مراسلاتہندوستان

بہن شائستہ انصاری کے نام ایک خط

مدثراحمد

بہن شائستہ انصاری، امید کہ تم خیریت سے ہو، مجھے تمہاری خیریت کےتعلق سے بھی پوچھتے ہوئے شرم، ہچکچاہٹ اورخوف سامحسوس ہورہا ہے۔ میں کیسے مان لوں کہ تم بن ماں باپ کی دلاری کچھ مہینے قبل ہی دلہن بن کر نئی زندگی بنانے کیلئے تبریز انصاری کے گھر گئی تھی اورشادی کے محض دو مہینوں میں تم بیوہ بن گئی۔ شاید تمہیںیہ بات نہیں معلوم کہ تمہاری شادی سے کچھ دن قبل ہی ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ملک میں سب کو تحفظ دیا جائےگا، مسلم عورتوں کو ان کے حقوق دئے جائیںگے، انکے ساتھ نہ انصافی برداشت نہیں کی جائےگی۔ ان کے اس دعوے سے مجھے کچھ اطمینان ہوا تھا کہ چلو،  وزیر اعظم نے میرے ملک کی مائوں، بہنوں اوربیٹیوں کے تحفظ کا خیال رکھتے ہوئے انکے تعلق سے حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کے وعدے کے بعد بھی اس ملک کی بیٹیاں اوربہنیں تمہاری طرح بیوہ ہونے لگیں گی۔

بہن شائستہ میں شرمندہ ہوں کہ تمہاری اس مشکل گھڑی میں میں تمہارے ساتھ کھڑانہیں ہوسکا۔ اس ملک کے قانون کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔  لیکن مجھے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں تمہارے حق میں جس تیزی کے ساتھ آواز بلند ہونی تھی وہ آواز بلند نہیں ہوپائی۔ تمہارے ساتھ صرف رام کے بھگتوں نے ہی ظلم نہیںکیا ہے بلکہ رحیم کے ماننے والے ہم لوگوں نے بھی اپنے ماضی کو نہیں دیکھا اورظلم وتشدد کا جواب دینے میں پوری کوتاہی برتی ہے۔ جس وقت تبریز انصاری کو ہجومی دہشت گردوں نے اپنی وحشت کا نمونہ پیش کرتے ہوئے انہیں شہید کیا گیا اس وقت ہمار ی قوم جلسہ اورپروگراموں میں مصروف تھیں، نوجوان ورلڈ کپ کرکٹ میچوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ایک بڑا طبقہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات پر بحث ومباحثے کرنے کیلئے چائے خانوں میں جمع ہوئے تھے۔ خواتین کی نظریں ٹی۔  وی پر آنے والی سیریلوں پر جمے ہوئے تھے۔ تمہارے شوہر تبریز انصاری کی چیخ وپکار اس شور وغل میں سنائی نہیں دی۔ اگر یہ آوازیں ہم تک پہنچ بھی جاتی تو شاید ہم ان کی مدد کیلئے نہیںجاتے بلکہ اپنےمہنگے ترین موبائل فونوں پر ویڈیو گرافی کرتے ہوئے شیئر اینڈ لائک کا کھیل کھیلتے۔ بہن شائستہ ملک میں تمہارے درد کی طرح ہی اوربھی کئی مائووں اور بہنوں وبیویوں کا درد بھی ہے۔ محمد اخلاق، حافظ جنید، پہلو خان، محمد مختار اورنجیب جیسے مسلمان بھی تبریز انصاری کی طرح ہی مارے گئے ہیں۔ اس وقت بھی ہماری قوم وملت کی قیادت کرنے والے رہنمائوں نے مذمتی بیانات جاری کئے تھے، کچھ رہنمائوں نے پریس کانفرنس بھی کی تھی اورکچھ نے احتجاج کئے۔ لیکن تمہاری جیسی بیویوں کیلئے آج بھی انصاف نہیں مل سکا اورمجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہونا اب مشکل ہوچکا ہے۔ تم جیسا سوچ رہی ہو کہ کاش کہ میرا شوہر گھر سے باہر نہ گیا ہوتا اور دہشت گر د وں کے ہاتھوں وہ نہیں لگتے،  اسی طرح کا ماحول آج ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خود میری بیوی بھی یہی سوچتی ہے کہ کہیں میں بھی ہجومی تشدد کا شکار نہ ہوجائوں۔

 بہن میں نے کئی دفعہ اس بارے میں اپنے ملی وسماجی قائدین کو بآور کروانے کی کوشش کی ہے،  شاید میری بات ان تک نہ پہنچی ہو یا پھر ان تک پہنچی بھی ہوتو وہ ہجومی تشدد کے تعلق سے سنجیدہ نہیں ہیں۔  جس طرح سے آج تبریز انصاری کی موت کے بعد تمہارے ہاتھوں میں لگی مہندی پھیکی پڑچکی ہے،  ہاتھ میں پہنے ہوئے چوڑیاں توڑے جاچکے ہیںاورتمہارے ہاتھوں میں تبریز کی خون کی قیمت 5 لاکھ روپئے کا چیک اورسرکاری نوکری کا حکم نامہ ملا ہے۔ اسی طرح پہلے والوں کو بھی چیک اور معاوضہ ملتے رہیں گے۔ میں جانتاہوں کہ اس چیک اورنوکری سے تمہارا سہاگ تمہیں واپس نہیں ملے گا۔ نہ ہی تبریز کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔

بہن شائستہ حالات بہت خراب ہیں۔ ان خراب حالات میں ہماری قیادت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے عمائدین اجتماع،  جلسے، پروگرام، کانفرنس اورریالیوں کے قائد بن چکے ہیں۔ انکی قیادت مخلص نہیں رہی، یہ قیادت کے عوض اپنے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔ کوئی لاکھوں،  ہزاروں کا ہجوم دکھا کر ایم ایل سی بن رہا ہے، تو کوئی ہزاروں کا ہجوم دکھاکر الیکشن میں مسلمانوں کا قائد ڈکلیر کررہا ہے۔ ایسے میں میری اورتمہاری کون فکر کرےگا،ہمارے جیسے عام مسلمانوں کا حق ادا کرنے کیلئے کوئی کیوں اپنے مفادات کو قربان کریگا؟ذرا سوچو!تبریز آج زندہ ہوتا تو قوم کے لیڈران اسکے روزگار کیلئے اسکی مدد کرنے آگے آتے؟ 5 لاکھ کی بات تو دور 50 روپئے بھی دینا گنواراںنہیں سمجھتے۔ آج تمہیں سرکاری نوکری دی جارہی ہے۔ لیکن اس سرکاری نوکری کو حاصل کرتے کرتے تمہیں زندگی کے تلخ تجربوں سے گزرنا پڑیگا۔ سماج میں بیٹھے ہوئے بھیڑئے تم پر جھپٹیں گے۔ پہلو خان کی بات ہی لے لو جس وقت وہ گائے کے گوشت کے نام پر شہید کئے گئے تھے اس وقت تو ہر تنظیم کا علمبردار ان کی دہلیز پر پہنچاتھا۔ ہر کوئی انکا قائد بن رہا تھا۔ لیکن آج انکا کوئی پرسان حال نہیں۔ حق کیلئے وہ اپنی لڑائی خود لڑرہے ہیں۔

 بہن !۔اس خط کو لکھ کر میں تمہارے زخموں کو کریدنا نہیں چاہ رہاہوں بلکہ اپنے قوم کی حالت بیان کررہاہوں۔  جتنے لوگ تمہارے شوہر کی میت میں شامل ہوئےتھے وہ تمام تدفین سے پہلے ہی اپنے اپنے کام وکاج پر لگ گئے ہیں۔ تمہارے ایام عدت سے پہلے ہی یہ سماج تمہیں اورتبریز انصاری کو بھلا دےگا، تم اس وقت غمگین ہو،  ہر وقت اللہ کو یاد کررہی ہو، ایسے میں اللہ سے دعا کرو کہ اے اللہ ہماری قوم میں ایسی قیادت،  امامت،  خلافت کرنے والے نوجوانوں کو پیدا کر جو ہم جیسی عورتوں کے سہاگوں کو اجاڑنے والوں کا خاتمہ کریں۔ ہمارے نوجوانوں میں خانقاہوں کی جو لت لگ گئی ہے اس لت سے ہٹ کر میدان حق میں کودنے کی طاقت نصیب فرما۔ جولوگ تسبیحات کے ذریعہ سے جنت لینے کے منتظر ہیں ان میں جہاد فی سبیح اللہ کا جذبہ عطافرما۔اگر یہ دعا تمہاری قبول ہوجائےگی تو انشاء اللہ اورکوئی شائستہ انصاری کسی کے مدد کی طلب گار نہیںرہےگی بلکہ اس کا شوہر خود اسکا مدد گار رہےگا۔

بس آج میں اس خط کے ذریعہ سے حالات پر تبصرہ کررہا ہوں،غم کے اس موقع پرتمہارے لئے چار تعزیتی جملوں کے علاوہ میں اورکچھ نہیں دے سکا، تمہارے اس بھائی کو دعائوں میں یاد رکھو اوردعا کرو کہ اس بھائی کے ہاتھ حق کیلئے اٹھیں۔

فقط تمہارا بھائی

مدثر احمد شیموگہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close