ہندوستان

جدہ میں پھنسے مزدوروں کی حقیقی تصویر

حفیظ نعمانی

ہندوستا ن میں اخبارات، ٹی وی، ریڈیواور حکومت کے ذمہ دار سعودی عرب میں پھنسے مزدوروں کی ایسی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں جسے دیکھ کر اور سن کر ہر حساس انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کا ایک رکارڈ ہے کہ کوئی ہندوستانی اگر کسی دوسرے ملک میں پریشان ہے تووہ ہرطرح اسکی مدد کرتی ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی وہ فکرمند ہیں۔ اور کل ہی انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ نائب وزیر خارجہ کووہ ریاض بھیج رہی ہیں اوروہ وہاں کے وزیروں اور افسروں سے ان پریشان لوگوں کا ہرمسئلہ حل کرائیں گے۔ اور انکو واپس لانے کا انتظام کریں گے۔

ہر کسی کی زبان پرہے کہ 10-8ہزارہندوستانی جدہ کے کیمپوں میں بھوکے مررہے ہیں۔ جن کمپنیوں میں وہ کام کررہے تھے وہ بند ہوگئی ہیں اور کمپنی کے لوگ کام بند کر کے وہاں سے بھاگ گئے ہیں۔ ان خبروں سے ہر حساس آدمی پریشان بھی تھا اور عربوں کی جو تصویرسامنے آرہی ہے وہ بھی ہرمسلمان کوشرمندہ کررہی تھی۔ تین دن ہوئے میرے نواسہ نے اپنی ماں کوایک تصویر بھیجی۔ جس میں دکھایا تھا کہ آپ کے کمرہ میں اوپر سے نیچے تک بڑے چھوٹے ڈبے بھرے ہوئے ہیں جن میںوہ سامان ہے جو ہم اور ہمارے تمام دوست جدہ سے جمع کررہے ہیں اور بے روزگار ہونے والے مزدوروں کوتقسیم کررہے ہیں۔ میری بیٹی جو اپنی چھٹیوں میں آج کل میرے پاس آئی ہوئی ہے۔ اس نے مجھے دکھایا تو روشنی نظر آئی۔

میں نے اپنے داماد سے جو پندرہ دن سے میرے ہی پاس ہیں معلوم کیا کہ تم تو وہاں موجود تھے۔ تمہیں تو معلوم ہوگا کہ قصہ کیا ہے ؟انہوں نے بتایا تو آنکھیں کھل گئیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب 140روپئے میں کچا تیل برسوں سے بیچ رہا تھا۔ جب ایران کے اوپرسے پابندیاں ہٹ گئیں تو اس نے مقابلہ شروع کردیا۔ اورکم قیمت پرتیل دینے لگا۔  اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے ملک بھی قیمت کم کرنے لگے اور اس وقت صرف40روپے میں دنیا کوتیل دینا پڑ رہا ہے۔

سعودی عرب میں حکومت شاہ اور شاہ زادوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بڑے بڑے پروجکٹوں کا منصوبہ بناتے میں۔ اور ملکی غیرملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیدیتے ہیں۔  برسوں سے جو پروجیکٹ چل رہے تھے۔ ان کومکمل کرنے کے لئے شاہ زادوں کے پاس پیسہ نہیں رہا توانھوں نے نا مکمل ہی چھوڑدئے۔ وہ پروجیکٹ بند نہیں ہوئے تھے روک دئے گئے تھے۔ لیکن ہر ٹھیکہ لینے والی کمپنی اپنے مزدوروں کو اپنی عمارتوں میں رہنے کی جگہ دیتی ہے۔  جسکی نیچے کی منزل میں کمپنی کی کینٹین بنی ہوتی ہے۔  جس میں وہ لوگ کھاتے ہیں انہی کوکیمپ کہا جاتا ہے۔

بات اس وقت بگڑی جب لبنان کی ’’سعودی اوجر‘‘جو بہت بڑی کمپنی تھی اس نے مایوس ہوکر دوسرے ملکوں میں ٹھیکے لے لئے۔ اور سعودی بینکوں سے روپیہ وہاں منتقل کرنا شروع کردیا۔ اور کینٹین بند کر دیں۔ سعودی حکومت نے اسے بلیک لسٹ کردیا اوردبائو ڈال رہی ہے کہ وہ مزدوروں کا حساب کرے لیکن وہ کہاں سے کرے اسے شاہ زادوں سے ملے تب وہ ادا کرے گی۔

جدہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی تنظیم بنائی  اور فوراً انکے کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ پھر میں نے نواسہ سے بات کی تو اس نے بتایا کہ ہم نے تو رمضان میں ہی کام شروع کردیا تھا۔ اورہر گھر اوردکان سے اتنا تعاون مل رہا ہے کہ خدا کا فضل ہے بھوکا کوئی نہیں ہے۔ اسکے بعد انکے ایک اورساتھی سے بات کی جوزیادہ ذمہ دار ہیں۔ ان سے سوال کئے جسکے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ان میں ہندوستانی تو چارہزار سے بھی کم ہیں باقی پاکستانی، بنگلہ دیشی اور نیپالی ہیں۔ اور ان میں خاصی تعداد میں غیر مسلم بھی ہیں۔ لیکن ہم بھی مدد کررہے ہیں اورپاکستانی بھی کررہے ہیں۔ ان کا بیان تھا کہ ہم نے اب تک چالیس ہزار ریال کا سامان تقسیم کیاہے۔ اور ان کے دوسرے معاملات میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ تا کہ جو نہیں جانا چاہیں وہ رک سکیں۔

سعودی عرب کا قانون ہے کہ اگر جسکے ویزے پرکوئی آیا ہے وہ اس سے نہیں ملے کام بھی نہ لے اورروپے بھی نہ دے تو اسے حق ہوگا کہ وہ کسی دوسری جگہ کام کرے۔  ہم نے بعض کمپنیوں سے بات کی ہے اور وہ تجربہ کارلوگوں کو لینے پرتیار ہیں اوروہ جو 15یا 20سال سے کام کررہے ہیں وہ اس لئے نہیں واپس جانا چاہتے کہ وہ مقدمہ لڑ کر اپنے سارے مطالبات وصول کرکے آنا چاہتے ہیں۔ اوروہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کیوں کہ ہرباہری کمپنی کالاکھوں ریال زرضمانت محفوظ ہے۔

ان تمام لوگوں کو چھ مہینہ سے زیادہ ہوگئے ہیں لیکن کینٹین اس وقت بند ہوئیں جب یہ اندازہ ہوگیا کہ نہ تیل کی قیمت اتنی بڑھ سکے گی کہ پروجیکٹ مکمل ہو سکیں۔ اور نہ ہمیں ہمارے پیسے ملیں گے۔ اسکے بعد وہ اسٹاف جس سے ان مزدوروں کا ہروقت سابقہ رہتا تھا وہ ڈر کربھاگ گئے۔ اورانکے کھانے پینے کا سوال پید ا ہوا۔ سعودی عرب میں ہمیشہ سے ایک روٹی ایک ریال کی ملتی ہے۔ وہ کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ اکثر وہ ہیں کہ ایک پوری روٹی ایک آدمی نہیں کھا سکتا۔  ایک روٹی دو کے لئے یا دو روٹی تین کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ اسی طرح دہی بہت سستا مل جاتا ہے۔ اسکی وجہ سے ایسا نہیں ہے کہ وہ بھوکے مررہے ہیں۔ وہ خرید تے بھی ہیں۔ اورہم جیسے دوسرے بھی مدد کررہے ہیں۔

ہم نے ان بچوں سے معلوم کیا کہ ہمارے سفارت خانہ کو سشما جی نے حکم دیا تھا کہ وہ پکا ہوا کھانا اور ایک ایک ہفتہ کا کچا راشن ان سب کو دے دیں۔ دونوں بچوں نے بتایا کہ سفارت خانہ کچھ نہیں کررہا ہے اور لوگ بہت ناراض ہیں۔ ہم نے ایک بات۔ اپنے اندازہ کے لئے معلوم کی کہ تم لوگ جب سامان سے بھری گاڑیاں لیکر جاتے ہو تو کیا وہ لوٹ مچادیتے ہیں؟یا سکون سے بیٹھے رہتے ہیں اوراپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم نے فساد زدہ علاقوںمیںرلیف کا کام کیا بھی ہے اور انجام دیکھا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے دن تو وہ اسی موڈ میں تھے۔ مگر ہم نے کہا کہ اس سے پچاس گنا تمہارے لئے اوررکھا ہے۔ اگر لینا ہے تو سکون سے لواوربتائوکہ کیا کیا چاہئے ؟تووہ اب سکون سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اوروہیں کے پڑھے لکھے لوگوں کو ہم نے لگا دیا ہے کہ کوئی دوایا کوئی خاص چیز چاہئے تو معلوم کرلیا کرو وہ ہم بعد میں لادیں گے۔ یہ بچے جو پیداتو ہندوستان میں ہوئے مگر تعلیم جدہ میںیا ریاض میں حاصل کی اور پھر لندن جا کر آکسفورڈ سے کوئی ڈگری لی اوراب بڑے بڑے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ اورتنخواہ کاقابل ذکر حصہ ان پرخرچ کر رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے لئے بھی دعا کی جائے جوپریشان ہیں اور ان بچوں کے لئے بھی۔ جو اپنے آقاؐ کے حکم کی تعمیل کررہے ہیں۔ اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close