ہندوستان

بھوپال سے دہلی: سنو کہ دھرتی اجاڑنے والے مجرموں کا حساب ہو گا

ڈاکٹر سلیم خان

بھوپال انکاونٹر اس قدر بھونڈے انداز میں کیا گیا کہ پہلے تو سوشل میڈیا پر وہ جھوٹ کھلا اور پھر اس کے الٹرانک میڈیا سمیت پرنٹ میڈیا میں بھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا اور اب سے یہ خبر بھی آگئی کہ جیل کی حفاظت کرنے والے نصف اہلکار وزراء اور افسران کی خدمت میں تعینات ہیں ۔ بھوپال انکاونٹر اپنی تمام تر بہیمیت کے باوجود ساری دنیا میں ملک و قوم کی جگ ہنسائی کا سامان بنا ہوا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے حیرت سے سوال کیاکہ  کسی خطرناک جیل میں  قیدی  رکابی سےچوکیدار کو  کیسے قتل کرسکتے ہیں ؟ 32 فٹ اونچی دیوار کو چادر کی مدد سے پھلانگ کر قیدی دو بیگ سمیت کیسے فرار ہوسکتے ہیں  ؟ جیل سے نکلتے ہی قیدیوں کو اسلحہ ، جوتے اور کپڑے کیسے فراہم ہوجاتے ہیں؟ وہ  ایک گنجان آبادی والے شہر میں بہ آسانی  روپوش ہونے کے بجائے ویران جنگل کا رخ کرنے کیوں کرتے ہیں؟ اور ایک دوسرے کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑتے؟ بی بی سی پریشان  ہے کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں  لوہے کے تالوں کو لکڑی کی چابی سے کیسے کھولا جاسکتا ہے؟ دروازوں  کے نقلی چابی سے کھلنے پر الارم نہیں بجتا؟رات کے دوبجے چوکیدار کی ڈیوٹی بدلتی ہے؟نگرانی کرنےوالےکیمرے اچانک بند ہوجاتے ہیں ؟ انکاونٹر کی ویڈیو میں ظالموں اور مظلوموں کے جوتے تو ایک جیسے نظر آتے ہیں  مگر ان کا انجام یکساں نہیں  ہوگا اس لئے کہ   بقول شاعر ؎

اک روز یہ منظر بدلے گا، یہ دورِ خزاں مٹ جائے گا                        اک دن یہ نظامِ ظلم و ستم خود ظالم کو رُلوائے گا

سیاسی منظرنامہ کی یکایک  تبدیلی دیکھیں کہ بی جے پی اس ظلم کو اپنے حق میں بھنوا کر سیاسی روٹیاں سینکنے  سے فارغ بھی نہیں ہوئی تھی کہ دہلی میں ایک سبکدوش فوجی  رام کشن نے خودکشی کرکےزعفرانیوں کی دیش بھکتی کو بے نقاب کرکے فوجیوں کے ساتھ دیوالی کی مٹھائی کھانے والے پاکھنڈی وزیراعظم کے چہرےکا مکھوٹا نوچ کر پھینک دیا ۔ سابق صوبیدار رام کشن گریوال کی خودکشی سے اوروپ پر عملدرآمد کے کھوکھلے دعویٰ کی قلعی کھل گئی۔  دادری جاکر ایک قتل کے ملزم کی ارتھی  کو ترنگے میں لپیٹنے  والے مرکزی وزیر کو توفیق نہیں ہوئی کہ دہلی میں رام کشن کے پسماندگان کی تعزیت کرےبلکہ ان سفاکوں نے تو وہاں جانے والوں  راہل گاندھی، مہیش سسودیہ اور اروند کیجریوال تک کو حراست میں لے لیا ۔ مرحوم کے اہل خانہ کو گرفتار کرکے مارپیٹ اور گالم گلوچ کی گئی ۔ کیا ایسےنازک موقعہ پر ایک سابق فوجی کے اہل خانہ کے ساتھ یہ سلوک دیش بھکتی ہے؟

ایک ایسے وقت میں جبکہ  فسطائی حکومت اپنی دیش بھکتی کا ڈھول پیٹ رہی تھی یہ واقعہ  ان پر عذاب کا کوڑا بن کر برس پڑا۔ مشیت کی ایک چال نے  ان کے  مکرو فریب کاجال تار تار کردیا ۔ ساری دنیا کو پتہ چل گیا کہ سرجیکل اسٹرائیک کی سیاست کرنے والوں نے اس کے اگلے ہی دن فوجیوں کو معذوری پر ملنے والی پنشن میں بھاری کٹوتی کردی ۔سول سروس کے مقابلہ ان کا عہدہ گھٹا دیا۔اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئےاپنی جان دینے والےفوجی کے غمگین پسماندگان کے زخموں پر پہلے تو وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ کہہ کر  نمک چھڑکا کہ  جو ضروری تھا پولس نے وہی کیااور پھر نائب وزیر خارجہ اور سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ نے فیس بک پر اپنے تاثرات لکھ کر انسانی ہمدردی  کی ساری حدود قیود کو ایک ایک کرکے ایسے پامال کیا کہ فوج سمیت سارے شہریوں کا سر شرم سے جھک گیا۔ وی کے سنگھ نے جو کچھ لکھا اس کا بھوپال انکاونٹر سے موازنہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔

بھوپال کے معاملے میں بی جے پی رہنماوں کو شکایت ہے کہ ہر معاملے پر سوالات نہیں اٹھائے جانے چاہئیں۔انکاونٹر کی تفتیش کا مطالبہ نامعقول ہے لیکن وہ رام کشن گریوال کی خودکشی کی تحقیقات کرنے کے حق میں  ہے ۔ موت سے قبل رام کشن نے اپنے بیٹے جسونت سے فون پر بات کی جس کی ریکارڈنگ موجود ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میں  جواہر بھون (یعنی وزارت دفاع کے دفتر )میں ہوں اور میں  نے زہر کھالیا ہے۔ میں اپنے جوانوں اور دیش کیلئے بلیدان دے رہا ہوں  ۔ جوانوں کےساتھ انصاف نہیں ہورہا ہےجو افسوسناک ہے۔ اس واضح بیان کے بعد شکوک وتحقیق کیا معنیٰ؟ وی کے سنگھ نے گھڑیالی آنسو کے بعد لکھا  90 فیصد خودکشی کے پس پشت نفسیاتی عوامل  ہوتےہیں  جسے ڈپریشن کہتے ہیں۔ یہ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس طرح وی کے سنگھ نے رام کشن کی دماغی حالت کو مشکوک بنا دیا حالانکہ اس شخص کو ایک مرتبہ فوجی جنرل کے ہاتھوں اور دو مرتبہ صدر مملکت کے دست مبارک سے تمغۂ امتیاز مل چکا ہے ۔ ان میں سے ایک فوج کی ملازمت کے دوران اور دوسراسبکدوش ہونے کے بعد بہترین سرپنچ کا انعام ہے۔

غورطلب امر یہ ہے کہ کس کی فریب کارینے رام کشن کوخودکشی پر مجبور کیا ؟  لیکن وی کے سنگھ اس سوال سے راہِ فرار اختیار کرکے یہپتہ لگانا چاہتے ہیں کہ ان کی نفسیاتی کمزوری کا فائدہ اٹھا کرکس نے انہیں خودکشی کیلئےآمادہ کیا یا اکسایا ؟ یہی سوال تو انکاونٹر کرنے والے پولس والوں کے متعلق بھی کیا جاسکتا ہے کہ آخر کس نے انہیں گرفتار کرنے کے بجائے گولی چلانے پر آمادہ کیا اور اس کا حکم دیا؟  وی کے سنگھ اپنے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں اس کا جواب نفسیات میں نہیں بلکہ سیاست میں پوشیدہ ہے۔ انکاونٹر پر سیاست سے پرہیز کا درس دینے والے اور خود کشی پر سیاست کرنے والوں کا یہ دوغلا رویہ حیرت انگیز ہے۔ وی کے سنگھ کو معلوم کرنا چاہئے کہ وہ کون سی شیطانی نفسیات ہے جو معصوموں کے خون کی ہولی کھیل کر اس پر خوشیاں مناتی ہے۔

وی کے سنگھ نے اپنی دلچسپ تحریر میں لکھا  ہےکہ ’’ہمارے دیش کی سیاست کچھ سیاسی گِدھوں کو راس آرہی ہے‘‘ اس جملے کا اطلاق  رام کشن کی خودکشی پر نہیں بلکہ سیدھے سیدھے  بھوپال انکاونٹر پر ہوتا ہے جہاں نام نہاد دیش بھکت لاشوں کا بیوپار کر رہے ہیں۔  وی کے سنگھ کو سرکار پر الزام تراشی کا ملال تو ہے لیکن اس  سرکاری دہشت گردی پر افسوس نہیں کہ جس میں ایسے ان نوجوانوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے جن پر ہنوزکوئی الزام ثابت نہیں ہوا ۔ سنگھ کے مطابق تفتیش کو گمراہ کیا جاتا ہے تو کیا وزیراعلیٰ چوہان کاا نکاونٹر کے بجائے فرار کی تحقیق پر اصرار گمرہی نہیں ہے؟ بی جے پی تحقیق سے اس لئے خوفزدہ ہے کہ  اس قدرواضح  ویڈیوز تحقیق کے بجائے ظالموں  کو کیفرِ کردارتک پہنچانے کاتقاضہ کرتے  ہیں ۔   کاش کہ اوچھی سیاست  سے پرہیز کی تلقین کرنے والے وزیر مملک وی کے سنگھ کو بھوپال جیل میں  مرنے والے حوالدار رما شنکر یادو کےگھر پر سستی شہرت کا  کھلواڑ بھی نظر آجاتا۔

بھوپال انکاونٹر میں ۸ نہیں بلکہ ۹ لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا ۔حوالداررماشنکر یادو اس قتل عام   کا پہلا شکار تھا دیگر ۸ بے قصور مسلم نوجوانوں کے وکیل تہورخان کا دعویٰ  ہے کہ وہ عنقریب   رہا ہونے والے تھے  ۔تہور خان انکاونٹر کے خلاف عدالت سے انصاف کی گہار لگاکرقاتلوں کو سز ا دلانے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو نے نے انکاونٹر میں ملوث لوگوں کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔حولدار ما شنکریادو کی عمر ۵۸ سال تھی اور وہ دل کا مریض تھا اس کے باوجود اس کو رات کی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا ۔ رماشنکر کے بڑے بیٹے پربھوشنکر نے الزام لگایا کہ جیل کی ڈیوٹی پیسے لے کر لگائی جاتی ہے ۔مریض ہونے کے باوجودان کے والد کو باربار رات کی ڈیوٹی دی جاتی تھی جس کی وہ  شکایت بھی کرچکے تھے۔ ایک ماہ بعد چھوٹی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف حوالدارپر کسی  کو رحم نہیں آیا جو  بلی چڑھا دیا ۔ اب وزیراعلیٰ ان کے گھر جاکر ٹی وی کیمرے کے آگےدکھاوے کےٹسوےبہا رہے ہیں ۔رماشنکر کے گھر والوں کوانعام و اکرام سے نوازہ جارہا ہے مگر  رام کشن کے پسماندگان کو یکسرنظرانداز کردیا گیا ہے۔

بھوپال جیسے انکاونٹر کانگریس کے زمانے میں بھی ہوتے رہے ہیں ۔ اس  کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کا  پولس فورس پر مکمل تسلط ہے ۔   جامعہ انکاونٹر  کی طرح بھوپال میں بھی پولس کا استعمال  قاتل اور مقتول دونوں حیثیتوں سے ہوا ہے ۔ اردو کے ایک مشہور شاعر آنند نرائن ملا  نےجو الہ باد ہائی کورٹ میں جج بھی تھے  اپنے ایک تاریخی فیصلے میں لکھا تھا  ’’ ملک  میں کوئی ایک بھی  غیر قانونی گروہ ایسا نہیں جس کے جرائم کا ریکارڈ انڈین پولس فورس نامی  منظم اکائی کے قریب تک پھٹکتا ہو۔۔۔۔اترپردیش کی پولس فورس  مجرموں کا ایک منظم گروہ ہے ‘‘۔ آنند نرائن نے نصف صدی قبل جو بات اترپردیش کی پولس کی بابت کہی تھی وہ آج  ملک بھر میں  لاگو ہوتی ہے ۔

آنند نرائن ملا کے اس تبصرے سے مقننہ اور انتظامیہ میں بھونچال آگیا تھا مگر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہاتھا’’جہاں تک اس شکایت کاسوال ہے کہ یہ تبصرہ بہت عمومی نوعیت کاہے،  اس کے پس پشت یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ یہ برائی اسی قدر عام نہیں ہے۔  ان دونوں کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ  تبصرے کی بہ نسبت برائی زیادہ پھیلی ہوئی اور عام ہے۔‘‘ آنند نرائن ملا کے دلیرانہ موقف کی روشنی میں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پولس جن  سیاستدانوں کی خوشنودی کے حصول کیلئے یاجن کے اشارے پر جرائم کا ارتکاب کرتی ہے وہی اس گروہ کے حقیقی سرغنہ ہیں ۔ بھوپال انکاونٹر کا موازنہ ہر انصاف پسند مبصر نے سہراب الدین ، پرجاپتی اور عشرت جہاں  انکاونٹرسے کیاجس کے کرتا دھرتا امیت شاہ  اور مودی جی ہیں۔ عوام  کے ووٹ لے کر اقتدار پر قابض ہونےکے بعدان سیاستدانوں کا ظالمانہ سلوک   خود آنند نرائن ملا اس شعرکی مصداق  ہے؎

اب بن کے فلک زاد دکھاتے ہیں ہمیں آنکھ                           ذرے وہی کل جن کو اچھالا تھا ہمیں نے

عدالتوں نے مسلسل اس جانب توجہ دہانی کا کام کیا ہے۔  ۱۹۸۰؁ میں ایک عدالتی فیصلے کے اندر جسٹس کرشنا ائیر اور پریم شنکر شکلا نے کہا تھا  کہ ’’ اگر آج ایک فرد کی آزادی کسی ایک مقام پر پولس کی زیادتی کی زد میں آتی ہے تو کل کسی اور مقام پر کئی لوگوں کی آزادی سلب ہوجائیگی اور کوئی اف تک نہیں کرے گا الاّ یہ کہ عدالت بروقت بیدار ہو اور پولس کی نگرانی کرے اس سے پہلے بہت دیر ہوجائے‘‘۔ جسٹس ائیر نےتو صرف عوامی بے حسی کا ذکر کیا تھا کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہیں گے لیکن اب معاملہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ نام نہاد دیش بھکت اس طرح کے ظلم جبر پر علی الاعلان بغلیں بجاتے ہیں ۔  اس فیصلے میں درج ’پولس کی پولسنگ ‘ضرب المثل تو بن گئی مگرافسوس کہ  اس جانب کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ۔ یہاں تک کہ     ۱۹۹۱؁ کے اندر نڈیاد میں پولس نے چیف جوڈیشیل افسر کو گرفتار کرکے زدو کوب کیا۔ اس مقدمہ کے فیصلے میںتسلیم کیا گیا  کہ ’’ امن و امان کی بحالی میں پولس افسران اور فورس کی زیادتی کے خلاف تنقیدی عدالتی  مشاہدات  بے اثر ہوتے جارہے ہیں‘‘۔

جسٹس فیضان الدین نے ۱۹۹۵؁ میں ایک فیصلے میں رقمطراز ہیں  ’’یہ سب جانتے ہیں کہ فی الحال انتظامیہ ایک نہایت عملی دور سے گذررہا ہے۔ خاص طور پر پولس کا محکمہ  ویسا  مؤثر نہیں ہے جیسا کہ ہونا چاہئے‘‘۔  انہوں نے خبردار کیا تھا کہ’’اگر عملی اصلاحی اقدامات فوراً نہیں کئے گئے توپورےمہذب  سماج کا نظم و نسق خطرے میں پڑجائے گا۔ عوام میں  اگریہ تاثر عام ہوجائے  کہ پولس سماج کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ اپنے مفاد میں کام کرتی ہےتووہ بہت ہی افسوسناک دن ہوگا ۔  اس تاثر کے عام ہونے کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ ‘‘ فیصلے میں آگےیہ بھی کہا گیا کہ ’’ہر صبح اخبارات میں پولس کے ذریعہ حراست کے اندر عصمت دری ،موت ، اغواء، جعلی انکاونٹر اور دیگر جرائم کی مثالیں پڑھ کر غصہ بھی آتا ہے اور مایوسی بھی ہوتی ہے‘‘۔

ہمارے ملک میں پولس محکمہ کے حقوق اور ذمہ داریاں  اب بھی انگریزوں کے ترتیب دیئے گئے پولس ایکٹ ۱۸۶۱؁ کے مطابق ہیں ۔ اس سلسلے میں دس سال قبلسپریم کورٹ نے پولس فورس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کیلئے اور اس کی کارکردگی  میں بہتری لانے کیلئے جو  ہدایات دی تھیں وہاب بھی نافذالعمل ہونے کی منتظر ہیں ۔  اس فیصلے میں نامور اور آزاد ارکان پرمشتمل  ایک صوبائی امن و سلامتی کے کمیشن کی تجویز پیش کی گئی تھی جس میں حزب اختلاف کا رہنما بھی شامل ہو۔کمیشن  کی ذمہ داری پولس کی کام کاج  کی نگرانی اور جائزہ تھی ۔ اسی کے ساتھ پولس فورس کی رہنمائی اورپولس افسران کے کیرئیر کو وزیر کے بجائے اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں  ریاستی حکومت دباو سے محفوظ کرنےکاکام بھی اس کے سپرد کیا گیا  تھا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس کمیشن کا سربراہ وسیع النظر ،زیرک اور تجربہ کار دانشور ہو جو آزادانہ فیصلے کرے  اور جس کا تعلق پولس کے محکمہ سے نہ ہو۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے اندراس طرح کے انکاونٹرس پر قابو پانے میں اس  فیصلے پر عملدآمد بڑی حدتک کارآمد ہوسکتاہے لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ ہمارے حکمراں اپنے اختیارات میں کمی برداشت کرکے مفادِ عامہ میں اس پر راضی ہوجائیں ۔

شیوراج چوہان اس سے قبل دو مرتبہ انتخاب جیت چکے ہیں ۔ اس وقت ان کی مقبولیت اتنی زیادہ تھے کی انہیں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کی ضرورت پیش نہیں آئی  لیکن  طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے سبب ان کے تئیں عوامی  مایوسی فطری  ہے ۔ اسی کے ساتھ ویاپم گھوٹالے نے انہیں خوب بدنام کیا ہے۔ اس بدعنوانی کی بدنامی سے بچنے کیلئے انہوں نے کئی سماجی کارکنا ن اور صحافیوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتروایا ۔  اس رویہ  نے انہیں ایک خونخوار سیاستداں بنا دیا ہے۔ اب بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد قراردے کر ان کے خلاف سفاکی کا مظاہرہ کرکے وہ  اپنے بدظن ہندو رائے دہندگان کی خوشنودی کا سامان  کررہے ہیں ۔

شیوراج چوہان کو یہ خوش فہمی ہوسکتی ہے  کہ اس طرح کی  سفاکی انہیں اپنی  جماعت میں مودی ثانی بنادے گی اور اگر کسی سبب سے مودی جی کی درمیان ہی میں چھٹی ہوجائے تو ان کے بھاگ کھل جائیں گے لیکن  سیاست کی دنیا میں سب کچھ توقع کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ دیکھتے دیکھتے بازی الٹ جاتی ہے۔  چین سے شکست کے باوجود کانگریس اقتدار سے محروم نہیں ہوئی مگر پاکستان کو توڑ کربنگلہ دیش کے بنا دینے کے باوجود ایمرجنسی لگانے کی حماقت نے اندراجی الیکشن میں شکست سے دوچار کردیا۔ گولڈن ٹمپل پر چڑھائی کی قیمت انہیں جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔  رام رتھ یاترا نکال کر وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والے اڈوانی جی فی الحال  سیاسی حاشیہ پر بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں اور گجرات فساد کا سوتر دھار وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر آئےدن  ہاتھ آنے والی ذلت و رسوا ئی کے  ذریعہ   اپنے قرارواقعی انجام کی جانب رواں دواں  ہے ۔ شیوراج سنگھ چوہان جیسے  چیونٹی صفت ظالموں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ؎

کٹا ہے جب بھی شہیدانِ معرفت کا گلا           مِٹی ہے قیصر و افراسیاب کی تاریخ
لہو میں ڈوب چکا ہے قلم مورخ کا                   لکھے گا وقت پھر اک انقلاب کی تاریخ

خود اپنی آگ میں اہلِ فساد جلتے ہیں               اجل جب آتی ہے چیونٹی کے پر نکلتے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close