ہندوستان

جنہیں سزا ملی قصور اُن کا ہی تھا

حفیظ نعمانی

دسہرہ کی رات کو امرتسر میں جو کچھ ہوا وہ ہم جیسے ان لوگوں کے نزدیک جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اس بے شعوری کا نتیجہ تھا جو ہندوستان کے ہر علاقہ میں آئے دن نظر آتی ہے۔ دسہرہ پروگرام کے آرگنائزر راون دَہن جن کا تعلق پنجاب کی حکمراں پارٹی کانگریس سے ہے اس بھیانک حادثہ کو دیکھ کر ایسا ڈرے کہ گھر میں تالا لگاکر فرار ہوگئے۔ اور یہ تو بار بار ٹی وی پر دکھایا گیا کہ ان کے گھر پر جو باہر سے بھی بہت خوبصورت بنا ہوا ہے پتھروں کی ایسی بارش ہوئی ہے کہ سارے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ اور یہ پتھرائو کیوں ہوا ہے؟ اس کا اگر سنجیدگی سے بیٹھ کر پورے مسئلہ پر بات کی جائے تو جواب یہی ملے گا کہ جنہوں نے کیا تھا انہوں نے ہی بھرا۔

یہ بات پہلے دن سے کہی جارہی ہے کہ ریل کی پٹری بلندی پر تھی اور دیکھنے والے اوپر چڑھ کر آتش بازی دیکھ رہے تھے۔ آرگنائزر نے جو بیان دیا ہے اس میں کہا ہے کہ جس احاطہ میں دسہرہ کی تقریبات کا انتظام کیا تھا وہ 10  فٹ اونچی دیوار سے گھری ہوئی تھی۔ انتظامیہ سے اس کی باقاعدہ اجازت لی گئی تھی پورے علاقے میں پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ ہم نے دس بار اعلان کرایا کہ کوئی ریل کی پٹری پر نہ جائے لیکن دور سے اور اوپر سے دیکھنے کے شوق میں منع کرنے کے باوجود پٹری پر چڑھ گئے اور حادثہ کا شکار ہوگئے۔

وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آتے ہی کہا تھا کہ تو تو میں میں سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ اس کا الزام کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ یہی بات ایک وزیر نوجیوت سنگھ سدھو نے کہی کہ یہ صرف حادثہ ہے اسے سیاست کا موضوع نہ بنایا جائے۔ لیکن جن لوگوں نے اسی دن یا دوسرے دن ٹی وی دیکھا ہوگا انہوں نے سنا بھی ہوگا کہ بی جے پی اکالی دل اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر اس کی ایسی تصویر پیش کررہے ہیں جیسے کانگریسیوں نے مرنے والوں کو زبردستی لے جاکر پٹری پر لٹا دیا اور اوپر سے ٹرین گذار دی۔ پنجاب میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اس لئے ریلوے کے وزیر اور نائب وزیر نے اپنے ہاتھ کھڑے کردیئے جبکہ ایک ذمہ دار صحافی ابھی سار شرما نے پانچ منٹ سے زیادہ بار بار دکھایا کہ جو ٹرین انسانوں کے ٹکڑے کرتی ہوئی گذر گئی اس کی ہیڈلائٹ جس سے کم از کم 25  میٹر دور تک ہر چیز نظر آسکتی تھی اور وہی اصل لائٹ ہوتی ہے جسے پٹری سے گذرنے والے 50  میٹر دور بھی ہوں تو دیکھ سکتے ہیں۔

کیا یہ ریلوے یا ڈرائیور کی غلطی نہیں ہے کہ رات میں ٹرین شہر کے اندر سے گذرے اور اس کی سب سے اوپر والی بڑی لائٹ بند ہو؟ اگر وہ ٹھیک تھی اور ڈرائیور نے جلائی نہیں تھی تو ڈرائیور کی غلطی اور اگر وہ خراب تھی تو ڈرائیور نے اندھی گاڑی کو لے جانے سے انکار کیوں نہیں کیا؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریل کی پٹری سڑک نہیں ہوتی وہ پوری زمین ہی ریلوے کی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ڈرائیور کا بیان آچکا ہے کہ میں نے ایمرجنسی بریک لگایا تھا اور ٹرین جیسے ہی رُکنا شروع ہوئی وہاں کے لوگوں نے پتھرائو شروع کردیا۔ یہ اتفاق ہے کہ جب یہ منظر ہم دیکھ رہے تھے تو ہمارے پاس بیٹھے ایک عزیز نے کہا کہ ایمرجنسی بریک لگانا چاہئے تھا۔ ہمارے منھ سے نکلا کہ اگر گاڑی روک لیتا تو نہ ڈرائیور زندہ رہتا اور نہ گاڑی بچتی اور جو مسافر تھے ان میں سے بھی نہ جانے کتنے زخمی ہوجاتے۔

دسہرہ جہاں راون کو جلایا جاتا ہے اور جسے برائی پر اچھائی کی فتح کے طور پر جنوبی ہند کے علاوہ پورے ملک میں منایا جاتا ہے وہاں جب بھی کوئی حادثہ ہوا ہے وہ بے شعوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ سیکڑوں آدمی جو دسہرہ کا جشن دیکھنے آئے تھے وہ کیوں ریل کی پٹری پر جا بیٹھے یہ وہی من مانی ہے کہ ہم آزاد ہیں اور ملک کی ہر چیز ہماری ہے۔ 15  اگست 1947 ء کو جب ملک آزاد ہوا تو کانگریس کے صدر آچاریہ کرپلانی تھے وہ ملک کا دورہ کرتے ہوئے لکھنؤ آئے تو جھنڈے والے پارک امین آباد میں جہاں ہر طرح کے جلسے ہوتے تھے ان کی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے سب کو مبارکباد دی اور کہا کہ اب یہ ملک تمہارا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم جہاں جو جی چاہے وہ کرو۔ تمہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جہاں جو چیز خراب ہوگئی ہے اسے ہوسکے تو خود کرو ورنہ سرکار کے کسی ذمہ دار سے کہو کہ اسے ٹھیک کرے۔ اب تم کو وہ کرنا ہے جو تم اپنے گھر کے لئے کرتے ہو کہ جہاں جو چیز خراب ہوئی اسے یا بدل دیا یا ٹھیک کرالیا۔ تم میں سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہر خرابی کو سرکار ٹھیک کرے گی۔ تمہیں یہ خیال رہے کہ سرکار تمہاری ہے اور ہر سرکاری چیز وہ ریل ہو یا بس ہو سب تمہارے ہیں کوئی بغیر ٹکٹ لئے سفر نہ کرے اور کسی سرکاری چیز کو نقصان نہ پہونچنے دیں۔

71 برس میں ایسی ایسی سیکڑوں تقریریں ہوچکی ہوں گی لیکن اپنے ملک کے لوگوں کا مزاج نہیں بدلا جسے جب موقع ملا اس نے بغیر ٹکٹ سفر کیا اور نہ جانے کتنے ریل کے ٹی ٹی ہیں جو ٹکٹ کے پیسے اپنی جیب میں رکھتے ہیں اور مسافر کو بغیر ٹکٹ لئے اس کی منزل پر پہونچا دیتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی گاڑی کے آنے اور جانے کا وقت کچھ لکھا ہو وہ لیٹ ہونے کی وجہ سے جس وقت اسے موقع ملتا ہے آجاتی ہے اور جب چاہتی ہے چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ریل کی ہر پٹری خطرہ کی گھنٹی ہے جس کی وجہ سے جو اس پر کھڑا ہے بیٹھا ہے یا چل رہا ہے وہ موت کو دعوت دے رہا ہے۔ اور اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ذمہ داری اس کی ہے۔ پنجاب کی حکومت نے ہر مرنے والے کے وارثوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے دیئے ہیں۔ یہ ان کی شرافت ہے ورنہ اگر جانوروں کی طرح سو دو سو آدمی ریل کی پٹری پر جاکر بیٹھ گئے تو حکومت کا کیا قصور؟ اگر پولیس انہیں مارکر بھگاتی تو مردہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوجاتے۔ اور اب یہ مطالبہ ہے کہ پیسے اور دو۔ اب ریل کے وزیر سے کہنا چاہئے جس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ریل اندھی ہے جو سب سے بڑی لائٹ ہے وہ اگر جل رہی ہوتی تو دس بیس آدمی دیکھ لیتے اور پھر پانچ منٹ میں پٹری خالی ہوجاتی۔ اب جسے مطالبہ کرنا ہے یا الزام لگانا ہے تو ریلوے کے وزیر پر لگائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close