ہندوستان

تصور ہند آئین کی روشنی میں  (چھٹی قسط)

ملک اور اہل ملک کی ہمہ جہت ترقی و ارتقاء میں معاشی استحکام جزولاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن اگر معاشی استحکام اپنی پالیسی کی روشنی میںکسی مخصوص گروہ پر توجہ دے اور کچھ پر متوجہ نہ ہوتو نہ ملک ہمہ جہت ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی ملک کے باشندے ملک کے ارتقاء میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔برخلاف اس کے ایک گروہ ٔ قلیل دولت کے حصول میں بہت آگے بڑھ جائے گا تو دوسرا معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا۔ اس حالت میں جہاں ایک جانب دیو قامت بنگلے ، ہوٹلس اور رہائش گاہیں نظرآئیں گی وہیں اُنہیں کے پشت میں وہ جھگی جھونپڑی اور آلودگی و گندگی کے دلدل میں رہنے بسنے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوں گے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہوں گے۔اورہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ بھی یہی ہے۔نتیجہ میں انسانوں کے درمیان اس قدر فاصلے ہوگئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل ،دکھ درد اورضروریات زندگی سے ناواقفیت کا شکار ہیں۔ان حالات میں شہریوں کے لیے ملکی سطح پر جب کوئی پالیسی یا پروگرام ترتیب دیاجاتا ہے تو وہ عموماً کامیاب نہیں ہوتا۔اس کی ایک وجہ پالیسی اور پروگراموں کو روبہ عمل لانے والوں کی خیانت اور کرپشن ہے تو وہیں اُن حقیقی ضروریات سے عدم واقفیت بھی بڑی وجہ ہے،جس کے نتیجہ میں یہ پروگرام ناکافی ہوتے ہیں یا ناکام ثابت ہو جاتے ہیں۔اس سب کے باوجود آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تمام شہریوں کے کام کے مناسب اور انسانیت پر مبنی حالات کے پیش نظر مواقع میسر کیے جائیں گے۔اسی تعلق سے دفعہ۴۲کہتی ہے کہ:مملکت کام کرنے کے مناسب اور انسانیت پر مبنی حالات نیز امداد زچہ کی نسبت ضمانت دینے کے لیے توضیع کرے گی۔وہیں کام گراں کے لیے قابل گزارہ اجرت کا تذکرہ دفعہ۴۳میں کیا گیا ہے۔یہ دفعہ کہتی ہے :مملکت مناسب قانون سازی یا معاشی تنظیم کے ذریعہ یا کسی دوسرے طریقہ سے زرعی،صنعتی یا کوئی دوسرا کام کرنے والے سب کام گراں کے لیے کام اور قابل گزارہ اجرت دلانے اور کام کے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی جن سے بہتر معیار زندگی اور فرصت اور سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے ساز گار حالات سے پوراپورا استفادہ کرنے کی ضمانت ہو۔ اور خاص طور سے مملکت گھریلو صنعتوں کو دیہی رقبوں میں انفرادی یا امدادی باہمی کی بنا پر ترقی دینے کی کوشش کرے گی۔اس موقع پر یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ بیسویں صدی کے آخری عشرہ میںجب حکومت نجکاری کی پالیسی اختیار کرتی ہے تو اس وقت سے لے کر اب تک یہ دفعہ کس قدر کارآمد ثابت ہوئی ہے؟ساتھ ہی جب سے کثیر القومی کمپنیوں کو حکومت نے مدعو کیا اور ان کا سرمایہ ہندوستان میں بحیثیت بازار لگنا شروع ہوا،تب سے لے کر اب تک گھریلو کاروبار اور صنعت میں کس قدر ترقی ہوئی؟اگر ان دو سوالات کے جوابات مثبت ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دفعہ ۴۳ پر عمل در آمد جاری ہے لیکن اگر اعداد وشمار اس کے برخلاف ہیں تو ایک بار ٹھہر کرحکومت کے ذمہ داران کو ضرور اس پالیسی پر متوجہ ہونا چاہیے ۔ساتھ ہی اہل ملک جو ملک کی خیر خواہی کے گن گاتے نہیں تھکتے،انہیں بھی اِس پر حکومت سے جواب طلب کرنا چاہیے۔وہیں صنعتوں اور ان میں کام کرنے والے لوگوں کے تعلق سے دفعہ۴۳ الف کہا گیا ہے کہ:مملکت مناسب قانون سازی کے ذریعہ یا کسی دیگر طریقہ سے ایسے اقدامات کرے گی جن سے کسی صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں، کارخانوں، یا دیگر تنظیموں کے انتظامیہ میں کام کرنے والے اشخاص کے اشتراک کی ضمانت ہو۔تو کیا ایسا ہو رہاہے؟اس کا جواب بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔

شہریوں کے لیے یکساں مجموعہ قانون دیوانی ہو یہ ضروری ہے۔ دفعہ۴۴ ،اسی مقصد کے تحت قائم کی گئی،جس میں کہا گیا :مملکت یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقہ میں شہریوں کے لیے یکساں مجموعہ قانون دیوانی کی ضمانت ہو۔ساتھ ہی بچوں کے لیے یکساں مجموعہ قانون دیوانی کو دفعہ۴۵میںدرج کیا گیا ۔جس میں کہا گیا:مملکت اس آئین کی تاریخ نفاذ سے دس سال کی مدت کے اندر سب بچوں کو چودہ سال کی عمر پوری کرنے تک مفت اور لازمی تعلیم دینے کی توضیع کرنے کی کوشش کرے گی۔گرچہ اس پر بہت دیر سے عمل درآمد ہوا اس کے باوجود یہ دفعہ اہمیت کی حامل ہے ۔دوسری جانب نجی اسکولوں میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کے لیے جس طرح حکومت نے داخلہ کے ایک حصہ کو لازم قرار دیا ہے،اس سے چند لوگ تو ضرور فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن وہیں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے حکومت نے جو سرٹیفکٹس لازم قراردیا ہے، اُن کا حصول ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔نیز اِن سرٹیفکٹس کی ہر سال تجدید ،مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔اور چونکہ یہ طبقہ تعلیمی اعتبار سے بھی بدحال ہے لہذا سرٹیفکٹس کا حصول ،کرپشن کے نئے دروازے کھولتا ہے ۔اس موقع پر ان حضرات کو لازماً تعاون کے لیے قدم بڑھانے چاہیے جو معاشرہ کی اصلاح و ہمہ جہت ترقی اور فوذ و فلاح کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔

آئین کی دفعہ ۴۶ میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں اور دوسرے زیادہ کمزور طبقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو فروغ دینے کی بات کہی ہے۔دفعہ کہتی ہے:مملکت خاص توجہ کے ساتھ عوام کے زیادہ کمزور طبقوں اور خاص طور سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو فروغ دے گی اور ان کو سماجی نا انصافی اور ہر قسم کے استحصال سے بچائے گی۔وہیں دفعہ ۴۷ میںغذائیت کی سطح اور معیار زندگی بلند کرنے اور صحت عامہ کو ترقی دینے کی نسبت مملکت کا فرض بتایا گیا ہے۔دفعہ۴۷:مملکت اپنے لوگوں کی غذائیت کی سطح اور معیار زندگی کو بلند کرنا اور صحت عامہ کو ترقی دینا اپنے اولین فرائض میں شمار کرے گی۔ اور خاص طور سے مملکت اس امر کی کوشش کرے گی کہ طبی اغراض کے سوا نشہ آور مشروبات اور مضر صحت ادویہ کے استعمال کی ممانعت کرے۔ساتھ ہی ساتھ دفعہ ۴۸ ،زراعت اور افزائش حیوانات کی تنظیم کے سلسلے میں درج کی گئی ہے۔جس میں کہا گہا ہے کہ:مملکت زراعت اور افزائش حیوانات کی جدید اور سائنسی طریقوں پر تنظیم کرنے کی کوشش کرے گی اور خاص طور سے گائیوں اور بچھڑوں اور دیگر دودھ دینے والے باربردار مویشیوں کی نسل کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے اور ان کو ذبح کرنے کی ممانعت کرنے کے لیے اقداما ت کرے گی۔موجودہ وقت میں یہ دفعہ اور اس کے مخصوص اُس حصہ پر جس میں گائیوں اور بچھڑوں اور دیگر دودھ دینے والے باربردار مویشیوں کی نسل برقرار رکھنے اور ذبح کرنے کی ممانعت کا تذکرہ کیا ہے،کو حکومت کی سطح سے اوپر اٹھ کر چند شر پسندوں نے اپنے ہاتھ میں لینے کااشارہ  دیا ہے۔اور چونکہ یہ عمل ملک کے امن و امان اور لاء اینڈ آرڈر کو چیلنج کرنے والا ہے،لہذا اس پر خصوصی توجہ درکار ہے۔وہیں ان کوششوں کے پس پشت یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حکومتی ادارے امن وامان اور لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے میں ناکام ہیں ۔جس کے نتیجہ میں چند شرپسنداپنے ہاتھ میں یہ کام لینے پر مجبور ہیں۔یہ اشارہ اور عندیہ حددرجہ ملک کی سا  لمیت اورملکی و بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کو بگاڑنے والا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس پر قابو پائے۔

غالباً اسی اشارہ کو سامنے رکھتے ہوئے اور جو افسوس ناک واقعات گزشتہ سالوں میں اور ابھی چند روز قبل سامنے آئے ہیں،گئو تنظیموں پر پابندی سے متعلق مرکز اور چھ ریاستوں کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے تین ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سلسلے میں قارعین سے ہم گزارش کریں گے کہ مسائل جو سامنے ہیں گرچہ وہ حددرجہ افسوسناک ہیں،اس کے باوجود انہیں صبر و تحمل کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اور ملک میں موجود مختلف نظریات کے حاملین کا ساتھ لیتے ہوئے ایک کامن نصب العین کے تحت حل کرنا چاہیے ۔کیونکہ یہ وقت خاموش بیٹھنے کا نہیں ہے ۔آئین نے ملک کے ہر شہری کو قانون کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے پر امن طریقہ سے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کی بات کہی ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اُس حق کا استعمال کریں۔۔۔(جاری)

محمد آصف ا قبال: maiqbaldelhi@gmail.com،  maiqbaldelhi.blogspot.com

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close