ہندوستان

خونخوار پولس کا اِنکاؤنٹر

ملک کے ہر شہری کیلئے خطرہ کی علامت

عبدالعزیز

مدھیہ پردیش کی پولس جسے مجرموں کی ایسی ٹولی کہنا چاہئے جو خونخوار اور آدم خور ہے۔ ان خونخوار جانوروں کے جو سردار یا سرغنہ ہیں وہ ان سے بھی بڑے خونخوار اور آدم خور ہیں کیونکہ جن لوگوں نے آٹھ ایسے مسلم نوجوانوں کو جن کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ جیل کی آہنی دیواروں کو توڑ کر فرار ہوئے ، نہایت بے دردی اور بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔ ان قاتلوں کو ان کے سرداروں نے نہ صرف شاباشی دی بلکہ پھولوں کا ہار پہنایا۔ ایسی ذلیل حرکت کی امید جنگل کے خونخوار درندوں اور آدم خور جانوروں سے بھی نہیں کی جاسکتی۔

ان خونخوار درندوں کے پا س جو بناوٹی قسم کی کہانی ہے اس سے ان کی قلعی آسانی سے کھل جاتی ہے کہ یہ انسانوں کے خون کے کتنے بڑے پیاسے اور اپنے خونخوار سرداروں کے کتنے بڑے پیروکار ہیں۔ ان کی من گھڑت کہانی میں یہ بات بالکل نہیں ہے کہ یہ سب کیسے اور کیونکر ہوا ۔ مسلم نوجوانوں نے جنھیں عدالت نے مجرم نہیں قرار دیا وہ کیسے جیل کی چہار دیواری پھلانگ کر یا توڑ کر فرار ہوئے؟ ان کے پاس کیسے اور کس قسم کے ہتھیار تھے؟ جیل کے ہیڈ وارڈر (Warder) کو کیسے ان لوگوں نے قتل کیا؟وہ کیسے پکڑے گئے اور انھیں کس طرح قتل کیا گیا؟ ان کے بیان میں تضاد ہی تضاد ہے مگر ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جیل کے CCTV (کیمرہ) میں بھی کچھ نہیں ہے۔ یہ کہہ کر معاملہ کو رفع دفع کر دیا گیا کہ CCTV کام نہیں کر رہا تھا۔ اس بار مجرموں کی ٹولی کو اپنے سفاکانہ جرم کو چھپانے میں زبردست ناکامی ہوئی ہے، کیونکہ سفاکانہ قتل کی شہادت ویڈیو کے ذریعہ طشت از بام ہوگیا ہے۔ ہر آدمی دیکھ سکتا ہے کہ نہتے نوجوان پولس کے گھیرے میں ہیں۔ پولس نے ان کے سر اور سینے پر گولیوں کی بوچھار کردیں۔ اس دوران پولس افسر سے وائر لیس کے ذریعہ جو گفتگو ہورہی ہے وہ پورے طور پر ثابت کرتی ہے کہ یہ قتل منصوبہ بند ہوا ہے اس کا انکاؤنٹر یا مڈبھیڑ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص کلپس (Clips) دیکھ کر اس کی سچائی سے انکار نہیں کرسکتا۔
حکومت پہلے اسے معمولی واقعہ بتا کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتی تھی۔ نائب وزیر داخلہ کرن رجو نے یہ کہاکہ جو لوگ شک و شبہ سے کام لے رہے ہیں وہ تہذیب و شائستگی سے محروم ہیں۔ پی ایم او کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے نہایت گھٹیا انداز سے کہاکہ ان نوجوانوں کا قتل قوم کے مورل (Moral) کیلئے بہت ہی اچھا اور مناسب ہے۔ مدھیہ پردیش کے خونخوار وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہاکہ جو لوگ شک و شبہ سے کام لے رہے ہیں وہ قانون کی پاسداری نہیں کرتے۔ پھر یہ سوال کیا کہ دہشت گرد کتنے دنوں تک جیل میں چکن بریانی کھاتے رہیں گے؟ جب اپوزیشن نے چیخ پکار کی تو ان درندوں نے ایک ریٹائرڈ جج سے انکوائر کرانے کا اعلان کیا۔ انکاؤنٹر کوئی نئی بات نہیں ہے ویسٹ بنگال سے پنجاب تک کشمیر سے ممبئی اور گجرات تک انکاؤنٹر کے واقعات ایک بار نہیں کئی بار رونما ہوئے۔ یہ انکاؤنٹر قانون کی کمزوری یا کمی کی وجہ سے نہیں کئے جاتے بلکہ یہ قتل و خون کی پیاس کی وجہ سے کئے جاتے ہیں جس میں تعصب اور جانبداری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ ہمارے صحافی ان قاتلوں کو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ(Encounter  Specialist)  لکھتے ہیں، جب یہ لوگ جنگی مجرموں کی ٹولی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تک جتنے انکاؤنٹرز ہوئے ہیں مدھیہ پردیش کی پولس نے بربریت اور سفاکیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جسے بربریت کی تاریخ میں یقینا لکھا جائے گا۔ اس طرح کے خونریز واقعات سے اقلیتوں اور دلتوں کے اندر جو بات پیدا ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ قانون کے نام نہاد رکھوالوں کی ایجنسیوں کا کام صرف دلت اور اقلیت کے نوجوانوں کا بہیمانہ قتل و خون ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح سے جو واقعات رونما ہورہے ہیں اقلیتوں اور دلتوں کا بھروسہ پولس ایجنسیوں سے تقریباً اٹھ چکا ہے۔
شبہات کی بنیاد پر نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔ اردو کی چند کتابیں یا پمفلٹ جو حکومت کے خلاف ہوتے ہیں ان کی بنیاد پر انھیں حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ جہاں مقدمات کی پیروی بہتر انداز سے ہوتی ہے اور جج صاحبان غیر جانبداری سے کام لیتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو آسانی سے رہائی مل جاتی ہے۔ خونخوار حکومت کے وزیروں یا حکمراں پارٹی کے لیڈروں نے اس بہیمانہ قتل پر ہمدردی تو دور کی بات اسے جائز ثابت کرنے کیلئے پورا زور لگا دیا ہے جو ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اگر مہذب شہریوں کی جانب سے ایسے نقلی اور فرضی انکاؤنٹر کے خلاف پر زور آواز بلند نہیں ہوتی تو پھر جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہوگی جنگل راج کا قانون نافذ ہوگا اور کوئی شخص یا شہری ان خونخوار جانوروں سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ جانور قانون، تہذیب اور شائستگی کو بالکل نہیں مانتے۔ یہ کمزوروں کے دشمن ہیں۔ ان کی دشمنی آدم خو ر اور خونخوار جانوروں سے بھی بدتر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close