ملی مسائلہندوستان

خلافت کو دنیا میں دہشت کا صیغہ بنانے والوں کا نیا ٹھکانہ

 تسنیم کوثر 

ہوشیار خبردار  نگاہ روبرو ظل الیہہی جنوبی ایشیا کا رخ کر چکے ہیں ۔بھارت کے مسلمان نفسیاتی طور پر دلت سے پچھڑا کہہ کر مفلوج کرنے کے سلو پائزن سے اگر بچ گئے ہوں تو کمر کس لیں کیونکہ آپ کی ہی تلوار سے آپکا ہی سر قلم کروانے کی بساط بچھ گئی ہے۔ اجیت ڈووال سے لیکر راجناتھ اور پرنب دا سے لیکر اب مودی جی کے اسرائیل تشریف لیجانے تک مسلم دشمنی کے تمام گُر  اور گُرکے تیار ہیں کیونکہ امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشنز آنے والے دنوں میں پاک بھارت کشیدگی نیوکلیائی جنگ  تک پہنچنےکا انکشاف کر رہا ہے بلکہ منادی کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب داعش ہماری حساس ریاستوں میں امپورٹ کی جارہی ہے کیونکہ کانگریس کی پیدا کردہ انڈین مجاہدین کا کوئی نام لیوا نہیں بچاہے کیونکہ اب جو حکومت ہے اسکو لوکل نہیں گلوبل دہشت گرد تنظیم درکار ہے ۔

ایک طرف امریکہ انکشاف فرما رہا ہے کہ نیوکلر جنگ تک ہوسکتی ہے  دوسری طرف اسکا بس نہیں چل رہا کہ کیسے کاونٹر ٹیررزم کے نام پر بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام کرنے کے لئے یہاں پاوں پسارے۔جبکہ حکومت امنا صدقنا  کہنےکو تیار بیٹھی ہے۔اب  خبر آگئی کہ موصل سے البغدادی فرار ہوگیا ہے  اور بدنام زمانہ فوکس نیوز نے تشہیر شروع کر دی کہ دریائے فرات کے کنارے بسے  روائیتی عرب قبائل نے اسے پناہ دی ہوئی ہے جو کہ سنی مسلمان ہیں ۔یہاں سنی اور عرب پر زور دیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ امریکی اسرائیلی  خفیہ ایجنسیاں یہ تو بتا دیتی ہیں کہ البغدادی فرار ہو کر کہاں چھپا ہے یا اسامہ کا خفیہ ٹھکانہ کہاں تھا  جہادی جان انکو  سیریا کہ رقہ میں مل جاتا ہے اور پیرس حملے کے بعد 500 شہریوں کے عوض ایک  جہادی جان مار گرایا جاتا ہے پھر بھی  داعش کے ساٹھ ستر ہزار جنگجو  عراق سے لیکر سیریا ،ترکی  پھر پاکستان اور اب بنگلہ دیش کے راستے بھارت میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔

البغدادی موصل میں گھرنے کے باوجود مارا نہیں جاتا اور اسکو سیف پیسیج مل جاتا ہے اور خفیہ ادارے گال بجاتے رہ جاتے ہیں ۔اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ روس کی سیریا میں آمد نے امریکہ کے منصوبوں کو ڈینٹ لگا دیا ہے اور اب امریکہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ  اس نام نہاد عفریت کو وہاں سے نکال کر کہیں اور پیوست کردے تاکہ اپنی اسلام دشمنی کی پالیسوں کو کھاد پانی دیتا رہ سکے ۔ہماری خارجہ پالیسی یو ٹرن لے چکی ہے ۔فلسطین پر پالیسی کبھی ہاں کبھی ناں  کے جھول میں ہے ۔روس کو دوسرے نمبر پر رکھ کر امریکہ اور اسرائیل  سے پینگیں بڑھا لی گئی ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ بحرین اور ایران کو گڈ بُک میں اول مقام دیتے ہوئے  قربتوں اور رفاقتوں کے عہدو پیماں جاری ہیں افغانستان کو نکاح کا پیام جا چکا ہے ،نیپال کو طلاق دے دی گئی ہےاور کیوں نہ دی جاتی اسکی ہمت کیسے ہوئی دنیا کی واحد ہندو ریاست کا آئین بدل کر سیکیولر کرنے کی۔تو ہندوستاں کی زمین تقریبا تیار ہے ۔ ہمیں بے دست وپا کر دیا گیا ہےاگر معیشت پر نظر ڈالیں تو 20سال سے یہاں کار فرما امریکی ادارا  میکینسی اپنے فارغین  نندن نلکینی  اور جیینت سنہا کے توسط سے مکیش امبانی کے کندھے پر چڑھ کر  اپنی کیش لیس  اکنامی کو نافذ کروا نے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ہم سب ایک نئے غلامانہ جال میں پھنسا دئے گئے ہیں اور  موساد اور ایف بی آئی کے ڈیجٹل ہتھکنڈوں کے آگے سرنڈر کروادئے گئے ہیں ۔اور مجھے کہنے دیجئے کہ یہ سب کانگریس  نے کیا اور کروایا ہے۔ بھئی کانگریس اے ہیوم کے نطفے سے ہی تو بنی ہے۔

 امریکہ کی مصیبت یہ ہے کہ افغانستان  میں تو اسکے دانت کھٹے کئے جاچکے ہیں پاکستان شریر بچے کی طرح جُل دے گیا ہے  اس خطے کی کمزور کڑی بنگلہ دیش ہے جہاں اسلام پسند اور لبرلز کے بیچ ایک خطرناک جنگ شروع کی جا چکی ہے ۔یاد کیجئے  بنگلہ دیش ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد اس حملہ میں ملوث انتہا پسند گروپوں کو بھارتی ریاست کیرالہ سے فنڈنگ کی جا رہی ہے کہہ کرپروپیگنڈہ کیا گیا پھر ایک دہشت گرد کو ذاکر نائک کا فالوور بتا کر انکو اسکا بڑا شکار بنایا گیا انکے اداروں پر چھاپے ڈالے گئے  اور بھارت کی ملی تنظیموں کو سراسیمہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ دراصل یہ ایک سگنل ہے بھارت میں مصروف عمل ملی تنظیموں کے لئے کہ وہ کبھی بھی مقدمات میں پھنسائی جا سکتی ہیں ۔بنگلہ دیشی ذرائع کا دعویٰ تھا کہ انصار الاسلام اور جماعت المجاہدین نامی دو مقامی گروپ، ریاست کیرالہ میں برسرعمل انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انصار الاسلام نامی تنظیم القاعدہ اور جماعت المجاہدین کا رابطہ داعش کے لیے کام کرنے والے عناصر کے ساتھ تھا۔ بنگلہ دیش کے پرائم انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے ڈھاکہ پولیس کو باقاعدہ خط لکھا گیا۔ جس میں ان کو انتباہ کیا گیا کہ مذکورہ مقامی تنظیمیں ، جنوبی بھارت کے شدت پسندوں سے فنڈنگ حاصل کر رہی ہیں ۔ بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے اس حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ اس حملے کے بعد ان تنظیموں نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی۔ اور ہمارے یہاں ذاکر نائک نگل لئے گئے ۔ابھی ہم خود کو کوس ہی رہے تھے کہ   پاکستانی کالم نویس  طارق چودھری نے  اپنے ہم پیشہ آغا ہارون سے کیو  لیتے ہوئے ایک طویل کالم  لکھ مارا جسمیں ثابت کیا گیا کہ کیرالہ داعش کی اگلی پناہ گاہ ہوگی ۔وہ فرماتے ہیں :

 فروری 27کو  ’’دی ہندو‘‘ کی ایک خبر کو پاکستانی نیوز ایجنسی ڈی این ڈی نے اٹھایا۔ اس سٹوری میں انکشاف کیا گیا کہ فروری میں امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک ہونے والا سترہ سالہ حفیظ الدین دراصل بھارتی شہری اور کیرالہ کے ایک ضلع Kasaragod کا رہائشی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ننگرہار میں ہلاک ہونے والا یہ نوجوان داعش کیلئے کام کرتا ہے۔ اس نوعمر لڑکے کی ہلاکت کی اطلاع، اس کی والدہ کو گردونواح کے دوسرے نوجوان نے دی۔ جو داعش کیلئے کام کرتا ہے۔ اسی نیوز سٹوری میں انکشاف کیا گیا۔ ایک سال میں 47 بھارتی لڑاکے افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں ۔ بھارتی سرکار نے ان خبروں کو میڈیا پر زیادہ اچھلنے نہیں دیا۔ اس سے پہلے ڈھاکہ میں بیکری پر داعش کے اٹیک میں بھارت کی سرزمین کے استعمال کی خبر کو بھی حسینہ واجد کے حکم پر دبا دیا گیا تھا۔بھارت میں داعش کی موجودگی کی خبر کے تابوت میں آخری کیل کیرالہ ہی کے ایک رکن اسمبلی نے ٹھوکا۔ کیرالہ سے رکن اسمبلی کے ایم شاہ جی کا انٹرویو انڈو ایشین نیوز سروس نے شائع کیا۔ جس میں شاہ جی نے انکشاف کیا کہ ان کو داعش کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے دس مرتبہ دھمکی آمیز فون کالیں موصول ہو چکی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام انفارمیشن متعلقہ حکام کے گوش گزار کر چکے۔ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایک اور ایم ایل اے سی میموتی نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ داعش کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں ۔ لیکن ان کی روک تھام کے لئے کوئی اتھارٹی تیار نہیں ۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ریاست کیرالہ کے مارکسسٹ چیف منسٹر، مقامی مسلم آبادی کی مدد سے اس عفریت کو کنٹرول کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ لیکن مرکزی حکومت، داعش کی سرگرمیوں ، تیزی سے پھیلتے لٹریچر کو روکنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کر رہی۔ اس کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ـ)

طارق چودھری ہوں یا آغا ہارون  داعش کے حوالے سے انکی فکرمندی بجا ہے کیونکہ ابھی حال ہی میں جان کینٹلے نے  (مغوی  رہتے ہوئے)داعش کی پروپیگنڈہ  میگزین دبیق میں آرٹیکل لکھ کر بتایا تھا کہ کروڑوں ڈالر سے مالامال داعش پاکستان سے نیوکلر  ہتھیار خرید کر امریکہ  کو نیست نابود کرنے کی پلاننگ میں ہے۔

کچھ سوال جواب طلب ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 خلافت کا شوشہ  90 سال بعد بغداد میں کیوں چھوڑا گیا  اور اسلام کا مسخ شدہ  شدت  پسند سفاک چہرہ  دنیا کو دکھانے والا جہادی جان کون تھا ؟البغدادی اور جہادی جان کی جوڑی  نے کہاں تربیت پائی وہ کہاں کے شہری تھے ۔آپکو جان کر حیرت ہوگی کہ دونوں برطانیہ کے شہری ہیں ۔اور اس نام نہاد خلیفہ کی فوج میں زیادہ تعداد برطانوی شہریوں کی ہے۔آپکو یاد ہونگے امریکن جرنلسٹ جیمس فولی اور جان کنٹیلی  دونوں 2012 میں لیبیا میں اغوا کئے گئے  پھر رہا یا فرار ہوئے  اور پھر 2013 کے آخر میں  داعش کے ہتھے چڑھ گئے جیمس فولی کا سر قلم کرتے ہوئے  اگست 2014 کو جہادی جان کا ویڈیو سامنے آیا جسنے دنیا کی روح تک کو ہلا کر رکھ دیا اس سفاکی نے  رگوں میں خون منجمد کر دئے تھے ۔لیکن  جان کینٹلے اب بھی  داعش کے قبضے میں ہے ۔اسکے اب تک  دو ویڈیو سامنے آئے  جسمیں وہ  الائیڈ فورسز کی موصل پر کارروائی پر تنقید کرہا ہے  تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ موصل میں ہے ۔اب خبریں آرہی ہیں کہ موصل آزاد کرا لیا گیا ہے  اور البغدادی فرار ہو گیا ہے لیکن جان کینٹلے کہاں ہے ؟ ذرا غور کیجئے  داعش کے نام سے لے کر اسکی ماڈرن میگزین کے ٹائٹل  دبیق پر ۔ سیریا کا چھوٹا سا تین ہزار کی آبادی والا یہ شہر دبیق  اسلامک اسکتالوجی کے مطابق روز محشر کا مرکزی مقام ہوگا ۔اسکے نام پر میگزین کا نام رکھا گیا اسمیں جیمس فولی اور جان کینٹلے کو اغوا دکھا کر رپورٹننگ اور پرو پیگینڈہ کرایا گیا ۔اسی میگزین کے صفحے داعش کے انسانیت سوز مظالم  سے رنگین کئے گئے اور اسلام مخالف ایک پوری تحریک چلائی گئی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا اور تو اور ہمیں یہاں سنایا گیا کہ ہر مسلماں دہشت گرد نہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلماں ہے ۔

اب اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ کیتھولک اور پروتسٹنٹ  عیسائی فرقے  پوپ کے مطابق ایک ہو گئے ہیں (ہزار سال  بعد) برٹین یورپین یونین سے الگ ہو چکا ہے  اسکی نئی صدر تھریسا مئے ہی وہ  سابق ہوم سیکریٹری تھیں جنہوں نے  زاکر نائک کے لندن آنے پر پہلی بار پابندی لگائی تھی۔ لندن میں ہی ایک  چلکاٹ رپورٹ سامنے آئی کہ صدام حسین  پر حملہ غلط تھا دوسری امریکہ میں 28 پیجیز جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسامہ کو  سعودی عرب کی سر پرستی حاصل تھی۔یہاں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر سعودی عرب 40 ملکوں کی اتحادی فورس کھڑی کر رہا ہے اور ترکی ریفرنڈم کے ذریعے تمام پاور اپنے صدر رجب طییب کو دینے جا رہا ہے تو پھر برطانیہ اپنے ایسٹ انڈیا کمپنی والے خواب کیوں نہ دیکھے جبکہ اب تو حکومت بھی انکے مخبروں کی ہے  ۔

ہم کس سے منصفی چاہیں ؟

کسی کی عدالت میں جانے سے بہتر ہے خود احتسابی  کا عمل جتنی جلدی شروع ہو سکے ۔آپس میں گفتگو کے مواقع بڑھیں ۔اختلافی آوازوں کو جگہ دی جائے اور تدبر سے ہمنوا بنانے کی پہل ہو ۔بات ہوگی تو بات سے بات نکلے گی تو حل بھی نکلےگا۔ریوڑ  پالناآسان ہے  اسے کنٹرول کر کے صحیح سمت میں ہانکنا  مشاق چابکدست  ہاتھوں کا کمال ۔اب ہم کو طے کرنا ہوگا کہ کس کو چابک دیا جائے لیکن یہ ان ہاتھوں کی بھی  ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو سب سے مشاق ثابت کریں ۔

 اس بات کو ذہن میں رکھئے گا کہ جب خلافت کا اختتام ہوا تھا تو یہ برصغیر کی دھرتی ہی تھی جہاں سے خلافت کی حمایت میں تحریک چلائی گئی تھی حالانکہ اسکے بعد سے ہی بر صغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کا اندازہ کر کے انکے لئے ایک خونیں دستاویز تیار کر لیا گیا ۔1920 سے 1925 تک ملک کی تاریخ کو عرق ریزی سے کھنگالنے اور اس سےسبق لینے کی ضرورت ہے۔ فروری ۱۹۲۰ء ؁ مین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں ۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اسلام کے مقامات مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریفین اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں اور یورپ کے آٹھ صلیبی جنگوں کا مقابلہ کر چکے ہیں ۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں ۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں ۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘۔

ہندوستان میں تحریک خلافت کے آغاز کے وقت مسلمانوں کےاضطراب کے کئی اسباب تھے۔ پہلا۔ خلافت مرکز اسلامیہ سے مسلمانوں کی قلبی وابستگی، جذباتی لگاؤ اور گہرے عشق و محبت کی تھی، خلافت کا قیام اسکی بقاء اور اسکے استحکام کو مسلمانانِ عالم نے ہمیشہ اپنا مذہبی فریضہ جانا۔ دوسری بڑی وجہ جو مسلمانوں کو بے چین کئے ہوئے تھی وہ بالخصوص برطانیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مسلم ممالک بالخصوص ترکی کے خلاف اس کی معاندانہ کاروائیاں تھیں ۔ برطانیہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی سعی و جدو جہد میں سب سے آگے تھا ۔ 1914ء سے قبل اس نے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کا پورا سامان کر لیا تھا۔اور پھر جو حشر ہو ا وہ اسلامی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

 جس وقت تحریک خلافت کا آغاز ہوا مسلمانوں میں بہترین دل و دماغ رکھنے والے دانشور موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو تحریر و تقریر ،علم وفن فکر صالح اور تحقیق کے علاوہ میدان عمل کے مجاہد بھی تھے۔ ان میں انشاء پرداز بھی تھے اور شاعر بھی، علوم دینیہ کے مجتہد اور محقق بھی اور علوم دینیہ اور علوم مغرب کے شناسا اور امام بھی ۔3؍مارچ 1924ء کو مصطفےٰ کمال پاشا نے خلافت کا خاتمہ کردیا ۔

 خلافت کی حمایت کرنے والوں کوتو شکست ہوگئی لیکن  اسی اتحاد نے انگریزوں  کے خلاف  ہندو مسلمانوں کو انقلاب زندہ باد کہنا سکھا دیا اور یہ کارواں آزادی کے حصول کی جدوجہد میں تبدیل ہو گیا۔ اب ایک طبقے کو یہ فکر ہوئی کہ اگر انگریز ملک چھوڑ کر گئے تو حکومت کس کو سونپ کے جائیں گے ظاھر ہے مسلمانوں سے چھینی تھی تو حق بھی مسلمانوں کا بنتا تھا  لیکن انکی سوچ تھی کہ مسلمانوں کو گدی سے دور رکھا جائے کیونکہ وہ بھی تو باہر سے آئے تھے ۔ اگلے ہی سال آر ایس ایس دشہرہ  کے دن 1925  میں تشکیل  دے دی گئی  اور اسکے کے بعد سے یہ تنظیم کبھی پھیلتی کبھی سكڑتی ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے مشن میں لگی  ہوئی ہے۔آر ایس ایس کاغذ پر ہندوتو کو مذہب نہیں طرز زندگی کہتی ہے  اور اب تو اس طرز زندگی کو یہ لکھوانے کا مقصد بھی واضح ہے جب  سپریم کورٹ نے کہا کہ مذہب  کے نام پر ووٹ مانگنا  قابل سزا جرم ہے ۔ تبدیلی مذہب، گوهتيا، رام مندر، کامن سول کوڈ جیسے شرعی اور مذہبی  مسائل پرفتنہ بپا کرنا اسکا خاص مشغلہ ہے ۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کمزور کرتے رہنا اسکی سرشت میں ہے  فساد کی موجب یہ تنظیم مسلمانوں سے ازلی بیر رکھتی ہے اور اپنا آقا اسرائیل کو مانتی ہے۔اسکے کارندے یہودیوں کی طرح بھیس بدل کر ہمارے بیچ رہتے ہیں اور بڑی عیاری سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں ۔

یوپی میں عین آخری پولنگ مرحلے سے پہلے رونما ہوئے اس واقعے کو معمولی مت سمجھئے ایک مبینہ دھشتگرد کو مدھیہ پردیش سے تار جوڑتے ہوئے آئی ایس آئی ایس کا پہلا موڈیول مان کر مشتہر کیا گیا  اور گھر میں گھیر کر مار دیا گیا ۔پھر کہا گیا کہ وہ سیلف ریڈیکلائز تھا اور آئی ایس کا لٹریچر  کھنگالتا رہتا تھا۔سوال ایک اور ہے کہ جب مودی جی  بحرین سے مندر کا تحفہ لائے تھے تو ساتھ میں ایک  افشاں جبیں  عرف نکی جوزف  کے پکڑے جانے کی خبر لائے تھے جو برٹش نیشنل بتائی گئ تھی اور پہلی  آپریٹو کے طور پر  پکڑی گئی  تھی  اسکے نام پہ میڈیا نے کئی خبروں کو مشتہر کیا تھا  اس لنک پہ پوری خبر پڑھئے اور الرٹ رہئے .

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسنیم کوثر

تسنیم کوثر روزنامہ ایشین رپورٹر کی اڈیٹر ہیں۔ آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کو بھی اپنی خدمات دی ہیں۔ آپ کا آبائی وطن ضلع پورنیہ بہار ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ سماجی اور علمی خدمات میں پیش پیش رہی ہیں۔ ان کے 17 افسانوں کا مجموعہ ''بونسائی'' زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ دوسرا مضامین کا مجموعہ ''خدا جھوٹ نہ بلوائے" زیر طبع ہے۔ asianreporter.in@gmail.com

متعلقہ

Close