حکومت کسی کو ہو جان مسلمان کی جائے گی

210

حفیظ نعمانی

            بجنور وہ شہر ہے جو کبھی حافظ ابراہیم کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد کا نمونہ ہوا کرتا تھا۔ حافظ صاحب کے بعد ان کے بڑے بیٹے عتیق صاحب بجنور کی نمائندگی کرتے رہے اور ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی عزیز صاحب بجنور کی نمائندگی کرتے رہے، لیکن یاد نہیں کہ کبھی بجنور میں ہندو مسلم مسئلہ پیدا ہوا ہو اور نوبت وہ آگئی ہو جو 16 ستمبر کو پیش آئی کہ ذرا سی بات پر 4 مار دئے اور 12 زخمی ہوگئے۔

            اگر اس کی جڑ تلاش کی جائے تو وہی نکلے گی کہ ملک کے پہلے وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو حکم دیا گیا تھا کہ اب فوج اور پولیس میں مسلمانوں کی بھرتی نہ کی جائے۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ بعد میں جواہر لعل نہرونے اس حکم کو واپس لے لیا تھا۔لیکن بندوق کی جو گولی نکل جاتی ہے وہ واپس نہیں آتی اور ستر (70) برس کی تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کی پولیس میں مسلمان نمک کے برابر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو مارنے والوں کو سزا نہیں ملتی۔

            بجنور نجیب آباد روڈ پر جو درد ناک واقعہ ہوا اور جس میں چار آدمیوں کی جان گئی ا ور ایک درجن زخمی ہوئے وہ بھی اسی وجہ سے ہوا کہ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے لڑکے جاٹ تھے اور وہ لڑکیاں غریب مسلمانوں کے گھر کی تھیں۔جاٹوں کو جتنا ہم جانتے ہیں شاید اتنا کم لوگ جانتے ہوں گے۔وہ بھی جاٹ ہی تھے جن کی وجہ سے تین سال سے زیادہ ہونے کے بعد بھی سیکڑوں مسلمانوں کے گھر مظفر نگر میں ویران پڑے ہیں اور ان مسلمانوں کے مالک کیمپوں میں پڑے ہیں اور وہ بھی جاٹ ہی تھے جنھوں نے ہریانہ میں چالیس ہزار کروڑ سے زیادہ کا ان کا کاروبار جلا کر راکھ کردیا جو جاٹ نہیں تھے اور ہزاروں کروڑ کا ریلوے کا نقصان کردیا اور اس کا روائی میں جو ہزاروں جاٹ ہتھیار لئے ہوئے تباہی مچا رہے تھے ان میں سے حکومت نے صرف سو آدمیوں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں جاٹ تحریک چلا رہے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں انہیں رہا کردیا جائے۔

            اور اتنی تباہی مچانے کے بعد بھی وہ حکومت جس کے وزیر اعلیٰ آر ایس ایس کے پرچارک رہ چکے ہیں، جاٹوں کو ریزرویشن دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور یہ اترپردیش کی حکومت کی کمزوری ہے کہ اتنے بڑے حادثہ کے بعد صرف ایک سب انسپکٹر اور ایک سپاہی کو معطل کرکے انصاف کا ڈھول بجا رہی ہے اور صرف اس لیے کہ مسلمان ووٹ بھاگ نہ جائیں، مرنے والوں کو 20-20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5-5 لاکھ روپے دینے کا اعلان کردیا ہے۔جبکہ مسلمان ووٹوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ چاہے جسے دیں، ہوگا ا ن کے ساتھ وہی جو 1947ء سے مسلسل ہورہا ہے۔

            مغربی اضلاع میں پولیس کے افسر اور سپاہی زیادہ تر اسی طرح جاٹ ہیں جیسے پنجاب میں زیادہ تر سکھ ہیں، وجہ یہ ہے کہ مظفر نگر میں پولیس نے جاٹوں کا ساتھ دیا اور بجنور میں ایس پی نے کہہ دیا کہ پہلے تحقیقات ہوں گی اس کے بعد گرفتاری ہوگی، ہر حکومت کا یہ رویہ ہے کہ یا تو وہ تبادلہ کردیتی ہے یا معطل کردیتی ہے۔تبادلہ نہ تو سزا ہے نہ جرمانہ اور معطلی بھی ایک طرح سے منہ بند کرنا ہے۔

            2003ء میں وزیر اعلیٰ شری ملائم سنگھ تھے اور وزیر اوقاف و حج محمد اعظم خاں تھے۔ان کی فرمائش پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مغربی اضلاع کے لیے ایک حج ہائوس غازی آباد میں بھی ایسا ہی بنایا جائے جیسا لکھنؤ میں بنا ہے۔

            پروگرام کے مطابق جگہ کا انتخاب کرلیا گیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تاریخ اور وقت مقرر ہوگیا، غازی آباد اور قریبی اضلاع کے ہزاروں مسلمان پروگرام میں شرکت کے لیے آئے۔اسی دن ایک پروگرام نیتا جی کا کہیں اور بھی تھا۔وہاں تقریر لمبی ہوگئی اورمجمع بے چین ہونے لگا۔ڈائس جو سو آدمیوں کے لیے بنا تھا وہ خالی تھا کہ شری ملائم سنگھ آجائیں تو سب جائیں۔وزیر حج اعظم خاں صاحب نے ایس پی سے کہا کہ میں جا کر مجمع کو روکوں اور بتائوں کہ نیتا جی آنے ہی والے ہیں۔ایس پی نے انتہائی بد تمیزی سے منع کردیا اور وزیر اوقاف اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔یہ بات دوسرے لوگوں نے بھی سنی بھی اور دیکھی بھی۔10 ؍ منٹ کے بعد شری ملائم سنگھ آگئے۔اور سب ڈائس پر چلے گئے۔پھر تقریر ہوئی اور سنگ بنیاد رکھا گیا۔سنا ہے کہ بعد میں اعظم خاں صاحب نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ایس پی نے کیا بدتمیزی کی اور تین دن کے بعد اخباروں میں آگیا کہ غازی آباد کے ایس پی کو معطل کردیا گیا اور وجہ بھی بتا دی۔

            شاید تین مہینے کے بعد’ یوم عاشقاں ‘آگیا۔میرٹھ میں چودھری چرن سنگھ کالج اور دوسرے کالجوں کے لڑکے لڑکیاں کسی پارک میں جمع ہوئے اور ہنسی مذاق اور پھولوں کے تبادلے ہونے لگے۔اتنے ہی میں ایس پی سٹی ادھر سے گذرے اور انھوں نے جیپ رکوائی اور سپاہی کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر لڑکوں اور لڑکیوں کو مارنا اور دوڑانا شروع کردیا، جس پر ایک ہنگامہ ہوگیا، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وہی بدتمیز ایس پی کی حرکت تھی جو پہلے غازی آباد میں تھے اور وزیر حج سے بدتمیزی کرچکے تھے۔یعنی معطلی کی عمر صرف تین مہینے تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا رشتہ دار یا تعلق والا یا رشوت لے کر سفارش کرنے والا موجود ہے اور معطلی کی عمر دو چار مہینے سے زیادہ نہیں ہوتی۔اگر یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ افسر اس وقت تک معطل رہے گا جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا تب واقعی معطلی سزا بن جائے گی۔

            غازی آباد کا حج ہائوس 2016ء میں بن سکا ہے، اس لیے کہ بعد میں مایا وتی کی حکومت آگئی اور پھر وہی ہواجو رقابت میں ہوتا ہے۔بہرحال اس سال سے حجاجِ کرام کی روانگی ہوئی اور یہ شکایت ہم تک پہنچی کہ اس حج ہائوس کا نام اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں سے منسوب کیا ہے۔ہم نے جواب میں کہا تھا کہ جب ایک حج ہائوس کو مولانا علی میاں سے منسوب کیا گیا تو وہ بھی غلط تھا اور اب کسی اور نام سے منسوب کیا جائے تو وہ بھی غلط ہے، جس ملک میں دیوبندی بریلوی اور اہل حدیث مسجدیں ہوسکتی ہیں وہاں حج ہائوس کو بس حج ہائوس رہنا چاہیے، اسے کسی کے نام سے منسوب کرنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ووٹ مانگے جارہے ہیں۔

            بات بجنور اور معطلی سے حج ہائوس تک آگئی، عرض کرنے کی بات یہ ہے کہ 10 لاکھ دیں یا 20 لاکھ دیں، یہ جان کا بدل نہیں ہے، اگر ہمت ہے تو جان کے بدلے جان لے لی جائے لیکن یہ ممکن اس لیے نہیں کہ ہمارے ملک کا قانون گاندھی جی کے چرخے کی رفتار سے چل کر اہنسا پر رُک جاتا ہے اور پھانسی کے بارے میں کہہ دیتا ہے کہ جو چیز تم دے نہیں سکتے وہ لیتے کیوں ہو؟

            ایک اہم بات یہ ہے کہ ہر جاٹ کے پاس بندوق ہے اور حکومت مسلمانوں کو لاٹھی بھی نہیں رکھنے دیتی۔اگر حکومت پولیس کی نوکری نہ دے تو لائسنس ہی دے دے تاکہ مرنے والے صرف مسلما ن نہ ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے