ہندوستان

بی جے پی لیڈردیاشنکرسنگھ کی بدزبانی لمحہ فکریہ

راشدالاسلام
دنیا بھر میں خواتین کے اعزاز ووقاردئے جانے کے مسئلے پر خوب بحثیں ہوتی ہیں۔خواتین کو ان کا جائز حق مل سکے اس کے لئے تمام ممالک بڑھ چڑھ کر بولتے دکھائی پڑتے ہیں۔خواتین کو مردوں کے برابر سمجھا جائے اس کاقائل ہرشخص اور ہرسیاسی جماعت ہے لیکن دیاشنکرسنگھ نے خواتین کو حقوق دئے جانے کی وکالت اور ان کوعزت واحترام سے دیکھے جانے کی بجائے ان کے لئے بے ہودہ اورنازیباالفاظ کا استعمال کیاہے جوہرنوعیت سے سراسرغلط ہے۔
بی جے پی لیڈردیاشنکرسنگھ نے منگل کوبی ایس پی سربراہ مایاوتی کی ذریعہ مبینہ ٹکٹ فروخت کے معاملے پرتبصرے کرتے ہوئے کہاتھاکہ مایاوتی جس طرح بھاؤتاؤکررہی ہیں اس طرح ایک ویشیابھی اپنے پیشے کولے کرنہیں کرتی۔ یوپی بی جے پی نائب صدرکے بیان پرمایاوتی نے راجیہ سبھامیں 20جولائی بروزبدھ کوجواب دیا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی لیڈرنے یہ بیان مایاوتی کے لئے نہیں بلکہ اپنی بیٹی بہن کیلئے دیاہے۔ مایاوتی نے کہاکہ پوراملک بی جے پی کومعاف نہیں کرے گا۔انہوں نے بی جے پی سے دیاشنکرسنگھ کوپارٹی سے باہرنکالنے کی بھی مانگ کی۔مایاوتی نے ایوان میں کہاکہ یوپی بی جے پی کے نائب صدرنے نازیبا زبان کا استعمال کیا۔میں نے اپنی پوری زندگی دلتوں کی تعمیرنوکیلئے لگادی۔بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی )کے سپریمواور اترپردیش کی سابق وزیراعلی اور ملک کی چوٹی کی دلت رہنما مایاوتی کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ودیاشنکرسنگھ کی طرف سے انتہائی شرمناک اورنازیبا الفاظ کہے جانے پر گذشتہ روز راجیہ سبھا میں شدید برہمی کا اظہار کیا گیا اور پورے ایوان میں ایک آواز ہوکر اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔آزادہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ جہاں پرملک میں ہربسنے والوں کوآئین کے دائرے میں رہ کربولنے اور لکھنے کی آزادی ہے۔ہندومسلم، سکھ ،عیسائی اورپھر ان مذاہب میں ہرطبقے کے لوگوں کوبلاتفریق حقوق کیلئے آوازبلندکرنے کا حق دیاگیا ہے۔ہندوستان ہی بلکہ جس ملک میں بھی جمہوری نظام نافذہے وہاں پرحقوق انسانی کیلئے بولنے کا حق دیاگیاہے۔ہرطبقے کے لوگوں کوحقوق کی بازیابی کیلئے احتجاج ومظاہرہ کرنے کاحق ہے۔ملک میں جتنی بھی سیاسی ونیم سیاسی پارٹیاں یاملی وفلاحی ادارے ہیں سب کاایک ہی مقصدہے ملک وملت کی تعمیروترقی ہے۔ مگراس میں ہرکوئی اپنے آپ کوہمدردوخیرخواہ ثابت کرنے کیلئے طرح طرح کا حربہ اختیارکرتاہے تاکہ وہ عوامی اعتمادحاصل کرکے اپنے مشن میں کامیاب ہوسکے۔اسلئے ہرسیاسی پارٹی ودیگرلوگ خود کوعوامی خیرخواہ ثابت کرنے کیلئے عوام کے درمیان جاتے ہیں اوروہاں جاکرعوام کے درمیان اپنے اپنے کارناموں کوشمارکراتے ہیں ،مینی فیسٹو(انتخابی منشور)جاری کرتے ہیں۔اس کے بعدپھروہ دوسری پارٹیوں کی خامیوں کوبھی شمارکراتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں یہ کام عوام کے درمیان جاکر،پریس کانفرنس اوراشتہارات وغیرہ کے ذریعہ بھی کرتی ہیں۔اسی طرح ریاستی اسمبلیوں اورلوک سبھامیں لیڈران بحث میں حصہ لیتے ہیں اورہرلیڈران اپنے عوامی مسائل اورایشو سامنے رکھتے ہیں پھرسوال وجواب اورمسائل کے حل کیلئے تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔یہی نہیں جلسوں ،ریلیوں میں بھی ایک دوسرے پرالزام لگاتے ہیں۔ انتخابی منشورمیں مذکوروعدے توالیکشن کے بعد پورے کئے جاتے ہیں جبکہ اسی مینی فیسٹومیں کچھ وعدے صرف اورصرف عوام کولبھانے کیلئے جاتے ہیں مثلاً 2014کے لوک سبھاالیکشن میں نریندرمودی جی نے بہت سارے وعدے کئے تھے۔ انہی میں سے ایک وعدہ کالادھن کاتھا۔ انہوں نے کہاتھاکہ اگرمیں اقتدارمیں آیاتوبیرون ممالک سے کالادھن لاکرسب کے اکاؤنٹ میں 15-15لاکھ روپے بھیجوں گا۔لیکن مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعدعوام نے کئے گئے ان وعدے کوبارباریاددلایاتوبھارتیہ جنتاپارٹی کے صدرامت شاہ نے برجستہ کہاکہ وہ صرف انتخابی جملہ تھا،امت شاہ کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی عوام کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
بہرحال آئین کے دائرہ میں ہرکسی کوبولنے کاحق ہے ، آوازبلندکرنے کاحق ہے، سوال کرنے کاحق ہے،اپنے اچھے اچھے کارناموں کواجاگرکرنے کاحق ہے، دوسرے کی خامیوں کاپردہ فاش کرنے کا حق ہے۔مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپناالوسیدھاکرنے کیلئے کوئی بھی شخص کوبغیرکسی خوف کے کسی کوسرعام یاپیٹھ پیچھے ویشیا کہیں یااورکوئی فحش الفاظ کا استعمال کریں۔گجرات میں دلتوں پر ہوئے مظالم کی آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ بی جے پی کے ایک لیڈر نے نازیبا لفظ کہہ کر دلتوں کی پھر سے توہین کی ہے۔  بی جے پی کی مودی حکومت میں اہم منصوبے میں سے ایک منصوبہ ’’ بیٹی بچاؤاوربیٹی پڑھاؤ‘‘ہے۔ کیااس منصوبے میں بیٹی بچاؤاوربیٹی پڑھاؤ کا مطلب ہے کہ کسی کی بیٹی ، کسی کی بہن ،کسی کی بیوی یاکسی بھی خاتون کیلئے توہین آمیزاورفحش الفاظ کااستعمال کیاجائے؟اسی طرح چندسال قبل کانگریس صدرسونیاگاندھی کیلئے بھی گوری چمڑی والی جیسے الفاظ کا استعمال کیاگیا۔فحش لفط کے استعمال پردوپہر کے کھانے کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہونے پرمحترمہ مایاوتی کے بارے میں بی جے پی کی اترپردیش اکائی کے ایک نائب صدر کی مبینہ بدزبانی کا معاملہ اٹھا اور مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے نازیبا لفظ کا استعمال کرنے والے اس لیڈر کو پارٹی سے نکالنے اور اسے درج فہرست ذاتوں اور قبائل پر مظالم سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی دہلی کی سی ایم امیدوارکرن بیدی بھی دہلی اسمبلی الیکشن کے موقع پرچیخ چیخ کہہ رہی تھیں کہ دہلی میں خواتین اورہماری بہن بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔آئے دن ان پرظلم وستم ہورہا ہے،خواتین کا تحفظ اور ان کی عزت وعصمت کی حفاظت ضروری ہے،سماج میں خواتین کوعزت واحترام دیاضروری ہے۔ہرشخص کوچاہئے کہ وہ خواتین کوعزت دے اوراحترام کرے، چاہئے وہ جس طبقے کی ہوں۔یہ باتیں ہرلیڈر اورسیاسی وغیرسیاسی لوگ کہتے آرہے ہیں کہ معاشرہ میں خواتین کی حوصلہ شکنی نہیں ،بلکہ ان کی ہمت افزائی کی جائے اورہران کوتحفظ فراہم کیاجائے۔ خواتین کے خلاف بدزبانی پر ان کے خلاف سخت سے سخت سے کارروائی ہونی چاہئے۔لیکن بہن جی مایاوتی کے تعلق سے متنازعہ بیان دینے والے بی جے پی لیڈردیاشنکرکے خلاف کرن بیدی جی کا ابھی تک کوئی بیان نہیں آیاکہ اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ کیایہی سکوت وخاموشی خواتین کے تئیں ہمدردی اورعزت واحترام ہے؟حالانکہ بدزبانی اورفحش گوئی سے ہرایک کوگریزکرناچاہئے ،چاہے ان کا تعلق کسی سیاسی وغیرسیاسی پارٹے سے تعلق ہویانہ ہو۔لیکن جب سے بی جے پی حکومت مرکزپرقابض ہوئی تب سے بی جے پی لیڈران بے خوف وخطربدزبانی ،فحش گوئی اور زہرافشانی سے کام لے رہے ہیں۔ چاہے ان کا بیان دلت کے تعلق سے ہویادیگرطبقے کے لوگو سے۔
بہرحال پارلیمنٹ میں جو سب سے اچھی بات دیکھنے کو ملی، وہ یہ تھی کہ بی جے پی کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹیوں کے لیڈر بھی مایاوتی کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ جیٹلی نے اپنی تقریر میں مایاوتی کا ساتھ دیا اور پارٹی کی طرف سے اور ذاتی طور پر بھی مایاوتی سے معافی مانگی۔جیٹلی نے کہاکہ دیاشنکر سنگھ پر کارروائی کی جائے گی ،بہرحال دیاشنکر سنگھ کو پارٹی کے تمام عہدوں سے ہٹا دیا گیا، اور پھر انہیں چھ سال کے لئے پارٹی سے نکال بھی دیا گیا۔مایاوتی نے اپنی تقریرمیں کہاکہ میں صرف راجیہ سبھا میں نامزد ہو کر نہیں آئی ہوں، کئی بار لوک سبھا رکن بھی رہی ہوں ، یہاں کوئی بھی بتا دے کہ کبھی میں نے اس طرح کی بیہودہ زبان کااستعمال کیاہو۔ میں کسی کے کیریکٹرپر کبھی ذاتی حملہ نہیں کیا۔  کبھی بھی کسی لیڈر کے خلاف نازیباالفاظ کا استعمال نہیں کیا۔  بی جے پی نائب صدر نے جس زبان کا استعمال کیا، انہوں نے مجھے نہیں بولا ہے، اپنی بیٹی کے بارے میں بولا ہے، اپنی بہن کے بارے میں بولا ہے۔ آج مجھے بولا ہے، کل ایوان کے اور کسی رکن کو بولیں گے۔ صرف افسوس ظاہر کرنے سے کام نہیں چلے گا، مجھے لیڈر ایوان سے کہنا ہے، آپ وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کیجئے۔  ایسے آدمی کو پارٹی سے نکال دیاجاناچاہئے، نہیں تو لوگ سڑکوں پر اتر آئیں گے اور میں اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔ بہرکیف کسی کے لئے بھی نازیباالفاظ کا استعمال کرنایاکیریکٹرپرنازیباتبصرہ کرنالمحہ فکریہ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ بی جے پی کی اعلیٰ ہائی کمان دیاشنکرسنگھ کوپارٹی سے باہرکاراستہ دکھانے کے بعدآگے کیاکارروائی کرتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہدالاسلام

مضمون نگار روزنامہ ہندوستان ایکسپریس ،نئی دہلی کے نیوز ایڈیٹر ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close