ہندوستان

‘بھارت ماتا’ کا نیا ورژن امیتابھ بچن

رنديپ سرجے والا (کانگریس) – ہم مودی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کالا دھن لانے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ جو بھی کالا دھن میں شامل ہوگا، سزا ملے گی. کیا ہماری تفتیشی ایجنسیوں کو غلط پیغام نہیں جاتا ہے کہ ایک آدمی جو منی لانڈرگ میں ملزم ہے وہ مودی حکومت کے دو سال پورے ہونے کے پروگرام کی میزبانی کر رہا ہے. ہو سکتا ہے کہ امیتابھ معصوم ثابت ہو جائیں لیکن وزیر اعظم کیا پیغام دے رہے ہیں.

شاہنواز حسین (بی جے پی) – بگ بی سپر اسٹار ہیں. بھارت کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں. بھارت کے لوگ انہیں راہل گاندھی سے زیادہ محبت کرتے ہیں. کانگریس کو اپنی جلن نہیں دکھانی چاہئے.

کانگریس نے امیتابھ بچن کا نام لیا، جواب میں بی جے پی نے امیتابھ بچن کا نام لیا. بچن صاحب کا بھی ٹویٹ آ گیا کہ میں پروگرام کا میزبان نہیں ہوں. بیٹی بچاؤ کا حصہ ہوں. پل بھر میں چینلز پر امیتابھ بچن کی شہنشاہي ادا والی تصویریں چلنے لگیں. بچن صاحب ویسے ہی پردے پر پرکشش لگتے ہیں. ان کے تئیں لوگوں کا پیار بھی ہے. دیکھتے دیکھتے چینلز کے اداس سکرین میں جان آ گئی، بچن صاحب چلنے لگے. انہیں لے کر بحث ہونے لگی. پاناما پیپرس پر جب ہندوستان کی طرف سے انڈین ایکسپریس مسلسل چھاپ رہا تھا تب یاد کریں کہ کیا کسی چینل نے ایسی سنگین بحث کی تھی. مہم چلائی تھی. رسم ہی مکمل ہوئی ہوگی. اب اسی پاناما پیپرس کو لے کر کانگریس نے نشانہ بنایا تو کانگریس بی جے پی کا کھیل شروع ہو گیا.

درمیان میں تو ایسی بھی خبریں آئیں کہ پاناما پیپرس کی وجہ سے حکومت نے بچن صاحب کو انکریڈبل انڈیا کا برانڈ امبیسڈر نہیں بنایا. تب تو ایسی بحث نہیں ہوئی. تو کیا جان بوجھ کر بچن صاحب کا نام اچھالا گیا تاکہ پھر سے کھوکھلی بحثوں کی پر کشش دنیا رچی جائے. آخر ملک کے حالات سے جوجھ کر شام لوٹے سامعین میں سے کون بچن صاحب کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے سکرین پر نہیں رکے گا. آج کی شام حکومت کے کسی دعوے کے جائزہ پر بحث ہو سکتی تھی مگر اب بچن کے بہانے تمام حکومت کے ساتھ ہوں گے کیونکہ بہت سے لوگ بچن کے ساتھ ہوتے ہی ہیں تبھی تو وہ اتنے بڑے اسٹار ہیں.

پاناما پیپرس میں کتنے لوگوں کے نام آئے. کانگریس نے انہیں لے کر پریس کانفرنس کی رسم ہی پوری کی ہوگی. ملک میں سوکھا پڑا ہے. کسان مر رہے ہیں. پیدل مارچ کر رہے ہیں، یوگیندر یادو اور بھوپال کے بے لوث رضاکار تنظیم جن کی ایک رکن دوپہر میں فون کرکے گڑگڑا رہی تھیں کہ مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ میں کسانوں کی حالت خراب ہے. کیا آپ دو منٹ بھی دکھا دیں گے. میں کہتا رہا کہ میری تو درجہ بندی زیرو ہے. جن کے نمبر ہیں وہاں بات کیجئے تو شاید سب کا دھیان جائے اور کسانوں کی جان بچ جائے. لیکن وہاں تو بچن صاحب کی ادائیگی  سکرین پر تیر رہی ہے. کسان تو وہ بھی ہیں. آخر ہمارا میڈیا خشک سالی کے ان حالات میں سب سے بڑا کسان تلاش ہی لایا. میں کہتا تھا کہ ہندوستان کا میڈیا ہمیشہ عوام کی بات کرتا ہے. امیتابھ بچن کی بات کرتا ہے.

چینل والے ہر شام کے لئے ایک ایسے مسئلے کی تلاش میں رہتے ہیں جو بگڑ چکے ناظرین کی شام میں کشش پیدا کر سکے. کچھ جوش ہو، کچھ مزہ آ جائے. میں خود اس نظام کا حصہ ہوں. میں تبدیل نہیں سکتا تو بتا تو سکتا ہوں کہ ٹی وی میں کیا ہو رہا ہے. کہا تو کہ ٹی وی کم دیکھیں. یہ عوام کا مخالف ہے. ٹی وی والے ہی خود کو صحیح ثابت کئے جا رہے ہیں. آپ  یاد کیجئے کتنے ایسے مسائل آئے، جنہیں لے کر ہم اور آپ بٹتے بٹتے کانگریس بمقابلہ بی جے پی میں بٹ گئے. یہی ہو رہا ہے. ان مسائل کے ذریعہ مسلسل کوشش ہو رہی ہے کہ لوگ عوام نہ رہیں. یا تو کانگریس کے حامی ہوں یا بی جے پی کے حامی ہو جائیں.

امیتابھ بچن اب بڑے سوال ہیں. ملک کے سوال. کبھی اکبر تو کبھی مہارانا پرتاپ، کبھی اشوک تو کبھی ٹیپو، کبھی بھارت ماتا تو کبھی وندے ماترم. کبھی اگستا ویسٹ لینڈ آجاتا ہے تو کبھی للت گیٹ آجاتا ہے. للت مودی نہیں آتا ہے تو وجے مالیا بھاگ جاتا ہے. ایک کے بعد ایک ایسے مسئلے آتے جا رہے ہیں جن میں گہری بحث کی گنجائش ہوتی ہے. ہفتے ہفتے کے وقفے پر ایسے معاملے قومی مسئلہ کے طور پر پیش ہوتے جا رہے ہیں. بچن کی تصویر دوڑ رہی ہے. اندرا گاندھی کے ساتھ کی تصویر تو کبھی راجیو گاندھی کے ساتھ تصویر. بچن صاحب کے ایک طرف وزیر اعظم مودی ہیں دوسری طرف سونیا گاندھی ہیں. چینلز کو دیکھئے، تکرار سے ایسی توانائی پیدا ہوئی ہے کہ اینكروں کی باڈی لینگویز بدل گئی ہے. امیتابھ بچن کا یہ مسئلہ بھارت ماتا کا نیا ورژن ہے. اب وہ قوم پرستی کی جگہ لینے جا رہے ہیں.

آپ جانتے ہیں کہ اس ہفتہ انڈیا گیٹ کے پاس مودی حکومت کے دو سال پورے ہونے پر ایک جلسہ ہو رہا ہے. پانچ گھنٹے تک چلنے والے اس پروگرام میں حکومت کی پالیسیوں کی کامیابیوں اور اس سے متاثر لوگوں کی کہانی کا مظاہرہ  ہوگا. شام پانچ سے دس بجے کے درمیان کے اس پروگرام کے جواز کو لے کر کہیں بحث کی ضرورت نہیں سمجھی گئی. ملک کی تیس کروڑ عوام خشک سالی سے متاثر ہے اور مہاراشٹر میں کسانوں کی خود کشی کی خبریں آ ہی رہی ہیں، ایسے میں پانچ گھنٹے کے سرکاری پروگرام کو لے کر سوال نہیں بنتے ہیں، ایسا تو ہو نہیں سکتا. کیا کسی حکومت کے پاس واقعی اتنا وقت ہے کہ وہ پانچ گھنٹے کا پروگرام کرے. ہفتے بھر سے تمام وزیر چینلوں اور اخبارات کو انٹرویو دے رہے ہیں. اپنے ٹوئٹر  ہینڈل سے تمام اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں. تمام اخباروں میں حکومت کے کام کا مکمل تجزیہ ہو رہا ہے. کون سی ایسی بات ہے جو اتنے سارے مضامین اور انٹرویو سے نہیں پہنچی جو پانچ گھنٹے کے پروگرام دہلی سے لے کر دوسرے دارالحکومتوں میں الگ الگ کرنے کی ضرورت پڑی ہے، جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلی تک اپنا قیمتی وقت دیں گے.

کیا کوئی چینل اس پر بھی بحث کریں گے کہ حکومت ہند کے پاس پانچ گھنٹے کے پروگرام کے لئے وقت کہاں سے آیا. کس کی قیمت پر ہو رہا ہے یہ سب اور اس کی قیمت کیا ہے. کیا اس رقم کو کسانوں میں بٹوا کر ہم حکومت کے لئے تالی نہیں بجا سکتے تھے. کہیں ہم پردہ تو نہیں ڈال رہے ہیں. ارے ہاں پردے پر سپر اسٹار جو آ گیا ہے. جما چما دے دے …. جما چما دے دے جما …. جمے کے دن کیا چمے کا وعدہ … لے آ گیا رے پھر جما جما …. میں بھی یہی سنوں گا. آپ بھی بچن صاحب کو دیکھئے. ان کی توہین نہیں برداشت گا ہندوستان!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close