ہندوستان

جب انسانیت شرمسار ہوگئی

سہیل بشیر کار

دنیا میں بے شمار مخلوق ہیں مگر انسان کو جو شرف حاصل ہے وہ محض درد دل اور صفت انسانیت کی وجہ سے ہے۔ بہت بار ایسا ہوا کہ یہ انسانیت تار تار ہوئی، لیکن 8 سالہ آصفہ کا واقعہ انسانیت کے لیے ایک ایسا بدنما داغ ہے جس کی مثال شاید ہی تاریخ میں کہیں ملے۔ نابالغ بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوئے ہیں لیکن آصفہ جیسا واقعہ کسی معصوم کمسن بچی کے ساتھ محض زیادتی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس واقعہ کے پیچھے مذموم سیاست ہے، نفرت ہے، آر ایس ایس کی ننگی جارحیت کا اظہار ہے۔ایک منظم سازش کے تحت بس ایک اقلیتی گروہ یا یہ کہو کہ مسلمان قوم کی نفرت میں ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا جس میں منطق،’ اخلاق ‘، اور انسانیت کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔

8 سال جی ہاں صرف 8 سال کی بچی آصفہ کا معمول تھا کہ وہ گھوڑے کو چرانے روز جنگل جاتی تھی۔ کھٹوضلع کے رسانہ علاقے کی بچی کے بے رحمانہ قتل، ٹارچر اور عصمت دری نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کرائم برانچ کی رپورٹ میں ایسے انکشافات کیے گئے ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، محکمہ مال کا ایک سبکدوش ملازم سنجے رام اپنے بھتیجے دیپک کو کہتا ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے بدلہ لینا ہے اس کے لیے تمہیں 8 سال کی بچی کو اغوا کرنا ہے۔ آصفہ روز گھوڑے کے ساتھ جنگل جاتی تھی اس جنگل کے پاس ہی رام کا مکان ہے۔ رام کا ٹین ایجر بھتیجا اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر نشے کی گولیاں بازار سے لاتا ہے اور 10 جنوری 2018 کو جب معصوم بچی آصفہ اپنے گھوڑے کو لینے جنگل جاتی ہے تو یہ دونوں بدمعاش اس بچی کو اغوا کرتے ہیں اور زبردستی نشے کی گولیاں کھلادیتے ہیں ، اور بے ہوشی کی حالت میں اس کو مندر لے جاتے ہیں ۔وہاں اس کے ساتھ مسلسل عصمت دری کرتے ہیں اور 6 روز تک ان کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اس دوران وہ رام کے بیٹے وشال جو کہ میرٹھ میں پڑھائی کرتا ہے، اس کو فون کرتا ہے کہ آؤ تم بھی اپنی ہوس کو مٹاؤ، وہ میرٹھ سے آتا ہے اور اپنی ہوس کا نشانہ اس معصوم بچی کو بناتا ہے، اس دوران معصوم آصفہ کو مسلسل نشے کی گولیاں پلائی جاتی ہیں اور وہ بے ہوش رہتی ہے۔یہ سب کچھ مندر میں ہوتا ہے، وہی مندر جہاں بھگوان کی پوجا ہوتی ہے، وہی مندر جس کی آستھا کو لے کر اکثریتی طبقہ فساد پر فساد مچاتا آرہا ہے۔اور اسی اکثریتی طبقے کے افراد آستھا کے استھان کو پاپ کا ٹھکانہ بناتے ہیں ۔۔۔آصفہ کے والد اس دوران رام کے پاس آصفہ کا اتہ پتہ پوچھنے کے لیے آتے ہیں ، لیکن وہ یہ کہہ کر ٹال دیتا ہے کہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوگی، اس واقعے سے گوجر کمیونٹی سراپا احتجاج ہو جاتی ہے لیکن پولس پہلے ٹال مٹول کرتی ہے لیکن پھر دباؤ میں آکر FIR درج کرتی ہے، لیکن پولس کے افراد 4 لاکھ کے عوض کرپٹ ہوکر اس گھناؤنی سازش کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ 16 جنوری کو آصفہ کے سر پر دو پتھر مارے جاتے ہیں اور اس طرح وہ بچی ان درندوں سے آزاد ہوجاتی ہے۔17 جنوری کو آصفہ کی لاش جنگل میں مل جاتی ہے چونکہ پولس کے انکاری افسر کرپٹ ہوئے تھے لہٰذا وہ تمام ثبوت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ عوامی سطح پر احتجاج بڑھتا گیا، نتیجتاً معاملہ کرائم برانچ کو سونپا جاتا ہے، اس دوران ہندو ایکتا منچ کے نام سے انسانیت کے دشمنوں کو بچانے کے لیے ایک فورم تشکیل دیا جاتا ہے، اس سیاسی منچ کی حمایت کے لیے بی جے پی کے دو کابینہ سطح کے وزراء بھی آتے ہیں ، ان میں ایک وہ بھی ہیں جس نے کچھ عرصہ قبل کھلے عام مسلمانوں کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ ”تم کیا 1947 بھول گئے”۔

آصفہ کا یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ، کس قدر نفرت بھر دی گئی ہے ایک کمیونٹی کے خلاف کہ ایک شخص اپنے بھتیجے کو آمادہ کرتا ہے کہ میرے لکھے گئے اسکرپٹ کا کردار نبھانا ہے۔ مقصد بس یہ ہے کہ اس کھیل سے اقلیتی مسلم گجر کمیونٹی میں خوف پیدا ہو تاکہ وہ وہاں سے بے دخل ہو جائیں ۔ پاپ کے لیے پوتر مندر کی جگہ منتخب ہو جاتی ہے، اس سارے واقعے کے پیچھے جو سیاست کار فرما تھی وہ دھیرے دھیرے سامنے آتی گئی۔پہلے مسلمان لیڈر جو آصفہ کو ڈھونڈنے کے لیے احتجاج کی قیادت سنبھالے ہوئے تھا انہیں حراست میں لیا جاتا ہے، اس دوران پولس کے چند اہلکار سارے ثبوت مٹانے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، تعجب ہوتا ہے کہ انسان کیسے اس قدر گر سکتا ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ کیس جب کرائم برانچ کے سپرد کیا جاتا ہے تو اس پر ہندو کے نام پر ہندو کو جمع کیا جاتا ہے جو کرائم برانچ کے سپرد کیس کو کیے جانے کے خلاف ایجیٹیشن شروع کرتے ہیں اور عوامی نمائندے کھل کر اس ہندو فورم کی حمایت کرتے ہیں ، اخلاق اور انسان سوز اس تماشے کا ننگا ناچ اس وقت سڑک پر آگیا جب کرائم برانچ چارچ شیٹ دائر کرنے عدالت جاتی ہے تو کالے کوٹ پہنے کالے دل والے قانون کے محافظ پولس کو روکنے کی کوشش کرکے اپنے منہ پر کالک پوت لیتے ہیں ۔اگلے دن جموں بند کی کال دی جاتی ہے جس کو بزور طاقت عملانے کے لیے انسانیت کے دشمن ڈنڈے لے کر اور جے شری رام، بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگا کر اور ہندوستان پرچم کی آڑ میں کھلے عام دہشت گردی کرتے ہیں۔

اگرچہ جموں تاجران کی نمائندہ تنظیم نے بند کال کی حمایت نہ کی، اس کے باوجود تین ضلعوں میں ہڑتال کا اثر رہا، سیاست بھی کیا کھیل کھیلتی ہے، نربھیا کے معاملے سیاسی پارٹیوں سے لے کر سول سوسائٹی تک سارا بھارت سراپا احتجاج نظر آتا ہے۔ میڈیا مجرموں کو ”سزا دو” کی مہم چلاتے دکھائی دیتا ہے،لیکن آصفہ کا واقعہ پتہ نہیں بھارتیوں کے خون میں کوئی اُبال کیوں نہیں لا پایا.. پتہ نہیں ہندوستان کے وزیر اعظم کی زبان اس واقع کو لے کر گنگ کیوں رہ گئی،شاید آصفہ کی عزت اور اس کا خون ارزاں ہے۔وہ مسلم جو ٹھہری۔ کیا نفرت کو اس حد تک پھیلایا جاسکتا ہے کہ انسان شیطانوں کی حمایت میں نکلے، قانون کے رکھشک بکھشک بن جائیں ۔انسان حیران کیوں نہ ہو۔ایک چھوٹی بچی کے ساتھ اس قدر انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کی کھلے عام حمایت ملتی ہے وہ بھی صرف اس بنیاد پر کہ آصفہ کا تعلق مسلمانوں سے ہے، گرچہ آصفہ کا تعلق جموں کی اس مسلم کیمونٹی سے ہے جن کے تئیں ظالم بھارت کا ماننا ہے کہ اس کمیونٹی نے کشمیر میں موجود تحریک کی کبھی حمایت نہیں کی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ سے آصفہ کے والدین ڈپریشن کے شکار ہوگئے ہیں ۔ کیوں نہ ہوں ، اس کی ماں نے کس لاڈسے اپنی لاڈلی کو پالا ہوگا، باپ نے یہ سوچا ہوتا کہ بچی بنا کہے ہی باپ کی ضروریات سمجھے گی۔ آصفہ کے بھائیوں کے لیے یہ بہن دنیا کا سب سے بہترین تحفہ تھا۔آصفہ کے اپنے تو دور ہر دل رکھنے والا انسان اس واقعہ اورخاص کر کرائم برانچ کی ابتدائی رپورٹ سے ملول و مضطرب ہوا ہے، کلیجہ پھٹتا ہے، دل میں وحشت پیدا ہوتی ہے جب یہ سوچتا ہوں کہ 8 سال کی بچی کو جب مندر میں باندھا گیا ہوگا، ویران جگہ میں اکیلی بچی کو کئی روز تک اکیلے رکھا گیا ہوگا، کس قدر وہشت زدہ ہوئی ہوگی،کیا بیتی ہوگی اس ننھی کلی پر جب بار بار نشے کی گولیاں کھلا کھلا کر نیم مردہ حالت میں اس معصوم جان پر درندے باری باری ٹوٹ پڑے ہوں گے۔معلوم ہوا کہ درد سے ننھی کلی بار بار آنکھیں کھولتی لیکن خواب اور گولیوں کی وجہ سے چلا بھی نہ سکتی اور اندر ہی اندر تڑپتی، درندگی نے درندگی سے سو بار پناہ مانگی ہوگی۔

جب پولس کا اہلکار اس ننھی جان کی موت سے بس اس وجہ سے پریشان ہوتا ہے کہ وہ آخری بار کیوں نہ اس معصوم کو ہوس کا نشانہ بنا پایا، کئی روز تک بار بار اس اذیت سے اتنی کم عمر میں گزرنا یہ سوچ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، جب اس کے سر پر دو پتھر مارے گئے تاکہ وہ کسی بھی صورت زندہ نہ رہنے پائے تو یہ معصوم کلی کتنا تڑپی ہوگی۔ یہ سوچ ہی دل کو چھلنی کردیتی ہے۔۔۔اس واقعے نے جموں کے لوگوں کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔انہیں آج انسانیت اور درندگی کے مابین چلتی اس جنگ میں ثبوت پیش کرنا ہے کہ وہ کس طرف ہیں ۔کہیں وہ نفرت کی آگ میں نہ جل جائیں اور تاریخ میں بدترین عنوان بن کر رہ جائیں ۔۔۔امید ہے کہ وہ اس طرح کا ثبوت نہیں دیں گے اور ظالموں کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سہیل بشیر کار

بارہمولہ، کشمیر

متعلقہ

Close