ہندوستان

بھٹہ مزدور : جبری مشقت، پیشگی اور چائلڈ لیبر کی منہ بولتی تصویر

ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم فضول رسم و رواج کو چھوڑ کر غربت کی چکی میں پسنے والے عوام کو بھی دو وقت کی روٹی کے لیے اناج فراہم کریں۔

پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے

دن بھر کی مشقت سے  بدن  ٹوٹ  رہا  ہے

 وطن عزیز میں اس وقت تقریباً 18؍20 ہزار اینٹوں کے بھٹے موجود ھیں۔ جہاں سالانہ تقریباً 35/45 ارب اینٹیں تیار ھوتی ھیں۔ جہاں ایک محطاط اندازے کے مطابق تقریباً 40/45 لاکھ بھٹہ مزدور کام کر رہے ہیں۔ جن میں مرد ، خواتین ، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ بھٹہ مزدوروں سے جس انداز میں مشقت لی جاتی ہے اور اس سلسلہ میں بسا اوقات جو تکلیف اور اذیت رساں طریق کار اختیار کیا جاتا ہے اس کے بارے میں گاہے بگاہے ایسی تفصیلات بھی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں جنہیں پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہیں جسمانی اذیت رسانی مزدور خواتین سے ناروا سلوک سے بھی بڑھ چڑھ کر بد طریقہ پیشگی کا ہے۔ جو مزدور اپنی گزر بسر کرنے کے لئے بھٹہ مالکان سے لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ اجرت بہت کم ملتی ہے اس لیے ان کے معاوضے کا 50 فیصد کٹوتی کی نذر ہو جاتا ہے اور یوں پیشگی لینے کی ضرورت روز افزوں ہوتی جاتی ہے اور بھٹہ مزدور ہر گذرتے ہوئے دن کے ساتھ جبری مشقت کی سخت تر زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں اور کوئی مزدور اگر اس حالت میں دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو پیشگی قرض اس کے خاندان کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس طرح ان کی حیثیت یر غمالیوں کی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مزدوروں کو اجتماعی طور پر دوسرے مالکان کو فروخت کر دینے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

مزدور دن رات محنت مشقت کرتے ہیں۔ ستاروں کی روشنی میں کام پر جانا او ستاروں کی روشنی میں واپس لوٹنا اتنی محنت کے باوجود بھی یہ مزدور زندگی کی ابتدائی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ مجبور اور بے بس انسان اپنی زندگیاں زہریلا دھواں اگلنے والی چمنیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ دوسروں کو عالی شان بنگلوں، کوٹھیوں اور محلوں کے لیے اینٹیں بنا کر دیتے ہیں اور خود بے گھر ہیں۔ ان کے پاس سر چپھانے کے لیے جگہ تک نہیں اور اس پر بھی ظلم کی انتہا کہ مالکان بھٹہ ان مزدوروں سے غلاموں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں۔ جس کی مثال نہیں ملتی۔ جہالت اور ناخواندگی کی وجہ سے ملازمت کے دروازے ان کے لے بند ہوتے ہیں۔ لیکن نہ ہی سیاسی اقتدار حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی سماجی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے پیدا ہونے ولا بچہ مقروض ہوتا ہے۔ سخت سردی، موسم گرما کی تپش کے علاوہ زہریلی مئی ناخوشگوار آب و ہوا میں کام کرنے والے ان زرد پیلے چہروں اور چلتی پھرتی لاشوں اور وہ بھی زندہ لاشوں کا اگر معائنہ کروایا جائے تو اٹھانوے فیصد مزدور متعدد بیماریوں میں مبتلا پائے جائیں گے۔

اکثر بھٹوں پر چائیلڈ لیبر بھی کروائی جاتی ھے۔ حالانکہ 14سال سے کم بچوں سے مشقت کروانا قانوناً جرم ھے۔2016 میں چائیلڈ لیبر آرڈینینس پاس کیا گیا۔ جسمیں بھٹہ مزدوروں کے  بچوں کی جبری مشقت کے خاتمہ کے علاوہ انھیں مفت تعلیم دینے کے حوالے سے اقدامات کیئے گیئے۔لیکن بعد ازاں وہ صرف کاغذی کاروائی تک محدود رھے۔

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا  دو

کاخ  امراء  کے  در   و   دیوار   ہلا   دو

مزدورں سے متعلق قوانین میں 

* فیکٹریز ایکٹ 1934

* پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010

* معاوضہ جات کا قانون 1923

* تنخواہوں کی ادائیگی کا ایکٹ 1936

* کم از کم اجرت آرڈینینس 1961

* ایمپلایز سوشل سیکیورٹی آرڈینینس 1955

* ایمپلایز اولڈ ایج بینیفٹ ایکٹ 1916 موجود ھیں۔

بھٹہ مزدورں کی حکومت نے کم از کم اجرت 1110روپے مقرر کی ھوئی ھے۔ لیکن انھیں 600/800روپے ملتے ھیں اور کہیں اس سے بھی کم اجرت دی جاتی ھے۔ فی ہزار اینٹ بھرائی کاریٹ 337روپے مقرر ھے لیکن انھیں 170 روپے ملتے ھیں۔جبکہ نکاسی کی مد میں 261 روپے فی ہزار مقرر ھے لیکن انھیں 90/110کے درمان ملتے ھیں۔یہاں یہ ام قابل ذکر ھےکہ ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی برائے بانڈڈ لیبر ،محکمہ لیبر،محکمہ سوشل سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ ادارے سب اچھا کی رپورٹ کر رھے ھیں۔

دست صنعت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی

اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ

بندہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اگرچہ بے شمار قوانین وضع کئے گئے اور بسا اوقات ان میں حسب ضرورت ترامیم بھی ہوئیں۔ بالخصوص ہمارے مذہب نے مزدور کے حقوق سے متعلق بڑی وضاحت اور سختی سے احکام جاری کئے ہیں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ کبھی تو مزدور کے حقوق کے لئے نعرے لگاتے ہیں۔ لیکن جوں ہی حکومت دارالحکومت میں داخل ہوتی ہے سب کے سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور مزدور طبقہ ایک مرتبہ پھر دکھ بھری کہانی کا عنوان بن جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور غریب طبقہ ملک کی اکثریت پر مشتمل ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی اسی طبقہ کی مرہون منت ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا محنت کش طبقہ کی ملکی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی حکومت اس وقت تک اقتدار کو استحکام نہیں دے سکتی جب تک وہ محنت کشوں کو بہبود بہتری، بھلائی اور ترقی کے لیے دور رس نتائج کے حامل اقدامات نہ کرے۔ ویسے بھی بنیادی حقوق کا اخلاقی اور قانونی تقاضہ ہے کہ محنت کش کو اس کی محنت کا معاوضہ اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں  تلخ  بہت  بندہ  مزدور  کے  اوقات

ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم فضول رسم و رواج کو چھوڑ کر غربت کی چکی میں پسنے والے عوام کو بھی دو وقت کی روٹی کے لیے اناج فراہم کریں۔ تا کہ اس سے ان کو بھی ایک دن کی ہی سہی خوشی ضرور مل جائے۔ ارباب اختیار نے جہاں چند فضول رسموں کو ختم کیا ہے وہاں پر انہیں چاہیے کہ وہ غریب و نادار طبقہ کیلئے بیروز گاری الاؤنس دیں اور پڑھے لکھے نوجوان طبقہ جو کہ سفارش اور پرچی حاصل کرنے سے قاصر ہیں کو میرٹ پر روزگار فراہم کریں تا کہ یہ سال واقعی محنت کش و غریب طبقہ کیلئے خوشیوں بھرا سال بن جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close