ہندوستان

تمہیں اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

حفیظ نعمانی

ہم نے کرکٹ پر صرف اس وقت لکھا ہے جب کوئی اہم بات ہوئی ہے۔ اس لئے کہ کرکٹ کھیلنے کی عمر ہوتی ہے اور دیکھنے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ اللہ جانے ہندوستان کرکٹ کے معاملہ میں کیوں پاگل ہوتا جارہا ہے؟ 70-60 کی دہائی میں کھیلنے والے سنیل گواسکر کی ہم نے ہمیشہ تعریف کی ہے۔ خاص طور پر اس لئے کہ ان کے بارے میں ایسی کوئی ایک بات کبھی سننے میں نہیں آئی جیسی درجنوں باتیں ان کے ہم زمانہ عمران خاں کے بارے میں زبانوں پر آئیں۔ وہ ایسے کردار کا ایک نمونہ ہیں جس کی نقل سچن تیندولکر نے کی اور وہ آج بھارت رتن بھی ہیں اور راجیہ سبھا کے ممبر بھی۔
یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ گواسکر کا اوڑھنا بچھونا ہے لیکن ان کے کل کے اس بیان پر ہم حیران رہ گئے جو انہوں نے ہائی کورٹ ممبئی کے اس فیصلہ پر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی پی ایل کے جو میچ 30 اپریل کے بعد ہونے والے تھے انہیں مہاراشٹر کے بجائے ان صوبوں میں کرایا جائے جہاں خشک سالی نہ ہو۔ گواسکر جیسے سنجیدہ آدمی سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایسا انداز اختیار کریں گے جیسا سابق وزیر راجیو شکلا نے کیا کہ عدالت کے فیصلہ پر بازاری لب و لہجہ میں تنقید کرنے لگے۔ گواسکر کا یہ کہنا کہ تنازعہ پیدا کرنے کے لئے کرکٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گواسکر مانتے ہیں کہ پانی کا بحران ایک سنگین معاملہ ہے جس کی وجہ سے کسان خودکشی کررہے ہیں اور اس کے بعد خود ہی کہتے ہیں کہ لیکن اسے کرکٹ کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے۔ انہوں نے کرکٹ کنٹرول بورڈ کا فیصلہ دہرایا کہ فیلڈ کو ہرا بھرا رکھنے کے لئے پینے کے پانی کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔
ہم نے گھر بیٹھے ٹی وی پر جو دیکھا وہ یہ کہ وہ پانی جس سے فیلڈ کو تازہ کیا جارہا ہے وہ اتنا ہی چمکدار اور صاف ہے جیسا عام پانی ہوتا ہے۔ وہ سمندر کا پانی بھی نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ پینے کا نہیں ہے۔ تو گواسکر صاحب جانتے ہیں کہ پینے کا ایک پانی وہ ہے جس کی ایک بوتل 15 روپئے کی ملتی ہے اور ایک وہ ہے جو کنوئیں سے نکال کر یا ہینڈ پمپ سے نکال کر پیا جاتا ہے۔ اور وہ بھی پانی ہے جو مہاراشٹر کے دیہاتی پی رہے ہیں جو ہم جانوروں کو بھی نہ پلائیں۔ اگر گواسکر صاحب مسلمان ہوتے تو ہم انہیں بتاتے کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے ایک فتوے میں کہا ہے کہ پانی اس وقت تک پانی ہے جب تک اسے پانی کہا جاسکے۔ اس سے وضو بھی کیا جاسکتا ہے اور اسے پیا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن گواسکر صاحب کو کیا یہ معلوم نہیں ہے کہ مراٹھواڑہ میں صرف پینے کے پانی کی نہیں اس پانی کی بھی بے انتہا کمی ہے جسے جانوروں کو پلایا جائے اور جس سے زمین کو سینچا جائے۔ اور گواسکر صاحب تو جانتے ہیں کہ وہ جو ایک لاکھ کے قریب لوگ میچ دیکھنے آتے ہیں وہ جہاں بیٹھتے ہیں وہاں سڑی گرمی ہوتی ہے اور ہر کوئی پانی کی بوتلیں یا بوتل لے کر جاتا ہے جس میں سے جتنا پینا ہو پیتا ہے باقی پھینک دیتا ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی پی ایل صرف آٹھ سال کا ایک عیاشی، سٹے، جوئے، شراب اور میچ فکسنگ کا اڈہ ہے اس سال اس کے شروع ہونے سے صرف ایک ہفتہ پہلے دنیا بھر کی ٹیموں کا 20 اوور والا ورلڈ کپ ختم ہوا ہے۔ تو کیا اب ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو صرف کرکٹ ہی دکھایا جائے گا؟ مارچ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ہندوستان کی ٹیم نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ پہلے تو اس نے نیوزی لینڈ کے مقابلہ میں صرف 70 رن بنائے۔ یہ وہ اسکور تھا کہ جس کے بعد دھونی کو ہٹا دینا چاہئے تھا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کی جیسی نئی ٹیم نے اسے لوہے کے چنے چبوا دیئے اور اپنی ٹیم کا ہر سنجیدہ کھلاڑی زبان سے چاہے نہ کہے لیکن یہ تسلیم کرے گا کہ اس ٹیم نے جس کے کھلاڑیوں کی نہ صحت اچھی، نہ صورت اچھی اور حد یہ کہ نہ جرسی اچھی اس کا کھیل ہم سے اچھا تھا۔ اور وہ صرف ایک رن سے اس لئے ہار گئے کہ وہ جیت کو اپنے قریب دیکھ کر ایسے بوکھلائے جیسے کوئی غریب کروڑوں کی لاٹری نکلنے کے بعد بوکھلا جاتا ہے۔ ورنہ یہ میچ وہ جیت چکے تھے۔
اور پھر سیمی فائنل میں اس ٹیم نے ہرایا جو ورلڈ کپ 1973 ء میں ہندوستان سے ہارکر اب تک نہیں سنبھلی تھی۔ اور وہ ٹیم ایسے لڑکوں کی ہے جن کی جرسی اپنے پیسوں کی ہے۔ جو سفر اپنے پیسے سے کرتے ہیں اور جو دنیا کی سب سے غریب ٹیم ہے اور ہارنے والوں میں وہ بھی ہیں جو سیکڑوں کروڑ کے مالک ہیں اور وہ بھی جنہیں صرف 45 دن کھیلنے کا معاوضہ 16 کروڑ بھی ملتا ہے اور اس سے کم بھی۔ اور یہ اس کا نتیجہ ہے کہ کھلاڑی اتنی پابندی سے کھانا نہیں کھاتے جتنی پابندی سے انہیں کرکٹ کھیلنا پڑتا ہے۔
گواسکر یہ تسلیم کررہے ہیں کہ خشک سالی کی وجہ سے کسان خودکشی کررہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں اس کی وجہ سے کھیلوں کو نہیں ہٹانا چاہئے اور شکایت کررہے ہیں کہ کبھی الیکشن کی وجہ اور کبھی کسی اور وجہ سے صرف کرکٹ کو ملتوی کردیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک کرکٹ کے لئے ہر چیز کو ملتوی یا کینسل کیا جاسکتاہے۔ ان کی اس بات نے انہیں بونا کردیا۔ ہم گواسکر جیسے سنجیدہ کھلاڑی سے جو اس زمانہ میں کھیلا کرتے تھے جب کھیل ایک فن تھا۔ اتنی گھٹیا بات کی امید نہیں کرتے تھے کہ وہ اب اتنے بدنام کھیل کے لئے جس کی لگام یا تو بدنام سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں ہو یا بدکردار فلمی دنیا کے لوگوں کے ہاتھ میں ہو یا وجے مالیہ جیسے ملک کو برباد کرنے والے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہو۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ بشن سنگھ بیدیؔ جیسے پرانے بزرگ کھلاڑیوں کی طرح وہ بھی اس حق میں ہوں گے کہ آئی پی ایل کو بند کردیا جائے۔ اس لئے کہ ملک کے نوجوانوں کو عریاں فلمیں بھی اتنا برباد نہیں کریں گی جتنا آئی پی ایل کررہا ہے۔
اس وقت ملک میں سوکھے کے جو حالات ہیں۔ ہمیں تو یاد نہیں کہ سنے یا دیکھے ہوں؟ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس کسی پارٹی کی بھی حکومت رہی اس نے صرف اس کے لئے ساری طاقت لگادی کہ حکومت برقرار رہے اور دوبارہ بھی اسی کی حکومت بن جائے۔ بیشک تین سال سے بارش کا اوسط کم ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر بارش کا پانی آنے والے کل کے لئے محفوظ کرلیا جائے تو کوئی ایک کسان بھی پانی پانی کہتا ہوا جان نہ دے۔ بارش کا 65 فیصدی ہماری لاپروائی اور بے نیازی سے سمندر میں چلا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم پروردگار کے عطا کئے ہوئے پانی کا صرف 35 فیصدی حصہ کام میں لاتے ہیں باقی واپس کردیتے ہیں۔ برباد ہونے والے 65 فیصدی کو محفوظ کرنے کے لئے اگر ان تالابوں کو پھر سے تالاب بنا لیا جائے جنہیں پاٹ کر ہم نے وہاں کھیتی شروع کردی ہے یا مکانات بنالئے ہیں۔ تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
ہمارے بچپن میں دادا صاحب کے مکان کے سامنے بارش کے زمانہ میں کئی کئی دن پانی کھڑا رہتا تھا وہ پانی ایک ہودری نام کے تالاب کا تھا۔ جس کا پانی اترنے کے بعد ہم بچے مچھلیاں بھی پکڑا کرتے تھے۔ آج جہاں ہمارا خاندانی باغ اور قبرستان ہے اس کے جنوب میں ایک بہت بڑا تالاب رتنجک تھا جس میں دن بھر محلہ بھر کی بھینسیں پڑی رہتی تھیں اور ایک تالاب کنکر والا تھا جو ہمارا تھا جس میں منوں سنگھاڑے ہوتے تھے۔
؂ یادیں یادیں لہو میں ڈوبی یادیں
آج ہمارے بچوں کے لئے یہ سب کہانی ہے۔ لیکن ہمیں اپنے بچوں کو اگر خوش دیکھنا ہے تو آئی پی ایل کو بھولنا ہوگا اور ہر جگہ فیلڈ کے بجائے بہت بڑا تالاب بنانا ہوگا۔ اور ڈیم بنانے کے چکر میں نہ پڑکر فی الحال نریگا کے ذریعہ ہر گاؤں میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا تالاب بنانا ہوگا تاکہ 65 فیصدی بارش کے پانی سے 25 فیصدی پانی ہی محفوظ ہوجائے۔ یہ جو سوکھے کا عذاب ہے اس سے محفوظ رہنے کے لئے بارش کا پانی سب کے لئے قدرت کا تحفہ ہے اور اس کی ناقدری کی ہی سزا سوکھا ہے۔ اگر اب بھی عقل نہ آئی تو کسان نہیں وزیروں کو خودکشی کرنا پڑے گی۔

(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close