تاریخ ہندہندوستان

تحریک آزادی اور بنگال کی فرائضی تحریک

ایک تحـقیقی جــائزہ

ڈاکٹر محمد اسلم مبارک پوری

آزادی ایک نعمت ہے :

آزادی ہر دل کی آواز اور ہر نفس کی تمنا اور آرزو ہے۔ قید وبند اور غلامانہ زندگی کا قائل نہ تو انسان ہے اور نہ ہی حیوان، اس لیے غلامی انسان کے لیے سب سے بڑی لعنت اور ذلت ونکبت کی علامت ہے جو آدمیت کے جوہر کو نابود کردیتی ہے اور ذلت وخواری کا پیکر بنا دیتی ہے۔ روئے زمیں  پر پائے جانے والے ہر متنفس کو اس چرخ بریں  اورلاجوردی آسمان کے تلے آزادانہ زندگی گزارنے کا پیدائشی حق ہے۔ مذہب اسلام نے آزادی کو نہایت اہمیت دی ہے اور اس پر بڑا زور دیا ہے اور اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ جس مذہب نے افراد کی غلامی سے لڑ کر نجات پائی ہو اور اس کو حد درجہ شنیع خیال کیا ہو‘ وہ پوری قوم کی غلامی کو کیسے برداشت کر سکتاہے؟ مذہب اسلام میں  حقیقی آزادی کا تصورعام لوگوں  کو غلامی سے نکال کر صرف رب واحد کی مطلق غلامی سے مربوط ہے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کاوہ مقولہ جو انہوں  نے والی مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے کے قصہ کے ضمن میں  بیان فرمایا تھا، اس تصور کی سب سے اعلی اور عظیم مثال ہے۔ انہوں  نے فرمایا:

متی استبعدتھم؟ وقد ولدتھم أمھاتھم أحراراً۔ (۱)

تم نے ان کو کب سے غلام بنا لیا ہے جب کہ ان کی ماوؤں  نے انہیں  آزاد پیدا کیا ہے؟

دراصل یہ وہ فکراور سوچ ہے جو مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں  کے قلب وذہن میں  پیوست کردیا ہے۔ محسن انسانیت، خاتم الانبیاء نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں  سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں  کو غلامی کی زندگی سے آزاد کریں ۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور تبلیغی مہمات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

{الَّذِیْنَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُونَہُ مَکْتُوباً عِندَہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیْلِ یَأْمُرُہُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَاہُمْ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبَآئِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ إِصْرَہُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْْہِم}(سورۃ الاعراف: ۱۵۷)دین ودنیا کی بھلائی اور فلاح ان لوگوں  کے ہے جو ہمارے رسول نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں  جس کا ذکر اہل کتاب اپنے تورات وانجیل میں  میں  لکھا ہوا پاتے ہیں  جو لوگوں  کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں  اور برائی سے روکتے ہیں  اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں  کو حلال کرتے ہیں ۔ خبیث اور گندی چیزوں  کوحرام کرتے ہیں  اور ان بارہائے گراں  اور بندشوں  کو ان سے ہٹاتے ہیں  جن میں  وہ پہلے جکڑے ہوئے تھے۔

اسی طرح عہد نبوی میں  اسلامی فتوحات پرغور کریں  تو اس میں  بھی حریت اور آزادی کا یہی پیغام نظر آتا ہے۔ حضرت ربعی بن عامربن خالد رضی اللہ عنہ مملکت فارس کے حاکم اعلی رستم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اللہ ابتعثنا، واللہ جاء بنا؛ لنخرج من شاء من عبادۃ العباد إلی عبادۃ اللہ وحدہ، ومن ضیق الدنیا إلی سعتھا، ومن جور الأدیان إلی عدل الإسلام۔ (۲)

اللہ تعالی نے ہم (اسلامی لشکر)کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں  کو بندوں  کی بندگی سے نکال کر اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت وبندگی میں  لائیں  اور دنیاکی تنگی سے نکال کروسعت کی طرف لائیں  اور دوسرے ادیان کے جورستم سے آزاد کرکے اسلام کے عدل وانصاف کے سایہ میں  لے آئیں۔

تحریک آزادی کی للکار:

ہمارا ملک ہندوستان ایک عظیم الشان ملک ہے۔ اس کی تاریخ بڑی قدیم اور اہم ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کو مختلف اقوام نے اپنا ماوی اور ملجا بنایا۔ مختلف ثقافت اور متنوع تہذیب وتمدن سے آراستہ کیا، لیکن جو تہذیب و تمدن اور ادب مسلمانوں  نے اسے عطا کیا ہے کسی اور نے نہیں  عطا کیا۔ کانگریس پارٹی کے سابق صدر ڈاکٹر پٹابی سیتا رمیہ نے صاف لفظوں  میں  اس کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں  نے ’’جے پور ‘‘کے ایک اجلاس میں  اپنے خطبہ صدارت میں  فرمایا:’’مسلمانوں  نے ہمارے کلچر کو مالا مال کیا اور ہمارے نظم ونسق کو مستحکم اور مضبوط بنایا، نیز وہ ملک کے دور درازحصوں  کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں  کامیاب ہوئے۔ اس ملک کے ادب اور اجتماعی زندگی میں  ان کی چھاپ بہت گہری دکھائی دیتی ہے‘‘  (۳)

جب مسلمان اس ملک کے تخت کے مالک تھے تو ہمارایہ ملک سونے کی چڑیا تھی۔ عدل وانصاف، اتحاد ویک جہتی، محبت ویگانگت، زرعی، آبی اور معدنی ثروات کی وجہ سے اموال کی کثرت اور بہتات تھی۔ وفور اموال کی وجہ سے ہر ایک کا قلب وجگر اس کی طرف کشاں  کشاں  رہتا تھا۔ مغلیہ حکومت کمزور کیا ہوئی کہ فرنگیوں  کی نظر گڑ گئی اور ملک ہندوستان کی جنت نما زمین اور حسن و خوب صورتی پر غاصب انگریزللچائی نظروں  سے دیکھنے لگے۔ انہوں  نے وطن عزیز کواپنے ناپاک پنجوں  میں  دبوچ لیا اور بے گناہ ہندوستانیوں  کو ظلم وستم کی چکی میں پیسنا شروع کر دیا۔ جب ظلم وستم کی ساری حدیں  پار کر گئیں تو پورے ملک میں  اہل وطن کی جوش حمیت بھڑک اٹھی اور انگریزوں  کے خلاف محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ ان کے خلاف غیظ وغضب اورنفرت ونفور کا آتش فشاں  پہاڑ بھوٹ پڑا اور انگریزوں  کے خلاف تحریک آزادی کا بگل بجا دیا جس میں  ہندوستانی عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور استخلاص وطن کے لیے جان ومال کی قربانیاں  پیش کیں۔ مرور ایام کے ساتھ لوگوں  کے قلوب اذہان میں  اس کے تئیں  کافی جوش وخروش پیدا ہو رہاتھا۔

انیسویں  صدی عیسوی کا زمانہ برصغیر کے مسلمانوں  کے لیے بے حد تکلیف اور اذیت کا زمانہ تھا۔ برطانوی استعمار کا غلبہ تھا۔ اس صدی کے نصف اول میں برطانوی سامراجیت کے خلاف جو تحریک جہاد حضرت سید احمد شہید اور حضرت مولانا محمد اسماعیل رحمہما اللہ کی قیادت میں  شروع ہوئی تھی اس میں  علمائے اہل حدیث کا کردار بہت ہی واضح رہا ہے۔ مشہد بالا کوٹ (۱۸۳۰ء)کے بعد علمائے اہل حدیث نے پورے اخلاص، عزم واستقلال اوراستقامت کے ساتھ اس تحریک کا نہ صرف ساتھ دیا، بلکہ پوری صدی اس راہ میں  بے مثال قربانیاں  پیش کیں  جو نہ صرف بر صغیر ہند وپاک کی تحریک جہاد بلکہ تاریخ اسلام کا روشن باب ہے۔ یہاں  یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ بر صغیر کی ہر اسلامی اور اصلاحی تحریکوں  میں  اہل حدیث حضرات کا بڑا حصہ رہا ہے۔ چنانچہ انگریز مبصر ین اور غیر جانب دار مورخین نے اس سلسلہ میں  جو صراحتیں  کی ہیں  ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں  کے خلاف جد وجہد میں  ہندوستان کا جو گروہ سب سے زیادہ سر گرم رہا وہ اہل حدیث کا طبقہ ہے۔ اہل حدیثوں  کے خلاف ان کا جبر وتشدد آفتاب نصف النہار کے مانند عروج پر تھا۔ جس کسی پر بغاوت کامحض شبہ ہوا‘ اسے فورا ہی بھانسی، جیل، جائے داد کی ضبطی اور سزا کے طور پر جزیرہ انڈومان بھیج دیا جاتا تھا۔ اترپردیش اور دیگر صوبوں  کی بات تو درکنار، صرف بنگال وبہار میں  پانچ لاکھ اہل حدیثوں  کو صرف شک کی وجہ سے پھانسی دے دی گئی۔ (۴)   اس لیے صوبہ بنگال کے باشندگاں  کی قربانیوں ، سرفروشیوں اور ان کی تحریکوں  کو کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں  کیا جا سکتا۔ ان کے ذکر کے بغیر تاریخ اہل حدیث ہی نہیں  بلکہ ملک ہندوستان کی تاریخ ادھوری رہے گی۔ (۵)

آزادی وطن کی اس تحریک میں  اہل حدیث افراد کے ساتھ احناف بھی شرک رہے، لیکن ان تحریکوں  میں  احناف برادران کی شمولیت مشہور عالم دین مولانا محمود الحسن صاحب (ولادت: ۱۸۵۱ء، فات: ۳۰ نومبر۱۹۲۰ء)کی مالٹا سے رہائی کے بعد ہی ثابت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ مولانا محمود الحسن صاحب مالٹا کی جیل میں ۱۹۱۷ء سے ۱۹۲۰ء تک اسیر رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ہندوستان کے طول وعرض میں  تحریکوں  کا جال بچھ چکا تھا اور ان میں  بلا تفریق مذہب ومسلک قوم کا ہر طبقہ شریک تھا۔ (۶)

بنگال کی فرائضی تحریک:

بنگال: سلطنت مغلیہ کا سب سے آباد اور خوش حال صوبہ تھا۔ اس کی آبادی اور برق رفتاری سے بڑھتی ہوئی دولت وثروت اور حیرت انگیز ترقی  نے انگریز تاجروں کی حرص اور طمع میں  اضافہ کر دیا تھا۔ بے تحاشہ دولت، اموال کی بہتات، آبی و زرعی مواردکی کثرت اور معدنی ثروت کی وجہ سے فرنگیوں  نے سب سے زیادہ اس صوبہ کا استحصال کیا۔ وہاں  کے باشندگان سب سے زیادہ ظلم وستم کا نشانہ بنے اور ان پر جبر وقہراور بربریت کا پہاڑ ڈھایا گیا۔ انگریزوں  نے جو زیادتیاں  روا رکھی تھیں  ‘وہ داستان تاریخ کا دردناک اور المناک باب ہے۔ انگریزوں  نے حصول دولت کے لیے جو مجرمانہ، ظالمانہ اور سنگدلانہ طریقے اختیار کر رکھے تھے ان کی داستان سن کر کلیجہ منھ کو آنے لگتاہے۔ بنگال کی سرزمین ہی وہ سرزمین ہے جس پر انگریزوں  سے باقاعدہ جنگ لڑی گئی۔ پلاسی کی جنگ (۵۷ -۱۷۵۶ء)میں  نواب سراج الدولہ کی شکست وریخت اور اپنوں  کی غداری نے ان کے حوصلوں  کو اور بلند کر دیا۔ اس شکست نے صوبہ بنگال پربرطانوی تسلط کی راہ کو آسان کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب انگریز آزادانہ طور پر دندناتے اور طمطمہ دکھاتے پھرتے تھے۔ نہ کوئی روک ٹوک کرنے والا تھااور نہ ہی کوئی ان کی نکیل کسنے کے لیے آگے بڑھنے والا تھا۔ نوابوں  میں  وہ دم خم بھی نہ تھا کہ ان سے مقابلہ کرتے اور نہ مرکزی سلطنت میں  وہ روح باقی تھی کوئی حکم امتناعی نافذ کرتی۔ الغرض پورا بنگال انگریزوں  کامشق ستم بن گیا اور فرنگی جبر وتشدد سے کنگال ہو گیا۔ وہ صوبہ جو صرف آٹھ سال پہلے سونے کی کان اورہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھا، اب خاک کے ڈھیروں  میں  تبدیل ہو گیا۔ زراعت برباد ہوگئی۔ صنعت وحرفت تباہ ہو گئی۔ کسان اور مزارع اپنی زمینوں  میں  ہل کیاچلاتے انہیں  پر ہل چلا دیا گیا۔ پارچہ باف کپڑا کیا بنتے انہی کے کھردرے ہاتھوں  سے بنے ہوئے کپڑوں  کو ان کا کفن بنا دیا دیا گیا۔ ہر چہار سو چیخ تھی۔ پکار تھی۔ بے بسی تھی۔ بے کسی تھی۔ نکبت تھی۔ ذلت تھی۔ سسکیاں  تھیں۔ جزع فزع تھا۔ گھبراہٹ تھی۔ وحشت تھی۔ عدم تحفظ کا احساس تھا۔ خوف تھا۔ ڈر تھا۔ ہر کوئی ہراساں  تھا۔ لرزاں  وترساں  تھا۔ نتیجتاً روز بروز آبادی کم ہوتی جا رہی تھی۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا۔ سلب ونہب کا لا متناہی سلسلہ شروع تھا۔ انگریزوں  نے غیر مسلم زمینداروں کے ذریعہ نفرت اور تشدد کی آگ بھڑکانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں  کے مذہبی معاملات میں  مبینہ مداخلت اور مسلم معاشرے پر ہندوانہ رسم رواج کی یلغار نے بہت سارے مسلمانوں  کے سکون وچین کو ختم کردیا تھا۔ علاوہ ازیں ارتداد کی کیفیت نے افسردگی کی چادر کو اور دراز دیا۔ عیسائی مبلغین کی زیادتیاں  بھی زوروں  پر تھیں  اور ان کی تبلیغ سے عوام تو عوام مقتدر شخصیات نے اپنا دین دھرم بدلناشروع کر دیا تھا۔ یہ بہت مایوس کن صورت حال تھی۔ ان مضطرب، مایوس کن اور ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ کرنے اور عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے ملک کے طول وعرض میں  کئی تحریکیں  معرض وجود میں  آئیں ۔ بنگال کی سر زمین سے ایک تحریک اٹھتی ہے جسے تاریخ نے ’’فرائضی تحریک ‘‘کے نام سے اپنے حمائل میں  محفوظ کر رکھا ہے اور حاجی شریعت اللہ نام کاایک ایسا مرد مجاہداور ہمدرد خلائق اٹھتا ہے جس کا مزاج استقلال واستقامت سے معمور ہے۔ یہ مرد مجاہد دارورسن کی پرواہ کیے بغیر آزادی کا علم بلند کرتا ہے۔ سب کو آزادی کی راہ دکھاتا ہے۔ صبرکی دعوت دیتا ہے۔ وسکون کی تسلی دیتا ہے۔ غموں  کا مداوا کرتا ہے۔ ان کی آواز میں  آواز ملا کر ملک ہندوستان کو برطانوی سامراجیت کے مسموم اثرات اور ناپاک عزائم سے پاک کرنا چاہتا ہے، تاکہ اس ملک میں بسنے والے تمام لوگ حریت اور آزادی کی پر سکون فضا میں  سانس لے سکیں۔ مشہور ادیب شکیب ارسلان نے لکھا ہے: لایجتمع الإسلام والمیل الی الاستعمار الأوروبي في قلب واحد۔ یعنی  اسلام اور یورپی سامراج کی طرف رجحان ایک دل میں  جمع نہیں  ہو سکتا ہے۔

یہاں  مشہور مورخ ڈاکٹر تارا چند کا ایک اقتباس نقل کردینا مناسب سمجھتا ہوں  جس سے سر زمین بنگال میں  پائی جانے والی آزادی کی تحریکوں  کا پس منظر سمجھنے میں  کافی مدد ملتی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

’’ بنگال کی فتح نے ان کو سنہرا موقع دیا۔ انہوں  نے اپنے اختیارات اپنے ہندوستانی اور دوسرے رقیبوں  کو تجارت کے میدان سے بھگا دینے کے لیے استعمال کیا۔ وہ کسٹم ڈیوٹی اور چنگی دینے سے انکار کرتے تھے۔ وہ اپنی اشیاء ہندوستانیوں  کے ہاتھ بڑی رقوم کے عوض بیچتے تھے۔ اسے بیچنے کے لیے دوسرے تجار کو منع کرتے تھے۔ وہ گاؤں  والوں  پر تشد آمیز دباؤ ڈال کر انہیں  مجبور کرتے تھے کہ وہ ان کی چیزیں  ناقابل برداشت قیمتوں  پر خریدیں  اور اپنی چیزیں  ان کے ہاتھ سستے داموں  پر بیچیں ۔ زندگی کی ابتدائی ضروریات کے لیے جو چیزیں  درکار ہیں  ‘ان پر ان کی اجارہ داری تھی۔ وہ دوسرے ذرائع بھی اپنی آمدنی کو بہت بڑھانے کے لیے اختیار کرتے تھے۔ وہ جرمانے عائد کرتے۔ ٹیکس وصول کرتے، اور ہندوستان کے مفلس قلاش اور دیوالیہ راجاوؤں  اور حکمرانوں  کو انتہاء سے زیادہ شرح سود پر قرض دیتے تھے۔ استحصال بالجبر، بد دیانتی اور رشوت پر ان کا عمل تھا ‘‘ (۷)

 فرائضی تحریک کے بانی مولاناشریعت اللہ فرید پوری:

فرائضی تحریک کے بانی مولاناشریعت اللہ صاحب صحیح روایت کے ۱۱۷۸ھ مطابق ۱۷۶۴ء میں  ضلع’’ فرید پور‘‘ کے ایک متوسط خاندان میں  پید ا ہوئے۔ جائے پیدائش ’’شمائل‘‘ ہے۔ (۸)

آپ کے والد جناب عبد الجلیل ایک معمولی تعلق دار تھے۔ حاجی شریعت اللہ صاحب ابھی اپنی عمر کی آٹھویں  بہاریں  دیکھ رہے تھے کہ والد ماجد کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ ۱۱۸۵ ھ مطابق ۱۷۷۱ء میں  والد کی وفات کے بعد چچا عظیم الدین نے بڑے ناز ونعمت سے پرورش وپرداخت کی، کیونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں  تھی۔ ۱۱۸۹ھ مطابق ۱۷۷۵ء میں  جس وقت مولانا شریعت اللہ صاحب کی عمر بارہ سال تھی، اپنے چچا کے ساتھ کلکتہ آگئیاور یہیں  مولانا بشارت علی سے قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد عربی اور فارسی زبان کی تعلیم کے لیے ضلع ہگلی کے ایک گاؤں  ’’پرپورا‘‘ گئے۔ جہاں  دو سال رہ کر ان دونوں  زبانوں  کو سیکھا۔ بعدہ اپنے دوسرے چچا عاشق میاں (جو اس وقت مرشد آباد کورٹ سے منسلک تھے)ان سے ملاقات کی غرض سے مرشد آباد گئے۔ وہاں  اپنے چچا کی نگرانی میں  رہ کرعربی اور فارسی زبان کی تعلیم جاری رکھااور ایک حد تک ان دونوں  زبانوں  میں  مہارت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ کلکتہ کی راہ لی جہاں  ان کے پہلے مربی ومرشد اور ابتدائی استاد مولانا بشارت علی اقامت پذیر تھے۔ مولانا بشارت علی انگریزوں  سے سخت نفرت کرتے تھے اور ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ مکرمہ جانے کے لیے فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں  نے مولانا شریعت اللہ کو اپنے اس ارادے سے باخبر کیا تو وہ بھی اپنے محترم استاد کے ہمراہ مکہ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ استاد اور شاگرد پر مشتمل یہ قافلہ ۱۱۹۵ھ مطابق ۱۷۸۱ء میں  مکہ کے لیے عازم سفر ہوا۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے انتظام تھا کہ مستقبل قریب میں  بنگال میں  اسلامی تحریک کی احیاء کے لیے مرکز اسلام، منبع ہدایت اور مہبط وحی مکہ مکرمہ میں  پوری طرح تیار ہوں ۔ اکثر مورخین کے بیان کے مطابق آپ کا یہ سفر طلب علم کے لیے تھا، جب کہ بعض مورخین اس طرف گئے ہیں  کہ آپ حج جیسی اہم عبادت کی انجام دہی کے لیے تشریف لے گئے تھے، مگر تاریخی شواہد اس کا ساتھ نہیں  دیتے ہیں، کیونکہ آپ نے جامع ازہر، مصرسے فراغت کے بعد ۱۲۱۴ھ مطابق ۱۸۰۰ ء میں  حج کیا۔ مکہ پہنچنے کے بعدابتدائی دو سال انہوں  نے مولانا مراد بنگالی کے گھر میں گزارے ‘جو کچھ عرصہ پہلے ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ میں  بود باش اختیار کرچکے تھے۔ ان کی زیر نگرانی عربی زبان وادب کے ساتھ اسلامی علوم کی تعلیم کے لیے شیخ طاہر سنبل مکی(۹)کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا۔ شیخ محمد طاہر سنبل مکی، مکہ کے بہت بڑے عالم اور مشہور حنفی فقیہ تھے۔ ان کا شمار محمد عابد سندھی اور محمد بن ناصر حازمی کے اساتذہ میں  ہوتا ہے۔ مسلسل چودہ سال تک ان سے اوردیگر اہل علم اور مشایخ سے کسب فیض حاصل کرتے رہے۔ شیخ طاہر مکی کے ہاتھ پر بیعت کرکے باضابطہ سلسلہ قادریہ میں  داخل ہوئے۔ ارض حجاز میں اسلامی علوم وفنو ن اورعربی زبان وادب میں  تمکن اور قدرت کے بعدمزید پختگی اور مہارت حاصل کرنے کے لیے عالم اسلام کی مشہور درس گاہ جامعہ ازہر مصر کے لیے رخت سفر باندھااوردو سال مقیم رہ کر عربی زبان اودب کے اساطین علم وفن سے خوشہ چینی کی۔ وہاں  کی لائبریریوں  اور کتب خانوں  سے بھی استفادہ کیا۔ جا مع ازہر مصر سے فراغت کے بعد حرمین شریفین کی زیارت کرتے ہوئے دوبارہ ارض حجاز کا سفر کیا۔ ۱۲۱۴ھ مطابق ۱۸۰۰ء میں  حج کیا۔ (۱۰)  اس کے بعد اپنے مرشد ومربی کی اجازت سے۱۲۱۷ھ مطابق ۱۸۰۲ء میں  اپنے ملک ہندوستان تشریف لائے۔ (۱۱)اس وقت ان کی عمر۳۸ سال تھی۔

مکہ سے واپسی کے بعد ان کی طبیعت صنم کدہ ہند میں  خوب جمی نہیں ۔ ادھر فرنگیوں  کی دھڑ پکڑ بھی جاری تھی جس کی وجہ سے حالات معمول پر نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ ارض مقدس مکہ کی راہ لی۔ مگر جلد ہی وطن واپس آگئے۔ یہ ۱۸۰۴عیسوی سال تھااور ہجری سنہ ۱۲۱۹ تھا۔ آپ عمر عزیز کی چالیسویں  بہاریں  دیکھ رہے تھے۔ یہ سفر پہلے کے مقابلہ کافی اچھا تھا۔ اس سفر میں  شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ(ولادت:۱۱۵ھ ۱۷۰۳ – وفات: ۱۲۰۶ھ ۱۷۹۲ء)کی اصلاحی تحریک کو قریب سے دیکھنے، پرکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کا بھر پور موقع ملا۔ شیح محمد اکرام لکھتے ہیں : قیام حجاز کے دوران ان کو شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک سے باخبر ہونے کا موقع ملا۔ (۱۲)

۱۸۰۲ء میں  (۱۳)وطن واپس آکر فرائضی تحریک کی بنیاد ڈالی اور اخیر عمر تک اس کی آبیاری میں  جٹ گئے اور اس کی ارتقاء کو اپنی سرگرمیوں  کامرکز ومحور بنالیااور اس تحریک کو پروان چڑھانے میں  اپنا خون پسینہ ایک کر دیا۔

 مولانا شریعت اللہ صاحب کا انتقال ۱۲۵۶ھ مطابق۱۸۴۰ء میں  اپنے پیدائشی وطن میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر قمری سنہ کے حساب سے ۷۸ سال اور عیسوی سنہ کے حساب سے ۷۶ سال تھی۔

فرائضی تحریک کا آغاز:

مکہ مکرمہ سے واپسی آپ نے ۱۸۰۲ ء میں ایک خاص انداز میں  فرائضی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ بنگال کے مسلمانوں  کی پہلی تحریک تھی جس کا اہل حدیث علماء اور عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔ اس کی توسیع وترقی میں  اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بانی مولانا شریعت اللہ صاحب سلسلہ قادریہ سے تائب ہو کر مسلک اہل حدیث کو گلے لگایا اور اہل حدیث کے نامور اور مشہور عالم کے طور پر شہرت پائی۔ (۱۴)  ان کے افکار ونظریات وہی تھے جو اہل حدیثوں  کے تھے۔ ان کی فرائضی تحریک :

بقول مولانا ابن احمد نقوی حفظہ اللہ : ’’وہابیت کی تتمہ تھی ‘‘ (۱۵)

اور بقول مولانامحمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ: ’’ وہابیت کے نام سے معروف ہوئی ‘‘  (۱۶)

اور شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی تحریک سے متاثر تھی۔ یہ تحریک اپنے قیام اور وجود کے اعتبار سے یہ تحریک سید احمد بریلوی اور شاہ محمد اسماعیل دہلوی کی تحریک تجدید وجہاد سے پہلے مانی جاتی ہے۔

وجہ تسمیہ :

مکہ مکرمہ میں  قیام کے دوران مولانا شریعت اللہ صاحب کے اندر اسلامی احکامات اور شرعی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا جو جذبہ اور داعیہ پیدا ہوا تھا‘ اسی داعیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں  نے اس تحریک کانام ’’فرائضی‘‘ رکھا۔ نیز جو کوئی اس تحریک سے وابستہ ہوتا تھا اس کوخصوصیت کے ساتھ اسلامی فرائض پر عمل پیرا ہونے پرزور دیا جاتا تھااور شامل ہوتے وقت سابقہ زندگی سے خاص طور پر توبہ کرائی جاتی تھی۔ (۱۷)

وجہ تسمیہ کی بابت مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں :

’’ اس کا نام’’ فرائضی‘‘ اس لیے پڑا کہ اس میں  شرعی فرائض کی بجاآوری پر خاص زور دیا جاتا تھا‘‘  (۱۸)

فرائضی تحریک کے مقاصداور اس کے برگ وبار :

کوئی بھی تحریک یونہی بلاوجہ وجود پذیر نہیں  ہوئی، بلکہ ہر تحریک کے کچھ نہ کچھ مقاصد ہوا کرتے ہیں۔ فرائضی تحریک کا اصل اوربنیادی مقصد برطانوی استعمار، فرنگی اقتدار اور غیر ملکی حکمرانوں سے ملک کو نجات دلانا تھا۔ جس وقت فرائضی تحریک پروان چڑھ رہی تھی اس وقت عام خیال تھا کہ اس تحریک کا اصل مقصد غیر ملکی حکمرانوں  کو نکالنا اور مسلمانوں  کے وقار کو بحال کرنا ہے۔

سابقہ صفحات میں  بیان کیا جا چکا ہے کہ مولانا شریعت اللہ اپنے استاد کی طرح انگریزوں  سے سخت نفرت کرتے تھے اور ان کی نکتہ چینی کرتے تھے۔ اسی بنا پر انہوں  نے ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ کی راہ لی تھی، لیکن انہیں  یہ شدید احساس بھی تھا کہ ملک ہندوستان سے غیر ملکیوں  کو بے دخل کرنابہت آسان نہیں  ہے۔ اس کے لیے عسکری قوت کے ساتھ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا شریعت اللہ کوایک گونہ یقین تھاکہ دعوت وتبلیغ کے ذریعہ افراد کو اپنی طرف راغب کرنا اور اپنا ہم نوااور ہم خیال بناناسب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ لہٰذا ان افراد کے ذریعہ سیاسی اقتدار کے لیے جِد وجہد آسان ہو جائے گی، کیونکہ ہندوستانی معاشرہ میں  مذہب کی جڑیں  کافی گہری اور بہت مضبوط ہیں۔ تمکین فی الارض کے لیے عقیدہ کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ اصلاح عقیدہ کے بغیر اللہ تعالی کی نصرت واعا نت بھی شامل حال نہیں  ہو سکتی، اس لیے انہوں  نے سب سے پہلے معاشرہ کی اصلاح کو اولیت دی اور اسی طرف اپنی پوری توجہ مرکوز کردی۔ یہ تحریک کے مقصد ومنشور کو عوام میں  پیش کر نے کاایک اہم ذریعہ بھی تھا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس ماحول میں  مولانا نے آنکھیں  کھولی تھیں  دینی اعتبار سے ماحول سازگار نہ تھا۔ شرک کا دور دورہ تھا۔ رب واحدکو چھوڑ کر غیر وں  کے سامنے سر جھکائے جاتے تھے۔ مزاروں  اور درگاہوں  پر نذر ونیاز پوری کی جاتی تھی اورغیر اللہ کے نام کے فاتحے پڑھے جاتے تھے۔ آستانوں  اور قبروں  سے مدد مانگی جاتی تھی۔ الغرض ہر طرح کی بدعات وخرافات موجود تھیں۔ بیس سال مکہ میں  قیام کے دوران جو کچھ دیکھا تھا وہ آپ کے قلب وذہن پر اچھی طرح مرتسم تھا۔ وہاں  نہ غیر اللہ کی عبادت تھی اور نہ غیر اللہ سے دست گیری تھی۔ نہ آستانوں  سے استمداد تھی اور نہ مزاروں  سے استعانت۔ نہ درگاہیں  تھیں  اور نہ قبروں  پرمیلے ٹھیلے۔ نہ غیر اللہ کے نام کی نذریں  تھیں  اور نہ غیر اللہ کے نام کے نذرانے۔ کتاب وسنت پر مبنی وہ صاف ستھرا ماحول جو مولانا شریعت اللہ نے وادی غیر ذی زرع ارض حجاز اور مکہ میں  دیکھا تھا، ہندوستان کی سرزمین پر عنقا نظر آیا، اس لیے انہوں  اصلاح معاشرہ کے لیے کمر کس لی۔ اصلاح کا آغاز اپنے گاؤں  سے کیا۔ اس وقت تک آپ بحیثیت عالم مشہور ہو چکے تھے۔ کئی سال تک نہایت خاموشی کے ساتھ گاؤں  میں  درس وتدریس، دعوت و تبلیغ، لوگوں  کو معروف کی طرف بلانا اور منکرات وسیئات سے بچانا اپنے فرائض میں  شامل کیا۔ توہم پرستی کو دور کیا۔ ذات پات، چھوت چھات اور طبقاتی امتیاز کو مٹانے کی کوشش کی۔ بیعت لیتے وقت ہاتھ میں  ہاتھ لینے کی رسم بھی ختم کردی۔ ۔ توحید کی دعوت، سنت کی اتباع، دین اسلام کا احیاء، تقوی وطہارت، گناہوں  اور معاصی سے اجتناب کی طرف بلایا۔ فاتحہ خوانی، پیری، مریدی اور قبر پرستی کا استیصال کیا۔ عرس کا انعقاد، ماہ محرم کے تہواروں  میں  شرکت اور تعزیہ کے مراسم کو بیخ وبن سے اکھاڑپھینکنا۔ چھٹی، چلہ، بچوں  کی پیدائش پر ہونے والے غیر اسلامی رسوم کو مٹایا۔ نکاح بیوگان کی حمایت کی۔ عقیقہ پر زور دیا اور اسے نومولود کا حق قرار دیا۔ اس میں  کچھ کامیابی ملی تو گرد وپیش میں  دعوت کا کام شروع کردیا۔ اب یہ دعوت اور یہ تحریک آپ کی رگ وجان میں  پیوست ہو گئی۔ جب آپ کا حلقہ احباب بڑھ گیا تو معاشرے میں  اتر کر مروجہ ماحول اور غیر اسلامی رسم رواج سے بغاوت کی۔ ہندوانہ مراسم جو مسلمانوں  کی زندگی کا جزو لانیفک بن گئے تھے، اس پر سخت نکیر کی۔ مسلمانوں  کو سختی کے ساتھ غیر اسلامی رسم ورواج کے اپنانے سے منع کیا۔ بدعات وخرافات کی پرزور مخالفت کی۔ عقائد اور اعمال کی اصلاح پر پورا زور صرف کیا۔ چند سال گزرنے کے بعد آپ کی دعوت کے برگ وبار نظر آنے لگے۔ جیمس ٹیلر کے بقول : غیر معمولی سرعت کے ساتھ حاجی شریعت اللہ کی تحریک پھیلنے لگی۔ لوگوں  کی اصلاح میں  انہیں  کامیابی ملنے لگی اور اندازاً ڈھاکہ، فرید پور، باقر گنج اور میمن سنگھ کی مسلم آبادی میں  ہر چھٹا فرد مولانا شریعت اللہ کی تعلیم وتربیت اور دعوت سے متاثر تھا۔ (۱۹)

مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں :

’’تھوڑی ہی مدت میں  ان کا اثر دور دور تک پھیل گیا۔ غریب مزدوراور کسان ان کی تحریک اصلاح سے حد درجہ متاثر ہوئے اور سب مولوی صاحب پر جانیں  چھڑکنے لگے‘‘ (۲۰)

 اس صورت حال کو دیکھ کرگرد وپیش کے علماء نے سخت مخالفت کی۔ ان میں  سب سے زیادہ مخالفت مولانا کرامت علی جون پوری نے کی جو اس وقت اس علاقہ میں  حنفیت کی ترویج واشاعت میں  مصروف تھے۔ اس کی پوری تفصیل نزھۃ الخواطرمیں  مولانا عبد الحی لکھنوی نے بیان کی ہے۔

ایک طرف یہ اصلاحی مقاصد تھے تو دوسری طرت اس تحریک کے ذریعہ مولانا چریعت اللہ نے بنگال میں  انگریزوں کے خلاف لوائے جہاد بلند کیا اور ان کے زیر حکومت بنگال کودار الحرب قرار دیا۔ (۲۱)

اس سلسلہ میں  مولانا شریعت اللہ نے پہلا کام یہ کیا کہ زمین کی جبری وصولیوں  کے خلاف زمینداروں  کو دین کے نام پر متحد کیا۔ مسلمان کاشت کار، انگریز اور ہندوزمینداروں  کے مظالم کا شکا رتھے اس لیے فرائضی تحریک کے پیغام سے متاثر ہونا شروع ہوئے اور مولانا شریعت اللہ ایک ہمدرد اور مسیحا کے طور پر ابھرے۔ ان کی مہم کا اثر تھا کہ بہت جلد ان کے ارد گرد ایک وسیع حلقہ تیار ہوگیا۔ اور دیکھتے دیکھتے بنگال کے اکثر علاقوں  میں ان کے افکار وخیالات کا چرچہ اوران کی تعلیمات وارشادات کے متعلق گفتگو ہونے لگی۔

قصہ مختصر یہ کہ فرائضی تحریک کے بانی مولانا شریعت اللہ نے مسلمانان بنگال کے عقیدے اور عمل کی اصلاح کے ساتھ ان میں  انگریزوں  کے خلاف جذبہ جہاد کو ابھارنے کی کوشش کی۔ اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے اور تحریک کو منظم اور فعال بنانے کے لیے فرنگی حکومت کو اسلام دشمن قرار دے کر ہندوستان کو دارالحرب ہونے کا اعلان کردیا۔ (۲۲)

فرائضی تحریک کے خلاف انگریزوں  کی سازشیں :

ہندوستان کودارالحرب ہونے کے اعلان نے انگریزوں  کے تن من میں  آگ لگادی۔ انہوں  نے فرائضی تحریک کو نیست ونابود کرنے کے لیے فرائضی مخالفین گروہوں  سے ساز باز شروع کردی۔ وہ زمیندار جو ٹیکس کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے نالاں  تھے، ان زمینداروں  نے فرائضی مخالفین گروہ کے کسانوں  کو بھڑکایا، جس سے مختلف دیہاتوں  میں  فساد کے شعلے بلند ہونے لگے۔ بالآخر فرائضی تحریک کے جانبازوں  اور ان کے مخالفین کو نقض امن کے تحت گرفتا کر لیا گیا۔ موقع پاتے ہی زمینداروں  نے نہایت گھناؤنا کردار اد اکیا اور جی جان سے اس کی پیروی میں  لگ گئے۔ آخرش فرائضی تحریک کے جیالوں  کو دود و سو روپیہ جرمانہ اور ایک سال قید کی سزاسنائی گئی۔ بانی تحریک مولانا شریعت اللہ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، لیکن عدم ثبوت کی وجہ سے پس دیوارزنداں  نہ ہوسکے۔ بطور ضمانت دو سو روپیے لے کر انہیں  رہا کردیا گیا۔

اس رہائی کو انگریزوں  نے اپنی ناکامی سے تعبیر کیا اور اپنی اس خفت اور ناکامی کو دور کرنے کے لیے نئی نئی چالوں  کے تانے بانے بننے لگی۔ روز بروز عائد کردہ پابندیوں  سے عرصہ حیات تنگ ہونے لگااور آپ کی سرگرمیاں  پولیس کی کڑی نگرانی کا محور بن گئیں ۔ مخالفین نے یہ اطلاع بھی پہنچا دی کہ مولانا شریعت اللہ اپنے معتقدین اور ممبران کو ہدایت کردی ہے کہ وہ زمین داروں  کومذہبی تہواروں  کے لیے مقرر کیا ہوا ٹیکس ہر گز نہ دیں ۔ ان پابندیوں  کو لے کر بانی تحریک فکر مند رہنے لگے اور اس کے تحفظ کی ترکیب تلاش کرنے لگے۔ یہ طے پایا کہ نیاباری جو اس تحریک کاشروع سے اب تک مرکزرہا ہے، اسے آبائی وطن میں  منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہاں  بھی مولانا شریعت اللہ نے اپنی سرگرمیاں  جاری رکھیں  اور تحریک نے تیزی سے ترقی کے منازل طے کیا۔ ان کے پیروکاروں  کو مختلف الزامات میں  کئی بار کورٹ میں  حاضری دینی پڑی۔ نیاباری(ڈھاکہ) سے منتقل ہونے کے چند سال بعد اپنے آبائی وطن میں  ۱۲۵۶ھ مطابق۱۸۴۰ء میں  مولانا شریعت اللہ کا انتقال ہوگیا۔ اسی کے ساتھ اس تحریک کا پہلا دور ختم ہوااوران کے فرزند دودو میاں  کی قیادت میں  دوسرے دور کا آغاز ہوا۔

ایشیاٹک سوسائٹی کا رسالہ اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ مولانا شریعت اللہ کے ارد گرد جاہل مسلمان کاشت کاروں  کی کا ایک جم غفیر اکٹھا ہو گیا۔ مسلم آبادی کی ایک بڑی تعداداس تحریک سے متاثر ہوگئی۔ اس تحریک کے متوالوں  اور ممبران سے بانی تحریک اپنے حکم پر عمل کروانے کی پوری طاقت اور قدرت رکھتے تھے۔

مولانامحمد محسن عرف دادو میاں:

دودو میاں  (دادو میاں )مولانا شریعت اللہ کے اکلوتے فرزند ہیں  ان کا نام حافظ مولانا محمد محسن ہے۔ بنگال کے عام مسلمان انہیں  پیار سے دودو میاں  (دادو میاں )کہتے تھے۔ ۱۲۳۴ھ مطابق ۱۸۱۹ء میں  پیدا ہوئے۔ والد کی نگرانی میں  خاص تربیت پائی۔ حفظ قرآن اور ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ۔ جس طرح ان کے والد بارہ سال کی عمر میں  اپنے چچا کے ہمراہ حصول تعلیم کے لیے کلکتہ آگئے تھے اسی طرح دود ومیاں  (دادو میاں )بارہ برس کی عمر میں  اعلی تعلیم کے لیے مکہ کا سفر کیااور وہاں  کے علماء سے کسب فیض کیا۔ کن اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا مصادر اس سلسلہ میں  خاموش ہیں۔ تاہم اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ مکہ میں  پانچ سال مقیم رہے۔ بعدہ وطن واپس آئے۔ یہ کوئی ۱۲۵۴ھ مطابق ۱۸۳۸ء کا سال تھا۔

دودومیاں  کی جانشینی اور کارنامے:

۱۸۴۰ میں  مولانا حاجی شریعت اللہ کے انتقال کے بعد حافظ مولانا محمد محسن عرف دود و میاں  (دادو میاں )نے اکیس سال کی عمر میں  فرائضی تحریک کی باگ دوڑ سنبھالی اور اس کی آبیاری میں  خون پسینہ ایک کرکے اسے عروج وارتقاء سے شاد کام کیا۔ والد محترم کی تاسیس کردہ تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے سر گرم اور فعال بنے رہے۔ بنگال کے عام مسلمان ان کو پیار سے دودو میاں  (دادو میاں )کہتے تھے اور اسی عرفیت سے مشہوربھی ہو گئے۔ فرائضی تحریک کو منظم کرنے میں  بہت اہم کردار ادا کیا اور اس کی تعمیر میں  اپنی پوری صلاحیت کو جھونک دیا۔ جس کمال وخوبی سے اسے آگے بڑھایا، اس سے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی غماز ہے۔ آپ کی محنت شاقہ کا اندہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تحریک اپنے بانی کے زمانہ میں  چند اضلاع میں  محدود تھی، مگر جب اس کی زمام دودو میاں کے ہاتھ میں  آئی تو اسے بنگال کے گھر گھر میں  پہونچا کرکے دم لیا اور ایک بڑے حصہ پر متوازی حکومت بھی قائم کردی۔ بنگال کی سرکار کے پولیس سپر نٹنڈنٹ ڈیمپیرکا خیال ہے کہ ۱۸۴۳ء تک دودوا میاں  (دادو میاں )نے اپنے حلقہ احباب میں  اسی ہزار افراد کو شامل کر لیا تھا۔ (۲۳)

اس تعداد نے سچ ثابت کر دیا کہ دودو میاں (دادو میاں ) خیر خلف لخیر سلف کے حقیقی مصداق تھے۔

غلام رسول مہر لکھتے ہیں:

بے خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی بنگال کے بڑے حصہ میں  انہوں  نے ایک نوع کی متوازی حکومت قائم کر دی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ کسانوں  کی تنظیم کی یہ پہلی کامیاب تحریک تھی جو مشرقی بنگال میں  جاری ہوئی۔ افسوس کی دودو میاں  کی وفات کے بعد اس کی سپرستی کرنے والا کوئی نہ رہا۔ (۲۴)

جانشینی کے بعدسب سے پہلے انہوں  نے گرد وپیش اورزمینی حقائق کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پانچ اقدامات کیے:

بنگال کو مختلف حلقوں  میں  تقسیم کرکے ہر حلقہ کا الگ الگ نگراں  متعین کیا۔

ہر حلقہ میں  دین دار بزرگوں  کی قیادت میں ان کی اپنی پنچائتیں  قائم کیں  جو ہر قسم کے تنازعات کا فیصلہ کیا کرتی تھیں۔ اگر کوئی مقدمہ انگریز ی عدالت میں  لے جاتا تو اسے سماج کی طرف سے مقررہ سزا دی جاتی تھی۔

 تحریک کے استحکام کے لیے بیت المال کو منظم کیا۔

مذہبی پہلو کو مستحکم کرنے کے لیے پیر ومرید کی اصطلاح کا اعادہ کیا۔ اس سے ان کا مقصد جذباتی رشتہ میں  اضافہ کرنا تھا۔

الارض للہ کا نعرہ بلند کیا اور اعلان کیا کہ زمین اللہ واحد کی ملکیت ہے۔ اس پر کسی کو کوئی حق حاصل نہیں  ہے کہ بطور وراثت اس پر قابض ہو۔ جو لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں  اور اس پیشہ سے منسلک ہیں، وہی اس کے حقیقی مالک ہیں۔ نام نہادمالکان ان سے کوئی لگان وصول کرنے کے قطعاً حق دار نہیں ہیں۔

 اس اعلان پر بڑے بڑے زمین دار دودو میاں (دادو میاں ) کے دشمن ہو گئے۔ ان کے خلاف متعدد فوجداری، ڈکیتی اور مداخلت بے جا کے کئی مقدمات قائم کرائے گئے۔ ۱۸۴۱ء میں  ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ ۱۸۴۲ء میں  دودو میاں  (دادو میاں )کو ناکافی شہادت کی وجہ سے خوش قسمت ثابت ہوئے۔ نیز۱۸۴۷ء سے ۱۸۵۷ء تک فریقین کے درمیان مقدمات اور جوابی مقدمات کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ بعض مقدمات میں  گواہ نہ ملنے کے باعث بری رہے اور بعض میں کافی دنوں  تک مقدمہ چلا اور ماتحت عدالتوں  نے سزائیں  دی۔ ۱۸۵۷ ء میں  دودو میاں  (دادو میاں )کو نظر بند کر کے علی پور کی جیل میں  رکھا گیا۔ پھر بعد میں  فرید پور کی جیل میں  منتقل کر دیا گیا۔ ۱۸۵۹ء میں  اس حبس بے جا سے رہائی نصیب ہوئی۔ (۲۵)

رہائی کے تین سال بعد ۱۸۶۲ء میں دودو میاں  (دادو میاں )داغ مفارقت دے گئے۔ ان کے انتقال کے بعد اس تحریک کی مقبولیت ماند پڑ گئی اور نہ اسے ایسا قائد ملا جو اس تحریک کو زندہ رکھ سکا تاہم مولانا شریعت اللہ کی فرائضی تحریک کے خوش نمااثرات نثار علی عرف تیتو میاں  کی تحریک میں  نظر آنے لگے۔

کیا فرائضی تحریک محمد بن عبد الوہاب کی تحریک سے متاثر ہے؟     

’’کہا جاتا ہے کہ انہوں  نے (یعنی مولانا شریعت اللہ نے) اپنی اصلاحات کے معاملہ میں  وہابیوں  سے استفادہ کیا تھا، مگر یہ صحیح معلوم نہیں  ہوتا۔ انہوں  نے مکہ میں  ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی تھی جو وہابی مذہب کے خلاف تھے َ‘‘  (۲۶)

یہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی تحریر ہے۔ ان کے خیال کے مطابق مولانا شریعت اللہ صاحب کی تحریک وہابی تحریک سے متاثر نہیں  تھی۔ حالانکہ ایسی بات نہیں  ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولاناشریعت اللہ پہلی مرتبہ جب مکہ گئے تھے تو اس وقت وہابی تحریک سے بالکل متاثر نہیں  تھے، لیکن اس کی باز گشت مکہ کی گلیوں  اور کوچوں  میں  سنائی دے رہی تھی اور بقول شیخ محمد اکرام ’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک سے بھی باخبر ہونے کا موقع ملا‘‘   (۲۷)

کیونکہ ان کے قیام کے دوران ہی وہابیوں  کا مکہ پر قبضہ ہوا تھا، تاہم ان کی اصلاحی تحریک سے استفادہ کا موقع میسر نہیں  ہو سکا تھا، کیونکہ وہ ایک خاص ماحول سے باہر نہیں  نکل پائے تھے اور ان کے اوپر اپنے اساتذہ کی چھاپ اور احباب کی چاپ حاوی تھی، لیکن جب دوسری بار مکہ گئے تووہابیوں  کے درمیان رہ کر وہابی تحریک کو نہایت قریب سے دیکھا اور اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اورجب ہندوستان واپس آئے تو اسی منہج اور طرز پر اپنے دعوتی کاز کو آگے بڑھایا۔ مکہ میں  وہابی تحریک کے کن افراد سے ان کی ملاقات ہوئی اور کن لوگوں  کے درمیان رہنے کا موقع ملا، میرے سامنے موجود مصادر اس بات سے بالکل خاموش ہیں۔

 بعض مورخین نے ڈاکٹر قریشی کے خیال سے اختلاف کیا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر قیام الدین احمد لکھتے ہیں : ’’انہوں  نے (یعنی شریعت اللہ نے)مسلم معاشرہ کی سماجی اصلاح کی تحریک جو ۱۸۰۲ ء میں  شروع کی تھی وہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کی تحریک سے بالکل مشابہ تھی ‘‘ (۲۸)

 جگدیش نرائن سرکارکا خیال ہے کہ مولانا شریعت اللہ وہابی تحریک سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اگر چہ اس کے بعض سیاسی افکار سے اتفاق نہیں  رکھتے تھے۔ (۲۹)

 خواجہ احمد فاروقی نے یہاں  تک کہہ دیا کہ: فرائضی تحریک وہابی تحریک کی شاخ ہے۔ (۳۰)

  واضح رہے کہ یہاں  وہابی تحریک سے مراد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک مراد ہے۔ نہ کہ سید احمد شہید اور مولانا محمد اسماعیل دہلوی کی تحریک جسے انگریزوں  نے وہابی تحریک کانام دیا تھا، کیونکہ اس وقت تحریک شہیدین بنگال میں  داخل ہی نہیں  ہوئی تھی۔ غالباً اسی وجہ سے مولانا غلام رسول مہر نے بھی فرائضی تحریک کے سید احمد شہید کی تحریک کے ساتھ تعلق کا انکار کیا ہے۔ راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق تحریک شہیدین سنہ۱۲۳۶ھ مطابق ۲۰-۱۸۲۱ ء میں  حدود بنگال میں  داخل ہوئی۔

فرائضی تحریک پر ایک نظر اور تحریک کے اثرات:

فرائضی تحریک اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے عبد اللہ ملک لکھتے ہیں:

’’مسلمانوں  کے درمیان مساوات اور اخوت پر ان کے یہاں  بڑا زور تھا۔ امیر غریب دونوں برابر تھے۔ اس درس مساوات سے کاشت کاروں  کو جرأت حاصل ہوئی۔ کاشت کار بیگار دینے سے انکار کرنے لگے۔ ناجائز ٹیکسوں  کی ادائیگی سے بھی گریز ہونے لگا۔ کسانوں  میں  ا س جرأت انکارکے پیدا ہو جانے سے زمیندار پریشان ہوگئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کئی ایک انگریز بھی پریشان حال زمینداروں  کے حلقے میں  شامل ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فرائضی تحریک کی اخوت نے انگریز اور ہندو زمینداروں  کو ہراساں  کر دیا، کیونکہ اب زمینداروں  کی زیادتیاں  ناممکن ہو ئی تھیں  ‘‘  (۳۱)

ڈاکٹر ایس، پی چودھری نے ہندوستان میں  مختلف تحریکات مخالف برطانیہ کی نوعیت پر اپنے پر از معلومات مقالہ میں  فرائضیوں  کے متعلق نہایت صحیح تبصرہ کیا ہے کہ یہ:

’’ وہابی سماجی اور اقتصادی اعتبار سے مجبور کاشت کاروں  کے طرف دار تھے جن کو انہوں  نے اونچے طبقوں  کے مظالم سے باچانے میں  مدد کی‘‘  (۳۲)

شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں :  انیسویں  صدی میں  اسلامی بنگال کی روحانی علاحدگی کا خاتمہ ہوا اور ہندووانہ اثرات کاجادو ٹوٹا اس کی اصل وجہ نئی اسلامی تحریکیں  تھیں۔  (۳۳)

انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں  فرائضی تحریک کے اثرات کا جائزہ اس طرح لیا گیا ہے:

 ’’وہ (حاجی شریعت اللہ) مشرقی بنگال کے تاریک ترین حالات میں  ابھرے اور ان تمام توہمات اور بد عقیدگیوں  کے خلاف آواز اٹھائی جو عرصہ دراز سے ہندوؤں  کے میل جول سے، ان کے مشرکانہ رسوم سے متاثر ہو کر پید اہو گئی تھیں۔ یہی نہیں، بلکہ بنگال کے سرد مہر اور غافل مسلمان اس تحریک کی بدولت ایک بات پھر عزم وجوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان اثرات کا محرک وہی شخص ہو سکتا تھا جو مخلص اور ہم درد خلائق ہوتااور یہ بات شک وشبہ سے بالا تر ہے کہ حاجی شریعت اللہ سے زیادہ بنگال میں  عوام سے ہمدردی اور محبت کا داعی کوئی پید انہیں  ہوا۔ (۳۴)

سید میر بادشاہ فرائضی تحریک کی تنظیمی صلاحیت اور تاثیر پر روشنی دالتے ہوئے رقم طراز ہیں :

’’ یہ تحریک اتنی فعال تھی اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ اتنی مضبوط بنیادوں  پر استوار ہوا تھا اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اتنی ہمہ گیری تھی کہ اس تحریک نے ایک متبادل حکومت قائم کیاور چونکہ وہ برٹش حکومت کو ناجائز تصور کرتے تھے اس لیے اپنے مقدمات کے فیصلوں  کے لیے انگریزی عدالتوں  کا بائیکاٹ کیا۔ یہ امر واقع ہے اور اس زمانی کا ریکارڈ اس پر شاہد ہے ہے کہ جہاں  جہاں  بھی یہ تحریک زیادہ قوی اور بااثر تھی وہاں  مسلمانوں  کا ایک معاملہ بھی تصفیہ کے لیے برٹش عدالت میں  نہیں  گیا۔ فی الحقیقت اس تحریک نے مسلمانوں  میں  احیائے اسلام کے لیے ایک زبردست جذبہ پروان چڑھایا‘‘ (۳۵)

مقالہ کا خلاصہ کلام او پیغام:

فرائضی تحریک درا صل احیائے اسلام کی ایک کوشش تھی، مگر حاجی شریعت اللہ کی انگریزوں  سے سخت نفرت کی وجہ سے اس تحریک کے بڑھتے اثرات اور عوام میں  اس کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حاجی صاحب نے آزادی کا نعرہ دیا جن کی ایک ہی آواز پر پورے بنگال کے لوگ نوم سبات سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر دودو میاں  کی شمولیت نے اس تحریک کو اور زیادہ منظم وفعال بنا دیا۔ امت کی اصلاح اور ملت کی درستی اور صحیح رہنمائی کے لیے قائم کی گئی اس تحریک کے بانیان نے تحریک آزادی اور استخلاص وطن میں  حصہ لے کر انگریزوں  کے لیے وبال جان بن گئے جس کی بنیاد مشرقی بنگال میں  ایک بڑے حصہ پر انہوں  نے ایک متوازی حکومت قائم کر لی تھی مگر ناکامی قسمت دودو میاں  کی وفات ہو گئی۔

اس تحریک کے بانی مولانا شریعت اللہ اہل حدیث کے مشہور ومعروف عالم دین تھے اور شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک سے متاثر تھے۔ فرائضی تحریک میں  ان کے افکار و نظریات کی باز گشت تھی۔ تحریک اہل حدیث نے ہر دور میں  ظلم وتعدی اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب لوگ دہشت گردی کا قلع قمع کریں  اور ملک ہندوستان میں  امن وسلامتی کا ماحول بنائیں ۔ ہمارے برادران وطن اور دیگر برادران اسلام اس حقیقت سے خوب اچھی طرح واقف ہیں  کہ سلفی مکتب فکرہی اسلام کی صحیح تعبیر اورتشریح ہے، اسی لیے اس کے خلاف عالمی اور ملکی سطح پر سازشیں  ہو رہی ہیں ۔ بیگانہ تو بیگانہ، خود اپنے لوگ بھی سلفی مکتب فکر کو بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں  چھوڑ رہے ہیں  اور اپنے خبث باطن کواپنی زباں  پر لاکرصاف ستھرے ماحول کو زہر آلود کر ہے ہیں  اور گنگا جمنا تہذیب کو برباد کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے حالات میں  ہم کو بڑے صبرو ضبط اور مستحکم حکمت عملی کے ساتھ صحیح اسلام کی کما حقہ اشاعت پر توجہ دینا چاہیے۔ استخلاص وطن کے تعلق سے جماعت اہل حدیث کی جو نمایاں  خدمات واسہامات ہیں  ان کوتحریروں ، تقریروں  اور لٹریچروں  کے ذریعہ منظر عام پر لانا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے تاکہ تاریخ ایک حقیقی تاریخ بنی رہے اور تاریخ سازی اور تاریخی بتنگڑ کی قدغن سے محفوظ رہ سکے۔

حواشی اور مصادر ومراجع:

(۱)    مناقب عمر بن الخطاب (ص: ۹۸ – ۹۹)

(۲)    البدایہ والنہایہ (۷/ ۴۹)مفہوم الولاء والبراء فی الاسلام (ص: ۱۵۷)

(۳)    ہندوستانی مسلمان – ایک تاریخی جائزہ (ص: ۳۴)

 (۴)   بر صغیر پاک وہند کے چند تاریخی حقائق، ص: ۵۲)

(۵)    تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں : اہل حدیث اور سیاست از علامہ مولانا نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ، تحریک جہاد جماعت اہل حدیث اور علمائے احناف از مولانا حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ۔

 (۶)   دیکھیں :سال نامہ تاریخ اہل حدیث( ص: ۹۲)

(۷)    تاریخ تحریک آزادی ہند (۱/ ۳۴۰ – ۳۴۱)

 (۸)   دیکھیں : نزھۃ الخواطر (۷/۹۸۶)ہندوستان میں  وہابی تحریک، از ڈاکٹر قیام الدین احمد(ص: ۱۲۳)

  معین الدین احمد خان کی تحقیق کے مطابق ان کی تاریخ ولادت ۱۷۸۱ء ہے۔ دیکھیں : A History of the Faraidi Movement in bengal, Part:1,2,Page:11- 12, printed at karachi  فیصل احمد بھٹکلی ندوی نے تحریک آزادی میں  علماء کا کردار(ص: ۴۳۷)میں  اسی تاریخ کو راجح قرار دیا ہے، جبکہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ (۱۵/ ۲۲۲-ناشر : پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال)میں  ۱۸۷۰ ء اورعبد اللہ ملک کی تحقیق کے مطابق ۱۷۸۰ء تاریخ ولادت ہے، لیکن یہ تینوں  تاریخیں تحقیق کی کسوٹی پر غلط ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ مولانا عبد الحی لکھنوی اور دیگر مورخین نے ان کی تاریخ ولادت سنہ ۱۱۷۸ہجری لکھا ہے اور یہ سنہ ہجری، عیسوی سنہ کے مطابق ۱۷۶۴ قرار پاتا ہے نہ کہ ۱۷۸۱ء۔ مزید برآں  سنین کی تفصیلات، حصول تعلیم کی عمر، اٹھارہ برس کی عمر میں  مکہ کے لیے رخت سفر باندھنے کی تاریخ اور پھر بیس سال مکہ میں  قیام کی مدت یہ سب اسی تاریخ کی تائید کرتی ہیں  جو قیام الدین صاحب نے بیان کی ہے۔ اس سلسلہ میں  عصرحاضر کے بعدبعض اہل قلم نے بڑی پیچ وخم کھایا ہے جو عدم تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ تاریخ کی کڑیوں  کو ملاتے تو یقیناً اس طرح کی غلطی در نہ آتی۔

   اسی طرح جائے پیدائش کے بارے میں  مصادر میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثر مورخین اورمولانا غلام رسول مہر کی تحقیق کے مطابق ’’بہادر پور‘‘ ان کی جائے ولادت ہے۔ سر گزشت مجاہدین (ص: ۲۱۴) سید طفیل احمد منگلوری نے اپنی کتاب: مسلمانوں  کا روشن مستقبل (ص: ۱۲۶، طبع:مکتبہ حق، ممبئی)میں  لکھا ہے کہ وہ’’بہادر پور ‘‘ کے رہنے والے تھے۔ ۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (۲/ ۷۸۳)میں  جائے پیدایش ’’بندر کھولہ‘‘ لکھا ہے اور بندر کھولہ کو پرگنہ کہا ہے۔ مولانا عبد الحی لکھنوی نے نزھۃ الخواطر (۷/۹۸۶)میں ایسا ہی رقم کیا ہے۔ مولانا ڈاکٹر قیام الدین نے ہندوستان میں  وہابی تحریک (ص: ۱۳۳)میں  ’’بہاولپور‘‘ لکھا ہے جو تصحیف اور کتابت کی غلطی ہے۔ معین الدین احمد کی تحقیق کے مطابق ’’شامیل‘‘نامی گاؤں  میں  پیدا ہوئے اسی کو فیصل احمد بھٹکلی ندوی نے اپنی کتاب تحریک آزادی میں  علماء کا کردار (ص: ۴۳۷)میں  اولیت دی ہے۔ شامیل، مداری پور سب ڈویژن(محکمہ) میں  واقع تھا اورمداری پور اس وقت باقر گنج ضلع میں  تھا۔ پھر ۱۸۷۳ء میں  سب ڈویژن کوفرید پور ضلع کے ساتھ الحاق کر دیا گیا۔ راقم الحروف کی تحقیق میں ’’شامیل ‘‘ نہیں  ’’شمائل ‘‘ہے جومحکمہ ’’مداری پور‘‘میں  تھا۔ ۱۹۸۴ء میں ’’فرید پور ‘‘ضلع سے الگ ہو کر خود ضلع بن گیا۔ فی الحال یہ بنگلہ دیش میں  ہے۔

(۹)    ان کا پورا نام:طاہر بن محمدسعید بن محمد سنبل مکی ہے۔ مکہ میں  پیدا ہوئے اوروہیں  نشونما پائی۔ دینی علوم سے آراستہ ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں  علم فقہ حنفی میں  ان کے پایہ کا کوئی عالم نہ تھا۔ النفحۃ القدسیہ شرح المنظومۃ النسفیۃ، حاشیۃ علی مناسک الدر المختار، العقد الوضاح في شروط عقد النکاح کے مصنف ہیں۔ ۱۲۱۸ھ مطابق ۱۸۰۳ء میں  مکہ میں  انتقال ہوا۔

(۱۰)  دعوۃ الشیخ محمد بن عبد الوہاب واثرہا فی العالم الاسلامی (ص: ۸۳)از محمد بن عبد اللہ بن سلیمان السلمان۔ طبع وزارت اسلامی امور، سعودیہ عربیہ، ۱۴۲۲ھ)

(۱۱)  دیکھیں :نزھۃ الخواطر (۷/ ۹۸۶) سرگزشت مجاہدین از غلام رسول مہر(ص: ۲۰۲)مسلمانوں  کا روشن مستقبل از سید طفیل احمد منگلوری (ص: ۱۲۶) اور عزیر احمد نے اپنی کتاب: Studies in Islamic Culture in the Indian Environment ,Page: 216  میں  ۱۸۰۲ ء کو صحیح ترین قرار دیا ہے۔ اردودائرہ معارف اسلامیہ (۱۵/ ۲۲۲)میں  وطن واپسی کی تاریخ ۱۸۲۰ء تحریر ہے۔ فیصل احمد بھٹکلی ندوی نے تحریک آزادی میں  علماء کا کردار (ص: ۴۳۸)میں  ۱۸۱۸ء کو وطن واپسی کی تاریخ درج کی ہے۔ بعد کی دونوں تاریخیں  غلط ہیں۔

(۱۲)  موج کوثر، ا زشیخ محمد اکرام(ص: ۸۵)

(۱۳)  یہ ڈاکٹر قیام الدین احمد کی تحقیق ہے۔ دیکھیں : ہندوستان میں  وہابی تحریک (ص: ۱۲۳)راقم کے خیال میں  یہی درست ہے، کیونکہ مکہ کا دوبارہ سفر تحریک کے قیام کے بعد ہی ہے۔ تحریک آزادی میں  علماء کا کردار (ص: ۴۳۹)میں مولانافیصل احمد بھٹکلی ندوی کی تحقیق بھی یہی ہے۔ محمد اسحاق بھٹی نے بر صغیر میں اہل حدیث کی اولیات(ص: ۱۲۱) میں اور دیگر مورخین نے ۱۸۰۴ء کو تحریک کے قیام کی تاریخ بتائی ہے۔ )

 (۱۴) بعض نگاروں  نے ان کو کھینچ تان کر حنفی بنانے کی کوشش کی ہے۔ مولانا شریعت اللہ صاحب کا اہل حدیث ہونا یہی قرین قیاس ہے اور یہی برحق بھی ہے۔ واضح رہے کہ مولانا نے جن سے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور جن کے ہمراہ مکہ گئے اور جس گھر میں  پڑاؤ ڈالا اورجن کے سامنے زانوئے تملذ تہ کیا وہ سب حنفی مکتب فکر سے متاثر تھے۔ علاوہ ازیں  سلسلہ قادریہ کی بیعت ورادت نے مزید پختگی عطا کی تھی۔ مصر جانے سے پہلے اسی محدود دائرے میں  مولانا کی بود وباش تھی اور مولانا اس کھول سے کبھی باہر نہ آسکے تھے، کیونکہ بقول ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مکہ میں  ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جو وہابی مذہب کے خلاف تھے۔ دیکھیں : بر عظیم پاک وہند کی ملت اسلامیہ( ص: ۲۷۰طبع کراچی، اشاعت چہارم) بنابریں  قیام مکہ کے دوران مولانا پر کوئی رنگ نہ چڑھ سکا، اس لیے جن لوگوں  نے مولانا شریعت اللہ صاحب کو حنفی لکھا ہے ان لوگوں  نے اسی کا اعتبار کیا ہے۔ مگر مولانا جب جامع ازہر مصر گئے تو وہاں  انہیں  ایک آزاد اور کھلا ماحول ملا۔ مختلف لائبریریوں  اور کتب خانوں  کی خاک چھاننے کے بعد ان کے ذہن میں  وسعت پیدا ہوئی۔ دوسری بار مکہ کے قیام کے دوران شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک سے قربت بڑھی اور اسے نزدیک سے جاننے اور سمجھنے کا موقع فراہم ہوا تو اسکے گرویدہ ہو گئے۔ یہیں  سے مولانا کی فکر میں  نمایاں تبدیلی ہوئی۔ حنفی مسلک اور سلسلہ قادریہ سے تائب ہو کر مسلک اہل حدیث پر گامزن ہو گئے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی نے انہیں  اہل حدیث علماء میں  شمار کیاہے۔ دیکھیں : بر صغیر میں اہل حدیث کی اولیات (ص: ۱۲۲)کرامت علی جون پوری کی مخالفت اور ان کی طرف سے عائد کردہ الزامات، تقلید سے کنارہ کشی، عقیقہ کی مسنونیت، غیر اسلامی رسم ورواج سے دست برداری اور اصلاحی تحریک پیش کرنے پرعلماء کا مخالف ہونا، یہ ایسے حقائق ہیں  جو مولانا کو اہل حدیث کے زمرہ میں شمار کرنے کوتقویت دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مخالفت اہم حدیثوں  کی طرف سے نہیں  تھی، کیونکہ بنگال کے دینی ماحول سے بیزار ہو کرعقیدہ کی درستی اورغیر اسلامی رسم ورواج کی اصلاح کی جو دعوت مولانا شریعت اللہ صاحب پیش کررہے تھے، یہ وہی دعوت ہے جو اہل حدیثوں  کے خمیر میں  اول دن سے داخل تھی۔

(۱۵) دیکھیں : تقدیم بر کتاب : تحریک آزادی میں  اہل حدیث علماء اور عوام کا کردار(ص: ۳۷)

(۱۶)          دیکھیں : بر صغیر میں  اہل حدیث کی اولیات (ص: ۱۲۱)

(۱۷)  معین الدین احمد نے بنگال میں  فرائضی مومنٹ کی تاریخ (ص: ۶۲)میں  توبہ نامہ بھی نقل کیا ہے جو اس تحریک سے وابستہ ہوتے ووقت لیاجاتا تھا۔ نیز یہ لکھا ہے کہ وہ مرشد کو استاد اور مرید کو شاگرد کہتے تھے۔ نیز دیکھیں : بر صغیر میں اہل حدیث کی اولیات (ص: ۱۲۱)

 (۱۸) سر گزشت مجاہدین( ص: ۲۰۲)

(۱۹) دیکھیں  :بنگال میں  فرائضی مومنٹ کی تاریخ(ص: ۱۲)

(۲۰)          سرگزشت مجاہدین (ص: ۲۱۵)

(۲۱)          ہندوستان میں  وہابی تحریک از ڈاکٹر قیام الدین احمد(ص: ۱۲۳)تاریخ دعوت وجہاد، بر صغیر کے تناظر میں، از ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی(ص:۱۴۶- ۱۴۷ )  واضح رہے کہ اس سے پہلے۱۸۰۳ء (بحوالہ : چراغ رہ گزر، ص: ۱۲۲)میں  ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے کا فتوی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبز ادے شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ(وفات: ۱۸۲۴ء) نے فارسی زبان میں  کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں دے دیا تھا۔ ۱۸۰۶ء، ۱۸۰۹ء یا ان دونوں  کے درمیان کسی سنہ کو فتوی کی تاریخ بتانا درست نہیں  ہے۔ فتاوی عزیزیہ (۱/ ۱۰۵)اور دیگر مصادر میں  یہ فتوی موجود ہے۔

 (۲۲)         دیکھیں : تحریک مجاہدین ِجنگ بالاکوٹ کے بعدبحوالہ:ماہنامہ میثاق لاہور، جون ۲۰۰۲ء (ص: ۴۹)

(۲۳)          فرائضی مومنٹ (ص: ۴۲)

(۲۴) دیکھیں : سر گزشت مجاہدین (ص: ۲۱۵- ۲۱۶)

(۲۵) سرگزشت مجاہدین (ص: ۲۰۳) ہندوستان میں  وہابی تحریک (ص: ۱۲۴)

(۲۶)      برعظیم پاک وہند کی ملت اسلامیہ (ص: ۲۷۰)

(۲۷)  موج کوثر (ص: ۵۸)

(۲۸)    ہندوستان میں  وہابی تحریک (ص: ۱۲۳)

(۲۹) اسلام ان بنگال( ص: ۵۴- ۵۵، ناشر: رتنا پرکاشن، کلکتہ ۱۹۷۲ء )

(۳۰)  دیکھیں : چراغ رہ گزر (ص: ۱۲۶)

(۳۱)  بنگالی مسلمانوں  کی صد سالہ جہد آزادی (ص: ۱۴۶- ۱۴۷)

(۳۲) ہندوستان میں  وہابی تحریک از ڈاکٹر قیام الدین احمد (ص: ۱۳۲)

(۳۳)  موج کوثر (۵۸)

(۳۴) انسائیکلو پیڈیا آف اسلام بحوالہ تاریخ دعوت وجہاد، برصغیر کے تناظر میں  (ص: ۱۴۸)

(۳۵)   ماہنامہ: میثاق لاہور، جون ۲۰۰۲ء (ص: ۵۰)

مزید دکھائیں

محمد اسلم مبارک پوری

ڈاکٹر محمد اسلم بن محمد انور (پیدائش ۹/جنوری۱۹۷۳ء)حسین آباد، مبارک پور ضلع اعظم گڑھ کے مشہور عالم دین مولانا عبد الصمد مبارک پوری رحمہ اللہ کے پوتے ہیں۔ آپ نے عربی زبان وادب کی تعلیم مقامی درس گاہ مدرسہ عربیہ دارالتعلیم مبارک پور سے حاصل کی۔ فراغت کے بعد عالم اسلام کی مشہور دینی وعلمی درس گاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی، اے کیا۔ بعدہ لکھنو یونیورسٹی، لکھنوسے ایم، اے اور پی، ایچ ،ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو اور عربی زبانوں میں اب تک درجن سے زائد تصنیفات اور پچاس سے زیادہ علمی وادبی مقالات ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔فی الحال ہندوستان کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم)بنارس سے بحیثیت استاد وابستہ ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close