جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

حفیظ نعمانی

یہ صرف دو سال پرانی بات ہے کہ دادری کے گائوں بساہڑہ میں اخلاق احمد نام کے ایک مسلمان کو گائوں کے ہندوئوں نے پیٹ پیٹ کر شہید کردیا۔ یہ راز تو اب تک سامنے نہیں آیا کہ اخلاق ایک شریف آدمی تھے ان کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک ہوائی فوج میں افسر ہے اور دوسرا آئی اے ایس کی تیاری کررہا تھا ان کے علاوہ گھر میں ہر عمر کی خواتین تھیں اور یہ بھی ان کے انتقال کے بعد کسی نے نہیں کہا کہ وہ بدنام تھے یا انہوں نے کسی کو نقصان پہونچایا، یا وہ پاکستانی ذہن کے تھے۔

اس کے بعد اگر کوئی اتنی بڑی بات ہوتی ہے تو صرف اور صرف اسے شرارت ہی کہا جائے گا۔ کیونکہ واقعہ کی تفصیل جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ دو لڑکے ایک بڑے مندر میں گئے اور پجاری سے کہا کہ اعلان کردیجئے کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہے اور پک رہا ہے۔ سفید بالوں والے پجاری نے دو لڑکوں کی بات کیوں مانی اور ان سے کیوں نہیں معلوم کیا کہ تمہیں کیسے خبر ہوئی کہ وہ گوشت گائے کا ہے اور ایسی بات ہے تو تھانہ میں جاکر کہو وہ آکر دیکھ لیں گے انہوں نے یہ سب نہ کرکے اعلان کردیا اور شہرت کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ ہندوئوں نے ان کے گھر پر چڑھائی کردی اور وہ ہوا جو بار بار لکھا جاچکا ہے۔ حیرت اس پر ہے کہ اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے بھی یہ معلوم کرانے کی کوشش نہیں کی یہ صرف دو لڑکوں کی اور پجاری کی شرارت تھی یا کوئی منصوبہ تھا؟

اکھلیش یادو نے اتنا کیا کہ مرحوم کے گھر والوں کو معاوضہ دیا اور اخلاق کے لڑکے نے جو خود بری طرح زخمی تھا جس جس کو پہچانا اس کا نام بتا دیا اور وہ گرفتار ہوگئے ان میں ہی ایک لڑکے کے متعلق معلوم ہوا کہ اس کی جیل میں موت ہوگئی جس کے بارے میں بی جے پی کے لوگوں نے بہت شور مچایا کہ اسے جیل میں مروا دیا گیا۔ لیکن جیل کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہاں جیل کے افسروں کی حکومت ہوتی ہے اس لئے یہ شرارت نہیں چلی بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے دونوں گردے خراب تھے ان کی ہی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ باقی بھی سب ضمانت پر ہیں اور موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے وہ باعزت بری ہوجائیں گے۔

اترپردیش میں اب تک جتنے وزیر اعلیٰ ہوئے ہیں ان میں سے سب نے ہی کہا ہے کہ قانون کی حکومت ہوگی ہر ایک کو انصاف ملے گا کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی اگر کسی نے قانون توڑا تو وہ کتنا ہی بڑا ہو اُسے سزا دی جائے گی لیکن عمل وہ کیا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پنڈت گووند ولبھ پنت سے لے کر اکھلیش یادو تک سب سے الگ راستہ پر جارہے ہیں ۔ وہ پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جن کے ایم ایل اے نے کہا ہے کہ (بے قصور بے گناہ) اخلاق کے قاتلوں کو جو ضمانت پر ہیں سرکاری نوکری دیں گے اور گردوں کی خرابی کی وجہ سے جو لڑکا مرگیا ہے اس کے گھر والوں کو آٹھ لاکھ روپئے دیں گے اور اس کی بیوہ کو ٹیچر کی ملازمت دیں گے۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اخلاق کے گھر میں جو گوشت فریج میں رکھا تھا وہ اور جو پک رہا تھا وہ بکرے کا گوشت تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن کی ضمانت ہوگئی ہے ان سے وہاں کے ایم ایل اے کوئی رابطے نہ رکھتے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ بقرعید کا تہوار منا رہا تھا۔ ایک دوسرے ایم ایل اے جو مظفرنگر کے فرقہ وارانہ معاملات میں بدنام ہیں انہیں ایک غلطی تو مودی جی نے ٹکٹ دے کر کی اور دوسری غلطی وزیر اعلیٰ انہیں بے لگام چھوڑکر کررہے ہیں انہیں سنگیت سوم نے لہریا پگڑی باندھ کر تاج محل کو غلامی کی نشانی کہا ہے۔ وہی تاج محل جس کی کروڑوں روپئے ماہانہ آمدنی سے ان کی روٹی پانی چل رہی ہے۔

بعض بے وقوف ہندوئوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مغل بادشاہوں کی بنوائی ہوئی عمارتوں کو مسلمان مسجد سمجھتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اویسی صاحب اس سے جو رشتہ جوڑیں اعظم خاں جب چاہیں توڑیں ہمیں یہ شکایت ہے کہ اس پر حکومت کا قبضہ کیوں ہے جبکہ یہ مسلم وقف بورڈ کے کنٹرول میں ہونا چاہئے تھیں ؟ شاہجہاں نے تاج محل اس لئے نہیں بنوایا تھا کہ اسے دیکھنے کے لئے ٹکٹ لگایا جائے اور اس کی آمدنی سے مغل بادشاہوں کی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔ ہندوستان میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہ انگریزوں نے یا خود لکھی ہے یا ہندوئوں سے لکھوائی ہے۔ اور اب اسے بھی مٹانے یا بدلنے کی بات کی جارہی ہے۔

اور کوئی کرے نہ کرے ہم اس کا استقبال کریں گے کہ تاج محل کو اسی طرح پردے میں بند کردیا جائے جیسے کان پور میں راون کا مندر ہے اور چنئی میں رام چندر جی کے مندروں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ۔ یا اگر اس کے وجود سے ہی سنگیت سوم اور دوسرے سرکاری ہندوئوں کو تکلیف ہے تو اُسے صاف کردیا جائے بس قبریں رہنے دی جائیں ہم اس ملک کے ماننے والے ہیں کہ قبریں کچی ہوں زیادہ سے زیادہ ان کے چاروں طرف پتلی سی دیوار بنادی جائے۔ بہرحال یہ بابری یا شاہجہانی مسجد نہیں ہیں ۔ اور جب اس کی آمدنی مسلمانوں کے کام نہیں آرہی تو وہ رہے نہ رہے ہمیں کیا۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے