ہندوستان

خون کے آنسو

وہ کیسا زمانہ تھا جب ایک ہندو راجہ مسلم یونیورسٹی کا تعاون کرتا تھا  اور ایک مسلم نواب ہندو یونیورسٹی کی مدد کرتا تھا۔

ڈاکٹر سلیم خان

للن سنگھ  راجپوت بولا یا ر کلن خان اگر آج راجہ بھانو پرتاپ سنگھ زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں خون کے آنسو روتیں۔

کلن خان نے معصومیت سے پوچھا یہ  راجہ بھانو پرتاپ سنگھ  کہیں رانا پرتاپ کے کوئی رشتے دار تونہیں؟  میں  ان سے ناواقف ہوں؟

اچھا تم تو  اپنے علیگ ہونے پر بڑا فخر جتاتے ہو، اس کے باوجود تمہیں جاٹ راجہ  بھانو پرتاپ کا نام تک نہیں معلوم؟

اپنے علیگ ہونے پر کسے ناز نہیں؟ کاش تم بنارس ہندو یونیورسٹی کے بجائے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم ہوتے تو مادر علمی سے انسیت جانتے؟

کیا خاک جانتا۔ میں تو کہتا ہوں کہ  راجہ بھانو پرتاپ کے  پوتے راگھویندر سنگھ   نے ہندو واہنی کے ساتھ مل کر  جو مطالبہ کیا ہے وہ  بالکل درست ہے۔

کلن نے پوچھا بھائی ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ وہ مطالبہ کیا ہے؟

وہ چاہتا ہے کہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کا نام بدل کر اسے بھانو پرتاپ سنگھ  کے نام  پر کردیا جائے اور ان کا صد سالہ  جشن منایا جائے۔

یار للن سنگھ تم کیا بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟  جو یونیورسٹی کو اس کے بانی سر سید احمد خاں کے نام سے منسوب نہیں ہے اس کو کسی راجہ کا نام دے دیا جائے؟ یہ کوئی معقول مطالبہ ہے؟

دیکھو بھائی کلن یہ تو سب جانتے ہیں کہ سر سید کون تھے بلکہ  ہندوستان کو تقسیم کرنے والے جناح سے بھی ہر کوئی واقف  ہے۔ ان کی تصویر کے یونیورسٹی میں لگے رہنے  پر بھی اصرار ہے  لیکن جس عظیم ہستی نے یونیورسٹی کے لیے زمین وقف کی اس کا نام لیوا کہیں نہیں ہے۔

اچھا یاد آیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ راجہ  بھانو پرتاپ  سنگھ خود یونیورسٹی کے طالبعلم تھے اس لیے ان کی زمین پر یونیورسٹی کے بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے معمولی سے کرائے پر اپنی زمین ایک  اسکول کو دی تھی جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے یونیورسٹی کے تحت کردیا گیا۔

ٹھیک ہے وہ اسکول  توابھی یونیورسٹی کے تحت ہے نا ؟ ایسے میں  کیا ان کی خدمات کو فراموش کردیا جائے اور اس کی برسی نہ منائی جائے؟

ارے بھائی للن  سر سید احمد خان نے اتنے لوگوں سے چندہ جمع کرکے یونیورسٹی بنائی کہ اگر ہر ایک کی برسی منائی جائے تو وہاں  سال بھر تعلیم کے بجائے پیدائش کا جشن یا موت ماتم  بپا رہے۔

لیکن کیا یہ تو احسان فراموشی ہے ایک ہندو نے مسلم یونیورسٹی  پر مہربانی کی اور آپ لوگوں نے اسے بھلا دیا۔   میں  ہندو واہنی سے اتفاق کرتا ہوں  کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں اگر  مسلم  یونیورسٹی ہندو راجہ سے  منسوب کردیا جائے تو اس سے مثالی  ہندو مسلم ہم آہنگی قائم ہو  گی۔

ٹھیک ہے اگر یہ بات مان لی جائے تب تو بنارس ہندو یونیورسٹی کا نام بھی بدلنا پڑے گا ؟

جی ہاں میں بھی  اس کو مدن موہن مالویہ  سے منسوب کرنے کا حامی ہوں؟

ہندو مسلم  اتحاد بی ایچ یو کے مدن موہن مالویہ  یونیورسٹی کہلانے سے تو نہیں ہوگا۔ وہ تو ہندو کی ہندو ہی رہے گی۔

تو کیا کیا جائے ؟

جیسے تم  بھائی چارے  کی خاطر اے ایم یو کو   سرسید کے بجائے راجہ بھانو پرتاپ کے نام سے موسوم کرنا چاہتے ہو۰۰۰۰۰۰۰۔

للن جملہ کاٹ کر بولا تو کیا اسے سر سید کے نام کردیا جائے؟

جی نہیں تمہاری اپنی  منطق کے مطابق بی ایچ یو کو میر عثمان علی خان  کے نام کردینا چاہیے کیونکہ انہوں نے ہندو یونیورسٹی  اور آندھرا یونیورسٹی دونوں کو ایک ایک لاکھ روپیہ عطیہ  دیا تھا۔ یہ مودی سرکار کے زمانے کا ایک لاکھ نہیں ہے کہ ٹھیک سے گھر کا گذارہ بھی نہیں ہوپائے۔

ہاں میں سمجھ گیا جب یونیورسٹی بن رہی تھی اس وقت کا ایک لاکھ روپیہ تو بہت بڑی رقم رہی ہوگی؟  لیکن یہ مشکل ہے۔

کیوں ہندو مسلم اتحاد کے لیے اتنی سی قربانی نہیں دے سکتے؟

وہ ایسا ہے نا کہ اس سے انتخابی نقصان ہوگا  اور کون سیاستداں اس کا خطرہ مول لے گا؟

جی ہاں جب انتخاب و سیاست کی بات آگئی تو سنو کہ راجہ بھانو پرتاپ سنگھ دراصل  ہندوتواوادیوں کے اولین دشمن مہاتما گاندھی کے پیروکار تھے۔

یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہندو یوا واہنی کے آبا واجداد نے  ۱۹۵۷؁  میں راجہ صاحب  کو آگرہ سے ہرانے کے لیے اٹل بہاری واجپائی کو میدان میں اتارا تھا مگر کامیابی نہیں ہوئی اور جن سنگھ کا چراغ بجھ گیا۔

ارے کیا بات کرتے ہو؟ تب تو رگھویندر سنگھ کو انہیں منہ نہیں لگانا چاہیے ؟ وہ ان کے چکر میں کیسے پھنس گیا ؟

اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں یا  تو وہ اپنی تاریخ سے نابلد ہوگا یا کسی سیاسی مفاد  کےپیش نظر ایسا کررہا  ہوگا۔

جی ہاں اور جس جناح کی تصویر تم ہٹوانا چاہتے ہو اس نے تو بال گنگا دھروا تلک سے لے کر گاندھی جی تک  نہ جانے کتنے مجاہدین آزادی کا مقدمہ لڑ کر  انہیں چھڑایا تھا اور تم جانتے توجانتے ہی  ہو گے کہ اس زمانے میں ساورکر اور اٹل جی کس کے وفادار تھے اور کیا کررہے تھے ؟

نہیں بھائی بی ایچ میں اتہاس  پڑھایا ہی کہاں جاتا ہے اور ویسے بھی ہمیں تعلیم سے زیادہ کھیل کود میں دلچسپی تھی۔

وہ   لوگ انگریزوں کے لیے مخبری کرتے مخبری ؟ مگر ان کے وارث جب اقتدار میں آئے تو کسی کا مجسمہ ایوان پارلیمان میں نصب کردیا تو کسی  کو وزیراعظم بنادیا۔ اب الیکشن جیتنے کے لیے برسوں سے لگی  جناح کی تصویر ہٹانا چاہتے ہیں ؟

ہاں یار کلن یہ تو صحیح بات ہے جو ہوا سو ہوا۔ اب گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ؟

جی ہاں سوچو  وہ کیسا زمانہ تھا جب ایک ہندو راجہ مسلم یونیورسٹی کا تعاون کرتا تھا  اور ایک مسلم نواب ہندو یونیورسٹی کی مدد کرتا تھا۔

ا ورہاں وہ  لوگ تو اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتے تھے مگر  ہم  چھینا جھپٹی   میں لگے ہوئے ہیں۔  یہ افسوسناک صورتحال ہے۔

تم نے سچ کہا  للن، راجہ بھانو پرتاپ آج زندہ ہوتے تو خون کے آنسو روتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close