ملی مسائلہندوستان

جماعت اسلامی ہند کی مسلم پرسنل لا بیداری مہم

عبدالعزیز

 جماعت اسلامی ہند ملک کے طول و عرض میں ایک معروف جماعت ہے۔ ہر ریاست ، ہر شہر اور قریہ میں اس کے کارکنان پائے جاتے ہیں ۔ مرکزی سطح پر اردو سہ روزہ ’’دعوت‘‘، انگریزی ہفتہ وار ’’ریڈیئنس‘‘ اور ہندی ماہنامہ اور ہفتہ وار ’’کانتی‘‘ اور اردو ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ شائع ہوتا ہے، جو ملک کے طول و عرض میں پڑھا جاتا ہے۔ ان اخبارات و رسالوں کے علاوہ تقریباً ہر ریاست کی ریاستی زبانوں میں اس کے ہفتہ وار اخبارات نکلتے ہیں ۔

 کیرالہ میں ’’بودھنم‘‘ (ملیالی ہفت روزہ)، ’’آرامم‘‘ (خواتین کا ماہنامہ)، اسلامک پبلشنگ ہاؤس، مکتبہ پرتیکشا، اسلامک ویب پورٹل، بودھنم (ملیالم سہ ماہی)، ملر واڑی (بچوں کا ماہنامہ)، اسلامی انسائیکلو پیڈیا، D4 میڈی، اسلامک ویب پورٹل ان کے علاوہ جماعت کی امداد سے چلنے والے ادارے ’’مادھیامم ڈیلی‘‘ (جس کی اشاعت تقریباً دس لاکھ ہے)، گلف مادھیامم، میڈیا ون ٹی وی چینل، مادھیامم ویکلی، مادھیامم ہیلتھ کیئر، تنسیما کلا ساہتیہ ویدی۔ اس سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جماعت کے اخبارات اور رسالوں کا بھی ملک میں اچھی خاصی تعداد میں جال بچھا ہوا ہے۔

 ارکان جماعت کی تعداد بھی دس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ کارکنوں ، ہمدردوں کی تعداد لاکھوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر جماعت کی پوری مشنری حرکت میں آجائے تو جس مہم کا بھی ہفتہ یا عشرہ منایا جائے یقینا ملک پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

  جماعت نے مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کا آغاز کردیا ہے۔ 23 اپریل سے 7مئی تک یہ مہم منائی جائے گی۔ اس کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ ملک کے اکابرین ملت اور جماعتوں کے ذمہ داران نے اپیل کی ہے کہ مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کو ملت کا ہر فرد کامیاب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے۔

اپیل میں مہم کے مقصد اور پس منظر کا ذکر جامع انداز سے کیا گیا ہے۔

 اس موقع پر اگر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بھی تحفظ شریعت یا مسلم پرسنل لاء کے نام پر بھی مہم چلائی جاتی تو اور بھی اچھا ہوتا۔ دیگر جماعتیں بھی اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کسی بھی عنوان سے مہم مناتیں تو یقینا ملت کے ہر فرد تک مسلم پرسنل لاء کا پیغام پہنچ جاتا۔ اچھا ہوا جماعت نے اکابرین ملت سے اپیل کیلئے درخواست کی اور اکابرین نے فراخ دلی کے ساتھ اسے قبول کرلی۔

میرے خیال سے اس مہم کا اگر follow up ہو تو کامیابی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ جماعت نے جو کتابچے شائع کئے ہیں اس میں شرعی پنچایت اور دارالقضاء کے قیام کی بھی بات کہی گئی ہے۔ اگر ان اداروں کا پورے ملک میں جال بچھا دیا جائے اور یہ ادارے سرگرمی سے کام کرنے لگیں اور مظلوموں کو انصاف ملنے لگے تو پھر حالات میں سدھار ہوسکتا ہے۔

 اہم بات یہ ہے کہ مسلمان شریعت کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے لگیں تو مسلمانوں کے معاشرہ میں جو سماجی خرابیوں نے سر اٹھایا ہے اس کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں انھیں شریعت کا مذاق اڑانے یا مداخلت کرنے کا موقع نہیں مل سکتا۔ آج جو دشمنانِ اسلام تین طلاق کے بہانے اسلام کے عائلی قانون پر حملے کر رہے ہیں اس میں ہماری بھی کوتاہیوں اور خامیوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ مسلم سماج برائیوں اور ظلم و زیادتیوں سے پاک نہیں ہے اور نہ ہی مسلم معاشرہ میں ایسے لوگوں پر لگام کسا جارہا ہے جو دھڑلے سے کمزوروں پر ظلم و جبر کر رہے ہیں ۔ جب تک ہمارے معاشرہ میں ایسے لوگوں کا کوئی گروپ یا جماعت وجود میں نہیں آتی جو ظلم یا برائی کو طاقت اورزبان سے نہیں روکتی۔ بروں یا ظالموں کا ہاتھ نہیں پکڑتی معاشرہ کا سدھار ممکن نظر نہیں آتا۔ علامہ اقبالؒ نے سچ کہا ہے   ؎

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close