ملی مسائلہندوستان

خدا بخش لائبریری کو سازشوں سے کیسے بچایا جائے؟

صفدر امام قادری

دنیا میں کتب خانوں کوان  کے بیش قیمت علمی خزینے کی وجہ سے امتیاز حاصل ہے، ان میں خدا بخش لائبریری کی حیثیت نمایاں ہے۔ علوم مشرقیہ بالخصوص عربی، فارسی اور اردو زبان میں محفوظ ایسے نادر سرمایہ کو مرحوم خدا بخش خان نے 19؍ ویں صدی کے اواخر میں عمارت اوراچھی خاصی اراضی کے سامنے عوام کے لیے وقف کیا۔ وہ 1891ء کی نیک ساعت تھی۔ خدا بخش کی وفات کے بعد انگریزی حکومت نے بجا طور پر اسے  ان کے نام سے آراستہ کر کے عوام وخواص کے سپرد کردیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جب  بہار کے گورنر ہو تے تھے، اس وقت صوبہ بہار کی قدیم ذاتی لائبریریوں میں محفوظ قیمتی سرمایہ علم کو خدا بخش میں منتقل کر کے اس کے مجموعی وقار میں اضافہ کیا اوریہ بھی خوش نصیبی رہی کہ ان کے دور صدارت میں  یہ لائبریری حکومت ہند کے انتظام میں چلی گئی اور آج تک قومی ادارے کے طورپر نظر آرہی ہے۔

 اردو کے معروف محقق اور نقاد قاضی عبدالودود اورکلیم الدین احمد، ممتاز مؤرخ سید حسن عسکری وغیرہ کی سرپرستی کی وجہ سے یہ لائبریری آگے بڑھتی چلی گئی۔ عابد رضا بیدار قاضی عبدالودود کی پسند پیکرڈائریکٹر کی حیثیت سے یہاں سرفراز ہوئے اور24؍ برس تک اس  عہدے پر فائز رہے۔ لوگ یہ  لطیفہ بیان  کرتے رہے کہ عابد رضا  بیدار نوجوان کی شکل میں آئے اوربزرگ بن کر اپنی اولاد کی شادی  سے فارغ ہو کر خدا بخش کی ڈائریکٹر شپ سے سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے زمانے میں خدا بخش کو ایک جدید علمی مرکز کے طور پر آراستہ کیا۔ ان کے زمانے میں خدا بخش کی تقریبات کا معیار عالمی اوربین الاقوامی ہوتا تھا۔

اردوفارسی اورعربی کے حلقے سے باہر کی دنیا پر بھی انہوں نے توجہ کی اوراس کوشش میں پورے طورپر کامیاب رہے کہ یہ ادارہ دانشورانہ مرکز میں تبدیل ہوجائے۔ ہندوستان کے گوشتے گوشے سے ماہرین کوبلا کر وہ ہراعتبار  محفلیں آراستہ کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ 1989 سے جس فرقہ وارتی کا نیا دور شروع ہوا، اس زمانے میں عابد رضا بیدار نے ہر طبقے کے دانشوروں کودعوت دے کر ملک کی اس مشکل گھڑی کے لیے راہ نجات تلاش کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ فرقہ پرستی اوربڑھی  تو یونیورسٹی کے طلبہ اورنوجوانوں کوبلا کر لائبریری میں فرقہ وارانہ خیر سگالی کے جذبات بڑھانے والی  فلموں کی اسکرینگ شروع کرادی۔ مشکل معاملات اور موضوعات پراردو، ہندی اور انگریزی میں ایسی کتابیں شائع کرنے کی کوشش کی جن سے ہماری آنکھیں کھل سکیں ۔

مگر خدا بخش لائبریری کی بنیاد میں کچھ کج دیواریں اسی زمانے میں رکھی گئیں جن کے نتائج خوف ناک زاویوں کے ساتھ اب سامنے آرہے ہیں ۔ قاضی عبدالودود اورکلیم الدین احمد جب تک رہے عابد رضا بیدار پر ان کی ایک نگہہ داشت ہوتی تھی مگر ان کے بعدیہ سلسلہ ختم ہوتا گیا اورڈائریکٹر کی حیثیت سے وہ مطلق العنان  ہوگئے۔ ملازمین اور لائبریری کےمستفدین جووہ اپنی سخت مزاجی کا نشانہ بناتے رہے ایک بھی ریسرچ اسکالر اپنی ڈگری کے حصول تک نہیں پہنچا۔ بڑے بڑے محققین کوان کی ترش مزاجی کا نشانہ بننا پڑا۔

عابد رضا بیدار کی ڈائریکٹری کے زمانے میں لائبریری میں بہت ساری آسامیاں بڑھیں ۔ عملوں کا برا بھرپور قافلہ تیار ہوا۔ لائبریری ہر اعتبار سے بھری پڑی معلوم ہوتی تھیں مگرکہا یہ جاتا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر کسی کورکھنے جانے کی طرف  داری نہیں کی اور سرکاری ضابطےکے مطابق ایک دن وہ پوسٹ ہی حکومت کو واپس کردی تھی۔ اقتدار کا یہ عجیب نشہ ہے کہ اپنا قائم مقام یاخلیفہ کیونکر بنائے۔ مگراداروں کی تاریخ میں ایسے فیصلے خطرناک تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ جب ایک بار احمد عابد رضا بیدا رکے دور میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے بغیر لائبریری چلنے لگی تو پھر ان کے بعد آنے والوں کو اقتدار میں دوسرے کو کیوں حصے داری دینی چاہیے۔ نتیجے کے طور پر حبیب الرحمٰن چغانی اورضیاء الدین انصاری نے بھی یہ سلسلہ قائم رکھا ۔

ہمارے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا رہا کہ لگاتار 30؍  برس سے زیادہ کے دور میں خدا بخش لائبریری کے بہار سے باہر کے افراد ہی ڈائریکٹر بنائے گئے۔ کیا بہار میں ایک بھی  ایسا لائق آدمی نہیں تھا جسے ڈائریکٹر کے طورپر منتخب کیا جاسکتا۔ ضیا ء الدین انصاری کے زمانے میں نیا اشتہار ا ٓیا اور قرعۂ فال تاریخ کے استاد امتیاز احمد کے نام نکلا۔ انٹریو بورڈ میں ۷؍امیدوار بلائے گئے تھے جن میں سے بعض کی محققانہ حیثیت ان سے بڑھ  کر تھی مگرڈائریکٹ کے طورپر ان کا انتخاب عمل میں آیا۔ خدا کی مہربانی سے انہوں نے 10؍ سال تک خدا بخش لائبریری پر حکومت کی۔ اسی زمانے میں خدا بخش کے ادبی اور علمی مذاکرے بین الاقوامی کی جگہ پر مقامی ہونے لگے۔ تحقیقی رسالے  اور کتابوں کا معیار متاثر ہوا ۔

ڈاکٹر امتیاز احمد کا آخری زمانہ مختلف  طرح کے تنازعات کے لیے یاد کیا جاتا ہے دو بار ان کی مدت کار میں توسیع اس وجہ سے کی گئی تاکہ وہ نئے ڈائریکٹر کی تقرری کے اشتہار، انتخاب اور کارپردازی کے  تمام کاموں کو انجام تک پہنچا سکیں ۔ مگر انہوں نے یہ کام نہیں کیا اور مزیدتوسیع کے طلبگار ہوئے جسے اس وقت کے گورنر بہار ڈی وائی پاٹل نے پسند نہیں کیا اورایک آن میں ڈائریکٹر کوہٹاتے ہوئے پٹنہ کے کمشتر کوچارج دینے کا حکم نامہ جاری کردیا ۔

 گزشتہ 3؍ برس میں لائبریری جس تعطل کا شکار ہے اس میں پٹنہ ضلع کے کمشنر کی قائم مقامیت بھی ذمہ دار ہے۔ وہ آخر کیونکر اس علمی فریضے کو  بحسن وخوبی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔

ڈی وائی پاٹل نے اپنے زمانے میں اشتہار نکال کر کارروائی آگے بڑھائی اور رضا لائبریری رامپور میں کار بند دیارشبلی کے فرزند اور احاطہ سرسید کے تربیت یافتہ کوخدا بخش لائبریری کے ڈائریکٹر کے لیے منتخب کیا گیا مگرحکومت ہند کے ایک قانون کے تحت ایسے اعلیٰ عہدوں پرتقرری کی فائل وزیراعظم ہند کے دفتر سے اورحکومت ہند کی کابینہ  سے منظور شدہ ہونی چاہیے۔ گزشتہ ایک برس میں بہار کے موجودہ گورنر جناب رام ناتھ گوبند بار بار وعدہ کرتے ہیں کہ اس عہدے کو پرکرانے کے لیے وہ کوششیں کریں گے مگراب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ گورنر سے بڑے ملک میں اورکتنے عہدے ہیں جن کی سفارش ایک مختصر حصہ ٔ آراضی پرقائم کتب خانہ خدا بخش کی قیادت کے لیے کرائی جائےشبہات ایسے ہیں کہ حکومت ہند ہی اتنے قیمتی ادارے کو بربادی تک پہنچانے کے لیے پابند عہد ہوگئی معلوم ہوتی ہے ۔ورنہ کئی ممبران پارلیمنٹ کے سوال وجواب کے بعد بھی حکومت ہند کی نیند کیوں نہیں ٹوٹ رہی ہے۔

 بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ا ٓر ایس ایس کے بتائے راستے پرچلتی ہے۔ کتب خانہ خدا بخش کی قومی اور عالمی حیثیت ہے مگر ایک اقلیتی کردار بھی ہے۔ حکومت ہند کو اسی بات کی تکلیف ہے ۔ایسے ادارے برسوں اور صدیوں میں قائم ہوتے ہیں مگرچند برس یا مٹھی بھر لوگوں کی کوتاہی سے ان کے وقار کو مٹی میں ملا دینے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہندوستان کے وزیراعظم کے سامنے بہت کام ہیں مگرپارلیمنٹ کی عظیم الشان عمارت گر جائے تو اس کی  دوبارہ تعمیر ممکن ہے لیکن خدابخش لائبریری کا علمی اثاثہ اگر ایک  تل بھی ضائع ہوجائے تو اس کی بازآفرینی نا ممکن ہے۔ سیکڑوں ایسے مخطوطات ہیں جن کا دنیا میں کوئی دوسرانسخہ نہیں آخر انہیں ہم نہ بچائیں گےتو صبح قیامت خدا کے سامنے اوراپنے اسلاف کے روبرو شرمندہ ہوں گے۔ ہندوستان کی موجودہ حکومت اوروزیراعظم اتنے پڑھے لکھے ضرور ہیں جو خدا بخش کے کتب خانے کی قیمت کو خوب خوب سمجھتے ہیں ۔ کاش اسے اقلیتی آبادی سے دشمنی میں نہ دیکھاجاتا اوراسلاف کے علمی اثاثے کی تہذیب اورتحفیظ کے نقطۂ نظر سے پرکھا جاتا۔ پڑھنے والے خوف کے آنسو رو رہے ہیں مگرایک عہدے دار کی تقرری کے لیے حکومت ہند کو فرصت نہیں ۔کاش ان کی آنکھ کھلے اوراس لائبریری کی بربادی کا راستہ بندہو جائے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close