ہندوستان

جو ہونا تھا وہ ہو گیا انجام جو بھی ہو

حفیظ نعمانی
بعض باتیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں لیکن اسکا نتیجہ بڑا ہوتا ہے اور بعض دیکھنے میں بڑی ہوتی ہیں لیکن نتیجہ بڑ ا نہیں ہوتا ۔ 2012میں اتر پردیش کا الیکشن شباب پر تھا کہ اچانک ایک خبر آئی کہ مشہور لیڈر ڈی پی یادو سماج وادی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں اور ملائم سنگھ نیز اعظم خاں صاحب نے اجازت دے دی ہے کہ انہیں شامل کرلیا جائے۔ ڈی پی یادو ایک طاقتور لیڈر مانے جاتے تھے۔ مقرر بھی بہت اچھے تھے لیکن ملائم سنگھ کے مقابلہ میں یادو ؤں میں ان کی مقبولیت نہیں تھی اور بعض معاملات ایسے ہوگئے تھے کہ جنہوں نے ان کی شہرت کو داغ دار کردیا تھا۔ ان باتوں کی وجہ سے ہی ملائم سنگھ کے بڑے بیٹے اکھلیش یادو جو جی جان سے اکھلیش لڑا رہے تھے۔ انہوں نے اعلان کر دیا کہ ڈی پی یادو کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جا ئیگا۔ جبکہ نہ وہ وزیر اعلیٰ تھے اور نہ یہ فیصلہ پارلیمنٹری بورڈ کا تھا ۔
اس فیصلہ کی وجہ سے اکھلیش یادو کی واہ واہ ہو گئی اور جو لوگ ڈی پی یادو کو شامل کرنے کے حق میں تھے وہ خاموش ہوگئے۔بات صرف اتنی سی تھی کہ وہ اگر شامل ہوجاتے تو زیادہ سے زیادہ اسمبلی کی دو سیٹیں بڑھ جاتیں یا لوک سبھا کے لئے ایک اچھا بولتا ہوا امیدوار وہ بھی یادو مل جاتا۔ یہ ایک معمولی بات تھی۔ لیکن چونکہ مسٹر اکھلیش یادو نے فیلڈ میں پہلا چھکا مارا تھا اور اپنے والد ملائم سنگھ یادو کے ہاں کہنے کے بعد ناں کہلایا تھا۔ اس لئے اسے بہت بڑی بات سمجھا گیا ۔اور ساڑھے چار برس مسٹر اکھلیش یادو اس شہرت کو کیش کراتے رہے۔ لیکن اس کا کوئی برا اثر اس لئے نہیں ہونا تھاکہ وہ یادو تو تھے لیکن ملائم سنگھ کے مقابلہ میں یادو لیڈر نہیں تھے۔
ایک واقعہ ایک ہفتہ پہلے پیش آیا کہ ایک چھوٹی ضلعی پارٹی قومی ایکتا دل کا باقاعدہ سماج وادی پارٹی میں انضمام ہوا ۔سابق وزیر امبیکا چودھری اور وزیر بلرام یادو کے ذریعہ اور حکومت کے اہم وزیر اور ملائم سنگھ کے سگے چھوٹے بھائی شیو پال یادو نے یہ کام اس طرح کیا جیسے پروانچل میں انھوں نے پارٹی کا پرچم لہرا دیا ۔بات صرف اتنی نہیں تھی کہ ایکتا دل نے پارٹی میں آنا چاہاتھا ۔بلکہ یہ ہوا تھا کہ باقاعدہ وہ دل سماج وادی میں شامل کر لیا گیا ۔پارٹی کانگریس ہو ،بی جے پی ہو،سپا ہویا بسپا ۔ہر پارٹی کے سربراہ کی زبان پر ایک جملہ رہتا ہے کہ پارلیمنٹری بورڈ فیصلہ کرے گا ۔اور کسی ایک آدمی کو رکھنے اور نکالنے کا فیصلہ بھی پارلیمنٹری بورڈ ہی کرتا ہے ۔ظاہر ہے ایک پارٹی (وہ چھوٹی ہی سہی )اسے سماج وادی کا حصہ بنا یاجارہا تھا تو پارلیمنٹری بورڈ میں مسئلہ آیا ہوگا ۔بحث ہوئی ہوگی تب یہ فیصلہ ہوا ہوگا کہ شامل کر لیا جائے ۔ہم یہ کیسے مان لیں کہ جس پارٹی کی حکومت ہے اسکا وزیر اعلیٰ پارلیمنٹری بورڈ کا ممبر نہیں ہے ۔یا ممبر تو ہے مگر میٹنگ میں شرکت نہیں کرتا؟اور اتنے بڑے واقعہ کی اسے اسوقت خبر ہوئی جب میڈیا نے مختار انصاری کی پارٹی کہہ کر آسمان سر پر اٹھا لیا ۔اور افضال انصاری اور بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری کا ذکر بھی نہیں کیا ۔
میڈیا کی خبروں کے بعد وزیر اعلیٰ اچانک سامنے آئے اور انھوں نے سب سے پہلے بلرام یادو کوحکومت سے نکال دیا ۔اور اعلان کر دیا کہ مختار انصاری کی پارٹی کو شامل نہیں کیاجائیگا ۔اس وقت مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ڈی پی یادو کی طرح شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے ؟بلکہ یہ تھا کہ شامل کرلیا گیا ۔پھر شیوپال یادو جو حکومت میں چچا ہونے کے بعد بھی بہر حال نمبر 2ہیں انکے چہرہ کی شرمندگی پورا ملک دیکھ رہا تھا ۔اور وزیر اعلیٰ اور انکے والد کے درمیان کیا بات ہوئی یہ تو وہی جانیں ۔لیکن اچانک اعلان ہوا کہ رشتہ ختم ہوگیا اور تم اپنے گھر ہم اپنے گھر ہوگئے ۔اس وقت بھی کسی پارلیمنٹری بور ڈ کے ہنگامی جلسہ کا ذکر نہیں سنا کہ اس میں کو ن گرجا اور کون برسا اور کسکے کپڑے شرمندگی کے پسینہ سے تر بہ تر ہوگئے ۔کیا اتنے اہم واقعات کے بعد بھی کسی کے منہ سے پارلیمنٹری بورڈ کا نام سن کرہنسی نہیں آئے گی کہ یہ کیا ہے کہاں ہے اور کون ہے؟
ڈی پی یادو کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ انہیں پارٹی میں شامل کر لیا گیا تھا بعد میں نکال دیا گیا بلکہ صرف یہ تھا کہ وہ آنا چاہتے۔کسی نے کہا آنے دو اکھلیش میاں نے کہا نہیں ،بات ختم ۔لیکن ایکتادل کے اپنے علاقہ کے معزز مسلم لیڈروں کو انکے کہنے کے مطابق انہیں شامل کرنے پر آمادہ کیا گیا ۔گفتگو کے کئی دور ہوئے ۔راجیہ سبھا کے لئے ان سے ملائم سنگھ نے حمایت مانگی ۔اور انھوں نے حمایت کی جبکہ وہ ارب پتی خاتون کو کروڑوں روپے میں اپنی حمایت فروخت کرسکتے تھے ۔لیکن انھوں نے ملائم سنگھ کے اس وعدہ پر بھروسہ کیا کہ اسمبلی کا الیکشن ہم مل کر لڑیں گے ۔اگر یہ اتنی بڑی بات بھی پارلیمنٹری بورڈ میں نہیں رکھی گئی ۔اور وزیر اعلیٰ کو اس سے بے خبر رکھا گیا تو کیا حیرت کی بات نہیں ہے ؟
کوئی بھی پارٹی جب پانچ سال حکومت کر لیتی ہے تو وہ چاہے جتنا وکاس کرچکی ہو ،اسکے لئے ہر آدمی کے دل میں وہ جگہ نہیں رہتی جو حکومت بننے سے پہلے ہوتی تھی ۔اس لئے کہ ہر کسی کی مانگ کوئی حکومت پوری نہیں کرسکتی ۔یہ کوئی ملائم سنگھ یا مایاوتی یا این ڈی تیواری کاہی نہیں ہر وزیر اعلیٰ کامسئلہ ہے ۔آج سماج وادی پارٹی کی وہ حیثیت نہیں ہے جو 2012میں تھی ۔اس لئے دوست بنائے جائیں یا نہ بنائے جائیں یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ دشمن نہ بنیں ۔اور و زیر اعلیٰ نے صرف میڈیا کے شور اور مختار انصاری کے نام سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی ہی سہی پارٹی یا دل کو اپنا دشمن بنا لیا ۔
افضال انصاری اب صرف مخالف نہیں دشمن کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ میں پروانچل میں ان کی حیثیت یا دلا دونگا ۔انہوں نے اس یادو خاندان کی اندرونی حقیقت پر بیان دینے شروع کردئیے ہیں کہ باپ بیٹا اور ہر چچا سب الگ الگ طریقہ سے سوچتے ہیں۔ کوئی کسی کی عزت کے بارے میں نہیں سوچتا ۔خیر یہ باتیں تو وہ ہیں جن سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ۔لیکن صرف پروانچل کے کے غازی آباد اور مؤ میں ہی نہیں ہر مسلمان کو اس بے عزتی سے تکلیف ہوتی ہے ۔مختار انصاری کو ئی بہار کے شہاب الدین کی طرح سزا نہیں کاٹ رہے ہیں بلکہ صرف اسلئے بند ہیں کہ ان پر ایک ہندو لیڈر کو قتل کرانے کا الزام ہے ۔اور یہ تو ہر وزیر کہتا ہے کہ الزام الگ ہے اور ثابت ہوکر سزا الگ ہے ۔یہ بات پورا ملک جانتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبر جانے کتنے ہیں جن پر سنگین الزام ہیں ۔اور مودی صاحب نے پہلی تقریر میں یقین دلایا تھا کہ تمام داغی ممبروں کو ایک سال میں جیل بھیج دو نگا ۔لیکن دو سال کے بعد ابھی کسی کا مقدمہ بھی نہیں شروع ہوا۔اور انھوں نے جسے اترپردیش بی جے پی کا صدر بنایا ہے ان کے خلاف سنا ہے گیارہ مقدمے چل رہے ہیں ۔وہ چونکہ موریہ ہیں اس لئے نہ مافیا ہیں نہ ڈان اور مختار انصاری کو پروردگار نے قد وقامت دیا ہے وجاہت دی ہے اور شیر جیسا دل دیا ہے ۔اور وہ مسلمان بھی ہے اس لئے مافیا بھی ہے ڈان بھی ہے ۔جیسے داؤد ابراہیم ۔
مختارانصاری کے بھائیوں کی مقبولیت کتنی ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن مختار انصاری چاہے جیل میں رہیں چاہے ریل میں۔ مسلمانوں کے دل میں ان کا ایک مقام ہے۔ جس طرح ہندوؤں کے قبضہ والے ٹی وی چینلوں نے مختار انصاری کی تصویر کو گندہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس نے بیشک اس اتحاد کو ختم کردیا لیکن سماج وادی پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔مخالفت ہلکی چیز ہے اور دشمنی خطرناک ہے ۔اب افضال انصاری صرف سماج وادی کی مخالفت ہی نہیں کریں گے بلکہ اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے دشمنی بھی کرسکتے ہیں ۔اور اس دشمنی میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو کروڑوں روپے راجیہ سبھا کے الیکشن میں انھوں نے چھوڑ دئے اس سے دوگنا بلکہ دس گنا وہ امت شاہ سے لے لیں ۔اور سپا کے ہر انصاری کے مقابلہ میں ایک انصاری اپنا کھڑا کردیں تاکہ امت شاہ کے ہندو کا راستہ صاف ہو جائے یہ بات ملائم سنگھ جی کو ضرور معلوم ہوگی کہ لوک سبھا کے الیکشن میں جیتتے ہوئے مسلمان کو ہرانے کے لئے امت شاہ نے ہر جگہ ایک مسلمان کھڑا کیا تھا ۔اور اتر پردیش کی حکومت پر قبضہ کے لئے سو سو کروڑ کے مسلمان خرید ے جائیں گے ایسے میں جو ہوا وہ کہیں سے کہیں تک اچھا نہیں ہوا ۔اور یہ صرف میڈیا نے کرایا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close