو حال اور بھی برا ہے۔ میکسیکو سٹی ایسے ہی شہروں میں سے ایک ہے، جو ہر وقت دھند میں رہتا ہے۔ رواں سال کے آغاز پر فضائی آلودگی کی حالت یہ تھی کہ حکام کو میکسیکو سٹی کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ جب کہ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں ہی میں رہیں ۔ میکسیکو ہی میں رواں سال کے آغاز پر ’ڈرائیو مت کیجیے‘ نامی ہدایات نافذ کرنے کے بعد شہریوں کو گاڑیاں شہر سے باہر کھڑی کرنی پڑیں ۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ شہر میں درخت لگانے کی مہم اور مختلف اسپتالوں میں دھواں جذب کرنے والی ٹائلیں تک لگانے جیسی کاوشیں کی گئیں ۔

  واضح رہے کہ صحت مند زندگی اور ڈھیروں موذی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے کسی بھی ملک کے رقبے کا 25 فیصد جنگلات کا ہونا لازمی ہے۔ مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ صحت کو برباد اور شہروں کو بیماری کا شہر بنانے کے مشن پر گامزن سارامعاشرہ ہمارے ہاں پیڑ پودے لگانے پر نہیں بلکہ ان کی لکڑی حاصل کرنے کو زیادہ اہمیت دے رہا  ہے، اس لیے ہمارے یہاں جنگلات اپنا وجود کھورہے ہیں اور آہستہ آہستہ ناپید ہو رہے ہیں ۔ غور کرنا چاہئے کہ جن لکڑیوں کا  استعمال  کر کے ہم  اپنے گھروں کی آرائش وزیبائش پر ہم اپنی صحت کا سودا کررہے ہیں وہ آرائش و زیبائش اور ہمارے عالیشان مکانات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ذرا غور فرمائیے!جب ہم ہی نہیں ہوں گے اور ہماری ہوس پرستی کے نتیجے میں شہر کی آب وہوا آلودہ اور انفیکشن سمیت درجنوں بیماریوں کی آماجگا ہ بن جائے گی، اس وقت اس آرائش وزیبائش اور ٹھاٹ کے مزے کون لوٹے گا؟اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں ہے کہ جدید شہرکاری یا اربنائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان سے صرف گاؤں ہی خالی نہیں ہورہے ہیں ، بلکہ شہروں میں انسانی آبا دی سیل ِ رواں کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ گاؤں سے شہروں کی جانب ہجرت کے اس چلن نے گاؤں کو بے رونق اور بستیوں کو ویران بنا نا شروع کردیا ہے۔ وہاں کبھی ہم اپنے گھروں کے ارد گرد ڈھیر ساری سبزیاں اُگاکر کم ازکم ملاوٹی اور کھاد پانی سے پیدا کی گئی زہریلی سبزیوں سے اپنے دستر خوانوں اور اپنی صحت کو محفوظ رکھا کرتے تھے۔ مگر شہروں کی چکاچوندھ سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہم نے اپنے گاؤں کو الوداع کہ دیا اور بغیر کچھ سوچے سمجھے شہروں کا رُخ کیا،  اس سے ہماری صحت پر جو مضراثرات پڑ ے اور جو صحتی مسائل پیدا ہوئے ہیں ، اُمید ہے کہ معزز قارئین مندجہ بالا سائنسی تجزیہ سے ساری باتیں بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔

قابل ذ کر ہے آلودگی سے ماحول اور شہریوں کومحفوظ رکھنے میں جنگلات کا اہم کردار ہوا کرتا ہے۔ کسی زمانے میں یہی جنگلات کروڑوں ایکڑ پر محیط تھے۔ مگر اب صرف لاکھوں ایکڑ تک محدود ہو گئے ہیں ۔ اگر درختوں کی کٹائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہی جنگلات کچھ ہزارایکڑ تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق روس میں 48 فیصد، برازیل میں 58 فیصد، انڈونیشیا میں 47 فیصد، سوئیڈن میں 74 فیصد، اسپین میں 54 فیصد، جاپان میں 67 فیصد، کینیڈا میں 31 فیصد، امریکہ میں 30 فیصد اوروطن عزیز ہندوستان میں 23 فیصد، بھوٹان میں 72 فیصد اور نیپال میں 39 فیصد جنگلات پائے جاتے ہیں ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بالخصوص شہری علاقوں میں پیڑ پودوں کی کٹائی نے فضا کو ایسی چوٹ پہنچائی ہے کہ اس سے بچانے کے کوئی جتن کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کتنے ماحول دوست ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ جنگلوں کی باز آ باد کاری کے لیے ہمارے ملک میں اب جس درخت کو زیادہ اگایا جا رہا ہے وہ کونوکارپس (Conocarpus) ہے۔ یہ یہاں کا ،مقامی درخت نہیں ہے ،بلکہ اس کا تعلق شمالی امریکہ سے ہے، جسے محکمہ جنگلات نے درآمد کیا ہے۔ ہمارے مقامی پیڑ،پودے جن میں نیم، برگد، جامن اور شیشم شامل ہیں، انہیں بالکل نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ جب کہ ہندوستانی فضا میں کونوکارپس کی نسبت ہمارے یہ ملکی پیڑ،پودے زیادہ افادیت رکھتے ہیں۔

تیزی سے ہو رہی شہرکاری اور طرز زندگی میں بے شمار تبدیلی کی وجہ سے با لعموم وطن عزیز جیسے ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کو شدید الرجی اور اسی قبیل کی دوسری بیماریاں درپیش آر ہی ہیں ۔ تحقیق اور مہارت کی کمی کے ساتھ ہی، ترقی پذیر ممالک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحیح میکانزم نہیں رکھتے ہیں ۔ ایسی بیماریوں پر زیادہ توجہ دینے کے مقصد سے چند برس پہلے 6 دسمبر سے 9 دسمبر تک ہندوستان میں پہلی بار الرجی کی بیماریوں پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس میں تقریباً 30 ممالک کے 90 ما ہرینِ ما حولیات نے شرکت کی تھی۔ کانفرنس لیکچر، عوامی فورم، بحث اور بیداری کیمپ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ورلڈ الرجی آرگنائزیشن کی صدر ڈاکٹر روبی پاکربتاتی ہیں کہ الرجی کی خرابی طویل مدتی اورکرونک بیماریوں کا حصہ ہے اور ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔

قصۂ مختصر یہ کہ شہروں میں بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ناقابل برداشت بوجھ اور ہرسو قائم کل کارخانوں کے مسموم دھوئیں، سڑکوں پر فضاء کا سینہ چاک کرکے دندناتی گاڑیوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی انڈسٹریزکے نتیجے میں ماحولیاتی اورصوتی آلو دگی نے انسانی زندگی کے لیے کئی سنگین مسئلے کھڑے کر دیے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ آلودگی ہوا اور پانی میں ہی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن شہری معاشرے میں متعدی اور وبائی بیماریاں حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔ آپ کسی ماہر ماحولیات سے اس بابت پوچھ لیجئے تو وہ آپ کووبائی امراض کے لیے آبی ،ماحولیاتی اور صوتی آلود گی کو ہی راست طور پر ذمہ دار بتا ئے گا۔

میٹروپولیٹن شہرو ں میں فضائی ،صوتی اور آبی آلودگی کی بنیادی وجہ گاڑیوں اور صنعتی مشینوں سے نکلنے والے زہریلے کیمیکل ہیں ۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس کا ایک تفصیلی سروے کرکے عوام کو صحت مند رہنے کے لیے مذکورہ بالا سبھی قسم کی آلودگیوں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہری ماحول میں جو خطرناک گیسیں اور کیمیکلز تباہی پھیلا رہے ہیں ،ان میں سلفر ڈائی آکسائید، کاربن مونوآکسائڈ جیسے زہریلے مادے کلیدی رول ادا کررہے ہیں۔

عالمی ادارہ ٔ صحت نے آبی آلودگی کی واضح الفاظ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’قدرتی یا دیگر ذرائع سے پیدا ناپسندیدہ بیرونی مادہ کی وجہ سے پانی آلودہ ہوتا ہے‘‘ اور وہ انتہائی زہریلے اور معمول کی سطح سے کم آکسیجن کی وجہ سے صحت بخش جراثیم کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے ،جو مہلک بیماریوں کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح پانی کی آلودگی کی وجہ سے جسمانی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات میں بے اعتدالی ہوجاتی ہے ،جو پانی کو مزید مہلک اور نقصان دہ بنانے معاون ثابت ہوتاہے۔  لہذا ہمیں شہر کاری سے پہلے وہاں کی آب وہوا کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے پہلے ہی مؤثر لائحہ عمل مرتب کر نا ہو گا اور اسی سے ہم اپنے شہروں کو صوتی،فضائی اور آبی آلودگی سے پاک رکھ کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔



⋆ حکیم نازش احتشام اعظمی

حکیم نازش احتشام اعظمی
ڈاکٹرنازش اصلاحی ضلع اعظم گڈھ کےعلمی خانوادے سےتعلق رکھتےہیں۔ مدرستہ الاصلاح کےفاضل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کےخوشہ چیں، ہمدرددیونیورسٹی سےبی یو ایم ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ آپ بنیادی طورسےطبیب ہیں تاہم تصنیف وتالیف سےحددرجہ شغف رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کےمصنف ومؤلف ہیں۔ موصوف 'ترجمان اصلاح' اور 'فیملی ہیلتھ' میگزین کےایڈیٹر، صحت سےمتعلق ایک NGO اصلاحی ہیلتھ کیئر کےبانی بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے