ہندوستان

بہار میں نتیش کمار کی آزمائش

حفیظ نعمانی

                بہار میں اپریل سے شراب بند ہے، خبر آئی کہ زہریلی شراب پینے سے 16آدمیوں کی موت ہوگئی، حزب مخالف بی جے پی لیڈروں نے مطالبہ کردیا کہ نتیش کمار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، وہ شراب بندی میں ناکام ہوگئے، یہ ان کی نہیں ہر مخالف لیڈر کی عادت ہے، دکھ اس بات سے ہوا کہ ٹی وی چینل کے وہ منجھے ہوئے نیوز ریڈر اس پر تبصرہ کریں اور بجائے نتیش کو سہارا دینے کے یہ کہیں کہ انھوں نے تیاری کے بغیر بہار میں شراب بندی کردی، اور یہ نہیں بتائیں کہ تیاری میں کیا کرنا چاہیے تھا؟

                نتیش کمار نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ سے کہا تھا کہ جو اضلاع بہار سے مل رہے ہیں ان میں پانچ پانچ کلو میٹر کے اندر اگر آپ شراب کی دوکانیں نہ دیں تو ہمیں اپنے پروگرام میں مدد مل جائے گی، اب یہ اتر پردیش کی حکومت کی اپنی مصلحت ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرے؟ ہم نے شراب بندی کے اعلان کے بعد لکھا تھا کہ اترپردیش کے اضلاع اڑیسہ، بنگال اور نیپال کی سرحدیں بہار سے ملی ہوئی ہیں اور نیپال میں تو چائے سے زیادہ شراب پی جاتی ہے، لیکن یہ نتیش کمار کے اختیار کی بات نہیں تھی کہ وہ دیوار چین کھڑی کردیتے۔

                انھوں نے پولیس کے افسروں اور جوانوں کو حلف دلایا تھا کہ ہم نہ خود شراپ پئیں گے اور نہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ رعایت کریں گے، لیکن اپنے ملک میں حلف کی جو حیثیت ہے وہ سب کو معلوم ہے، لیکن آدمی وہی تو کرسکتا ہے جو اس کے دائرے میں ہے، گجرات میں آزادی کے بعد سے شراب بندی ہے اور مشہور ہے کہ سب سے اچھی، سب سے سستی اور سب سے زیادہ گجرات میں شراب ملتی ہے، لیکن اب وہ زندہ نہیں ہیں اور نہ اب ان کی حکومت ہے جنھوں نے اس پر پابندی لگائی تھی، اس لیے وہ ہورہا ہے جو کہیں نہیں ہورہا۔

                 1977میں مرار جی دیسائی نے وزیر اعظم بنتے ہی شراب بند کی تھی، مگر اس میں نہ جانے کتنے ’’مگر‘‘لگے ہوئے تھے، جیسے غیر ملکی لوگوں کے لیے پابندی نہیں ہے یا چلتی ٹرین اور ہوائی جہاز میں شراب کی اجازت ہے، یا فوج کے جو جوان اس سرحد پر ہیں جہاں ہر وقت برف رہتی ہے، وہ پی سکتے ہیں، یا جن کو ڈاکٹر اجازت دیں کہ اگر وہ شراب نہیں پئیں گے تو مر جائیں گے اور بعد میں انھوں نے اپنے ساتھی وزیروں کی یہ رائے مان لی کہ پہلے آدھے ہندوستان میں بند کی جائے اس کے بعد پورے میں، اور اس میں بھی ایک ترمیم اور لگادی کہ ہر صوبہ کے آدھے اضلاع میں پہلے اور آدھے میں بعد میں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بند ہونے کے باوجود وہ بند نہیں ہوئی۔

                ہم سب کو یہ دیکھنا چاہیے کہ نتیش کمار کی نیت اچھی ہے یا نہیں ؟اگر اچھی ہے تو ان کی مدد کرنا چاہیے، پورے ملک میں پولیس کا جو کردار ہے وہ سب کے سامنے ہے، اگر کوئی لال بتی کی گاڑی میں شراب کی بوتلیں لے کر آرہا ہے تو کون پولیس والا ہے جو اسے سلوٹ نہ کرے اور کون ہے جو اسے روک کر تلاشی لے؟ مرار جی دیسائی نے جب شراب بند کی تھی تو پولیس والوں نے چھوٹے موٹے کاموں میں رشوت لینے کے بجائے شراب کا کاروبار شروع کردیا تھا، ہمارے ملک کا قانون بھی ایک کھلونا ہے، باوردی پولیس والوں سے ریل گاڑی میں ٹی ٹی ای ٹکٹ نہیں مانگتا، وہ سمجھتا ہے کہ سرکاری کام سے جارہے ہوں گے، اب اگر پولیس والے بہار میں یہ کام کرنے لگیں تو ان پر کیسے پابندی لگائی جائے، بہار میں زہریلی شراب سے ۱۳ کی موت کی خبر کے ساتھ یہ بھی خبر تھی کہ ایک ہزار لیٹر دیسی شراب بھی تلاش میں برآمد ہوئی ہے، اب یہ کہنا کہ شراب بندی ناکام ہوگئی، اس لیے پابندی ختم کردینا چاہیے، ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ قتل پر پابندی، عصمت دری پر پابندی، رشوت پر پابندی ناکام ہوگئی اور اے کے ۴۷ رائفل سے سو فائراور ماں بیٹی کے ساتھ ایک جگہ عصمت دری کی گئی، اس لیے اب سب قانون واپس لے لئے جائیں۔

                نتیش کمار نے شراب پر پابندی نہ مذہبی ممانعت کی وجہ سے کی نہ سماجی اصلاح کے جذبہ سے کی، ان سے بہار کی عورتوں نے رو رو کر کہا کہ شراب نے ہمارے گھروں کو برباد کردیا ہے، نہ بچے پیٹ بھر کھاتے ہیں اور نہ پڑھ رہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ کمانے والا جو کماتا ہے اس میں آدھی سے زیادہ شراب پیتا ہے، نتیش کمار نے وعدہ کیا تھا کہ میں دوبارہ حکومت بنائوں گا تو بہار میں شراب بند کردوں گا، اور الیکشن میں ہر کسی نے دیکھا تھا کہ مردوں سے زیادہ عورتوں نے الیکشن میں ووٹ بھی دئے اور دلچسپی بھی لی اور لالو جی نتیش کمار اور کانگریس کو اتنے ووٹ دئے کہ اس کے بعد نتیش کمار اگر شراب بندی نہ کرتے تو عورتیں انھیں معاف نہ کرتیں۔

                اب کون کیا کہہ رہاہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے کہ غریب کسانوں کے گھروں میں خوشیاں لوٹ آئیں، اب جو شراب پی رہے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے چوری جرم ہے مگر چوریاں ہورہی ہیں، نیپال سے چینی سامان کی اسمگلنگ جرم ہے مگر ہورہی ہے، آبروریزی جرم ہے مگر کی جارہی ہے، جہیز لیناجرم ہے مگر لیا جارہا ہے، قتل کا بدلہ پھانسی ہے، مگر ہورہے ہیں، تو اگر شراب پینا جرم ہے اور شراب پی جارہی ہے تو کون سی قیامت آگئی۔

                شراب کروڑوں کی آبادی میں اگر ہزاروں پی رہے ہیں تو کیا مشکل ہے؟ 1977میں لکھنو میں بند تھی مگر سیتاپور میں کھلی تھی، شراب کی دوکان والے سدھولی، جس کی سرحد لکھنؤ سے ملتی ہے، وہاں دکانیں لے آئے، اس وقت سنا تھا کہ رات شروع ہوتے ہی سدھولی کے لیے پرائیویٹ بسیں چلنا شروع ہوجاتی تھیں اور لکھنؤ کا ہر شرابی دو گھنٹے سدھولی میں گذارتا ہے جو صرف ۳۵ کلومیٹر ہے۔ اب یہی بہار میں بھی ہوگا، تو کون روک سکتا ہے؟

                اب نتیش کمار کا امتحان ہے کہ وہ ان شرابیوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ اگر دوسری ریاستوں کی طرح مرنے والے کے گھروں کو دو دو لاکھ روپے دیتے ہیں تو وہ شرابیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اگر انہیں بیمار کتوں کی طرح مرنے دیا جائے اور سرکاری اسپتال میں ان کا علاج بھی نہ کیا جائے تو یہ شراب پینے والے کے لیے عبرت کی بات ہوگی، وزیر اعلیٰ یا کوئی بھی افسر کوئی رعایت نہ کرے، وہ مرجائیں تو ان کے گھر والوں کی اتنی مدد کردیں کہ وہ مرنے نہ پائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close