ہندوستان

جمہوریت کا بدلتا منظرنامہ: ہم کیاکریں؟

70؍ویں جشن جمہوریہ کی مناسبت سے

عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

پندرہ اگست 1947ء کوہماراملک انگریزوں کے پنجۂ استبداد اور نرغۂ تشددسے آزادہوااورآزادی کے تقریباً ڈھائی سال بعد آئین کا نفاذ عمل میں آیا،اس کے بعد سےہندوستان ایک مکمل خود مختار جمہوری ملک بن گیا جس کا سنہراخواب ہمارے قائدین  نے دیکھا تھا اور جس کی آبیاری کے لیے جام شہادت بھی نوش کیا تھا۔ اس طے شدہ دستور کے آغاز میں جو جملے مرقوم ہیں وہ پڑھنے کے قابل اور بہت ہی  اہمیت کے حامل ہیں۔ ملاحظہ ہو:’’ہم ہندوستانی عوام تجویز کرتے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد ، سماجوادی ، جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کے لیے سماجی ، معاشی ، سیاسی انصاف ، آزادئ خیال ، اظہار رائے ، آزادئ عقیدہ و مذہب و عبادات ، مواقع اور معیار کی برابری ، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا اور ملک کی سالمیت و یکجہتی کو قائم و دائم رکھا جائے گا۔‘‘

آئین در حقیقت  نظام مملکت کے امن و امان کے ساتھ چلتے رہنے کا بنیادی ڈھانچہ  ہوتا ہے۔ آئین ہی میں لکھا ہوتا ہے کہ کس طریقے سے ملک میں حکومت تشکیل دی جائی گی اور اسےکون کون سے ادارے کس طور پر  چلائیں گےنیز اداروں میں کس طرح کے افراد کا تعین ہوگا وغیرہ۔ چوں کہ ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں؛اس لیے ہمارا دستور بھی سیکولر اور جمہوری ہےجو ہمیں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بہت سے حقوق فراہم کرتا ہے۔شاید اسی لیےکہاجاتاہے کہ کسی بھی حکومت کو جمہوری حکومت اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب وہ انصاف،آزادی ،مساوات ،اور اخوت کے تقاضوں کو پوار کر سکے۔

جمہوریت کیاہے؟

جمہوریت کیاہے؟ بنیادی اعتبارسے عوام پر عوامی نمائندوں کے ذریعہ جو حکومت کی جاتی ہےاس کو جمہوریت یعنی سیکولرزم کہاجاتا ہے ،جمہوری نظام میں حکمراں افراد، عوام کے انتخاب سے مقرر ہوتے ہیں ، اور عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کے بارے میں جواب دہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی اور خوبصورتی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اس کے سایے میں سانس لینے والے شہریوں کے ساتھ عدل و انصاف اوربرابری و مساوات کا معاملہ کیا جائے۔ امن و سکون کا ماحول ہو، اصول و قوانین کی بنیادپرحکمرانی ہو اور تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے دینی شعائر اور اصول و عقائد کی روشنی میں زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔مذہبی آزادی میں حکومتیں دخل انداز نہ ہوں اورسب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ ہر حکومت کے مطمح نظر ہو۔

وطن عزیز ہندوستان جو دنیا کا سب سے عظیم جمہوری ملک ہے اس کا دستور اپنے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور تمام طبقات کو یکساں حقوق و مواقع کی ضمانت فراہم کرتا ہے،دستورِ ہند میں مذہبی اقلیات کے لئے خاص رعایتیں بھی دی گئی ہیں جن کی حفاظت اور یقین دہانی حکومتِ وقت کی ذمہ داری اور فرضِ منصبی ہے۔

ہمارا یہ ملک صدیوں سے آپسی بھائی چارہ اور مل جل کر جینے کا مظہر رہا ہے،ہرمذہب کے ماننے والے جس امن وسکون کے ساتھ یہاں زندگی گزارتے ہیں اس کی مثال دنیامیں کہیں پیش نہیں کی جاسکتی؛مگرافسوس کی یہاں وقتاً فوقتاً امن و شانتی کوبرباد کرنے اور فرقہ واریت کو بڑھاوادینےکی سازشیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ان دنوں ہمارا ملک اسی صورت حال سے دوچار ہے ،یہاں کے جمہوری نظام پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں، خود برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کی قریبی حلیف ’’شیوسینا‘‘ نے اپنے ترجمان مرہٹی اخبار "سامنا "کے ایک اداریہ میں  اس قسم کےشکوک و شبہات کا برملا اظہار کیا ہے ۔ یہ شکوک کسی اپوزیشن پارٹی یا اس کے کسی ترجمان اخبار نے ظاہر نہیں کئے ؛ بلکہ حکومت کی ایک دیرینہ حلیف شیوسینا نے ظاہر کئے ہیں ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابقہ وزیر فینانس یشونت سنہا نے تو  مرکزی وزراء کو یہاں تک مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اندر کے خوف کو ختم کرتے ہوئے حق گوئی سے کام کریں ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرکزی وزراء پر وزیراعظم کا خوف چھایا ہوا ہے ۔ یہ صورتحال ملک کی جمہوریت اور اس کی مرکزی کابینہ کے لئےباعث تشویش ہے۔

حکومتو ں کا دوہرا معیار:

یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت نظام حکومت میں عوام کی شرکت کا نام ہے ؛ لیکن افسوس کہ یہاں جمہوریت دس فیصد لوگوں کے لیے ان کی عیاشی اور کاروبار کا ذریعہ ہے ، ملک کے تمام وسائل و ذرائع اور مال و دولت پر گنے چنے مخصوص لوگ قابض ہیں۔یہاں ملک کی غریب عوام کے لیے نہ روزگار کے مواقع ہیں نہ کوئی ذریعہ معاش، نہ عدل و انصاف پر مبنی حکمرانی ہے ، نہ جان و مال کا تحفظ۔ اس آزادی کا کچھ بد نیت لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کیااور اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جانے لگا؛اس طرح ہندوستان کی70 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آزادی کے بعد سے اس ملک کے مسلمانوں کے جان و مال کی کما حقہ نہ حفاظت کی گئی اور نہ ہی ان کو دوسرے شہریوں کی طرح حقوق حاصل رہے ۔خواہ دستور ہند میں کتنی ہی آزادی ہو؛لیکن سچ یہ ہے کہ مسلمان آج بھی یہاں دوسرے درجے کے شہری کی زندگی گزار رہا ہے ۔آزادی سے لےکر آج تک کانگریس کا دور حکومت پھر بھاجپا کا عہد اقتدارہزاروں مسلم کش فسادات سے بھرا پڑا ہے ۔ان میں مرنے والوں کی تعداد دوسری جنگ عظیم میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ،زخمی ہونے والوں اوربے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے والوں کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی ہے ۔فسادات میں مسلمانوں کی اربوں کھربوں کی جائیدادوں کو لوٹا اور جلایا گیا ۔شاید ہی ملک کا کوئی شہر ایسا ہو جو فسادات سے بچا ہو ۔ملک میں آزادی سے قبل مسلمانوں کی کتنی گھریلو صنعتیں تھیں جنہیں چن چن کر ختم کیا گیا ۔ جان و مال کی تباہی کے بعد اب روٹی روزی سے بھی محروم کر دیا گیا ۔اسی کے ساتھ پورے ملک سے اردو زبان کو ختم کرنے کی منظم سازش کی گئی ،ملک کے پچھڑے طبقوں کو ریزر ویشن دیا گیا لیکن اسی آئین کے تحت مسلمانوں اور عیسائیوں کو محروم رکھا گیا ؟آج مسلمانوں کے لئے پندرہ نکاتی پروگرام ،رنگا ناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کے حوالے دئے جاتے ہیں لیکن نہ تو مسلمانوں کو حقوق ملے اور نہ اس پر ایماندارانہ عمل درآمد کیا گیا ۔

ہم جمہوریت کا تحفظ کیسے کریں ؟

اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی خاص نصب العین اور ٹارگیٹ کو سامنےرکھ کر کوشش نہیں کرپا رہے ہیں،الیکش کا موقع آتا ہے تو اس سے قبل اور بعد خوب بیان بازیاں ہوتی ہیں؛ لیکن سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کیاجاتا کہ اس جمہوری ملک میں ہماری کام یابی کا راستہ کیا ہے؟ہم سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کے لیے کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ اس سلسلہ میں چند معروضات پیش خدمت ہیں !

1:ہم جہاں ایک پکے مسلمان ہیں وہیں سچے محب وطن بھی ہیں ،آقائے دوعالم ﷺ نے اپنی امت کو وطن سے محبت کی تعلیم دی  ہےخود جب آپ اپنا مولد ومسکن  مکۃ المکرمۃ چھوڑ کر مدینہ طیبہ ہجرت فرمارہے تھے تو آپ کی آنکھیں بے ساختہ آنسو بہارہی تھیں اور آپ زبانِ حال و قال سے یہ فرماتے جارہے تھے :ائےسرزمین  مکہ!ائے بطحا کی وادی!ائے وطن عزیز! تیرا فراق مجھے ہرگز گوارا نہ ہوتا، اگر تیرے باشندے مجھے اس پر مجبور نہ کرتے ۔اس لیے یہ ہمارا قومی فریضہ ہے(خاص کر ان حالات میں جب کہ وطن سے محبت کی بنیاد یہی کچھ رسوم رہ گئے ہیں ) کہ  ہم جشن آزادی یا جشن جمہوریہ منانے میں دیگر ابنائے وطن سے بالکل پیچھے نہ رہیں اور یاد رکھیں !یہ ہمارا اپنا ملک ہے،ہمارے اسلاف و اکابر نے اس کے لیے بے مثال اور یادگار قربانیاں دے کر اس امانت کو ہمارے سپرد کیاہے؛لہذا ہم ان زریں مواقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں ؛بل کہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر مسلم برادران کو بھی ان تقاریب میں مدعو کریں ؛تاکہ انہیں بھی حقائق کو سمجھنے کا موقع مل سکے۔

2:ہمیں اس بات کی بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے کہ مسلمانوں میں موجود انتشار کی کیفیت ختم ہو،کم از کم کلمہ کی بنیاد پر ہم اپنے آپ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرلیں !اگر ہم متحد ہوں گے تو ہمارا اپنا وجود اپنے آپ میں ایک قوت کی شکل اختیار کرے گا، جس کو ختم کرنا بہر حال نا ممکن ہوگا۔ اگر اس کے بالمقابل ہم منتشر رہیں گے تو سرے سے ہمارا وجود بے معنی ہوکررہ جائےگا۔ اس وقت مسلمان سیاست کے میدان میں متحد ہو جائیں اور فیصلہ کر لیں کہ انھیں کسی ایک کنڈڈیٹ کو ووٹ دینا ہے تو یقین مانیے ! ہم اتنے مضبوط ہیں کہ جس کو چاہیں ، تخت پر بٹھادیں اور جس کو چاہیں تخت سے اتار دیں۔ضرورت ہے کہ ہم سنجیدگی سے مسائل کاجائزہ لیں !غور و فکر سے کام لیں اور ان کے حل کے لیےمضبوط حکمت عملی اختیار کریں ۔

3: جمہوریت کے تحفظ کے لئے یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہم اپے اندر سیاسی شعور بیدا کریں،یہ اپنی جگہ  درست ہے کہ ہر شخص  کی اپنی زندگی اور زندگی  سے وابستہ اپنی اپنی ضرورتیں ہیں؛مگر ان سب کے ساتھ من حیث القوم اگر ہم اپنا تحفظ چاہتے ہیں تو پھر حالات سے با خبر رہنے،مسائل کا تجزیہ کرنے ،سیاسی داؤ پیچ کو سمجھنے اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے ہمیں خواب گراں سے بیدار ہونے اور متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی موضوع پر حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ نے فرما یا تھا کہ  ’اگر اس ملک میں مسلمانوں کو پنج وقتہ نمازی تو کیا بلکہ تہجد گذار بنادیا جائے؛مگر انکے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے تو پھر مسجدیں ہی نہیں بلکہ انکے نمازپڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

یہ بھی امر واقعی ہے کہ سیاسی شعور کا فقدان صرف مسلم عوام میں ہی نہیں بلکہ ہمارے منتخب کردہ نمائندوں میں بھی بہ کثرت پا یا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر مسلم قیادت جمہوریت کی نزاکتوں، حالات کی پیچیدگیوں اور سیاسی تقاضوں پر کھری نہیں اُتر پاتی اور کچھ ہی عرصے بعد ہمارا سیاسی نمائندہ مختلف ھتکنڈوں کا شکار ہو کر سیاست سے باہر ہو جاتا ہے۔

4: کسی بھی ملک اوراجتماعی نظام کو چلانے ،نظم و نسق کو برقرار رکھنے اورپرامن بقائے باہمی کوفروغ دینےکے لیے کسی نہ کسی قانون و آئین کی ضروررت ہے اور آئین کسی بھی مملکت کی بنیادو اساس ہوتاہے ؛جس کاتحفظ پورے نظام کو انتشارسےبچانے اور حق دار تک اس کا حق پہونچانے میں ممدو معاون ہوتاہے؛اس لیےہمیں اپنے دستورو آئین سے آگاہی،اس کی باریکیوں سے واقفیت اور جدید ترمیمات سے باخبر رہنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے؛کیونکہ ملک کی پرامن بقا کا سارا مدار ملک کے دستور و آئین پر ہے، اگر ہم نے دستور کو بچانے کی فکر نہیں کی تو بالیقین ہمارا ملک بھی تشدد اور فرقہ واریت کی آگ میں جھلس جائے گا اور ہم کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔

5:جمہوریت کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور سیکولر پارٹی کو ووٹ دے کر ملک میں امن وسلامتی کی فضا بحال کرنے کی کوشش کریں ؛کیوں کہ انتخابات بھی بھی جمہوریت کا اہم ستون ہے اگر ہم نے ووٹ دینے کے مسئلہ میں سستی اور غفلت برتی یا پھر انتشار کا شکار ہوگئے تو ہم اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی رقم کرنے والے ثابت ہوں گے ؛اسی لیےاقبال مرحوم نے کہاتھا  ؎

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close