جمہوری تماشے کا رنگا رنگ نظارہ

ڈاکٹر سلیم خان

آبی ذخائر  کے ایک گھونٹ سے اندازہ ہوجاتا ہے پانی کیسا ہے؟ تمل ناڈو کی سیاست کے ضمنی انتخاب  میں دناکرن  کی کامیابی سے نہ صرف ہندوستانی  سیاستدانوں کی بلکہ رائے دہندگان کی نفسیات کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تمل ناڈو کے اندر جئے للتا کی موت کے بعد سے ایک زبردست خلفشار برپا ہے۔ اس بحر بے کراں  کی تہ سےہر چند ماہ بعد ایک نیا شوشہ اچھلتا ہے اور سیاسی افق  کے گنبدِ نیلو فری  پر ایک چھا جاتا ہے۔ انا دورائی کی موت کے بعد ان کی وراثت کے لیے کروناندھی اور  ایم جی رامچندر کے درمیان مہابھارت چھڑ گئی۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈی ایم کے  تقسیم ہوگئی اور دونوں رہنما ایک ایک دھڑے کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ اے آئی ڈی ایم کے عالمِ وجود میں آگئی اور اس نے کانگریس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اس طرح دراوڑی سیاست کے دوپہلوان مد مقابل رہ گئے۔ یہ دونوں  ایک دوسرے کو ہراکر اقتدار پر قبضہ کرلیتے لیکن کسی تیسرے کو دراندازی کا موقع نہیں دیتے۔

ایم جی رامچندر کی موت بعد اے آئی ڈی ایم کے اندر اقتدار کے دو دعویدار اٹھے۔ ایک تو ایم جی آر کی اصلی بیوی جانکی اور دوسری ان کی جعلی بیوی جئےللتا۔ ان دونوں سوتنوں نے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑا لیکن عوام نے اصلی پر نقلی کو ترجیح دی۔ جئے للتا پر بدعنوانی کے الزام لگے اور انہیں جیل جانا پڑا تو ان کی دستِ راست سسی کلا نے اپنی برادری کے پنیر سیلوم کا نام تجویز کیا۔  جئے للتا نے  اسےمنظور کرلیا اوراماّں   کی حیات میں سیلوم نے کئی مرتبہ بڑی سعادتمندی کے ساتھ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔ جئے للتا کی موت کے وقت بھی پنیر سیلوم وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان تھےلیکن سسی کلا نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پنیر سیلوم کو چلتا کر دیا۔ پنیر سیلوم نے سسی کلا سے بغاوت کردی اور بی جے پی سے پینگیں بڑھانے لگے۔

سسی کلا نے لوہے کی چھڑی سے پنیر سیلوم کو ٹھکانے لگا دیا اور اپنے وفادار پلانی سوامی کو وزیراعلیٰ بنا یا۔ بی جے پی والوں نے بدعنوانی کے الزام میں سسی کلا کو جیل بھجوادیا۔ جیل جانے سے قبل سسی کلا نے پارٹی سے پانچ سال پہلے باہر نکالے  گئے اپنے قریبی رشتہ دار ٹی ٹی وی دناکرن اور ایس وینکٹیش کو اندر لے لیاہے بلکہ  سابق راجیہ سبھا کے رکن دناکرن کو پارٹی کا نائب جنرل سکریٹری  یعنی اپنا قائم مقام بھی مقرر کردیا۔ اس اقدام کی وجہ سسی کلا نے  یہ بتائی  کہ ان دونوں نے معافی مانگنے کے بعد پارٹی میں دوبارہ شامل ہونے کی درخواست دی تھی۔ویسے تو ؁۲۰۱۱ میں  وزیر اعلی جئے للتا نے سسی کلا اور ان کے شوہر ایم نٹراجن کے ساتھ  دناکرن اور وینکٹیش کو پارٹی سے نکال دیا تھا مگر بعد میں سسی کلا سے مصالحت ہوگئی دناکرن باہر ہی رہے۔ دناکرن انا ڈی ایم کے کی اس ۱۲رکنی وفد کا حصہ تھے جس نے گورنر چودھری ودیاساگر راؤ سے ملاقات کر کے  پنیر سیلوم کے خلاف حکومت کی تشکیل کا دعوی کیا تھا۔ اس پیروی کے بعد پنیر سیلوم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہےاور اقتدار تبدیل ہوگیا۔ پنیر سیلوم کی جگہ پلانی سوامی وزیراعلیٰ بن گئے لیکن دغا بازی اور دھوکہ دھڑی کا یہ ننگا ناچ ایل لمحہ کے لیے بھی نہیں تھما بقول عنایت علی خان؎

کسی غمگسارکی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا 

 کے جو میرے غم میں گھلا کیا۔ اسے میں نے دل سے بھلا دیا

فروری سے اگست کے درمیان تمل ناڈو کی سیاست نے ایک اور کروٹ لی ۔ پنیرسیلوم اور پلانی سوامی جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے  متحد ہوگئے۔  پلانی سوامی نے پنیرسیلوم کو نائب وزیراعلیٰ بناکرسسی کلا کی پیٹھ میں خنجرگھونپ دیا لیکن جیل کے اندر بیٹھی ابلہ ناری کربھی کیا سکتی تھی؟ اسی کے ساتھ اے آئی ڈی ایم کے  این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں ہونے لگیں بلکہ  مودی کابینہ کی توسیع میں اس کی  شمولیت  کے امکانات روشن ہوگئے۔ اس  بیچ  سابق وزیر اعلیٰ جئے للتا کے انتقال سے خالی ہونے والی چنئی کی آر کے نگر اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب کا اعلان ہوگیا۔ سسی کلا کو پھر ایک بار زور آزمائی کا موقع مل گیا اور انہوں نے اپنے منظور نظر  ٹی ٹی وی دناکرن  کوآزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتار دیا۔

آر کے نگرکےانتخابی نتائج نے سارے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا۔ حکمراں جماعت کے امیدوارمدھوسودنن کو جملہ ۴۷ ہزار ووٹ ملے جبکہ دنکرن نے اس تقریباً ۴۰ ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اتنے بڑے فرق کے ساتھ تو جئے للتا بھی کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔ دنکرن کو ملنے والے ووٹ کا تناسب ۵۰ فیصد سے زیادہ تھا جبکہ حکمراں اے آئی ڈی ایم کے امیدوارکو جملہ ۲۷ فیصد نیز ڈی ایم کے کو صرف ۱۴ فیصد ووٹ ملے تھے جو ؁۲۰۱۶ کے بہ نسبت  بہت کم ہے۔ خوش فہمیوں کا شکار بی جے پی نے یہ اندازہ لگانے کے لیے ان دراوڑ جماعتوں کی آپسی لڑائی کا اس کو کیا فائدہ ہورہا ہے اپنا ممولہ بھی شہباز سے بھڑا دیا لیکن اس بیچارے کو   نوٹا (ان میں سے کوئی نہیں) کے ۲۳۷۳ سے بھی کم یعنی صرف ۱۴۱۷ ووٹ ملے اور اس کی ضمانت ضبط ہوگئی۔

آر کے نگر میں فتح  حاصل کرنے کے بعد دناکرن نےاعلان کیا کہ  ’’ ہم اصل انا درمک (اے ڈی ایم کے )ہیں۔ آر کے نگر کے لوگوں نے اما ّں (جئے للتا)کے ولی عہد کا انتخاب کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ تمل ناڈو کے اویناشی (تروپور) اور ارومانئیئ (کنیاکماری) سمیت مختلف مقامات کے میرے حالیہ دورے پر لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ پریشن ککر (ان کا انتخابی نشان) ہی جیتے گا، عوام اس حکومت کو تبدیل کرنے کے حق میں ہے۔‘‘دنکرن کے حامی بھی اپنے رہنما کے سرُ میں سرُ ملا رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہےکہ بہت جلد پنیر سیلوم اور پلانی سوامی کی سرکار گر جائیگی کیونکہ دنکرن کے ۱۸ وفادار ارکانِ اسمبلی اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔ کوئی بعید نہیں کہ ان  نتائج دیکھ کر ۱۸ کی تعداد میں مزید اضافہ ہوجائے۔ دنکرن کے حامیوں کو اب دو پتوں کے نشان کا قلق بھی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نشان سے زیادہ فرد کی اہمیت ہے۔ یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ   تمل ناڈو کے اندر  جمہوریت کے نام پر ہر رہنما کی موت کے بعد اس کے ساتھ وفاداری اور ایک دوسرے کے ساتھ غداری کا جو ننگا ناچ ہوتا ہے، کیا  وہ ملوکیت کو  بھی شرمندہ کردینے والا نہیں ہے؟ کیا اس طرح کی ابن الوقتی، خود غرضی اور مکاری و عیاری کا مظاہرہ کسی اور نظام سیاست میں ہوتا ہے؟   مغربی مرعوبیت کی عینک کو اتار کراگر اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کی جائے توبہت ممکن ہے کہ  روایت سے ہٹ کر مختلف جواب  ملے گا؟   عنایت علی خاں صاحب نے اس باطل نظام کی کیا خوب نقاب کشائی کی ہے؎

دراصل ہی تعیش و خودغرضیوں کا کھیل

بہبودیٔ  عوام  سے  کچھ   واسطہ   نہیں

کچھ لوگ جیسے ریل کے ڈبے میں لیٹ کر

کہتے ہیں دوسروں سے کہ بس اب جگہ نہیں۔



⋆ سلیم خان

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہمہ جہت ترقی کا اسلامی تصور

اس  دورپر فتن میں یہ ارشادِ قرآنی ہمارے لیے امید کی کرن ہے کہ ’’تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا۔ جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اوران کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اوران کی حالت خوف کو امن میں تبدیل کردے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے‘‘۔ معاشی اور روحانی پہلو کے علاوہ سیاسی ترقی یہ ہے کہ  حکمراں اپنے آپ کو اللہ کا  خلیفہ سمجھے  اور رضائے الٰہی کی خاطر عدل و قسط کا نظام  قائم کرے۔ امن وامان کی  یہی ضمانت حالتِ خوف کا خاتمہ کرکےدنیا و آخرت کی فلاح کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے