ملی مسائلہندوستان

بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ 

محمد نافع عارفی

اتر پردیش میں شدت پسند جماعت بی جے پی کی چونکا دینے والی جيت نے پورے ملک کے امن پسند، جمہوریت نواز شہر یوں کے دل ودماغ میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے، طرح  طرح کے اندیشوں اورخدشات کا اظہار کیا جارہا ہے، ملک کی فضا زہر آلود بن چکی، حزب اقتدار رہنماؤں کے الٹے سیدھے بیانات ہر صبح اخبارات کی جلی سرخیوں میں پڑھنے ملتی ہیں – الکٹرانک میڈیا طرح طرح کے مباحثہ ذریعے شدت پسند ی اور عدم رواداری کی آگ کو ہوادینےمیں مصروف ہے، یوپی کی نئ نویلی حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جس سے راست طور پر ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمان متاثر ہو رہے ہیں ، دوسری سیاسی جماعتیں یا تو خاموش ہیں یا مسلمانوں کی بے بسی پر چٹخارے لے رہی ہیں ، ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں مسلمانوں کے لئے زمین  اپنی وسعت کے باوجود تنگ سے تنگ تر ہوتی جارہی ہے، شام، عراق فلسطین، الجزائر، برما، یمن، بنگلہ دیش، پاکستان ہرجگہ کی زمین خون مسلم سے رنگین ہے.

اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں سے  آ سان ہدف کوئی نہیں ہے، ہم آسان نوالہ بن چکے جسے ہر کوئی چبا نے کی ریس لگا رہا ہے؛حالات بد سے بدتر ہیں اور نازک ہوچکے ہیں ؛ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ایسے حالات کا سامنا ہمیں پہلی بار کرنا پڑ رہا ہے، مسلمانوں کی تاریخ باطل سے ٹکراو، سکشت وریخت اور فتح کی داستان، فاقہ مستی کی لذت آفرینی، ہجرت وتیاگ سے بھڑی پڑی ہے، خود نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کو ہجرت سے پہلے کن کن مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، اپنوں کو بیگانہ  بنتے کتنی دیر لگی، آزمائش کون سی بھٹی تھی جس میں آپ کو نہ تپا یا گیا، ظلم و ستم کا کون سا حربہ تھا جو آپ پر اور آ پ کے جانثارو ں پر نہ آزمایا گیا، مارا گیا پیٹا گیا، شہید کرنے کی کوشش کی گئی، مال و دولت اور اقتدار کا  لالچ دیا گیا  بادشاہت کی پیش کش ہوئ لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اپنے عقیدے اور اس کی دعوت سے دستبردار نہیں ہو ئے، جان دی لیکن اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا، کیوں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا سودا جنت کے عوض اللہ سے کرلیا تھا اور یہی ہر مومن کی شان ہونی چاہیے؛”ان الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأن لهم الجنة "(التوبہ :111)اور یہی ہرمسلمان کی شان ہونی چاہیے، اللہ تعالٰی نے پہلے ہی فر ما دیا ہے کہ ہم آزمائش وامتحان سے گزارین گے،” ولنبلونكم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الأموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين(البقرة:155) الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون (البقرة :156)

اور ہم تم لوگوں کو خوف ، بھوک ، مال ، جانوں اور پھلوں کے کچھ نقصان سے ضرور ہی آزمائیں گے ، اس سلسلے میں آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیں ، جن کا حال یہ ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف واپس ہونا ہے ، یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے نوازشیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زور دے کر فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو ضرور ہی آزمایا جائے گا اور آزمائشیں بھی مختلف قسم کی ہوں گی ، کبھی ایسا ہوگا کہ مسلمان خوف و دہشت سے دوچار کئے جائیں گے ، وہ اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کے معاملے میں غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوں گے ، آج پوری دنیا اور خود ہمارے ملک میں مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں ، دوسرے : ان کو معاشی نقصانات سے آزمایا جائے گا ، اس معاشی نقصان کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ بالکل فاقوں کی نوبت آجائے ، جیساکہ بعض ملکوں کی صورت حال ہے ، جن کے قدرتی وسائل پر مغرب نے قبضہ کر رکھا ہے ، یہی صورت حال برما کے مظلوموں اور شام کے مہاجرین کی ہے ، دوسرا درجہ یہ ہے کہ یہ نوبت نہ آئے ؛ لیکن ان کو معاشی اعتبار سے نہایت پس ماندہ اور اقتصادی نقصان سے دوچار کیا جائے ، ملازمتوں کے دروازے ان پر بند کردیئے جائیں گے ، جیساکہ ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ مرکز سے لے کر ریاستوں تک ملازمتوں میں آبادی کے اعتبار سے مسلمانوں کا تناسب بہت ہی کم ہے ۔

تیسرے : ان کی آزمائش جانی نقصانات سے ہوگی ، ہندوستان میں مسلسل مسلمان اِس مصیبت کا سامنا کررہا ہے ، صرف بھاگلپور ، میرٹھ ، جمشید پور ، راور کیلہ ، ممبئی اور گجرات کے فسادات نیز بابری مسجد کی شہادت کے موقع سے ہونے والے بلووں میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے اعداد و شمار جمع کئے جائیں ، تو ان کی تعداد عجب نہیں کہ پچیس ہزار کے قریب پہنچ جائے ، یہ ایسا جانی نقصان ہے جس سے مسلمان مسلسل دوچار ہوتے آئے ہیں اور باعث افسوس امر یہ ہے کہ جب فسادات کی روک تھام کے لئے ایک سیاسی جماعت نے مسلمانوں کے مطالبہ پر بل مرتب کیا تو ان پارٹیوں نے بھی اس کی تائید کرنے سے انکار کردیا ، جو اپنے آپ کو سیکولر اور اقلیت دوست کہتے ہیں ۔

چوتھے : جس چیز سے آزمانے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ ہے : ثمرات ، ثمرہ کے معنی پھل کے ہیں اور اس آیت میں بعض مفسرین نے اس سے اولاد مراد لیا ہے : ’’ والثمرات الأولاد‘‘ (تفسیر ابن کثیر : 467/1) — آج بہت سے ملکوں میں والدین کے سامنے ان کی مسلمان اولاد کے قتل کے واقعات ہورہے ہیں ، خود ہمارے ملک میں مسلمان نوجوان ہر وقت اس خطرہ سے دوچار رہتا ہے کہ نہ جانے انھیں بے قصور ہونے کے باوجود دہشت گردی کا الزام لگا کر جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا جائے ، یہ بھی اولاد کے نقصان کی ایک صورت ہے ، جس سے اس وقت ہندوستان کے مسلمان دوچار ہیں ؛اسی لئے مسلمانوں کا ان مصیبتوں سے دوچار ہونا اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور قرآن مجید کی پیشین گوئی کے مطابق ہے اوران کا پیش آنا قابل تعجب نہیں ؛ بلکہ ان واقعات کے پیش آنے کو مسلمانوں کے لئے ایمان و یقین میں اضافہ کا باعث ہونا چاہئے ۔

اگر کوئی گروہ ایمان پر قائم رہنے کے باوجود کسی وجہ سے مصیبتوں اور آزمائشوں سے محفوظ نہیں رہتا ہے تو اس کو حسرت و افسوس ، نااُمیدی اور بے یقینی سے دوچار نہیں ہونا چاہئے ، اللہ تعالیٰ اگرصاحبِ ایمان ہونے کی وجہ سے کسی کو آزمائشوں سے محفوظ رکھنا چاہتے تو اس کے سب سے زیادہ مستحق انبیاء کرام تھے ؛ لیکن قرآن مجید نے تفصیل سے انبیاء اور ان کی اقوام کے واقعات کا ذکر کیا ہے ، جن کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنی قوم کی طرف سے سخت تکلیف اور مصیبت سے دوچار ہونا پڑا ، حضرت نوح علیہ السلام پہلے پیغمبر تھے ، جن کو مشرکین سے سابقہ پیش آیا ، اللہ تعالیٰ نے انھیں طویل عمر عطا فرمائی ، انھوں نے اپنی زندگی کے ساڑھے نو سو سال کا غالب حصہ دعوت حق کا فریضہ انجام دیتے ہوئے گزارا ؛ (عنکبوت : 14) لیکن قوم کا رد عمل مسلسل انکار اور سرکشی تھا ، وہ مذاق اُڑاتے اور ان کو بُرا بھلا کہتے ، (شعراء :111) تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم ان پر سنگ باری بھی کرتی تھی ، آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور ایمان لانے والوں کو چھوڑ کر حضرت نوح علیہ السلام کی پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام برگزیدہ پیغمبر تھے کہ ان کے بعد تمام پیغمبر ان ہی کی نسل سے پیدا ہوئے ، جن میں رسول اللہ ا بھی شامل ہیں ، ان کو بڑی بے دردی سے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی اور جو ایندھن آپ کو جلانے کے لئے تیار کیا گیا ، قوم کے ایک ایک فرد نے اس میں حصہ لیا ؛ لیکن اللہ نے اپنی قدرت خاص سے آپ کو بچالیا ، (انبیاء : 69) بے گانوں ہی سے نہیں اپنوں سے بھی کچھ کم تکلیف نہیں پہنچی ، خود والد نے کہا : اگر تم دعوت توحید سے باز نہیں آئے تو میں تمہیں سنگ سار کردوں گا ۔ ( مریم : 46)

حضرت یوسف علیہ السلام کے والد بھی نبی تھے ، دادا بھی ، دادا کے بھائی بھی اور پردادا حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ؛ لیکن اس کے باوجود کیسی کیسی آزمائشوں سے گزارے گئے ، اندھیرے کنوے میں پھینکے گئے ، ماں باپ سے جدا کئے گئے ، نبی زادہ تھے ؛ لیکن غلام بنائے گئے اور بازار میں بیچے گئے اور بالآخر قید کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں ؛ یہاں تک کہ مفسرین کی روایت کے مطابق کم و بیش بارہ سال آپ نے قید خانہ میں گزارے ، ( تفسیر کبیر : 94/16) — حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل جن آزمائشوں سے گزاری گئی ، قرآن مجید نے تفصیل سے ان کو بیان کیا ہے ، (بقرہ : 49) مفسرین نے اس کی تفصیلات لکھی ہیں کہ فرعون پوری قوم بنی اسرائیل سے بے گار کا کام لیتا تھا ، ان سے کھیتی کرائی جاتی تھی ، عمارتیں بنوائی جاتی تھیں ، پہاڑوں کو تراش کر ستون بنوائے جاتے تھے ، جو اِن کاموں کے لائق نہیں تھے ، ان سے یومیہ جزیہ لیا جاتا تھا ، اگر کوئی شخص سورج کے ڈوبنے سے پہلے پہلے جزیہ ادا نہیں کرتا تو اس کے ہاتھ اس کے گردنوں سے باندھ دیئے جاتے تھے اور عورتوں کے ذمہ کپڑوں کی بنائی اور کڑھائی کا کام ہوتا تھا ، پھر ظلم کی انتہا اس وقت ہوگئی جب فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ، مصر پہنچی اور اس نے قوم فرعون یعنی قبطیوں کے ایک ایک مکان کو خاکستر کردیا اور بنی اسرائیل اس سے محفوظ رہے ، کاہنوں نے اس کی تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص پیدا ہوگا ، جو مصر پر غلبہ حاصل کرلے گا ، پھر کیا تھا ! فرعون کا ظالمانہ حکم جاری ہوا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو، اسے ذبح کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے اور سالہاسال اس پر عمل ہوتا رہا ، یہاں تک کہ خود قبطی سرداروں نے فرعون سے درخواست کی کہ اس سلسلہ کو روکا جائے ؛ کیوں کہ بنی اسرائیل کے بچے قتل ہوتے جارہے ہیں اور ان کے بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ، جو محنت مزدوری کے لائق نہیں ہیں ، اس طرح آئندہ ہم لوگوں کو اِن پُر مشقت کاموں کو انجام دینا ہوگا ۔ ( تفسیر ابن کثیر : 257/1)

اس سلسلے میں خود رسول اللہ  کی حیاتِ طیبہ اور آپ کے صحابہ کی زندگی ہمارے سامنے ہے ، خوف و دہشت کا عالم یہ تھا کہ مکہ میں حضرت ابوطالب روزانہ بنو ہاشم کے کچھ نوجوانوں کو آپ اکی حفاظت پر مامور فرماتے تھے ، ( المعجم الکبیر للطبرانی :1 254/1 ، حدیث نمبر :116633 ) اور مدنی زندگی میں بھی جب تک سورہ مائدہ کی آیت” يا ايها الرسول  بلغ ما أنزل إليك فإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعلمك من الناس "نازل نہیں ہوئی ، آپ کی قیام گاہ پر پہرا دیا جاتا تھا ، ( ترمذی ، کتاب تفسیر القرآن ، ) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ بہت سی دفعہ اپنے بستر میں تلوار رکھ کر سویا کرتے تھے ؛ تاکہ اگر دشمن اچانک حملہ آور ہوجائے تو دفاع کیا جاسکے ، پوری مکی زندگی آپ اکی جان خطرے میں رہی ، عین صحن کعبہ میں آپ کو پھانسی دینے کی کوشش کی گئی ، قتل کے منصوبے بنائے گئے ، طائف میں زخموں سے چور چور ہوگئے ، اُحد میں روئے منور سے خون کا فوارہ بہنے لگا ، شعب ابی طالب میں تین سال سے زیادہ عرصہ ایسا بائیکاٹ کیا گیا کہ مسلسل فاقوں سے گزرنا پڑا اور بنو ہاشم کے بچے ایک ایک دانے کو ترس گئے ، اپنے عزیزوں کی قربانی آپ نے اپنے آنکھوں سے دیکھی ، آپ انے حضرت حمزہؓ کی شہادت کا غم بھی دیکھا ، جن کی لاش مسخ کردی گئی تھی ، مکی زندگی کے تیرہ سال آپ انے سخت مشقت میں گزارے اور مدینہ آنے کے بعد بھی آٹھ سال کا عرصہ اسی طرح گزرا کہ اہل مکہ کی طرف سے تابرتوڑ حملے ہوتے رہے ، آخر ہجرت کے آٹھویں اور نبوت کے اکیسویں سال مکہ فتح ہوا اور جس محبوب سرزمین سے آپ کو ظلما نکال دیا گیا تھا ، وہی آج آپ اکے قدموں میں بچھی ہوئی تھی ، غور کرنے کی بات ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں تھے کہ جیسے اکیس سال کے بعد مکہ کے لوگ دامن اسلام میں آگئے اور انھوں نے پیغمبر اسلام ا کے سامنے سر طاعت جھکادیا ، یہی اہل مکہ آج سے اکیس سال پہلے جب آپ انے دعوت حق پیش کی تھی ، آپ کی دعوت کے سامنے سر جھکالیتے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان آزمائشوں سے اس لئے گزارا کہ اُمت کو جن جن آزمائشوں سے گزرنا تھا ، آپ کو ان تمام دشواریوں سے گزارا جائے ؛ تاکہ مسلمانوں کے لئے اپنے نبی کا اُسوہ موجود ہو ، دشواریاں ان کے قدموں میں تزلزل پیدا نہ کردیں ، وہ مایوس اور نااُمید نہ ہوں ، ان کے سامنے اپنے نبی کی مثال موجود ہو اور یہ بات ان کے لئے ڈھارس اور تسلی کی باعث بنے ۔

اس لئے مسلمانوں کو موجودہ عالمی اور ملکی حالات سے نہ پریشان ہونا چاہئے اور نہ ان کے یقین میں تذبذب پیدا ہونا چاہئے ،انھیں احساس رہنا چاہئے کہ ان کا ابتلاؤں سے دوچار ہونا ان کے نبی کے ایسے حالات سے گزرنے کے مقابلہ تو بہت ہی کمتر ہے ، رسول اللہ انے اس اُمت کو پیش آنے والے حالات کے پس منظر میں فرمایا : کہ اللہ کے یہاں آزمائش کے اعتبار سے افراد اور قوموں کا اجر ہوگا ، اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتے ہیں تو اس کو آزمائش سے دوچار کرتے ہیں ، اگر وہ ان حالات میں بھی اللہ کے فیصلہ پر راضی رہے تو اللہ اس سے راضی ہوجاتے ہیں ، اور اگر وہ اس پر راضی نہیں رہے تو اللہ بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں : ’’ … فمن رضی فلہ الرضا ومن سخط فلہ السخط ‘‘ ۔ (ترمذی ، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء ، حدیث نمبر2396 )

قرآن کریم نے صاف طور پر اعلان کردیا کہ تم پر جو کچھ بھی مصیبت آتی وہ تمھاری بد اعمالیوں کی وجہ سے ہے، جبکہ اللہ پاک بہت سی خطاؤں سے درگزر فرمائیں ہے (شوری:30)اس لئے ضرورت ہے کہ ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور اپنے ایمان ویقین کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر تولیں اور اپنی زندگی کو اسلامی سانچہ میں ڈھالیں اور پھر دیکھیں  کہ اللہ کی مدد ہر چہار جانب سے کس طرح آتی ہے-الله کا وعدہ حق اور سچ ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سیرت محمدی کے سانچے میں ڈھال لیں –

یو پی کے نتیجے مسلمانوں کے لئے حوصلہ شکن رہے، ان کی ہمتیں پست ہوگئں ہیں ، الکٹرانک میڈیا ایسا باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے یہ شکست صرف مسلمانوں کی ہے حالانکہ اگر نتائج اس کے برعکس آتے تب بھی خود کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں ہمارے زخم پر نہ رکھتیں ، اور نہ ہمارے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی، جس کا تجربہ ہم گزشتہ ستر سالوں سے کرتے آ رہے ہیں ، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ موجودہ یوگی حکومت ہمیں لقمہ تر سمجھ کر نگل جائے گی، اور ہم سے سب کچھ چھین لے گی،یہ ملک ہمارا ہے، ہم یہاں دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں ، اس ملک کی آبیاری ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے کی ہے، اس کے چپہ چپہ پر ہمارا حق ہے، ہمیں اس ملک کے دستور نے برابر ی کا حق دیا ہے، ہمیں اپنے حقوق کی لڑائی لڑنی ہے، اگر ہمارے دل میں ایمان ہے اور ہمارا بھروسہ اپنے رب پر متزلزل نہیں ہوا ہے تو ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں گھبرا نے کی ضرورت نہیں ہے ، اور تصور بھی ہمارے لئے جائز نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی طاقت ہے جو ہمارا کچھ بگاڑ سکتی ہے، حوصلہ شکن حالات آتے رہے ہیں اور آئندہ بھی آئینگے لیکن مسلمانوں کے لئے گنجائش نہیں کہ وہ حوصلہ چھوڑ دیں اور ہمت ہار جائیں ،  ،رسول اللہ  نے   ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ مسلمانوں میں پست ہمتی کا مرض پیدا نہ ہو ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے ایک مہم پر صحابہ کا ایک دستہ بھیجا ، اتفاق سے وہ دشمن کے مقابلے میں ٹھہر نہیں پائے ، جب واپس ہوئے تو مدینے میں چھپ کر داخل ہوئے اور آپس میں مشورہ کیا کہ ہم حضور اکی خدمت میں حاضر ہوں گے ، اگر حضور انے ہماری توبہ کو قابل قبول سمجھا ، تب تو ہم مدینہ میں ٹھہریں گے ، اور اگر ایسا نہیں ہوا تو ہم مدینے سے واپس ہوجائیں گے ؛ چنانچہ فجر کی نماز سے پہلے مسجد میں جاکر بیٹھ گئے اور جیسے ہی رسول اللہ ا حجرۂ مبارکہ سے باہر نکلے ، کھڑے ہوگئے اورشرمندگی کے ساتھ کہنے لگے : ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں : ’’ نحن الفرارون‘‘ رسول اللہ اہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : نہیں ؛ بلکہ تم دوبارہ حملے کے لئے پیچھے ہٹے ہو : ’’ أنتم العکارون‘‘ ہم لوگ آگے بڑھے اور آپ کے دست مبارک کو بوسہ دیا ، پھر آپ انے ارشاد فرمایا : میں مسلمانوں کی کمک ہوں ’’ أنا فئۃ المسلمین‘‘ ( ابوداؤد ، حدیث ) یعنی اگر مسلمان فوج پیچھے ہٹ جائے تو میں اس کے لئے سہارا ہوں ، اس حدیث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صحابہ جو احساس شکست کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے تھے ، آپ نے چاہا کہ ان کا حوصلہ ٹوٹنے نہ پائے ؛ کیوں کہ جب کسی قوم کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی قوت مقابلہ ختم ہوجاتی ہے اور اس کی حیثیت اس فوج کی ہوجاتی ہے ، جو دشمن کا سامنا کرنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دے ۔

غزوۂ اُحد کا موقع صحابہ کے لئے بڑا ہی حوصلہ شکن تھا ؛ کیوں کہ اہل مکہ نے مدینے کی سرحد پر پہنچ کر یہ حملہ کیا تھا ، ستر صحابہ شہید کردیئے گئے ، بہت سے صحابہ زخمی ہوئے ، یہاں تک کہ خود رسول اللہ ا خون سے لہو لہان ہوگئے ، رسول اللہ ا کو اس بات کا احساس تھا کہ اگر اس موقع پر مسلمانوں کی ہمت کو سہارا نہ دیا گیا تو ان کی قوت مقابلہ ختم ہوکر رہ جائے گی ؛ اسی لئے آپ نے صحابہ کو ترغیب دی کہ وہ اہل مکہ کا پیچھا کریں اورصحابہ نے دُور تک مکہ واپس ہونے والی فوج کا تعاقب کیا ؛ حالاں کہ وہ خود زخموں سے چو رچور تھے ، اس کا دہرا فائدہ ہوا کہ ایک طرف صحابہ کا حوصلہ بلند ہوا ، دوسری طرف اہل مکہ نے محسوس کیا کہ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اپنا حوصلہ کھودیا ہو ؛ اسی لئے حالاں کہ انھوں نے مسلمانوں کو آئندہ سال بدر میں مقابلے لئے چیلنج کیا تھا ؛ لیکن آئندہ سال مسلمان تو بدر میں پہنچے ، مگر اہل مکہ کو اس کی ہمت نہیں ہوسکی ۔

غزوۂ اُحد ہی کے موقع پر مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے قرآن نے کہا : ’ تم بزدل اور رنجیدہ نہ ہو ، اگر تم پختہ ایمان کے حامل ہوجاؤ تو تم ہی غالب رہوگے‘ : ’’ وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ‘‘ (آلِ عمران : 139) مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی موقع سے یہ آیت نازل ہوئی ہے ، ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اﷲ ُثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَا ئِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (حٰمٓ السجدۃ : 30)
بے شک جن لوگوں نے کہا : کہ اللہ ہمارا رب ہے ، پھر وہ ثابت قدم ہوئے تو ( ان کی مدد کے لئے ) ان پر فرشتے اُتریں گے ( اور کہیں گے : ) تمہیں نہ خوف و دہشت ہو اور نہ رنج و غم ، اور تم کو جنت کی خوشخبری ہو ، جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا تھا ۔

حالات کیسے بھی ناسازگار  ہوں اور مشکلات کے تاریک بادل جنتے بھی گھنے ہوں مسلمانوں کو خوف زدہ ہو نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کار دعوت انجام دیتے رہنا چاہیے تا کہ کوئی ایک فرد بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ابدی اور لافانی پیغام سے نا آشنا نہ رہے، ان شا ء اللہ کفر اور ظلم و ستم کی سیاہ رات ختم ہو گی اور امن واسلام کا آفتاب طلوع ہوگا؛ شاعر حق شناس اقبال نے سچ کہا ہے کہ:
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں ، لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں ، لا الہ الا اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close