ہندوستان

ترے لہو سے شرافت کبھی نہ جائے گی

حفیظ نعمانی

پاک پروردگار کی عطا کی ہوئی اتنی عمر جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا اس میں نہ جانے کیا کیا دیکھا۔ گھوڑے کو گدھا بنتے دیکھا اور سفید کو کالا ہوتے دیکھا۔ اور یہ بھی دیکھا کہ جو برف کی طرح ٹھنڈا تھا وہ آگ بن گیا اور آگ کی طرح شعلہ تھا وہ پھول بن گیا۔ زیادہ دنوں کی نہیں صرف 2009 ء کی بات ہے کہ سنجے گاندھی کے فرزند ارجمند اور فیروز اور اندرا گاندھی کے نبیرہ ورون گاندھی کو بی جے پی نے پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیا۔ کچھ نہیں معلوم کہ انہوں نے کسی سے مشورہ کیا یا کسی بے وقوف نے انہیں سکھایا کہ کالا کرتہ پہنو، پیلا انگوچھا گلے میں ڈالو اور جب تقریر کرو تو کہو کہ گیتا کی قسم میں ہر اُٹھنے والے ہاتھ کو اُٹھنے سے پہلے ہی توڑ دوں گا۔ اور گیتا کی ہی قسم کھا کھاکر کہو کہ یہ کردوں گا اور وہ کردوں گا۔ جبکہ پیلی بھیت جہاں سے وہ لڑرہے تھے انتہائی پرسکون علاقہ تھا۔
ورون فیروز گاندھی نے بے وجہ ماحول میں کشیدگی پیدا کردی۔ اترپردیش بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے سمجھانے کے بجائے اس ماحول کو اور گرما دینے کی کوشش کی۔ تو مس مایاوتی نے کہا کہ بند کردو شاہزادے کو۔ اور ورون جیل میں ڈال دیئے گئے۔ ورون کی ماتاجی نے ایک لیڈر کے بجائے ایک جذباتی ماں نہ ہونے کا مظاہرہ کیا۔ اور ورون کے بچپن کی حرکتوں پر اسے سمجھانے کے بجائے مس مایاوتی سے کہنا شروع کردیا کہ ورون کو رہا کردیجئے۔ اور جب مایاوتی نے سمجھانا چاہا تو ان سے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ ماں ہوتیں تو اولاد کے درد کو سمجھ سکتی تھیں؟
ورون کو ظاہر ہے کہ سزا تو دینا نہیں تھی لیکن اسے مایاوتی کا احسان کہا جائے گا کہ انہوں نے ورون کے پہلے ہی غلط قدم پر انہیں غلط اور صحیح کا فرق سمجھا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے پورے الیکشن میں صرف اس واقعہ کو موضوع بنایا کہ میں جب جیل میںتھا تو ایک ڈپٹی جیلر یا اسسٹنٹ جیلر تھا جو آپ کے علاقہ کا رہنے والا تھا اس نے کہا تھا کہ رہا ہونے کے بعد آپ ہمارے علاقہ میںضرور جائیے گا۔ یہ سب اس شرمندگی کو مٹانے کے لئے تھا جو گرم تقریروں کے نتیجے میں جیل میں جانے کا سبب بنی۔
بہرحال ورون جیت گئے تھے۔ اس کے بعد 2014 ء کے الیکشن میںانہیںسلطان پور سے ٹکٹ دیا گیا۔ مودی جی چاہتے تھے کہ ان کے الیکشن کا اثر امیٹھی کے الیکشن پر پڑے۔ وہ راہل گاندھی کو ہر حال میں ہرانا چاہتے تھے۔ لیکن ورون گاندھی نے اپنے کو سلطان پور تک محدود رکھا اور پورا الیکشن انتہائی سنجیدگی اور بردباری سے لڑا۔ ان کی تو ہر کامیاب ہونے والے کی طرح تمنا تھی کہ وزیر بنا دیا جائے۔ لیکن اندرا گاندھی کی بہو کو بنانا ہی بڑی بات تھی۔ اس کے بعد سنجے گاندھی کے بیٹے کو کچھ بنانے کے بارے میںکون سوچ سکتا تھا؟
کل ہر اخبار میںایک ایسی خبر پڑھی جس سے ہر حساس آدمی کی طبیعت باغ باغ ہوگئی ہوگی کہ ورون فیروز گاندھی نے اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہت کمزور، غریبوں اور کسانوں کو جن کے پاس سرچھپانے کے لئے چھپر بھی نہیںتھا، پکے مکان بناکر دیئے ہیں۔ جن کی تعداد 100 ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ برسوں میں جو گرمی کے موسم میں آگ سے جل کر راکھ ہوگئے تھے اس زمین پر ایک کمرہ اور ایک بیت الخلاء کا چھوٹا مکان بناکر مفت دیا ہے۔
ورون گاندھی نے ان کسانوں کی بھی مدد کی ہے جن کی فصل برباد ہوگئی ور وہ بینک کے قرض کے دبائو سے خودکشی کرنا چاہتے تھے۔ مسٹر ورون گاندھی نے اپنی تنخواہ اور اپنے تعلق کے باحیثیت لوگوںسے مدد لی اور 3500 کسانوں کی قرض سے جان چھڑائی۔ مکان جن لوگوں کو دیئے ان میںمسلمان بھی ہیں۔ یہ بات اس لئے اہم ہے کہ پیلی بھیت کے الیکشن کے وقت وہ مسلمانوں کو دشمن سمجھ کر میدان میں اُترے تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ جب مینکا گاندھی نے سنجے منچ بنایا تھا تو وہ بہت چھوٹے تھے۔ اسی لئے انہیں یاد نہ ہوگا کہ ان کے باپ کے سب سے پیارے اور قریبی دوست اکبر احمد ڈمپی تھے۔ اور سنجے منچ نے پیلی بھیت اور ملیح آباد کے 2 ضمنی الیکشن لڑے تھے جس کا سارا کام ہمارے تنویر پریس میںچھپا تھا اور دونوں الیکشن صرف مسلمانوں کے بل پر کامیاب ہوئے تھے۔ آج بھی اگر ان کے گھر میں سنجے منچ کا کوئی چھپا ہوا کاغذ پڑا ہو تو وہ دیکھ لیں اس پر تنویر پریس لکھا ہوگا۔
سب جانتے ہیں کہ وہ اور ان کی والدہ بی جے پی میں اس لئے نہیں ہیں کہ وہ نظریات کے اعتبار سے آر ایس ایس کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لئے ہیں کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کانگریس کا دوسرا نام ہیں۔ وہ اگر بی جے پی میںہوتے یا کوئی اور پارٹی بنا لیتے تو یہ دونوں ماں بیٹے سنجے گاندھی کی کانگریس کے سروے سروا ہوتے۔ اور اگر سنجے گاندھی ہوائی جہاز سے کھلونے کی طرح کھیلتے ہوئے موت کے منھ میںنہ چلے گئے ہوتے تو سونیا گاندھی اٹلی میںہوتیں۔ اور پرینکا اور راہل نہ جانے کہاں ہوتے؟ اس لئے کہ جب کانگریس صرف سنجے گاندھی کی مٹھی میںتھی تو راجیو گاندھی ہوائی جہاز اُڑا رہے تھے۔ اور سونیا اٹلی میںتھیں۔ یہ تو تقدیر کا کھیل ہے کہ جو ملک کی سیاست کا ایک ستون تھا اس کی بیوی بچے ٹکٹ کے لئے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ وہ ستون کہ اندرا گاندھی بھی ٹکٹ دینے کے لئے سنجے گاندھی سے ہی کہتی تھیں۔
بہت اچھا ہوا کہ ورون گاندھی نے وہ راستہ اپنایا جو اس ملک کی ضرورت ہے۔ اگر اسی طرح پارلیمنٹ کا ہر ممبر کرنے لگے تو نہ کوئی خودکشی کرے اور نہ کوئی موسم کی سختی سے تڑپ تڑپ کر مرے۔ ورون گاندھی کے چاہنے والے انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے بہت دنوں سے مہم چلا رہے ہیں۔ شور مچانا بھی آج کی ایک ضرورت ہے۔ لیکن جو تعمیری کام ورون گاندھی نے شروع کئے ہیں ان کی شہرت بھی ایسی چیز ہے جو کرسی تک پہونچاتی ہے۔ اور ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے؟ وہ اس کام کو بڑھائیں اور دوسرے ممبروں کو ملاکر ایک کلب بنالیں تاکہ دس اضلاع میں شور ہوجائے کہ مودی صاحب کو 2022 ء میں مکان دینے کا اعلان ہی کرتے رہے۔ اور ورون گاندھی نے دینا شروع بھی کردیئے۔ اس سے کرسی ملے نہ ملے۔ غریبوں کی جو دعائیں ملیں گی ان کی طاقت بم سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ورون مسلمان ہوتے تو ہم مشورہ دیتے کہ صرف اور صرف غریبوں کی دعائیں لیں۔ اس لئے کہ دنیا کے مالک پروردگار نے کہہ دیا کہ میںٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوں۔ اور وہی جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے۔ ورون گاندھی نے جب پیلی بھیت میں گیتا کی قسمیں کھا کھاکر بھگوا بریگیڈ کا نمایاں ورکر بننے کی کوشش کی تھی تو ہم نے بہت کچھ لکھا تھا۔ اب جبکہ وہ فیروز گاندھی کے پوتے ہوکر ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں تو ان کی ہمت افزائی بھی ہم پر فرض ہے اور یہ وہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close