ہندوستان

ترنگے کو یوں رسوانہ کرو

نازش ہما قاسمی

دہلی کے لال قلعہ پر ملک کی عظمت بیان کرتا ہوا ، پوری آن بان شان سے لہراتا ہوا اور ہندو مسلم سکھ عیسائی کی یکجہتی کا ضامن ترنگا یقینا شرمسار ہورہا ہوگا اور سوچ رہا ہوگا کہ کیا اسی دن کے لئے میری عظمت و رفعت کا ڈھول بجایا جارہا تھا اور اب سب کو چھوڑ کر صرف مجھے رسوا ہونا باقی تھا کہ مجھے ایک ایسے شخص کے بدن سے لپیٹ دیا گیا جو معصوم کا قاتل ،ہندوستانی قانون کا مجرم اور نفرت کا سوداگر تھا… ترنگے کی اپنی شان ہے جو ملک میں سیکولر ازم کی بقا اور آپسی اتحاد و اتفاق کی جانب مشیر ہے۔ جو ہندو ، مسلم ، سکھ اورعیسائی کی یکجہتی کی بین دلیل ہے۔ جس کی عظمت ہر ہندوستانی شہری کے دل میں ہے۔ ایک ہندوستانی سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن ترنگے کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ اپنی جان سے بڑھ کرترنگے کی حفاظت کرتا ہے،وہ اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن ترنگے کو اپنے سامنیکبھی سرنگوں اور مجروح نہیں دیکھ سکتا۔لیکن آج اسی ترنگے کے ساتھ نام نہاد وطن پرستوں نے ایسا گھناؤنا عمل کیا ہے جسے سن کر اور پڑھ کر ہر وہ ذی شعور ہندوستانی متفکر ہے جسے ترنگے کی عظمت کا پاس ولحاظ ہے۔ اپنی سیاسی چمک دمک کی بقاء کیلئے ایک قاتل کی لاش پر ترنگے کو لپیٹ کر ترنگے کی ایسی توہین کی گئی ہے جو آزاد ہند میں شاید اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ ترنگا تو صرف ان ہی لوگوں کی آخری رسومات میں شامل کیاجاتا تھا جن پر دیش کو فخر ہوا کرتا تھا … جو ملک کیلئے قابل فخر کارنامہ انجام دے کر اس دنیا سے جاتے تھے … جو ملک میں بسنے والے عوام کے لئے اپنی جان نچھاور کیا کرتے تھے… ملک کے لئے ایسی خدمات پیش کرتے تھے جس سے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن ہوتا تھا۔ لیکن آج ایک قتل کے ملزم کی لاش پر ترنگا کو لپیٹ دینا ترنگے کی سرعام رسوائی کرنے کے مترادف ہے،اور یہ اس جانب اشارہ کررہا ہے کہ اب ملک میں’وطن پرستی‘ کا پیمانہ بدل رہا ہے…اب ملک میں انگریزوں کو سلامی دینے والوں کا بول بالا ہے…ملک میں یکجہتی کے موضوع پر باتیں تو ہوتی رہیں گی لیکن کام وہی ہوگا جو چند سر پھرے ’بھگوائی ‘چاہیں گے۔اگر قاتل اکثریتی فرقے سے تعلق رکھے گا تو وہ شہید اور مظلوم قرار دیا جائے گا… جب کہ مظلوم اگر اقلیتی فرقہ کا چاہے مسلمان ہو یا دلت تو وہی ظالم تصور کیا جائے گا …کیو ںکہ اس کے ظالم ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل یہی ہے کہ وہ مسلمان ہے یا دلت ہے اور اقلیتوں سے تعلق رکھتاہے۔ دادری میں اخلاق کے بہیمانہ قتل کو آج ایک سال سے زائد کا عرصہ ہورہا ہے۔ اس ایک سال کے عرصے میں ملک میں’بیف‘ کے نام پر جو طوفان بپا کیا گیا تھا اس نے مسلم اقلیت سمیت دلت تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور نتیجہ کے طور پر مسلمانوں اور دلتوں کا وہ استحصال ہوا جو آزادی کے بعد سے اب تک شاید دیکھنے میں نہیںآیا…ملک کے ٹھیکیداروں نے جس طرح اس معاملہ کو نظر انداز کیا ہے وہ قابل تشویش ہی نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ان بلوائیوں کو حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔آج اخلاق قتل کے ملزم روی عرف رابن کی لاش پر ترنگا لہرائے جانے سے ان 25کروڑ مسلمانوں سمیت سیکولر ہندوئوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ آخر ایک قاتل کو ’سمان ‘کے طور پر ترنگا کیوں دیاگیا۔ ؟ کیا اب قاتلوں کی لاش کو بھی ترنگے سے مزین کیا جائیگا ؟کیا مظلوم اب مرنے کے بعد بھی اپنے ہندوستانی ہونے پر شرمندہ رہے گا؟ اس ملک کی جنہوں نے اپنے خون سے آبیاری کی ہے یقینا آج فرقہ پرستوں کے اس فعل قبیح سے ان کی روح کو تکلیف پہنچی ہوگی۔ منگل پانڈے سے لے کرشہید بھگت سنگھ تک کی روح کانپ گئی ہوگی۔انہوں نے خوابوں میں بھی شاید یہ نہ سوچا ہوگا کہ جس دیش کی آزادی کے لئے ہم انگریزوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے، اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی اسی دیش میں انگریز وںکو سلامی پیش کرنے والوں کی ذریت ایک قاتل کی لاش کو ’ترنگا‘ سے سمان دے گی۔ اس کی لاش کو سامنے رکھ کر ریاستی حکومت ، محکمہ پولس اور جیل انتظامیہ کو کوسے گی۔ آج دادری کے بساہڑا گائوں میں ہل چل مچی ہوئی ہے اس چھوٹے سے گائوں میں کہرام مچا ہے پورے دیش کی آنکھیں اس جانب اْٹھی ہوئی ہیں۔ملک کا سنجیدہ طبقہ متفکر ہے اور وہ یہ سوچ رہا ہے کہ ایک سال قبل جس واقعہ نے پورے ملک میں کہرا م بپا کردیا تھا ، ہندوستان کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ لگا دیا تھا،آج اس کے قتل کے الزام میں ملوث ملزم کی موت کے بعد کہیں ملک دوسرا رخ تو نہیں اپنائے گا؟ کہیں پورا دیش ان فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیز تقریروں کی زد میں آکر گجرات ومظفر نگر تو نہیں بن جائے گا۔ قتل کے ملزم کی لاش پر ترنگے کو لپیٹ کر اور اسے شہید کا درجہ دے کر کہیں حکومت یوپی فتح کرنے کی کوشش میں تو نہیںہے۔ ؟اور اس جیسے بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں اور شاید ایسا ہو بھی سکتا ہے مرکزی حکومت جس طرح سے ’بھگوائیوں‘ کے اشارے پر کام کررہی ہے اور ملک میں اقلیتوں کے ساتھ سوتیلا سلوک اپنا رہی ہے اس سے یہی اُمید کی جاسکتی ہے۔ نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ یوپی میں اویسی کو تقریر کرنے کی اجازت نہیں ملتی مگر وہیں اشتعال انگیزی کے لئے مشہور سادھوی پراچی اور مظفر نگر کے ملزم سمیت دیگر افراد دادری جاکر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔سیاست کی گلیاروں میں بیٹھے اور خود کو خدا تصور کر چکے یہ ہمارے ملک کے سوداگر دراصل یوپی الیکشن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں،اور یوپی فتح کرنے کیلئے ہر وہ کام کر گزر نے کو تیار ہے جو شرافت کے معیار سے کوسوں دور اور شر و آفت کا مجموعہ ہیں۔ جس صوبہ میں یوگی آدتیہ ناتھ،سادھوی پراچی جیسے اشتعال انگیز اور نفرت کے سوداگر بستے ہوں جہاں ایک مسلم پارٹی کے قومی صدر کو اسلئے عوام کو خطاب کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اشتعال انگیز تقریر کرتے ہیں، لیکن ذرا کوئی بتائے کہ کون سا ایسا جملہ ہے اسد الدین اویسی کا جو ہندوستانی قانون کے خلاف ہے، لیکن ہمارے ملک کے سادھوی پراچی جیسے لوگوں کی زبان جب بھی کھلتی ہے تو صرف اور صرف نفرت کی بو آتی ہے، سیاست کی خاطر جس طرح اخلاق کی روح کو تکلیف پہنچائی گئی ہے اور اس کے قتل کے ملزم ’کو ترنگا ‘ سے سمان دیا گیا ہے یہ ہندوستانی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close